پاکستان کے جوہری ہتھیار اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے بلا جواز تحفظات
22 مئی 2018

رواں سال کے آغاز میں بھارتی بری فوج کے سربراہ بپن روت نے پاکستان کی جوہری قابلیتوں کو آزمانے کی طفلانہ خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اس خواہش کے باوجود پاکستان ایک ذمہ دار اور مسلمہ جوہری قوت ہے۔ پاکستان کو یہ اعزاز مئی 1998ء میں حاصل ہوا۔ اُسی ماہ، بھارت نے پانچ جوہری دھماکے کئے تھے۔ بھارت کی جانب سے جوہری خطرات کے پیش نظر، پاکستان کے لئے دفاعی صلاحیتوں کا معتبر ابلاغ (Credibility and Communication of threat) نا گزیر ہو چکا تھا۔ لہٰذا پاکستان نے بھارت کے پانچ دھماکوں کے جواب میں چاغی (بلوچستان) میں چھ زیر زمین دھماکے کرتے ہوئے اپنی جوہری دفاعی قابلیت کا سکہ منوایا۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی پابندیوں بالخصوص پریسلر ترامیم کے باوجود پاکستان اپنی دفاعی قابلیتوں میں جوہری ہتھیاروں کو شامل کرنے والا آٹھواں ملک بن چکا تھا۔
گزشتہ صدی کی آخری دہائی کے آغاز میں امریکی صدر سینئر بش نے ’’نئے عالمی نظام‘‘ کا اعلان کیا۔ امریکہ اپنے سب سے بڑے حریف سوویت یونین کو مات دے چکا تھا۔ اب دنیا کی ہائپر پاور (Hyperpower) نیو ورلڈ آرڈر کے تحت اپنی اقدار اور پالیسیوں کا عالمی غلبہ ممکن بنا سکتی تھی۔ نوے کی دہائی میں فرانسس فوکویاما نے ’’اختتامِ تاریخ ( End of History)‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔ مصنف نے بنی آدم کو باور کروانے کی کوشش کہ آزادانہ معاشی و سرمایہ کارانہ نظام اور مغربی جمہوریت و مساوات کی جیت ہو چکی لہٰذا اب ان اقدار کا فروغ لازم و ملزوم ہے۔ سوویت یونین کی شکست کے بعد مغربی تہذیب آہنی پردہ (Iron Curtain ) گرا کر مشرقی یورپ تک پہنچ چکی تھی۔ سابق سوویت ریپبلکس مغرب کی عسکری و اقتصادی اتحادی بن رہی تھیں۔ فوکویاما کی پیشین گوئی سچ ثابت ہو رہی تھی۔ اب مغرب کو اپنی اقدار اور اقتصادی و عسکری طاقت کے اظہار کے لئے حریف کی ضرورت تھی۔ ہنٹنگٹن نے اسلامی، زرتشتی اور کنفیوششی تہذیبوں کو مغربی صہیونی تہذیب کا دشمن قرار دے دیا تھا۔ ’’تہذیبوں کے تصادم (Clash of Civilizations)‘‘ سے قبل، امریکہ نے عراق اور کویت جنگ کے دوران خود پر عرب ممالک کے عسکری انحصار کو پرکھ لیا تھا۔ اس جنگ میں امریکہ نے اپنے اتحادیوں پر واضح کر دیا تھا کہ مشرقی یورپ کے بعد اس کا اگلا ہدف مشرق وسطیٰ ہو گا تاہم ایک حادثے نے امریکیوں کو منصوبے کا ڈیزائن عارضی طور پر تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔
2001ء میں امریکہ میں ہولناک ترین واقعہ پیش آیا۔ رواں صدی میں ہونے والے دہشت گردی کے سب سے بڑے واقعہ میں 6 پاکستانی شہیدوں سمیت امریکہ، اسرائیل اور دیگر ممالک کے قریباً تین ہزار شہری ہلاک ہو ئے۔ اس واقعہ کے ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن کے تعاقب میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج نے القاعدہ کے خاتمے کی غرض سے 7ا کتوبر 2001ء کو افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اب امریکہ کا ہدف مشرق وسطیٰ کے بجائے جنوبی ایشیا بن چکا تھا۔
اکتوبر 2001ء میں شروع ہونے والی ’’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘‘ میں پاکستان اور افغانستان کو شدید نقصان پہنچا۔ اس جنگ کے باعث اب تک، وطن عزیز کے 60 ہزار سے زائد عام شہری، 3,000 سے زائد فوجی اور ہزاروں پولیس اہلکار جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ پاکستان کی معیشت مفلوج ہو کر رہ گئی اور ملکی معیشت کو 140 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ نائن الیون حملوں میں ملوث ہائی جیکرز کے آبائی ممالک سے چشم پوشی کر لی گئی۔ اس رعایت کی وجہ سعودی سفیر بندر بن سلطان کے بش خاندان کے ساتھ ذاتی و کاروباری مراسم تھے۔ یہ تعلقات اس قدر گہرے تھے کہ مغربی میڈیا انہیں بش خاندان کا فرد تصور کرتے ہوئے بندر بش کہتا تھا۔
مئی 2011ء میں اسامہ لادن کی ہلاکت کے بعد امریکہ افغان جنگ کا مقصد حاصل کر چکا تھا۔ افغانستان میں القاعدہ ناپید تھی اور اس کا راہنما بھی لقمہ اجل بن چکا تھا۔ اس کے باوجود امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں بھاری عسکری موجودگی قائم رکھنے پر بضد تھے۔ امریکہ اپنے رویے (Pattern of Behaviour) کے برخلاف افغانستان میں قیام امن کا خواہاں تھا۔ یقینا،
