Nai Baat Magazine Report
22 مارچ 2021 (23:09) 2021-03-22

فاروق عادل

سن 1977 میں پاکستان کے پہلے عام انتخابات اور 2021 کے سینیٹ کے انتخاب کے درمیان ممکن ہے کہ کوئی ایک بھی قدر مشترک نہ ہو لیکن ایک چیز ایسی ہے جس نے 44 برس کے طویل فاصلے کو چشم زدن میں ختم کر دیا اور وہ ہے ایک ریگولیٹر کی حیثیت سے روایتی طور پر اختیار کی جانے والی خاموشی کا خاتمہ۔1977 کے عام انتخابات دھاندلی کے الزامات کی وجہ سے متنازع بن گئے تو چیف الیکشن کمشنر جسٹس سجاد احمد جان ایک بیان دینے پر مجبور ہو گئے۔انھوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہر بار ایک جملے کی تکرار ضروری سمجھی۔انھوں نے کہا تھا: ’الیکشن کمیشن کے تمام تر انتظامات کے باوجود ملک بھر میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کا ارتکاب کر کے ملک و ملت کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیا، یہ ایسے ہی تھا کہ جیسے کوئی سجی سجائی دکان کو لوٹ کر لے جائے۔'چیف الیکشن کمشنر کے اس غیر معمولی بیان نے اقتدار کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں اور یہ محسوس کیا جانے لگا کہ اگر وہ اسی طرح کھلے عام اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت کے مفادات کے متوازی مؤقف اختیار کرتے رہے تو اس کے نتیجے میں ناقابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہے۔چناںچہ انھیں خاموش کرنے کے لیے ایک ایسی حکمت عملی اختیار کی گئی جس کی جڑیں برصغیر کی قدیم تاریخ میں ملتی ہیں۔

مغل بادشاہ جب اپنے کسی بزرگ یا حریف سے خطرہ محسوس کرتے تو وہ اسے زبردستی سفر حج پر روانہ کر دیتے۔اس زمانے کے حالات کے مطابق یہ طویل سفر حکمران کے لیے اس طرح عافیت کا باعث بن جاتا کہ اول تو حج پر جانے والا بزرگ برسوں کے طویل سفر کی صعوبتوں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسی دوران اللہ کو پیارا ہو جاتا یا خوش قسمتی سے اگر واپس بھی پلٹ آتا تو اس دوران میں ظل سبحانی اپنا اقتدار مضبوط کر چکے ہوتے۔

اسی آزمودہ فارمولے سے استفادہ کرتے ہوئے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایک بیان میں کہا: ’چیف الیکشن کمشنر جسٹس سجاد احمد جان کو طبی معائنے کے لیے بیرون ملک جانے کی فوری طور پر اجازت دے دی گئی ہے اور وہ اس مقصد کے لیے امریکا جا رہے ہیں۔‘چیف الیکشن کمشنر نے وزیراعظم کے اچانک آنے والے بیان کی وضاحت ضروری سمجھی اور کہا: ’وزیراعظم کی پریس کانفرنس اور علاج کے لیے میرے بیرون ملک جانے کی اطلاع سے یہ غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے کہ شاید میں فوری طور پر بیرون ملک جانے والا ہوں، یہ تاثر درست نہیں۔‘’میں آئندہ کئی ہفتوں تک ملک میں موجود رہوں گا اور انتخابی عذرداریوں کی سماعت کرتا رہوں گا۔‘

چیف الیکشن کمشنر نے سجی سجائی دکان کو لوٹ لیے جانے سے متعلق جو بیان دیا تھا، اس تاریخی بحران میں حکومت کا تاثر خراب کرنے میں اس نے بنیادی کردار ادا کیا۔حکومت نے ضروری سمجھا کہ اس پریشانی سے نجات اسی میں پوشیدہ ہے کہ ایک آزاد آئینی ادارے کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے نیک نام جج سے کسی طرح نجات حاصل کر لی جائے۔اس مقصد کے لیے ان کی علالت کو آڑ بنانے کی کوشش کی گئی لیکن ذوالفقار علی بھٹو جیسے طاقت ور اور مخالفین کا کھلے عام مذاق اڑانے والے حکمران ان کے بیانات کا جواب دینے کے ہمت نہ کر سکے یا انھوں اسے غیر مناسب جانا۔

1977 میں چیف الیکشن کمشنر اور حکومت کے درمیان رائے کے اختلاف کے آثار انتخابات سے پہلے ہی دکھائی دینے لگے تھے۔اس زمانے میں حکومت مخالف اتحاد پاکستان قومی اتحاد یعنی پی این اے نے انتخابات سے دو تین روز قبل حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ تشدد کو فروغ دے رہی ہے اور ریاستی طاقت کے استعمال سے اپنے مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے درپے ہے۔حزب اختلاف نے اس معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے ملک گیر ہڑتال کرا دی۔

