خطبہ آلٰہ آباد سے قیام پاکستان تک۔۔۔!
22 مارچ 2018 2018-03-22



بیسویں صدی کے تیسرے عشرے کے آخر میں برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے لیے الگ مملکت کا تصور کوئی ایسا حادثاتی واقعہ نہیں تھا یقیناًیہ امر ربی تھا ، یہ ربِ کریم کا احسان عظیم تھا اور اُس کے پیارے حبیبؐ کی نظرِ کرم کا صدقہ تھا کہ برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمان جب نکبت و اِ دبار کی انتہائی پستیوں میں گر چکے تھے اور اُن کے لیے اپنے قومی وجود کے تحفظ اور ملی تشخص کو برقرار رکھنا ہی مشکل نہیں ہو گیا تھا بلکہ اُن کا دین، اُن کی تہذیب و ثقافت اور اُنکی روایات و اقدار کو بھی نشانہ تضحیک بنایا جانے لگا تھا تو انہیں یہ اجتماعی شعور حاصل ہوا کہ وہ برصغیر جنوبی ایشیاء کے جن خطوں میں اکثریت میں ہیں اُن خطوں پر مشتمل الگ آزاد مملکت کے قیام سے ہی اپنے قومی اور ملی وجو دکا تحفظ کر سکتے ہیں۔
یہ ربِ کریم کا احسانِ عظیم تھا کہ اُس نے برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کو انتہائی زوال اور انحطاط کے دور میں علامہ ڈاکٹر سر اقبال مرحوم اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ جیسے صاحبِ بصیرت اور صاحبِ درد رہنما عطا کیے جو قوم کی ڈگمگاتی کشتی کو کنارے پر لانے کے لیے ناخُدا بن کر سامنے آئے۔ اقبال جو کہ مفکر تھے ، جو ایک شاعر تھے جو دیدہِ بینا کے مالک تھے اور برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے قومی وجود کے تحفظ کے بارے میں سخت فکر مند رہتے تھے انہوں نے دسمبر 1930 میں اپنے خطبہ الہ آباد میں برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے جُداگانہ قومی وجود کو بنیاد بناتے ہوئے اُن کے لیے الگ ملک کا مطالبہ پیش کیا ۔ انہوں نے اپنے خطبے میں کہا ’’میں پنجاب ، شمالی مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان کو ایک ریاست کی صورت میں متحد دیکھنا چاہتا ہوں میرے نزدیک برٹش امپائر کے اندر یا اُس سے باہر ایک ایسی خود اختیار مربوط مسلم ریاست کی تشکیل مسلمانوں کا بالخصوص شمالی مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کا مقدر بن چکی ہے‘‘۔علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد کے سامنے آنے کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ اس کوشش میں رہی کہ کانگریس کے ساتھ کوئی ایسا سمجھوتہ ہو جائے جس کے تحت متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کو اُن کی تسلی اور اطمینان کے مطابق آئینی تحفظ حاصل ہو سکے لیکن کانگریس کے نزدیک ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی وہ اپنے آپ کو ہندوستان کے عوام کی اکثریت کی نمائندہ سمجھتے ہوئے بہت اُونچی ہواؤں میں اُڑ رہی تھی پھر 1936-37 کے عام انتخابات میں اُس کی کامیابی کے نتیجے میں آٹھ صوبوں میں کانگریسی وزارتیں قائم ہوئیں تو اُس کے غرور ، تکبر اور ہٹ دھرمی میں مزید اضافہ ہوا اُس نے اپنی زیرِ نگرانی حکومتوں میں ایسے اقدامات کیے جو سر اسر مسلم کُش پالیسیوں پر مبنی تھے ان میں خالص ہندو سوچ اور نظریات پر مبنی’’ بندے ماترم‘‘ کے ترانے کا تعلیمی اداروں میں رائج کرنا بھی شامل تھا۔ یہ اور اسی طرح کے اور دوسرے مسلم مخالف اقدامات سے مسلمانوں پر یہ حقیقت مزید واضح ہو گئی کہ کانگریس کا نصب العین متحدہ ہندوستان میں ہندو راج کے قیام کے سوا اور کچھ نہیں چنانچہ اب اُن کے لیے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار باقی نہیں بچا تھا کہ وہ علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد میں پیش کیے ہوئے مسلمانوں کے
لیے جداگانہ ملک کے تصور کر اپنا قومی نصب العین قرار دے کر عملی جامہ پہنائیں چنانچہ مارچ 1940 میں لاہور کے منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) کے وسیع سبزہ زار میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں 23 مارچ 1940 کو منظور کی جانے والی قرارداد کی شکل میں اس نصب العین کو ایک باقاعدہ اور باضابطہ مطالبے کی صورت دے دی گئی ۔
