حقیقی مسیحا کا منتظر پیارا پاکستان
22 مئی 2018 2018-05-22



دنیا مانتی ہے کہ بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے قیامِ پاکستان کی منزل کو حاصل کرنے کے لیے مخالفین کے تمام تر ہتھکنڈے ناکام بنا دےئے اور مذاکرات کی میز پر پاکستان کے خواب کو عملی شکل دے کر دنیا کے سامنے رکھا۔ اسی پیارے پاکستان میں اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں گزشتہ 7عشروں سے عوام انگشت بدنداں ہیں کہ پیارے پاکستان میں شاد آباد والی منزلِ مراد کب آئے گی۔ اختیارات‘ طاقت اور اقتدار کے نشے نے اداروں کے درمیان ایک رسہ کشی جیسی صورتِ حال بنا رکھی ہے۔ اس درمیان عوام کا بھرکس نکل گیا۔ انہیں کبھی سیاست دان کی طرف سے لالی پاپ دیا گیا‘ کبھی غیر آئینی طریقے سے اقتدار پر شب خون مارا گیا کبھی انصاف کا ترازو غیر متوازن ہوگیا اور اس کی نوک چبھوئی گئی۔ اسلام کے نام پر بننے والے پیارے پاکستان
میں اہل اسلام کو اہل اسلام نے اور کبھی اسلام آباد والوں نے اسلام کے نام پر لوٹا۔ کبھی اسلام آباد کے پڑوس میں واقع شہر کے باسی نوے دن کے لیے آئے اپنی مرضی سے اور گئے کسی اور کی مرضی سے۔ ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے‘ کے مصداق سیاست دانوں نے ایک دوسرے کو سیکورٹی رسک کہا‘ غدار کہا‘ ابن الوقت‘ مفاد پرست اور جانے کیا کیا کہا‘ لیکن ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ داریوں کی گانٹھ لگانے میں بھی دیر نہیں کی۔ کمیشن کو کبھی مشن بنایا گیا اور کبھی منزلِ مقصود بنا لیا۔ سیاست دانوں نے ایک دوسرے پر تین حرف بھی بھیجے اور باہم شیر و شکر بھی ہوئے۔ موقع ملا تو میثاقِ لندن کرلیا‘ دل نہ مانا تو اُدھر تم اِدھر ہم کا ذومعنی نعرہ لگا کر قوم اور ملک کے حصے بخرے کرڈالے۔ ایسے زخم لگائے کہ مسیحا کا نشترجواب دینے لگا۔ قوم سازی کا عمل دھرے کا دھرا رہ گیا۔ سیاست دانوں سے دور رہو‘ ہٹوبچو کی صدا برابر بلند کی جاتی رہتی ہے۔ جو سفر اکتوبر 1958ء میں شروع کیا گیا تھا کون جانے اکتوبر 1999ء میں وہ ختم ہوگیا ہے یا پرانے عفریت کو نئی حالت میں پیش کیا جائے گا جس پاکستان کا مطلب لا الہ الا اللہ تھا آج اسی پاکستان کو سیکس فری سوسائٹی بنانے کی جانب ’’میرا جسم‘ میری مرضی‘‘ کی کہانی شروع کر دی گئی ہے۔ پاکستان کو کسی نے کمزور کرنے‘ توڑنے‘ دیوالیہ کرنے کی کوشش نہیں کی مگر اس کے نام نہاد اپنوں نے۔ آج کا پاکستان حقیقی مسیحا کی راہ دیکھ رہا ہے کہ نام کے مسیحاؤں نے تو پاکستان کی شخصیت مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کسی نے اسلامائزیشن کے نام پر‘ کسی نے عشرۂ ترقی کے نام پرتو کسی نے اپنے قرضے معاف کروانے کے لیے پیارے پاکستان کو روزانہ کی بنیاد پر اربوں کا مقروض بنایا۔ حکمرانی عوام کالا نعام پر کی اور جائیداد‘ اثاثے بیرون ملک بنائے۔وہ قرض اتارو ملک سنوارو کی ٹیلی فلم تھی یا چائنہ کٹنگ کا مختصر دورانیے کا کھیل مگر پیارے پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ کبھی ایسی جنگ لڑی گئی جو متنازعہ تھی مگر اس میں قربان گاہ پاکستان کو بنا دیا گیا۔ دنیا نے پہلی بار دیکھا کہ ایک ملک ایٹمی طاقت ہے مگر جہازی سائز کا کشکول بھی رکھتا ہے۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے پیارے پاکستان کو ہر طرح کے بودے اور بونے لوٹ سیل کی طرح ملے لیکن کوئی ایک بھی ایسا نہیں مل پایا جو پیارے پاکستان کا دیرینہ مسئلہ‘ مسئلۂ کشمیر سلجھا دیتا یا بھارت کی آبی دہشت گردی کے منہ زور گھوڑے کو لگام ڈال دیتا۔ ہاں مگر سید جماعت علی شاہ جیسے نابغے بہ تعداد کثیر مل گئے جنہیں شاید ’’سید بادشاہ‘‘ ہونے کے ناتے تمام کردہ وناکردہ گناہوں سے باعزت بری کردیا گیا بھارتی آبی دہشت گردی کے مبینہ سہولت کار جماعت علی کی کلاس لینے کا حوصلہ اور جرات کب اور کون کر یگا؟آج پاکستان کاسب سے بڑا مہیب اور موذی مرض پانی کی کم یابی ہے‘ نایابی ہے۔ یہاں سب کچھ ہورہا ہے لیکن پانی پر کوئی سیاست بھی نہیں کررہا۔ سوموٹو کے موسم میں پانی کے ایشو پر خزاں ہی نظر آرہی ہے۔ جہاں سیاسی جماعتیں مذہب کا سابقہ لگا کر اپنا گھر‘ آنگن‘ چہرہ‘ گاڑی اور رشتے دار چمکاتی ہیں اور نسل در نسل‘ چمکاتی ہی رہتی ہیں۔ ایسے میں عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ جائے یا کسی دن نہ سدھرنے والے حالات سے تنگ کر اہل و عیال سمیت خودکشی کرلے‘ مگر ایک مخصوص طبقے کی آمدن اور ذرائع آمدن میں مسلسل اضافہ
ہوتا رہے گا۔ جمہوری نظام حکومت میں عوام براہِ راست اپنے حکمران منتخب کرتے ہیں لیکن پیارے پاکستان میں اقتدار کا تاج سیاسی جماعتوں میں کس کے سر سجے گا یہ خود عوامی جماعتیں بھی نہیں بتا سکتی۔ ایسا بھی ہوا کہ اقتدار کا ہما تانگہ پارٹی کے سر پر بٹھا دیا گیا اور عوامی حمایت رکھنے والے منہ دیکھتے اور سینہ پیٹتے رہ گئے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اور ملک کو ہر قسم کے ’’میجک شو‘‘ سے پاک انتخابات اور مضبوط الیکشن کمیشن کے سپرد کیا جائے۔ پاکستانی قوم باصلاحیت ہے‘ محب وطن ہے۔ اس کی قابلیت اور پیارے پاکستان کے وسائل پر کسی کو کوئی شک نہیں۔ وطن عزیز پکار رہا ہے کہ صوبائیت‘ لسانیت اور کافر ہے‘ غدار ہے کی فیکٹریاں اور ڈھابے سیل بند کیے جائیں‘ ان کی پکی تالا بندی کی جائے اور چلی ہے رسم کہ کوئی سر اٹھا کر نہ چلے کو اب دفن کیا جائے۔


ای پیپر