چیف الیکشن کمشنر نے اس صورت کا نوٹس لیتے ہوئے ایک بیان میں فریقین کو صبرو تحمل سے کام لینے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ اشتعال انگیزی اور ایجیٹیشن سے گریز کریں کیوںکہ اس قسم کے رویے کا نتیجہ تلخی اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔انتخابی مہم کے خاتمے پر چیف الیکشن کمشنر جسٹس سجاد احمد جان نے ریڈیو اور ٹیلی ویڑن پر قوم سے خطاب میں کہا:’انتخابی مہم کے دوران کشیدگی میں اضافے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ بعض مقامات پر تشدد کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ اس قسم کے واقعات سے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا صحت مندانہ ماحول متاثر ہو سکتا ہے جو الیکشن کمیشن نے کئی ماہ کی مسلسل کوششوں سے پیدا کیا ہے۔‘

حکومت ابھی صدمے سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی کہ چیف الیکشن کمشنر نے ایک اور بیان میں کہا کہ انتخابی دھاندلی کی اطلاعات ملک کے طول وعرض سے موصول ہوئی ہیں اور تقریباً تمام وزیر اس میں ملوث پائے گئے ہیںاس کے بعد انتخابی عذرداری کی سماعت کے نتیجے میں ایک اور واقعہ رونما ہو گیا جب سرگودھا سے منتخب ہونے والے ایک وفاقی وزیر حفظ اللہ چیمہ کا انتخاب کالعدم قرار دے دیا گیا۔اس واقعے نے آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے تاثر کو کمزور کرنے کے علاوہ حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی غیر معمولی مقبولیت کے دعوے کو شدید زک پہنچائی۔حکومت ابھی صدمے سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی کہ چیف الیکشن کمشنر نے ایک اور بیان جاری کیا جس میں انھوں نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کی اطلاعات ملک کے طول وعرض سے موصول ہوئی ہیں اور تقریباً تمام وزیر اس میں ملوث پائے گئے ہیں۔

اس موقع پر انھوں نے انتخابی بدعنوانی کے لیے دھاندلی کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتنی کھلی اور واضح تھی کہ اس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے انتخابی بے ضابطگیوں کے بارے میں مسلسل اظہار خیال اور حزب اختلاف کی تند و تیز احتجاجی تحریک کی وجہ سے یہ مسئلہ بین الاقوامی طور پر توجہ کا مرکز بن گیا اور عالمی ذرائع ابلاغ اس میں دلچسپی لینے لگے۔

لیکن چیف الیکشن کمشنر نے خبردار کیا کہ اگر ان کی پیشہ دارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو وہ بلاتاخیر مستعفی ہو جائیں گے۔یہی وہ انٹرویو تھا جس میں انھوں نے کہا کہ اگر انھیں شواہد مل گئے تو وہ قومی اسمبلی کے تمام حلقوں میں تحقیقات کرانے سے نہیں ہچکچائیں گے۔ چند روز کے بعد ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے قومی کے علاوہ صوبائی اسمبلیوں کو بھی اسی فہرست میں شامل کر دیا۔

چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے اختیار کیے گئے اس جرات مندانہ طرز عمل کے جواب میں مکمل طور پر خاموشی اختیار کی گئی لیکن وزیراعظم نے جب ایک پریس کانفرنس میں ان کی علالت کا انکشاف کیا اور انھیں فوری طور پر رخصت پر بھیجنے کی بات کی تو اس سے دباؤ والے نظریے کو تقویت ملی۔

کراچی اور حیدر آباد میں کرفیو کی خلاف ورزی کے واقعات دیکھنے میں آئے۔ ملتان میں لوگوں نے پولیس کے مقابلے میں مورچہ بندی کر لی۔لیکن جیسے ہی چیف الیکشن کمشنر نے وزیراعظم کے اعلان کی تردید کی، اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ اس وقت دو ریاستی ادارے ایک دوسرے کے سامنے آ چکے ہیں۔

حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے درمیان کشیدگی کی تصدیق کے دو فوری نتائج دیکھنے کو ملے۔ایک تو یہ کہ حزب اختلاف کے مؤقف میں مزید سختی آگئی اور اس نے حکومت سے فوری طور مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔پاکستان قومی اتحاد کے سربراہ مولانا مفتی محمود نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی سجی سجائی دکان کے لٹ جانے کے اعتراف کے بعد اب اس حکومت کے برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں اور انھوں نے چیف الیکشن کمشنر سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔پاکستان قومی اتحاد کے ایک اور رہنما ایئر مارشل اصغر خان نے بھی اس مطالبے کی تائید کی لیکن مفتی محمود کے مقابلے میں ان کی زبان زیادہ سخت تھی۔ ان دونوں رہنماؤں کے بیانات کے بعد یہ مطالبات زبان زد عام ہو گئے۔

