پانچ سال اور نو سو چوہے
22 مئی 2018

جتنی تیزی سے الیکٹ ایبلز بڑی تعداد میں تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں اسی رفتار سے تحریک انصاف کے خیر خواہوں کے تحفظات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان بھر سے مستند لوٹے تو اپنی جماعتیں چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں ان کے ساتھ ساتھ کرپٹ اور تبدیلی مخالف افراد بھی گروہ در گروہ تحریک انصاف کا رخ کر رہے ہیں اور میرے نزدیک یہ عمران خان کے لیے خوشی نہیں بلکہ پریشانی کا سبب ہونا چاہیے کہ وہ تمام لوگ جو عمران خان یا تحریک انصاف کو منہ لگانے کو تیار نہیں تھے اب شمولیت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں۔ کیوں؟ آخر کیوں یہ سب اونچے شملے والے، جاگیر دار، زمیندار، بزنس مین اور پیشہ ور سیاستدان جن کی روزی روٹی سیاست سے وابستہ ہے کیوں جوق در جوق اپنی پرانی پارٹی یا حیثیت چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں؟ مطلب صاف ظاہر ہے کہ انہیں یہ لگ رہا ہے کہ اب تحریک انصاف اقتدار میں آنے والی ہے اور کوئی بھی اقتدار کی ٹرین مس نہیں کرنا چاہتا؟ سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ تمام حضرات اگر یہ سوچ کر آ رہے ہیں کہ وہ تحریک انصاف کے لیے بننے والی عوامی مقبولیت کی لہر پر سوار ہو کر الیکشن جیت جائیں گے تو پھر تحریک انصاف کو ان کی کیا ضرورت ہے کیونکہ تحریک انصاف کا ابھی تک جو موومنٹم بن پایا ہے وہ ان کے بغیر ہی بنا ہے تو اب سے پہلے اگر تحریک انصاف ان کے بغیر زندہ تھی تو آئند بھی زندہ رہ لے گی مگر جب تک تحریک انصاف لنگڑی گھوڑی تھی تو 2013ء کے الیکشن تک تو ان سب کو فرصت نہیں ملی اب لوگوں نے اگر تحریک انصاف سے امید وابستہ کی ہے تو یہ صرف جماعت یا عمران خان سے ہے اس کا الیکٹ ایبلز سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ سب بڑے بڑے نام جو اب جماعت میں آ رہے ہیں یہ سب کے سب ناگزیر نہیں کیونکہ یہی وہ لوگ جو سسٹم کو یہاں تک پہنچانے کا باعث بنے ہیں کبھی یہ مسلم لیگ میں تھے یا پیپلز پارٹی میں پھر تھوڑے عرصے کے لیے جوگی کے پھیرے کی طرح ق لیگ میں گئے اور آج پھر کسی جیتنے والے گھوڑے کی پشت پر سواری کرنے کے لیے سرگرداں ہیں۔ جو لوگ آج تک سسٹم کی خرابی کا باعث تھے اور جن کی بدولت سیاست ذات برادری اور فیملی کے ارد گرد گھومتی رہی ہے وہ لوگ کس طرح تبدیلی کے علمبردار قرار پائیں گے؟ جن کے جسم میں کرپشن خون بن کر گردش کر رہی ہے وہ ریاست مدینہ کے تصور کو کس طرح ہضم کر پائیں گے؟ وہ تمام لوگ جو کے پی کے حکومت میں چھوٹی بے ایمانی اور تھوڑی بدنامی کا باعث تھے اب بڑی بد عنوانی اور بے تحاشہ بے شرمی کا عنوان ہوں گے۔ عمران خان نے اگر نذر گوندل، فردوش عاشق اعوان، علیم خان، جہانگیر ترین اور اسی قبیل کے دیگر لوگوں کی مدد سے ہی تبدیلی لانی ہے تو انا للہ وانا علیہ راجعون۔ جو ڈر گیا وہ مر گیا اگر آج کپتان نے ٹکٹوں کی تقسیم پر سمجھوتہ کیا تو یہ تحریک انصاف کے عروج کا آخری الیکشن ہو گا حالانکہ پی پی پی اور پی ایم ایل این کو تین، تین باریاں ملی ہیں مگر اس کو شاید دوسرا موقع بھی نہ ملے کہ اب دنیا اور عوامی شعور کئی منزلیں طے کر کے بہت آگے جا چکے ہیں اگر آپ خدانخواستہ فیل ہوئے تو واقعات اتنی تیزی سے رونما ہو رہے ہیں کہ آپ کو تاریخ بنتے ہوئے پتہ بھی نہیں چلے گا، جیسے میاں نواز شریف کو پتہ نہیں چلا کہ ہر عروج کو زوال ہے اور وہ اپنا عروج گزار چکے ہیں۔ ویسے اللہ معاف کرے کیا بلندی تھی کیا پستی ہے؟ وزیراعظم اور دنیا کی پہلی اسلامی قوت کے سربراہ سے موصوف سیدھے بلیک میلر بن گئے ۔ پہلے کہتے ہیں کہ میرے سینے میں راز ہیں، میرے ساتھ ڈیل کر لو ورنہ وہ راز کھول دوں گا اور پھر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی چبائی ہوئی چیونگم سے اپنے منہ سے ممبئی حملوں کا غبارہ پھلایا اور اب اس پر داد بھی چاہتے ہیں! اب کہتے ہیں کہ دھرنے کے کردار اور بھی تھے لیکن بتایا نہیں پھر ڈیل کا انتظار کر رہے ہیں چلیں دھرنے کے کردار پر بھی بات کر لیں کیا بتائیں گے آپ کے دھرنوں کے دوران آئی بی (انٹیلی جنس بیورو) نے کچھ ٹیلیفون ریکارڈنگ آپ کو مہیا کیں جو آپ نے جنرل (ر) راحیل شریف کو وزیراعظم ہاﺅس میں بلا کر سنائیں جس کے بعد جنرل راحیل شریف نے جنرل (ر) پاشا کو بلایا اور ان سے وہ ٹیپ سننے کے لیے کہا جس کے بعد آپ نے خود بھی تحقیقق کی لیکن جنرل راحیل شریف اس میں ملوث نہیں پائے گئے جنرل پاشا اپنے انجام کو پہنچے۔ یہ بتائیں گے آپ ؟ لیکن کیا آپ یہ بتائیں گے کہ جب ڈان لیکس کا غلغلہ تھا تو اس میں ایک نام نکلوانے کے لیے جو شخصیات جنرل راحیل کے پاس گئی تھیں وہ کیا آفر کر رہے تھے؟ آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ جب جنرل (ر) راحیل شریف سے توسیع کی بات چل رہی تھی تو اسلام آباد کے ای الیون سیکٹر میں فواد حسن فواد نے ایک اہم میٹنگ کس کے کہنے پر فکس کی اور جنرل (ر) راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے مہینوں پہلے ہونے والی اس میٹنگ میں کیا طے پایا تھا؟
آپ کے قدیمی ساتھی اور حلیف سینیٹر ساجد میر نے قادیانیت سے متعلق جو بیان دیا وہ جن دیگر دو اہم شخصیات سے منسوب کیا جا رہا ہے ان میں سے ایک سلطانی گواہ بنا دوسرا گھر چلا گیا یہ بتائیے آپ کے داماد اس معاملے میں کیا خیالات رکھتے ہیں اور وہ کس کے کہنے پر گاہے گاہے اس معاملے پر بیانات دیتے رہتے ہیں اور کیوں؟
چلیں یہ سارے مشکل سوال ہیں آپ احتساب عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے سوالنامے کے جوابات دے دیں تو قوم آپ کی مشکور ہو گی۔ قوم کو مشکور کرنے کے لیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف نگران وزیراعظم کے نام پر غور و فکر کا ڈرامہ کر رہے ہیں اصل میں صرف دو نام ہیں جن سے کچھ منوانے کے لیے پیغام رسانی ہو رہی ہے باقی سارے نام صرف گرد اڑانے کے لیے ہیں لیکن ان دونوں میں سے اگر ایک نام جو قدرے بہتر ہے فائنل نہ ہوا تو دوسرے نام پر جو دھول اور کیچڑ اچھلے گا وہ انتخابات کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگا سکتا ہے باقی آپ خود بہتر جانتے ہیں اب تو مولانا فضل الرحمن نے بھی حکومت میں شمولیت سے توبہ کر لی ہے، پانچ سال اور نو سو چوہے پورے ہونے کے بعد
ہائے اس زودپشیماں کا پشیماں ہونا!


ای پیپر