فائل فوٹو

ہمیں بحیثیت قوم خود کو لاک ڈاؤن کرنا چاہئے: عمران خان
22 مارچ 2020 (16:07) 2020-03-22

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ ملک میں لاک ڈاؤن نہیں ہوگا عوام خود گھروں میں رہے۔

قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا مطلب یہ ہے ملک میں کرفیو نافذ کر دیا جائے، اگر پاکستان کا مسئلہ اٹلی یا دیگر ممالک جیسا ہوتا تو ملک میں لاک ڈاؤن کر دیتا۔ اگر آج لاک ڈاؤن کر دیتا ہوں تو چھابڑی، رکشہ، دیہاڑی دار گھروں میں قید ہو جائیں گے، لاک ڈاؤن سے یہ لوگ اپنے خاندان کی کفالت نہیں کرسکیں گے، ہمیں بحیثیت قوم خود کو لاک ڈاؤن کرنا چاہئے۔ اگر کسی کو عام فلو یا نزلہ ہوتا ہے تو وہ چند روز میں ٹھیک ہو جائے گا، اگر کسی بزرگ یا مریض کو یہ مسئلہ ہو جائے تو وہ فوری ہسپتال جائے، اگر یہ بیماری پھیل گئی تو یہ ان بزرگ افراد کے ساتھ بڑا ظلم ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین کے پاس ایک سسٹم اور مالی وسائل تھے اس لئے انہوں نے لاک ڈاؤن کیا۔ میں نے پاکستانی قوم کو 2005 کے زلزلے میں دیکھا ہے، اسی طرح جب پاکستان میں سیلاب آیا تھا تب بھی قوم کا جذبہ دیکھا، پاکستانی قوم بہت بہادر ہے یہ تمام مشکلات کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ مجھے آپ کی ضرورت ہے، سب کو ہمارا ساتھ دینا چاہئے، اگر لوگ گھروں میں شادیاں، چھٹیاں یا دیگر تقریبات کریں گے تو یہ ظلم کی بات ہوگی۔ میں اور میری ٹیم یہ سوچ رہی ہے کیسے کرونا کا مقابلہ کرنا ہے، قوم سمجھداری کا مظاہرہ کرے اور گھروں سے باہر نہ نکلے، کرونا سے زیادہ خطرہ ہمیں افراتفری سے ہے، اگر لوگوں نے گھبرا کا چیزیں خریدنا شروع کر دیں تو اس سے بھی نقصان ہوگا، اللہ تعالیٰ مشکلات میں انسان کو آزماتا ہے، اشیائے خورونوش کی فکر نہ کریں یہ وافر مقدار میں ہیں۔


ای پیپر