دوسرا فرق یہ پڑا کہ احتجاجی تحریک کی شدت میں اضافہ ہو گیا اور مولانا کوثر نیازی کے مطابق عوامی سطح پر حکومت کے اختیار یا رٹ کو نظر انداز کرنے واقعات بڑھ گئے۔اس زمانے کے اخبارات میں اس کی کئی مثالیں دیکھی جاسکتی ہے۔کراچی اور حیدر آباد میں کرفیو کی خلاف ورزی کے واقعات دیکھنے میں آئے۔ ملتان میں لوگوں نے پولیس کے مقابلے میں مورچہ بندی کر لی جب کہ پاکستان قومی اتحاد نے سول نافرمانی کا اعلان کیا تو اس کے نتیجے میں عوام نے بینکوں سے رقوم نکلوا لیں، لازمی خدمات کے بل جمع کرانے سے انکار کر دیا گیا اور اس کے علاوہ لوگوں نے حکومت کے زیر انتظام چلنے والی ریل گاڑیوں پر بلا ٹکٹ سفر شروع کر دیا۔سٹینلے وولپرٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کے حالات زندگی پر اپنی کتاب ’ذلفی بھٹو آف پاکستان‘ میں لکھا ہے کہ سول نافرمانی کی وجہ سے قومی آمدن میں کمی واقع ہو گئی اور حکومت کے پاس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے وسائل بھی نہ رہے۔یوں دو ریاستی اداروں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے دیکھتے ہی دیکھتے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر دیا جس کے نتیجے میں مارشل لا کی راہ ہموار ہو گئی۔

اس سال ڈسکہ کے ضمنی انتخاب اور خاص طور پر سینیٹ الیکشن کے بعد حکومت کے سربراہ عمران خان کی زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے درمیان بیان بازی کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، وہ سن 1977 کے ان ہی پر آشوب دنوں کی یاد دلاتا ہے جو کشیدگی سے شروع ہو کر مکمل انہدام تک جا پہنچے تھے۔انتخابی عمل کے ممتاز ماہر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد اس صورتحال کو مستقبل کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ان کا استدلال سمجھنے کے لیے حکمراں جماعت اور الیکشن کمیشن کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے والی وجوہات کی تفہیم ضروری ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اور الیکشن کمیشن پاکستان کے درمیان اختلاف کی بنیاد چند برس قبل اس وقت پڑی جب اِس سیاسی جماعت کے ایک بانی رکن اکبر ایس بابر نے فارن فنڈنگ کا مقدمہ دائر کیا۔یہ مقدمہ تحریک انصاف کے لیے زندگی اور موت کے مسئلے کی حیثیت رکھتا ہے۔ذرائع ابلاغ کے توسط سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس مقدمے سے جان چھڑانے کی سرتوڑ کوشش کے باوجود کوئی کامیابی ممکن نہ ہو سکی۔

اب یہ مقدمہ غیر معمولی طوالت کا شکار ہے جسے اس مقدمے کے نتائج سے بچنے کی ایک اضطراری کوشش خیال کیا جاتا ہے۔وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی دوہری شہریت کا مقدمہ بھی پی ٹی آئی کے لیے ایسی ہی پریشانی کا ایک سبب ہے۔فیصل واوڈا کی قومی اسمبلی سے رکنیت سے استعفے کے بعد یہ اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جس میں آنے والے دنوں میں مدعا علیہ کے لیے مشکلات کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

اس پس منظر میں سینیٹ الیکشن میں کھلے یا خفیہ بیلٹ کے معاملے اور اس سے قبل ڈسکہ انتخاب کی منسوخی نے حکمران جماعت اور الیکشن کمیشن کے درمیان کشمکش کو اجاگر کیا ہے۔

اس پس منظر کو ذہن میں رکھ کر وزیر اعظم کی طرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کے موقع پر تند وتیز تقریر کا پیغام سمجھنے کی کوشش کی جائے تو سن 1977 کے واقعات کی یاد تازہ ہونے کے علاوہ یہ تاثر قوی ہوتا ہے کہ اس طرز عمل کے نتیجے میں کوئی چاہے یا نہ چاہے، الیکشن کمیشن جیسے قومی ادارے کے متنازع بننے کی راہ ہموار ہو گی۔بدقسمتی سے اگر ایسا ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں سیاسی تقسیم مزید گہری ہونے کے علاوہ تلخی میں اضافہ ہو گا اور عوام کا ایک طبقہ الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو انتظامی، قانونی اور اصولی سمجھنے کے بجائے اپنی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کرے گا، اس طرح ہر فیصلہ اور ہر انتخابی نتیجہ متنازع بنانے کی راہ ہموار ہو گی۔موجودہ حکمران جماعت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا واحد نتیجہ یہی ہو سکتا ہے جو سیاسی اعتبار سے پہلے سے کشیدہ ماحول کو مزید کشیدہ کردے گا۔ حزب اختلاف کی احتجاجی تحریک کے پس منظر میں اس کشیدگی کی شدت اور اثرات کئی گنا بڑھ جائیں گے۔

الزامات اور بے رحمانہ تنقید کے اس ماحول میں 2021 کا الیکشن کمیشن بھی زبان کھولنے پر مجبور ہوا ہے اور اس نے سینیٹ کے انتخابات کے ضمن میں حکمران جماعت کے مؤقف کے تضادات کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔سن 1977 کے بعد پیدا ہونے والی یہ صورتحال کس قسم کے حالات کا پیش خیمہ بنے گی، اس کا اندازہ آئندہ چند روز میں ہو جائے گا۔

٭٭٭٭٭


ای پیپر