Mushtaq Sohail, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
22 مارچ 2021 (12:13) 2021-03-22

’’یہ سانحہ بھی کسی دن گزرنے والا تھا‘‘ پی ڈی ایم کی جماعتوں نے یہ روز بد بھی دیکھنا تھا کہ ساجھے کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹ گئی گویا اپوزیشن کی قسمت روٹھ گئی۔ اسی بات کا ڈر تھا کہ جب بھی استعفوں کا ذکر چھڑا، پیپلز پارٹی حمایت نہیں کرے گی اور اپوزیشن اتحاد کا جنازہ نکل جائے گا۔ سو نکل گیا۔ با آواز بلند کلمہ شہادت، ایک زرداری سب پر بھاری ایک تقریر نے اپوزیشن اتحاد سے متعلق حکومتی خدشات بقول شخصے سچ کر دیے۔ وزیر مشیر بغلیں بجا رہے ہیں۔ حکومتی کیمپوں میں جشن بپا ہے ادھر ماتمی دھنیں ادھر خوشی کے شادیانے، سیاسی اتحاد بنتے ٹوٹے رہتے ہیں لیکن اتنی جلدی تمت بالخیر خدا خیر کرے، وہ بھی لانگ مارچ سے صرف دس دن قبل ’’قسمت کی خوبی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند، دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا۔ پیپلز پارٹی بام پر آگئی۔ مولانا اور دیگر لیڈروں سے ہاتھ ہوگیا۔ پی ڈی ایم پر سیاسی مفادات کی چادر تن گئی۔ مختلف الخیال جماعتوں میں اتحاد بڑی سیاسی پیشرفت تھی ،کوئی مانے نہ مانے لیکن اس اتحاد سے ساری حکومتی مشینری پریشان تھی دیکھا نہیں سارے وزیر مشیر اپنے سرکاری کام چھوڑ کر کیمروں کے آگے بیٹھ گئے تھے۔ بھلا ہو آصف زرداری کا جنہوں نے عین موقع پر حملہ آور ہو کر اعتماد کے سارے بت توڑ دیے بت شکنی تھی یا بت فروشی؟ دیکھنے والی بیدار آنکھوں اور سننے والے کانوں نے بر ملا کہا کہ آصف زرداری سب سے عقل مند نکلے انہوں نے اپنے سارے کام سیدھے کرلیے سینیٹ میں سیٹیں حاصل کر کے کامیابیاں سمیٹ لیں۔ باعث حیرت اسلام آباد کی نشست پر مسلم لیگ ن اور دیگرکے ووٹوں سے یوسف رضا گیلانی جیت گئے لیکن ان ہی ووٹوں سے ن لیگ کی امیدوار ہار گئی، کیا تماشا ہے کیا جادوگری ہے؟ ن لیگ لوزر رہی، یاروں کا ماتھا ٹھنکا تھا لیکن انتخابات کے فوراً بعد پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں آصف زرداری نے استعفوں کو نواز شریف کی وطن واپسی سے مشروط کر کے سب کو حیران کردیا۔ نواز شریف اور زرداری صاحب کے اختلافات پھر کھل کر سامنے آگئے۔ نواز شریف استعفوں پر بضد، زرداری پارلیمنٹ میں رہنے پر مصر، بات بگڑ گئی، لانگ مارچ کیسے ہوتا ’’نہ کرن دیاں گلاں‘‘ نواز شریف نے دکھ کا اظہار کیا کہا کہ ہم نے 90ء کی دہائی کے اختلافات بھلا کر اتحاد کیا تھا ادھر سے پھر وہی الزام تراشی، ن لیگ بار بار اوندھے منہ کیوں گرتی ہے؟ سیانوں نے کہا تھا ’’دوستی جب کسی سے کی جائے۔ دشمنوں کی بھی رائے لی جائے‘‘ ہزیمت اٹھانی پڑی، پی ڈی ایم 26 مارچ کو حملہ کے لیے تیار تھی ایک دستہ پیچھے ہٹ گیا۔ جناب زرداری کی تقریر دلپذیر سے مولانا حیران دیگر لیڈر پریشان، اور تو اور ’’تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا‘‘۔ ’’فرشتے‘‘ تو کئی دنوں سے مانیٹرنگ میں مصروف تھے۔ جانی پہچانی آواز نے ان کا کام آسان کردیا۔ ایک محترم نے ہرزہ سرائی کی ہم نے اسے توہین جانا، ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے 20 ستمبر 2020ء کو جنم لیا۔ عمر سات ماہ، ست ماہی بچے کی طرح اس دوران نا پختہ رہی۔ ایسے بچہ کو انکیوبیٹر 

میںرکھا جاتا ہے۔ معمول سے کم وزن، نا پختہ ذہن، پہچاننے کی صلاحیت سے عاری، پی ڈی ایم کے سارے فیصلے نا پختہ ثابت ہوئے،ابتداء وزیر اعظم سمیت 3 استعفوں کے مطالبے سے ہوئی چار پانچ جلسوں کے بعد ہی ریورس گیئر لگ گیا۔ بلندی تک پہنچنے سے پہلے کھائی میں جا گرے کھیر پکائی جتنوں سے یار لوگ کھا پی کر چمپت ہوگئے۔ 3 استعفے بھلا کر اپنے استعفوں پر اصرار، مگر یہ ہو نہ سکا، نہ کھپے نہ کھپے کے نعرے لگاتے۔ ’’ماہر خفیہ امراض سیاست‘‘ نے استعفوں کو نواز شریف کی وطن واپسی سے مشروط کر کے کہانی ختم کردی۔ ہرزہ سرائی، توہین قرار لیکن اس ڈرامائی تقریر نے اتحادکو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک صاحب نے یہ کہہ کر ڈھارس بندھائی کہ پی ڈی ایم ٹوٹی نہیں۔ دوسرے نے لقمہ دیا دراڑ پڑ گئی ہے۔ پی پی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے فیصلے کا انتظار ہے مگر وہ کیا کرے گی۔ پنچوں کی رائے سر آنکھوں پر پرنالہ وہیں گرے گا۔ نومن تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ نواز شریف واپس آئیں گے نہ استعفیٰ دیے جائیں گے خشت اول ٹیڑھی پوری دیوار کج، یار لوگوں کو مین میخ نکالنے کی بڑی بری عادت ہے۔ ایک دشمن جاں نے کہا ’’کہیں سے لائن ملی ہوگی کہ مزید سہولتیں دیں گے۔ بس پی ڈی ایم کا ٹنٹا ختم کرو، بد خواہوں کا پروپیگنڈا ورنہ سیانے بیانے سیاستدان کو ڈکٹیشن کون دے گا۔ ماشاء اللہ گرم سرد چشیدہ، انہوں نے جو مناسب سمجھا کہہ دیا۔ اپوزیشن کی مرضی، اسمبلیوں میں بیٹھے یا گھر بیٹھ کر آرام کرے، اس سارے ہنگامے میں حکومت کی عمر دراز ہو گئی۔ ہاتھ کھل گئے اپنوں کی ملازمتوں میں توسیع، گالیوں کا تواتر سے استعمال، یونیورسٹی یعنی مادر علمی کے نئے بلاک کی افتتاحی تقریب میں بھی نواز شریف اور زرداری پر لعنتیں بھیجنے کی روایت برقرار، ایسے حالات میں اپوزیشن رہنمائوں کے سروں پر جوتے اور خواتین کو ٹھڈے ہی پڑیں گے۔ تشدد کا کلچر پروان چڑھ چکا جوتوں کی شکل میں سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ سیاسی لیڈر بتدریج اخلاقی پستی کا شکار ہو رہے ہیں۔ باہمی تلخیاں بڑھ رہی ہیں۔۔ پی ٹی آئی کا گرم خون میدان عمل میں ستم ڈھانے کو بے تاب ہے۔ ایسے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ابھی انڈوں اور جوتوں کا نقصان ہے کسی کے خدانخواستہ گھٹ ہونے کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سیاست کا کتنا مکروہ چہرہ سامنے آرہا ہے۔ شعلے سابق وزرائے اعظم اور موجودہ وزیروں مشیروں کے دامن تک پہنچ گئے ہیں۔ بد تہذیبی اور اخلاق باختگی کی آگ جنگل کی آگ کی طرح سب کو لپیٹ میں لے رہی ہے۔ سب کچھ بھسم کردے گی۔ ’’رقص میں سارا جنگل ہوگا‘‘ سوچے کون؟ سمجھائے کون؟’’ پاگل کو سمجھانے والا خود بھی تو پاگل ہوتا ہے‘‘۔ پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے احسن اقبال کے سرپر جوتا لگے تو پوری پارلیمنٹ پرسکوت طاری، حکومت خاموش کوئی مذمتی بیان نہ حرف ملامت لیکن شہباز گل پر سیاہی پھینکی جائے تو وہ اپوزیشن کے سیاہ اعمال کی کالک بن جائے، اپوزیشن لیڈروں پر تاک تاک کر حملے کیا گل کھلائیں گے؟ سیاہی سے روشنائی کیسے پھوٹے گی؟ کسی کو بھی علم نہیں، پی ڈی ایم کا زوال حکومت کے لیے بھی کوئی نیک شگون نہیں، لانگ مارچ ابھی نہیں ہوگا  یہ کچھ دن بعد میں ہوگا۔ مہنگائی سے تنگ خلق خدا سروں پر کفن باندھ کر سڑکوں پر نکل آئی تو اسے کسی پی ڈی ایم یا ن لیگ اور پیپلز  پارٹی کی قیادت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ کفن بردار ہی قیامت  برپاکریں گے اور ان ہی میں سے کوئی نئی قیادت جنم لے گی اسے کون روکے گا؟ خبریں گرم ہیں کہ متبادل کی تلاش ہے کس کا متبادل؟ پتا نہیں جب پتا نہیں تو لوگ بے پر کی کیوں اڑاتے ہیں ؟ فی الحال پوری قوم کووڈ 19 اور مہنگائی 21ء کے عذاب سے دوچار ہے کووڈ 19 آسمانی اور مہنگائی زمینی عذاب ہے۔ دونوں جان لیوا، لوگ با آواز بلند فریاد کناں ہیں۔ ایک محترم نے ہانک لگائی کہ فواد چوہدری نے کسی محترم کے لیے نظم ٹوئٹ کی ہے۔ نظم بہت اچھی اور اونچے سروں میں الاپنے کے قابل ہے ’’ابھی تو آپ ہیں اور آپ کا زور خطابت ہے، بہت الفاظ ہیں نادر، بہت بے ساختہ  جملے۔ ابھی تو آپ ہی کہتے ہیں کتنا خوب کہتے ہیں، جو دل میں آئے کہتے ہیں جوہر مطلوب کہتے ہیں۔ مگر جب آپ کی سیرت پہ ساری گفتگو ہولے، تو یہ بھی یاد رکھیے گا ابھی تک ہم نہیں بولے‘‘۔ لوگوں کو زباں مل گئی۔ تو کیا کیا بیان ہوں گے۔ پی ڈی ایم ٹوٹے یا بچے اس سے کیا فرق پڑے گا؟ ہمارے محترم دوست منیر الدین کا کہنا ہے کہ اس سے خود پیپلزپارٹی کو نقصان پہنچے گا۔ اس کی بارگیننگ پوزیشن ختم ہوجائے گی۔ 18 ویں ترمیم پر دبائو بڑھ جائے گا۔ 


ای پیپر