عامر عزیزیاں!
22 مئی 2018 2018-05-22

گُھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال اور ممتاز آرتھو پیڈک سرجن پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز کے نام ایک دوسرے کے ساتھ ایسے جڑے ہوئے ہیں جیسے عمران خان کا نام شوکت خانم ہسپتال سے جڑا ہوا ہے۔ دونوں میں ایک قدرمشترک یہ بھی ہے دونوں پر لوگ اندھا دھند اعتماد کرتے ہیں کیونکہ لوگ اس یقین میں مبتلا ہیں انسانیت کی فلاح خصوصاً مستحق مریضوں کے علاج معالجے کے لیے ان کی خدمت میں پیش کئے گئے عطیات اور رقوم کا ہرگز غلط استعمال نہیں ہوگا۔ عمران خان پچھلے دنوں شوکت خانم ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کے لیے برطانیہ گئے تو برطانیہ کے ایک شہر میں ایک گھنٹے میں لاکھوں ڈالرز اکٹھے ہوگئے ، اور یہ کوئی پہلی بار ایسے نہیں ہوا، سیاست میں مصروفیت کی وجہ سے اب شوکت خانم ہسپتال کے لیے ان کے پاس اتنا وقت نہیں مگر ان پر اعتماد کا عالم یہ ہے شوکت خانم کو عطیات اور زکوٰة وغیرہ دینے والوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں بسنے والے لوگوں کی یہ شدید خواہش ہے شوکت خانم کی فنڈ ریزنگ کے لیے عمران خان ان کے پاس آئیں اوروہ سب کچھ ان پر نچھاور کردیں، ....اِسی طرح پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز بھی مریضوں کے علاج معالجے اور آپریشن وغیرہ میں اتنے مصروف رہتے ہیں ان کے پاس بھی وقت نہیں ہوتا، ورنہ وہ بھی ایک دو ماہ مریضوں سے الگ تھلگ ہوکر گھرکی ہسپتال کے لیے دنیا میں فنڈ اکٹھا کرنے نکلیں، مجھے یقین ہے اتنے پیسے اکٹھے ہو جائیں گے مزید دوتین ہسپتال آسانی سے بن سکتے ہیں۔ ....گھرکی ہسپتال میں تقریباً ہر بیماری کا علاج بڑی توجہ سے کیا جاتا ہے مگر اس ہسپتال کی اصل شناخت اس کا سپائن سنٹر ہے جو دوسال قبل جناب عامر عزیز کی کوششوں اور کاوشوں سے تعمیر ہوا اور اس کا افتتاح ان کی عظیم والدہ محترمہ بیگم ذکیہ عزیز نے کیا تھا، وہ بہت ہی باکمال اور بہادر خاتون ہیں، ان سے پہلی ملاقات تب ہوئی تھی جب جنرل مشرف کے دور میں جناب عامر عزیز کو کچھ ایجنسیوں نے اسامہ بن لادن کا علاج کرنے کے ”جرم“ میں اُٹھا لیا تھا۔ اُن کی رہائی کے لیے سب نے بڑی جدوجہد کی، مگر ان کی رہائی کا اصل سبب ان کی عظیم ماں کی دعائیں بنی، وہ بہت پڑھی لکھی خاتون ہیں۔ غالب ، اقبال اور میر کے اتنے اشعار اُنہیں یاد ہیں غالب، میر اور اقبال زندہ ہوتے اتنے اشعار شاید اُنہیں اپنے یاد نہ ہوتے۔ اُوپر سے وہ اتنی نرم مزاج ہیں اور ان کی گفتگو کا رنگ ڈھنگ اتنا انوکھا اور نرالہ ہے سننے والے کو اپنے سحر میں مبتلا کرلیتا ہے۔ ہم نے ایک محاورہ سنا تھا ”منہ سے پھول جھڑنا “ .... اِس محاورے کی سمجھ پہلی بار ہمیں بیگم ذکیہ عزیز صاحبہ سے ملنے کے بعد آئی تھی۔ .... گُھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال میں روز بروز بڑھتی جانے والی خیروبرکت کا ایک سبب یہ بھی ہے ہمیشہ نیک لوگ اس سے جُڑے رہے، اس ہسپتال کا افتتاح ایک فرشتہ سیرت انسان عبدالستار ایدھی نے کیا تھا ۔ ان کی انسانی خدمات کا دائرہ اتنا وسیع تھا ایک بارجرمنی میں ایک گورے نے مجھ سے کہا ”پاکستان کے عوام کو یہ مہم چلانی چاہیے کہ پاکستان کا نام بدل کر ”ایدھی ستان“رکھ دیا جائے“ ،....گُھرکی ہسپتال کی بنیاد لاہور کے ایک سیاسی خاندان نے رکھی تھی۔ اس خاندان کے ایک اہم رکن محسن گُھرکی اب اس کے چیئرمین ہیں، وہ اس ہسپتال کو اتنا وقت دیتے ہیں یہی وقت وہ اپنے کاروبار کو دیں اُن کا شمار پاکستان کے چند بڑے دولت مندوں میں ہونے لگے، مگر وہ شاید یہ راز پا گئے ہیں دولت انسان کو سکون فراہم کرتی ہے نہ عزت،....