23 مارچ 1940ء، جدوجہد آزادی کا اہم موڑ
22 مارچ 2019 2019-03-22

23 مارچ 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ نے قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ا یک قرارداد منظور کی جو آج قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہے۔ یہ وہ تاریخی قرار داد تھی جو حصول آزادی کیلئے نہ صرف ایک سنگ میل کی حامل ٹھہری بلکہ اس قرارداد نے تاریخ کے دھارے کا رخ بدل کر رکھ دیا۔

یہ قرارداد مولوی اے کے فضل حق نے پیش کی اور چودھری خلیق الزمان نے اس کی تائید کی جن دوسرے عمائدین نے قرار داد کی بھرپور حمایت کی ان میں مولانا ظفر علی خان ، سردار اورنگزیب خان، عبداللہ ہارون، نواب اسماعیل خان، قاضی محمد عیسیٰ، عبدالحمید خان، آئی آئی چندریگر، عبدالروف اور بیگم محمد علی شامل تھے۔ اس قرارداد کی منظوری کے بعد پاکستان کے حق میں برصغیر میں ایک ایسی لہر اٹھی جسے کوئی بھی نہ روک سکا۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے نہ صرف پاکستان کا تصور دیا بلکہ یہ بھی ان کا قوم پر احسان عظیم ہے کہ انہوں نے قوم کو ایک عظیم رہنما قائد اعظم محمد علی جناح کی صورت میں دے دیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ قرارداد کی منظوری کے بعد صرف سات سالوں میں ہی انگریز حکمرانوں کو برصغیر نہ صرف چھوڑنا پڑا بلکہ 14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر پاکستان کا نام ابھرا اور یوں 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک میں مسلمانان ہند جو عزم کیا تھا وہ پورا ہوا۔

ہندو، مسلمانوں کے مذہبی عقائد کے بالکل برعکس اجرام فلکی، بزرگوں کی روحوں اور بتوں کو خدائی صفات و اختیارات کا حامل سمجھتے تھے اور مانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے مخصوص اختیارات میں شریک کر رکھا ہے مسلمانوں کی طبع پر سب کچھ گراں گزرتا تھا یہ حقیقت ان کی اسلامی رویئے اور طرز حیات پر ایک کاری ضرب تھی۔ مسلمانوں کے اخلاق اور قوانین ہندوؤں سے یکسر علیحدہ تھے۔ ان کی خریدوفروخت، بول چال، کھانے پینے کی عادات اور وضع قطع سب ہندوؤں سے بالکل جدا تھیں۔

سرسید نے یہ بات واضح کر دی کہ ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک برصغیر ہے جہاں دو قومیں آباد ہیں۔ معروف انگریز سکالر ہنڈرل مون نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ دو قومی نظریہ پیش کر کے سرسید احمد خان نے نہ صرف حقیقی مسئلے پر انگلی رکھ دی بلکہ بالاواستہ حل بھی تجویز کر دیا یعنی اگر دو قومیں ایک گدی پر نہیں بیٹھ سکتیں تو اسے کیوں نہ تقسیم کر دیا جائے۔

مسلم لیگ نے محسوس کر لیا کہ ہندو اصولوں پر قائم سیاسی اور معاشرتی نظام میں کسی مسلمان کی آزادی قائم کی ہی نہیں جا سکتی۔ وہ مسلمانوں کے خلاف مہم جوئی سے کام

لے رہے تھے جس کے نتیجے میں ہر وہ دروازہ بند ہوگیا جو ہندو مسلم اتحاد کی طرف لے جاتا تھا۔ قائد اعظم نے بالآخر کہا کہ ہمارا کوئی دوست نہیں۔ نہ ہمیں انگریز پر بھروسہ ہے نہ ہندو بنئے پر، ہم دونوں کے خلاف جنگ کریں گے۔ انہوں نے جداگانہ مسلم قومیت کے تصور کو پوری محنت اور دیانت داری سے اس طرح بیان کیا کہ انگریز اور پڑھے لکھے ہندوؤں کا ایک بڑاطبقہ سمجھ گیا کہ پاکستان کی تحریک محض ایک علیحدگی کی تحریک نہیں بلکہ مسلمانوں کے قومی وجود کے قیام کی تحریک تھی۔ کانگریس کے پلیٹ فارم سے بالآخرکانگریس کمیٹی کے رکن امین سخاوت نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہندو مسلم قضیے کا حل یہی ہوگا کہ ہندوستان میں ہندو، مسلم کو دو قومیں سمجھ لیا جائے اور متحدہ قومیت کا خیال ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دل سے نکال دیا جائے۔