آل انڈیا مسلم لیگ کے اس سالانہ اجلاس میں شیرِ بنگال مولوی اے۔کے فضل الحق کی پیش کردہ قرارداد جسے پہلے قراردادِ لاہور اور بعد میں قراردادِ پاکستان کا نام دیا گیا میں کہا گیا کہ ’’بڑے غور وفکر کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی دستوری منصوبے پر اس ملک میں عملدرآمد نہیں ہوسکتا اور وہ مسلمانوں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا جب تک وہ ان بنیادی اصولوں پر تیار نہ کیا گیا ہو یعنی ضروری علاقائی رد و بدل کر کے جغرافیائی اعتبار سے متصل یونٹوں پر مشتمل علاقوں کی حد بندی کی جائے اور یہ کہ جن علاقوں میں تعداد کے لحاظ سے مسلمان اکثریت میں ہیں جیسا کہ ہندوستان کے شمال مغربی منطقے اور مشرقی منطقے انہیں خود مختار ریاستیں قرار دیا جائے جس میں ملحقہ یونٹ خود مختار اور آزاد ہوں۔ دستور میں اقلیتوں کے مذہبی، تمدنی،اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دوسرے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ان کے مشورے سے مناسب ، مؤثر اور واجب التعمیل تحفظات کا خاص بندوبست کیا جائے‘‘۔ اس قرارداد کا سامنے آنا تھا کہ پورا ہندوستان بٹ کر رہے گا ہندوستان ، بن کر رہے کا پاکستان کے نعروں اور پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ کی صداؤں سے گونجنے لگا۔ یقیناًیہ میرِ کارواں کی پکار تھی ، یہ منزل کے تعین کا یقین تھا، یہ منزلِ مقصود کو پانے کی تڑپ تھی، یہ ایثار ، قربانی اور عزمِ راسخ کا اظہار تھا، یہ عزم و یقین اور قوتِ ایمانی کا اعجاز تھا کہ انگریز حکمرانوں کی شاطرانہ اور منافقانہ چالیں اور ہندو اکثریت کی مخالفانہ سازشیں دھری کی دھری رہ گئیں اور سات سال کے مختصر عرصے میں برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے لیے آزادی کا سورج ایک نئی آزاد مملکت کے قیام کی صورت میں طلوع ہوا۔
برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے الگ ملک حاصل کرنے کے مطالبے یعنی قیام ِ پاکستان کے محرکات کے بارے میں جتنا بھی غور کیا جائے ، جتنی بھی چھان پھٹک کی جائے ، جس حوالے اور جس پہلو سے جانچا جائے،سیاسی محرکات کو سامنے رکھا جائے، معاشی اور اقتصادی اسباب کو بنیاد بنایا جائے، مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان فکری اور تہذیبی تصادم کو اہمیت دی جائے، مسلمانوں کی مذہبی رواداری اور وسعت نظری پیشِ نظر رکھی جائے اور ہندوؤں کی تنگ نظری پر نگاہ ڈالی جائے ، مسلمانوں اور ہندوؤں کی باہمی آویزشوں کا جائزہ لیا جائے، مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ طویل دورِ حکمرانی کے اہم واقعات اور فتوحات پر نظریں دوڑائی جائیں اور اُن کی حکومت کے ختم ہونے کے اسباب کا جائزہ لیا جائے غرضیکہ کوئی بھی رُخ ہو ، کوئی بھی پہلو ہو اور کوئی بھی گوشہ ہو یہ حقیقت واضح طور رپر سامنے آتی ہے کہ مسلمانوں کی الگ قومیت، اُن کا الگ تمدن اور اُن کا جُداگانہ ملی او ر مذہبی تشخص جسے عرفِ عام میں دو قومی نظریہ یا نظریہ پاکستان کہا جاتا ہے وہ بنیاد ہے جس کے تحت انہوں نے ایک الگ مملکت کے حصول کو اپنی منزل قرار دیا۔
پاکستان جو ہمارے خوابوں ، ہماری اُمنگوں اور ہمارے جذبوں اور ہمارے ولولوں کی سرزمین ہے اس کے قیام کے لیے ہم نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں، لاکھوں افراد کو اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے، قتل و غارت گری اور تباہی و بربادی کا سامنا کرنا پڑا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت اس پاک سرزمین کو اپنی تاریخ کے انتہائی مشکل اور نازک حالات کا سامنا ہے۔ اس کے خلاف اندورنی اور بیرونی سازشیں زور پکڑ چکی ہیں۔ لیکن تابہ کہ اس خطہِ ارض نے اس مملکتِ خداداد نے ضرور سرخرو ہونا ہے کہ یہ قریہ عشقِ محمدؐ ہے ۔ کاش تحریکِ پاکستان کی پُر عزم اور ولولہ انگیز جدو جہد کے وہ روشن اور خوش کن لمحات لو ٹ آئیں جب برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمان صوبائی، لسانی، نسلی اور علاقائی تعصبات سے بالا تر ہو کر اور نظریہ پاکستان کا پرچم تھام کر اپنے عظیم قائد محمد علی جناح ؒ کی قیادت میں ایک سیسہ پلائی دیوار بن گئے تھے۔ ہمیں آج پھر کسی محمد علی جناح کی ضرورت ہے، آج پھر ہمیں اُن جذبوں اور ولولوں کی ضرورت ہے، اُس قوتِ ایمانی، اُس عزم و یقین اور اُس اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں نے قیام ِ پاکستان کی فقید المثال تحریک کے دوران کیا اور ایک آزاد وطن حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔


ای پیپر