اس کی سب سے بڑی مثال ہمارے سابق وزیراعظم ہیں، جتنی دولت ان کے پاس ہے شاید ہی اور کسی کے پاس ہوگی، اور جتنی بے سکونی ان کے پاس ہے وہ بھی شاید ہی اور کسی کے پاس ہوگی۔ اصل سکون خدمت خلق میں ہے، جو یہ راز پا لیتا ہے اس کی زندگی میں عزت ہی عزت اور سکون ہی سکون لکھ دیا جاتا ہے۔ جتنی عزت اللہ نے شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر پر عمران خان کو دی اور جتنی عزت گُھرکی ٹرسٹ ہسپتال میں عالمی معیار کا سپائن سینٹر قائم کرنے پر پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز کو دی وہ ان لوگوں کے نصیب میں کہاں جن کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف لوٹ مار کرنا ہے۔ اب تک لاکھوں مستحق مریض شوکت خانم ہسپتال سے صحت یاب ہو چکے ہیں اور ہزاروں مستحق مریض گُھرکی ٹرسٹ ہسپتال کے سپائن سینٹر سے علاج کے بعد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ دُکھی انسانیت کی خدمت ہی اصل کمائی ہے جس کی توفیق ہمارے اکثر حکمرانوں کو نہیں ہوتی، .... اگلے روز پنجاب کے حکمران اعلیٰ کے فرزند اعلیٰ نیب میں پیشی بھگتنے کے بعد فرمارہے تھے ”میرے والد اکثر فرماتے ہیں کفن کو جیبیں نہیں ہوتیں “.... یوں محسوس ہورہا تھا جیسے وہ اپنے والد محترم کا قول بیان نہیں فرمارہے بلکہ یہ گلہ کررہے ہیں کہ کفن کو جیبیں کیوں نہیں ہوتیں .... ویسے ان کا بس چلے کفن کو جیبیں بھی وہ لگوالیں اور جوکچھ بذریعہ لوٹ مار اب تک انہوں نے کمایا ہے سب اُن جیبوں میں بھر کر ساتھ لے جائیں۔ ایک طرف حکمرانوں کی دولت کی ہوس ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، دوسری طرف عامر عزیز جیسے لوگوں کی انسانیت کی خدمت کی ”ہوس“ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، پچھلے دنوں ان کی کاوشوں سے گُھرکی ٹرسٹ ہسپتال کے سپائن سینٹر میں مخیر حضرات کے تعاون سے عالمی معیار کے جدید ترین سہولتوں اور آلات سے آراستہ پانچ نئے آپریشن تھیٹرز کا افتتاح ان معصوم بچوں (فرشتوں) نے کیا جو ہڈیوں کی انتہائی مہلک بیماریوں سے صحت یاب ہوکر اب نارمل زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ علاج سے قبل وہ اس احساس میں مبتلا تھے وہ کبھی صحت یاب نہیں ہوسکیں گے۔ یہ پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز اور اُن کی اُن جیسی قابل ٹیم جو پروفیسر ڈاکٹر شہزاد جاوید ، پروفیسر محمد نعیم، پروفیسر ڈاکٹر رضوان اکرم، ڈاکٹر عاصم اور بعض دوسرے مسیحاﺅں پر مشتمل ہے کا کمال ہے کہ اللہ خاص فضل وکرم سے بے شمار ایسے مستحق مریض ان کے ہاتھوں شفا یاب ہو جاتے ہیں جو اپنے علاج کے لیے مالی و سائل نہ ہونے کی وجہ سے بھی شدید مایوسی کا شکار ہوتے ہیں ۔ ہم بچپن میں اپنے بڑوں سے سنتے تھے ” فلاں ڈاکٹر کے ہاتھوں میں اللہ نے بڑی شفا رکھی ہے“۔ پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز اس معیار پر سوفی صدپورااترتے ہیں ۔ مریض کی آدھی بیماری ان کے حسن سلوک اور توجہ سے ٹھیک ہو جاتی ہے اور باقی علاج سے ہو جاتی ہے۔ اُن کی دین داری اور نیک نیتی کے باعث کئی بار ایسے ہوتا ہے مریض ان سے نسخہ لکھوانے کے بعد ”دم “ بھی کرواتے ہیں، جسے دعا کروانا بھی کہا جاسکتا ہے.... میں سوچ رہا تھا وہ بھی کیا زمانہ تھا جب ہمارے بڑے اپنے بچوں کو بیمار ہونے پر انہیں کسی ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے بجائے مسجدوں میں لے جاتے تھے، جہاں مسجد کے دروازے کے پاس اپنے بیمار بچوں کو لے کر وہ کھڑے ہو جاتے۔ مسجد سے باہر نکلنے والے نمازی کوئی نہ کوئی آیت پڑھ کر اُن بچوں پر پھونک دیتے جس کی برکت اور رحمت سے بچے ٹھیک ہو جایا کرتے تھے۔ (جاری ہے)


ای پیپر