Sumera Malik, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
22 مارچ 2021 (12:01) 2021-03-22

کوہ سلیمان کے باسی سردار عثمان بزدار عجز و انکساری کے ساتھ پنجاب کے عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے سب سے پسماندہ ڈویژن ڈیرہ غازی خان کے علاقے بارتھی سے ہے۔ جنہوں نے اپنے وژن سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ عملی جدوجہد اور اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر جلد پنجاب کو دیرینہ پسماندگی، غربت، بے روزگاری اور دیگر محرومیوں سے نجات دلا کر دم لیں گے۔

پنجاب کا کل رقبہ 25.6فیصد ہے۔ جس میں پاکستان کی کل آبادی کا 53فیصد ہے جو تقریباً 11کروڑ کے قریب آبادی بنتی ہے۔ 2017 کے سروے کے نتائج کے مطابق آبادی بڑھنے کے تناسب میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ جس کا تناسب 2.64 فیصد ہے۔ جبکہ 1998 کے سروے کے مطابق تناسب 2.13 فیصد تھا۔ شوباز حکمران کے دس سالہ دور حکومت غفلت کا شکار رہی۔ مگر اب وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں آبادی کے تناسب کو کنٹرول کیا جائے گا۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور ماں اور بچے کی صحت کے متعلق پروفیشنل ٹاسک فورس آن پاپولیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اور محکمے کے 5287 افراد کی Capacity Building کے لئے جامع ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ شکایات اور معلومات کے بارے میں ہیلپ لائن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ موبائل سروس یونٹ کی مدد سے 5485 کیمپس منعقد کئے گئے، جن کے ذریعے 114006 فیملی پلاننگ 127950 افراد کو معمول کے مسائل کے حوالے سے سہولت دی گئی۔ ’’ریجنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ‘‘ ساہیوال کے لیے 174ملین روپے دیے گئے، جبکہ ویلفیئر پروگرام پنجاب کے لیے 365ملین روپے جاری ہوئے ہیں۔ فیملی ویلفیئر سنٹر کے ورکرز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔

پنجاب میں خواتین کو با اختیار کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے وویمن ڈویلپمنٹ یعنی خواتین کے محکمے کا تاریخ سال قدم ’’ویمن ہاسٹلز اتھارٹی (WHA) کا قیام کیا ہے جس سے خواتین کو محفوظ اور معیاری رہائش گاہیں میسر آ سکیں گی، جبکہ اڑھائی کروڑ کی لاگت سے 28 نجی اداروں میں ورکنگ ویمن کے بچوں کے لئے ’’ڈے کیئر سنٹر‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔

پنجاب کے سوشل ویلفیئر اور بیت المال کا ادارہ اچھے انداز میں کام کر رہا ہے۔ جس سے لاہور میں 9 پناہ گاہیں بنائی گئی ہیں۔ پناہ گاہوں میں 800افراد بیک وقت مقیم ہوئے ہیں۔ ملتان میں 106 ملین روپے کی لاگت سے عورتوں کے خلاف تشدد سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جہاں 3000خواتین رہائش پذیر ہیں۔ پنجاب حکومت کا ہر ڈویژن میں 9 پناہ سنٹر بنانے کا پروگرام ہے۔ عورتوں کے خلاف تشدد سنٹر پنجاب کے 4 ڈویژن فیصل آباد، راولپنڈی، لاہور اور بہاول پور میں بنائے جائیں گے۔ جو خوش آئند ہے۔ 8 نئے ’’شیلٹر ہوم‘‘ کی بلڈنگ بنائی گئی جو ملتان، گجرات، لیہ، لودھراں، قصور اور نارووال شامل ہے۔ اس سال حافظ آباد میں ’’شیلٹر ہوم‘‘ کی بلڈنگ کی تعمیر کے لئے 29ملین روپے، نارووال شلٹر ہوم کے لئے 32ملین، ملتان 106 ملین روپے، قصور 38ملین، لودھراں38ملین روپے، لیہ 27ملین روپے کے فنڈ جاری کئے گئے ہیں جبکہ ڈی جی خان میں پناہ گاہ سنٹر کے لئے 80ملین روپے خرچ ہوئے۔

انٹی انکروچمنٹ سکواڈ کی مدد سے محکمہ اوقاف کی 197 ایکڑ زمین واگزار کرائی گئی۔ زائرین کی سہولت کے لئے مسافر خانے بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 26ڈویلپمنٹ سکیموں کے تحت مزارات کی تعمیر و مرمت اور تزین و آرائش کا کام جاری ہے۔ جس میں مزار حضرت شاہ صادق، حضرت سخی سرور اور حضرت پیر بخش شامل ہیں جبکہ قرآن محلوں کے قیام لئے تعمیرات کا کام تیزی سے جاری ہے۔

پنجاب کے ہیومن رائٹر اور مانیٹری آفیسر کا بجٹ خرچ ہوا ہے جو پچھلے سال کی نسبت زیادہ تھا۔ سب سے خوش آئند بات ہے کہ 927 اقلیتی بچوں کو تعلیمی سکالر شپ دی گئی، جبکہ 63 اقلیتی ترقیاتی سکمیوں کو مکمل کیا گیا۔ 320 ملین روپے اقلیتی ڈویلپمنٹ فنڈ رکھا گیا ہے جو صرف اور صرف اقلیتی برادری پر خرچ ہونگے۔ اقلیتی آبادی کے علاقے کے لئے خصوصی ڈویلمپنٹ فنڈ 300روپے رکھا گیا، اور مذہبی مقامات کی رینوویشن کے لیے 100ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ پنجاب میں ووکیشنل ٹریننگ کونسل کے لئے 14000 ٹرینیز کو 2 ماہ کی جانب سے ٹریننگ دی گئی اور وہ اپنے سکول میں خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا طلبا کے لئے ایک ارب روپے کے وظائف کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔

پنجاب میں عدل و انصاف کے فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے سردار عثمان بزدار نے لائحہ عمل بنایا ہے تاکہ لوگوں کو سستا اور فوری انصاف مل سکے۔ تحریک انصاف کے ایک سالہ دور حکومت میں مجسٹریٹ اور سیشن کورٹس کے 129821 کیسز میں سزائیں دی گئی جس میں سزا کا تناسب 63.9 فیصد تھا۔ انسداد دہشت گردی کورٹس میں 693کیسز میں 2093 کیسز میں سزا ہوئی جس کا تناسب 98 فیصد ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی سربراہی میں پنجاب بن رہا ہے۔ جو قائداعظم محمد علی جناح کے تفکر کے عین مطابق ریاست کا حصہ ہو گا۔ جس میں ہر شہری، امیر غریب برابر ہو گا۔ یہاں گڈ گورننس یقینی ہو گی۔

وہ دن دور نہیں جب وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے تمام خواب پورے ہوں گے۔


ای پیپر