سرخیاں ان کی۔۔۔؟
22 مئی 2018

* کرنل سہیل عابد شہید ہو گئے۔۔۔!
Oآہ۔۔۔کہ لکھتے ہوئے دل کی عجیب کیفیت ہے۔ جیسے دل دکھ رہا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ کائنات کا حسن زندگی کامرہون منت ہے۔ مگر کبھی یہی زندگی کائنات میں تمام رنگ بکھیرنے کے لیے انوکھا کارنامہ انجام دیتی ہے۔ 17 مئی کو یہ خبر ملی کہ کرنل سہیل عابد عباسی شہید ہو گئے ہیں۔ تو بے اختیار ٹی وی سکرین کے سامنے شہید کے سفر آخرت کو سلیوٹ کرنے کھڑا ہو گیا۔ پھر انہیں سپرد خاک کیا گیا تو اس موقع پر موجود آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جو ایک باعمل انسان ہیں، انہوں نے کہا جب میرا کوئی سپاہی شہید ہوتا ہے تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے میرے جسم کا ایک حصہ جدا ہو گیا۔ اور میرے لیے رات گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سلام ہے دھرتی ماں کے ایسے شہیدوں پر جو اپنے لہو سے اس کے وجود کو سینچتے ہیں۔ سلام ہے ایسے شہیدوں کے وارث اور راہبر کو جو نہ صرف ان کے تابوت کو کندھا دیتے ہیں بلکہ دن رات وطن کے دفاع سے بھی غافل نہیں رہتے اور کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ شہید کرنل سہیل عابد کی شاعری بھی خوب تھی۔ ان کی ایک نظم کے دو اشعار پیش خدمت ہیں۔
میری وفا کا تقاضہ کہ، جاں نثار کروں!
میرے وطن ، تیری مٹی سے ایسا پیار کروں!
میری دعا ہے سہیل، شہید کہلاؤں
میں کوئی کام بھی ایسا یاد گار کروں!
* سیاسی جماعت سیاستدانوں سے خالی ہونے لگی۔۔۔؟
O بلا شبہ، نا اہل وزیر اعظم جناب نواز شریف نے انگریزی اخبار ’’ڈان‘‘ کے کالم نگار سرل المیڈا کو اپنے دورہ ملتان کے دوران دعوت خاص دے کر اور ممبئی حملوں کے متعلق انٹرویو دے کر سپر ایٹمی دھماکہ کیا ہے۔ جس نے ملک و قوم کی ہی نہیں ، سیاسی و عسکری حلقوں کی بھی چولیں ہلا دی ہیں۔ وہ بھی ایسے موقع پر جب انتخابات کی آمد آمد ہو ۔ ہماری فوج بھی چومکھی لڑائی لڑ رہی ہو۔ ہمارا ازی دشمن بھارت ہی نہیں بلکہ ہمارا نام نہاد دوست امریکہ بھی شدید دباؤ ڈال رہا ہو۔ ہمارا ہمسایہ ملک افغانستان بھی احسان فراموش کا کردار ادا کر رہا ہو۔ عالمی ادارے الگ اپنے اپنے راگ الاپ رہے ہوں۔ ہمارا بلوچستان غیر ملکی ایجنسیوں کی سازشوں میں گھرا ہو۔ یقین نہیں آ رہا کہ ایک شخص ملک کا تین بار وزیر اعظم ایک بار وزیر اعلیٰ یعنی پچھلے تیس پنتیس سال سے شریف خاندان بلاشرکت غیرے اقتدار پے براجمان ہو۔ وہ ایسے نازک حالات میں ایسا حماقتی دھماکہ خود اپنے اور اپنے ملک پے کیسے کر سکتا ہے؟ وہ شخص اس قدر احسان فراموش کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ اپنے ملک و قوم کو رسوا کیسے کر سکتا ہے؟ وہ قومی سطح کا راہنما اس قدر غیر ذمہ داری اور بے ضمیری کیسے کر سکتا ہے۔ کیا پانامہ کے نتیجے میں۔۔۔؟ کیا ذہنی دباؤ کے نتیجے میں ۔۔۔؟ کیا آزاد عدلیہ کے نتیجے میں ۔۔۔؟ اگر یہ سچ ہے تو پھر مسئلہ کیا ہے جو حل نہیں ہو رہا ہے۔ چھوٹی سی بات ہے کہ یہ پانامہ ہے اس کے مطابق یہ جرم ہے۔ یعنی یہ اثاثہ ہے اسے حلال بنایا ہے حرام طریقے سے بنایا ہے۔ ایک دن میں مسئلہ حل ہو سکتا تھا۔ کہ اسے ان ان طریقوں سے بنایا ہے یا غلطی ہو گئی ہے۔ لہذا یہ یہ واپس کر نے کو تیار ہوں۔ یوں نا اہل ہوتے نہ خاندان بد نام ہوتا نہ دنیا بھر میں اولاد رسوا ہوتی۔ نہ قوم کے وقت کا ضاع ہوتا۔ کیونکہ پچھلے ڈیڑھ سال سے ملک رکا ہوا ہے۔ مگرافسوس کہ آپ مقدمات بھی لڑ رہے ہیں۔ مہنگے وکیل بھی پیش کر رہے ہیں۔ عدالتی پیشیاں بھی بھگت رہے ہیں۔ اور کہتے بھی جا رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا۔۔۔؟ مجھے تو پتہ نہیں کہ مجھ پر الزام کیا ہے۔؟ یوں خود بھی بے وقوف بن رہے ہیں اور قوم کو بھی بنا رہے ہیں۔ اب اپنے چار سو اندھیرے دیکھ کر عالمی اسٹیبلشمنٹ کو دعوت عام بھی دے رہے ہیں۔ بلکہ ذہنی طور پر اس قدر پریشان ہیں کہ اس انٹرویو کے دوران فرماتے ہیں کہ ڈان لیکس کو بھی ان کی آشیر باد حاصل تھی اور یہ بھی کہ ''Pakistan complicit in the mumbai attack" کچھ خدا کا خوف کریں۔ کہ کس وقت پر کونسا گڑا مردا اکھاڑ رہے ہیں۔ جبکہ کئی انڈین تجزیہ نگار صحافی بلکہ ایک امریکی آتھر کی کتاب پیش کر سکتا ہوں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ سب انڈین ایجنسیوں کا کارنامہ ہے۔ حضور آپ ہمارے وزیر اعظم رہے ہیں۔ لاکھوں لوگ آپ سے محبت کرتے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ جس ملک اور اس کے اداروں نے آپ کو عزت بخشی اس کے بدلے آپ بھی وفا شعار ہوتے بلکہ جاں نثار ہوتے اور اپنے اداروں سے وفا نبھاتے ہوئے انہیں سر بلند سے سر بلند کرنے میں اپنا قومی کردار ادا کرتے۔ مگر افسوس کہ آپ نے اپنے ظرف کے مطابق اپنی روایتی سیاست کا سیاسی دھماکہ کر کے نہ صرف اپنے مستقبل کو کالا کر لیا ہے بلکہ ملک و قوم کے روشن چہرے پر بھی سیاہی پھینک دی ہے۔ سجدہ شکر، کہ قوم کھڑی ہو گئی۔ ویسے بھی عزت ذلت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ میرا جذبہ ایمانی ہے کہ تمام داخلی و خارجی اسباب اسی کی مشیت کے تابع ہیں۔ اب جبکہ آپ اپنا کھیل ہار چکے ہیں۔ بند گلی میں کھڑے ہیں۔ NRO کا راستہ بھی کوئی نہیں ۔ عرب ممالک بھی اپنے اپنے مسائل کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ بڑے ممالک بھی کرپشن اور کرپٹ افراد سے دور بھاگ رہے ہیں۔ آپ کی خلائی مخلوق بھی انڈر پریشر نہیں ہو رہی ہے۔ عدالتیںآزاد اور فعال ہیں۔ ان حالات میں بھی وہی کھوٹے سکے قربانی کا بکرا بننے کا اور ڈٹے رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ میرے کالم ریکارڈ پر ہیں۔ میں
وقت بے وقت ان کی نشاندہی کرتا رہا ہوں۔ مگر افسوس کہ مجھی پر تیر برسائے گئے۔ اور غلیظ زبان استعمال کی گئی۔ اب بھی وقت ہے کہ آپ حقیقت شناس بنیں۔ کیونکہ "This is not a time for dirty politics or blame games" ورنہ یاد رکھیں جس طرح مشرف NRO کرکے تاریخ میں خود بھی رسوا ہوئے تھے اور ملک کو بھی برباد کیا تھا، مگر میں نے اس وقت بھی کہا تھا پھر آپ کی تاریخی غلطی ہے۔ مگر اس وقت پرویز مشرف بھی میری بات نہیں سنتے تھے اور مجھے اپنا مخالف سمجھتے تھے۔ مگر وقت نے ثابت کیا اور وہی جناب مشرف آج ہر ٹی وی چینل پر فرما رہے ہیں کہ NRO میری سب سے بڑی غلطی تھی۔ بصد احترام، آپ سے بھی کہتا ہوں ۔ آپ کے بیان نے دہشت گردی سے متاثرہ پاکستان کو ’’سپانسرشپ‘‘ دلا دی ہے۔ پریس کانفرنس کریں قوم سے معافی مانگ لیں۔ اور قوم کے سامنے کلبھوشن یادیو ہندوستانی جاسوس اور سمجھوتہ ایکسپریس کا ایسا دھماکہ کریں کہ معصوم قوم آپ کو معاف کر دے ۔ یوں آپ کا کچھ نہ کچھ امیج باقی رہے گا۔ وقت تھوڑا ہے جبکہ آپ کے اور آپ کی لیگ کے لیے ماہ جون بہت سخت ہے۔ یہ معجزوں کو آواز دینے کا مہینہ ہے۔ ورنہ چرا کارے کند عاقل کہ بازآیدپشیمانی ؟


ای پیپر