عراق میں صدام حسین کی پھانسی اور لیبیا میں معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد امریکہ نے ان ممالک کے امن و استحکام کی کوئی پروا نہ کی۔اس سے قبل امریکہ سرد جنگ کے دوران، چی گویرا کی ہلاکت کے بعد بولیویا کے ساتھ بھی یہی کچھ کر چکا تھا۔ وہ ان ممالک کے نہتے عام شہریوں کو مسلح عسکریت پسندوں اور غیر ریاستی عناصر کے حوالے کر کے بے یارو مدد گار چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ امریکی تاریخ کی بنیاد پر یہ قیاس غلط نہ ہوگا کہ افغانستان میں بھی امریکہ کے قیام کا مقصد امن کا قیام ہرگز نہیں۔ آخر ، وہ کیوں ٹریلین ڈالرز کے اخراجات پر محیط امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے؟ اس سوال کا جواب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران دے دیا تھا۔ مارچ 2016ء میں انہوں نے افغانستان میں مزید قیام کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ ہمیں افغانستان میں کچھ دیر رہنا ہوگا، وہ پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور ہمیں ان (ہتھیاروں) کی حفاظت کرنا ہوگی‘‘ ۔۔۔ شاید صدر ٹرمپ بھول چکے ہیں کہ آج تک امریکہ اپنے 8گمشدہ جوہری ہتھیاروں کو تلاش نہیں کر سکا۔ امریکی فضائیہ کے سابق افسر اور ’’بریکنگ دی ٹرسٹ بیریئر‘‘ کے مصنف کرنل جون وینابل نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ ’’سرد جنگ کے دوران امریکہ نے کئی جوہری ہتھیار گنوائے جن میں سے اکثر تلاش کر لئے گئے تاہم کچھ ہتھیار آج بھی گمشدہ ہیں‘‘۔ کرنل وینابل کے حیران کن اور تشویش ناک انکشافات کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ اپنے جوہری ہتھیاروں اور تنصیبات کی حفاظت اور گمشدہ ہتھیاروں کی تلاش پر توجہ دے۔
1998ء کے بعد سے امریکی صدور پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے درپے ہیں۔ 2004ء میں ایران نے پاکستان پر جوہری علوم کے پھیلاؤ (Proliferation) کا بے بنیاد الزام لگایا تو امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کرنے لگے۔ پاکستان کے جوہری پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے لئے بلیک واٹر کو متحرک کیا گیا لیکن ان تمام اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ رہا۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان کے جوہری پروگرام کی محدود نوعیت ہے۔ وطن عزیز کے ایٹمی ہتھیاروں کا مقصد دفاعی صلاحیت کو ناقابل تسخیر بناتے ہوئے خطے میں تزویراتی توازن (Strategic Balance of Power ) کے ذریعے امن کا قیام ہے۔ اس کے باوجود، بھارت کے اسرار پر عالمی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کے حربی جوہری ہتھیاروں (Tactical Nuclear Weapons ) پر تنازع کھڑا کر دیا۔ پاکستان کا یہ اقدام بھارت کی سرد آغاز (Cold Start) ڈاکٹرائن کا منہ توڑ جواب ہے اور پاکستان کو بھارت کے خلاف مکمل مزاحمت ( Full Spectrum Deterrence ) کی صلاحیت مہیا کرتا ہے۔ پاکستان نے عالمی اسٹیبلشمنٹ کو باور کروایا کہ حربی ہتھیاروں کی مثال امریکہ کی سرد جنگ کی جوہری حکمت عملی میں بھی ملتی ہے۔ واضح رہے کہ روایتی تزویراتی جوہری ہتھیاروں (Strategic Nuclear Weapons) کا مقصد شہری و اقتصادی نشانوں (Value Targets) کو ہدف بنانا ہوتا ہے جبکہ حربی ہتھیاروں کا مقصد دشمن کی جوہری تنصیبات اور عسکری طاقت پر وار کرنا ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے ایماء پر پاکستان کے جوہری پروگرام کو متنازع بنانا چاہتے ہیں کیونکہ بھارت امریکہ کا جوہری اتحادی اور خطے میں سیاسی جغرافیائی مقاصد کا شراکت دار بھی ہے۔ پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی صدر کے گمراہ کن بیانات اور بھارتی فوج کے سربراہ کی اشتعال انگیز بیان بازی سے خطے میں استحکام امن کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ اور بھارت کے برعکس، پاکستان کی جوہری تنصیبات آج تک کسی حادثے کا شکار نہیں ہوئیں۔ جوہری توانائی کے عالمی ادارہ نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو محفوظ قرار دیا ہے۔ 2016ء میں دہشت گردی کے حوالے سے امریکی دفتر خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں بھی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی حفاظت کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کو سراہا گیا تھا ۔ دنیا کی بڑی ایٹمی طاقتوں کے برعکس پاکستان کے جوہری ہتھیاوں کی تعداد محض 130 سے 140 کے درمیان ہے۔ مزید برآں، ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ہتھیار اور میزائل کے مختلف حصوں کو ہمیشہ جداگانہ مقامات پر رکھا جاتا ہے۔
جوہری تزویراتی علوم کے ماہر ڈاکٹر سکاٹ سیگن اپنی کتاب ’’ جوہری ہتھیاروں کا فروغ (The Spread of Nuclear Weapons )‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’مختصر طاقت کو بآسانی محفوظ رکھا جا سکتا ہے ‘‘(Smaller the force, easier it is to contain)۔ چنانچہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی محدود نوعیت و مقاصد اور ہتھیاروں کی قلیل تعداد وطن عزیز کے جوہری پروگرام کی حفاظت کی ضامن ہے۔


ای پیپر