ہندو ایک سازش کے تحت مسلمانوں کو اپنے زیر اثر رکھنے کیلئے مشترکہ جدوجہد آزادی کی باتیں کرتے تھے تاکہ انگریز سے چھٹکارا پانے اور وطن کو آزاد کرانے کیلئے مسلمانوں کو استعمال کرسکیں اور پھر آزادی کے بعد محکومیت کی دوسری شکل میں ہندوؤں کے زیر اثر زندہ رہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان ہندوؤں کے ساتھ ایک قوم بن کر انگریز سے دفاع کی کوشش کریں۔ اس کے برعکس مسلمان غلامی کے فتنے سے نجات پا کر ایک ایسا دارالسلام چاہتے تھے جس میں اللہ کا دین اپنی پوری حکمتوں سے رائج ہو سکے۔ وہ ایسے ذرائع کی تلاش میں تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی زمین کو ایمان اور تقویٰ کا گڑھ بنا سکیں۔

23 مارچ کے اجلاس کے بعد یہ جدوجہد حصول پاکستان ایک نئے موڑ پر آپہنچی۔ قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت، مسلمانوں کی شبانہ روز محنت، اعتماد، اتحاد اور تنظیم کی عظمت کے زیریں اصول مہر عالم تاب کی طرح چمک اٹھے اور انہوں نے حصول پاکستان کے تمام کانٹے صاف کر دیئے۔ علامہ محمد اقبالؒ کے تصور پاکستان کے خواب کے آہنی عزم نے امیدوں کے چراگ روشن کر دیئے۔ اللہ تعالیٰ نے اسلامیان ہند کو پذیرائی عطا فرمائی۔ 27 ماہ رمضان المبارک 14 اگست1947ء کو ایک نئی سلطنت اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کے نقشے پر ضوفشاں ہوگئی۔

23مارچ 1940ء صرف مسلمانان ہند کیلئے ہی سنگ میل کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ تمام عالم اسلام کے لئے بڑی اہمیت کا باعث تھا کیونکہ اس عظیم قرارداد کی منظوری کے سات سال بعد ایک ایسی ریاست دنیا کے نقشے پر ابھری جسے اسلامی دنیا کے فلک پر مہتاب بن کر چمکنا تھا۔ پاکستان دنیا کی واحد ریاست ہے جو نظریے کی بنیاد پر حاصل کی گئی جسے حاصل کرنے کیلئے برصغیر کے مسلمانوں کے پاس ایک مضبوط دلیل تھی کہ وہ مسلمان ہیں اور مذہبی آزادی چاہتے ہیں۔ گو یہ اس عظیم مملکت کی بنیاد اسلامی نظریہ تھی۔

پاکستان کو اسلامی تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کا گہوارہ بنانے ، اسلامی اور تیسری دنیا سے اس کے رشتوں کو استوار کرنے اور قوموں کی برادری میں اسے ممتاز اور سرفراز رکھنے ، اسے بنی نوع انسان کی خدمت اور دستگیری کے قابل بنانے کے لئے لازم ہے کہ پاکستان کے عوام کی یکسوئی اور یکجہتی کے تمام لوازم فراہم کئے جائیں اور انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ اگر وہ اپنے اندر وہی جذبہ پھر سے زندہ کر لیں جس کا اظہار انہوں نے تحریک پاکستان کی صورت میں کیا تھا تو وہ پاکستان کو ایک رفیع الشان اسلامی و فلاحی مملکت بنانے کا مقصد حاصل کر سکتے ہیں اور بیرونی سازشوں کو بھی ناکام بنا سکتے ہیں۔ جب قومیں بیدار متحد اور منظم ہوں تو اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب اور سرخرو ہوتی ہیں۔

آج ہم جب 23 مارچ کے حوالے سے یوم استقلال منا رہے ہیں تو ہمیں تحریک پاکستان کے محرک اور اساسی نظریے پر اپنے یقین کی تجدید کرنی چاہیے اور قائد اعظم ؒ کے فرمودات کی روشنی میں پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی اور فلاحی مملکت بنانے کے لئے اپنے تمام صلاحیتوں اور تونائیوں کو وقف کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔


ای پیپر