Photo Credit INP

 نگران وزیراعظم کاانتخاب ،شاہد خاقان عباسی اور خورشید شاہ کے درمیان 5ویں ملاقات بھی بے نتیجہ
22 مئی 2018 (16:09) 2018-05-22

اسلام آباد: نگران وزیراعظم کے انتخاب کیلئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے درمیان ہونے والی 5ویں ملاقات بھی بے نتیجہ ختم ہوگئی،شاہدخاقان عباسی اورخورشیدشاہ کے درمیان 40منٹ ملاقات جاری رہی جس میں نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے کے حوالے سے مشاورت کی گئی تاہم نگراں وزیر اعظم کیلئے کسی نام پر اتفاق رائے نہ ہوسکا، نگران وزیر اعظم کا نام اگر مجوزہ آئینی مدت کے اندر فائنل نہ ہو سکا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا، پارلیمانی کمیٹی میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر 2، 2نام بھیجیں گے، پارلیمانی کمیٹی دیئے گئے 4ناموں میں سے نگران وزیراعظم طے کریگی، پارلیمانی کمیٹی بھی طے نہ کر سکی تو فیصلے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق منگل کو نگران وزیر اعظم کیلئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے درمیان ملاقات وزیراعظم آفس اسلام آباد میں ہوئی، جس میں نگراں وزیراعظم کے ناموں پر غور کیا گیا، تاہم کسی نام پر اتفاق رائے نہ ہوسکا، جس کے بعد ایک اور ملاقات کا فیصلہ کیا گیا ہے،ذرائع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شریف کو راضی کرنے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ نواز شریف کسی سابق جج یا بیوروکریٹ کے نام پر اتفاق نہیں چاہتے اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تیسری بار نواز شریف کو راضی کرنے کے لیے وقت مانگا ہے۔واضح رہے کہ حکومت کی 5سالہ مدت 31مئی کو ختم ہو جائے گی اس سے قبل نگران وزیر اعظم کا اعلان ہونا ہے۔

وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پارلیمنٹ ہاﺅس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بچہ پیدا نہیں ہوا زیادہ پریشان نہ ہوں۔ وزیراعظم سے ملاقات میں نگراں وزیراعظم کے لیے ناموں پر بحث ہوئی، ہماری کوشش ہے کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کے ذریعے ہی حل ہو، وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہمارے دیے گئے نام اچھے ہیں ان پرمزید غور کرنا چاہیے۔اپوزیشن لیڈر کاکہنا تھاکہ حکومت نے اپنے دئےے گئے ناموں پر ابھی اسرار نہیں کیا،حکومت کے نام بھی اچھے ہیں، وزیراعظم سے کہا ہے کہ آپ اور آپ کے لیڈر نوازشریف نے کہا تھا جونام اپوزیشن لیڈر دے گا وہ مان لیں گے جب کہ حکومت نے اپنے نام بھی دیے ہیں تاہم جو بات پہلے کی ہے اسی پر عمل ہونا چاہیے۔ خورشید شاہ نے کہاکہ وزیراعظم کونگراں وزیراعظم کے لیے دو تین مناسب نام پیش کیے، ایسے نام دیے ہیں جوسینئر بیوکریٹس رہ چکے ہیں، گیم اب حکومت کے ہاتھ میں ہے، ملاقات کا اگلا دور بدھ یا جمعرات کو دوبارہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملہ پر دوبارہ بات کرلیتے ہیں اس کے لیے وقت لیاہے، جو نام حکومت نے دیے تھے ان ناموں میں کوئی نیا نام شامل نہیں کیا تاہم 2دن ہیں اور مزید نام بھی سامنے آسکتے ہیں۔ نگران وزیر اعظم کا نام اگر مجوزہ آئنی مدت کے اندر فائنل نہ ہو سکا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا۔ پارلیمانی کمیٹی میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر 2، 2نام بھیجیں گے۔ پارلیمانی کمیٹی دیئے گیے 4ناموں میں سے نگران وزیراعظم طے کرے گی۔ پارلیمانی کمیٹی بھی طے نہ کر سکی تو فیصلے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) اورپیپلز پارٹی کی جانب سے نگران وزیر اعظم کیلئے تجویز کیے گئے نام سامنے آئے، پیپلزپارٹی نے نگران وزیر اعظم کیلئے سابق چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف اور سابق سیکرٹری خارجہ و امریکہ میں سابق سفیر جلیل عباس جیلانی کے نام تجویز کیے، پیپلز پارٹی نے تیسرا نام سلیم عباس جیلانی کا تجویز کیا ہے۔ادھرمسلم لیگ نے بھی تین نام تجویز کیے جن میں سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی، سابق چیف جسٹس ناصرالملک اور سابق گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین کے نام شامل ہیں، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی طرف سے جو نام پیش کئے گئے ہیں اس میں جسٹس (ر)تصدق جیلانی اور عشرت حسین کے نام مشترکہ ہیں۔ تحریک انصاف نے ڈاکٹر عشرت حسین، تصدق جیلانی اور عبدالرزاق داد کے نام دیئے تھے۔ جماعت اسلامی نے ڈاکٹر عبدالقدیر کا نام تجویز کیا تھا۔


ای پیپر