ا مریکی پینٹا گان۔۔۔ ا و ر دا ر لاحسا ن
22 مارچ 2018 2018-03-22


قارئین کرام کو یاد دلانا ضروری ہے کہ قریباً دو ہفتے قبل اپنے ایک کالم کے ساتھ ساتھ اپنے آڈیو پیغام میں مَیں نے وطنِ عزیز کے ارباب اختیار سے استدعا کی تھی کہ ملک کی سیاسی، معاشی او رمعاشرتی ابتری کے پیش نظر اب یہ ناگزیر ہوچکا ہے کہ اب فوج، عدلیہ اور پارلیمان اب مل بیٹھیں۔ خدائے بزرگ و برتر کا شکر ہے کہ اب یہی بات پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف بھی دہرا رہے ہیں اور یہ ٹھیک ہے اس لیے کہ ہمارے ملک میں عوامی سطح پر سیاسی پختگی اب تک نہیں آئی۔ ریاست کا کامیابی سے چلا نا کوئی کھیل نہیں۔ یہ بھی یاد دلادوں کہ میں نے امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہاں کا صدر اگر کوئی ملکی سطح پر فیصلہ کرے تو جب تک وہ پینٹاگان سے اسے منظور نہ کروالے، اس پہ عمل نہیں ہوسکتا۔ اور اگر پینٹاگان کوئی فیصلہ کرے تو صدر اس پہ نظر ثانی کرسکتا ہے۔ چنانچہ مو جو د ہ حا لا ت کی سنگینی کے تحت منا سب ہو گا کہ ہمارے ملک میں بھی اسی طرح ایک گیارہ رکنی کونسل بنادی جائے۔ اس گیا ر ہ ر کنی کو نسل کا نا م دا ر لا حسا ن تجو یز کیا جا سکتا ہے۔ دا ر لا حسا ن وزیر اعظم پاکستان، صدر پاکستان، چیف آف آرمی سٹاف، لیڈر آف دی اپوزیشن، چیئرمین سینیٹ، آئی ایس آئی چیف، چیف جسٹس آف سپریم کورٹ اور چاروں وزرائے اعلیٰ پہ مشتمل ہو۔ دا ر لا حسا ن ملک کو چلاتے وقت چار اہم امور پر خصوصی توجہ دے۔ ان امور میں پہلے نمبر پر ملک کے خارجی تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانا ہ۔ دوسرے نمبر پر، جیسا کہ یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہماری فوج ہماری سرحدوں کی حفاظت پہ اپنا دن اور رات ایک کیے ہوئے ہے، اس کی اس محنت کو رائیگاں جانے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے بجٹ میں جو اس وقت ناکافی سے بھی کم ہے، خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ فوج کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے محتاط اندازے کے مطابق تیرہ بلین ڈالر سالانہ کی ضرورت ہے۔ لہٰذا یہ رقم سالانہ پیمانے پر فوج کے لیے مختص کی جائے۔ تیسرے نمبر پر گیارہ رکنی کونسل پوری کوشش کرے کہ کہ ملک کو کوئی بیرونی قرضہ نہ لینا پڑے۔ چوتھے نمبر پر ملک و قوم پر اٹھنے والے اخراجات پہ یہ کونسل کڑی نظر رکھے۔ کونسل کے زیرِ نگرانی ان چار اہم امور کو چلانے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ پارلیمان کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ بلکہ ملک میں آئین سازی اور اس پہ عمل کا اختیار پارلیمان ہی کے پاس ہوگا۔ لیکن ملکی اخراجات، سرحدوں کی حفاظت اور بیرونی قرضے لینے کا حق صرف گیارہ رکنی کونسل کے پاس ہی ہوگا۔ ہمارے حالات تو اب ایسے ہیں کہ وہ وقت آن پہنچا ہے کہ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ اس ملک کے وزرائے خزانہ نے، جن میں اسحق ڈار سرفہرست ہیں بیرونی قرضے لینے میں ذرا بھی تکلف سے کام نہ لیا۔ یوں ہر پاکستانی اب قریبا پونے دو لاکھ کا مقروض ہے۔ گویا وطنِ عزیز میں پیدا ہونے والا معصوم بچہ پیدائش کے وقت سے پونے دو لاکھ کا مقروض ہوجاتا ہے۔ اس پہ طرہ یہ کہ اب بھی اگر ہماری آنکھ نہ کھلی تو ہر انفرادی ہم وطن کا قرض نہ جانے کہاں جا کے دم لے۔ یہی نہیں، اس ملک میں افواہوں
کے ذریعے فوج اور عدلیہ کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں۔ سازشی ٹولے کبھی دبے لفظوں میں اور کبھی بین السطور کہتے نظر آتے ہیں کہ ملک کے اہم فیصلے فوج کرتی ہے اور عدلیہ سے اس پہ عمل کراتی ہے۔ جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ یہ کہ فیصلے عدلیہ ہی کرتی ہے اور اس پہ عمل وہی کراتی ہے۔ بلکہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر عدلیہ کے فیصلوں پہ اگر انتظامیہ عمل کرنے میں تامل سے کام لے تو عدلیہ کو فوج سے ضرور مدد لینی چاہیے۔
اب جب کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی میری دو ہفتے کی گئی التجا میں اپنی آواز ملاتے ہوئے کہا کہ اب فوج، عدلیہ اور پارلیمان مل بیٹھ کر ریاست کو چلانے کی ذمہ داری نبھائیں، تو ان سے گزارش ہے کہ اوپر بیان کی گئی گیارہ رکنی کونسل کو عملی شکل دینے کی غرض سے اس معاملے کو آگے بڑھائیں۔ جہاں تک عام انتخابات کے انعقاد کا تعلق ہے تو ضروری نہیں کہ یہ انتخابات 2018ء ہی میں ہو۔ موجودہ صورتِ حال کے تحت اب یہ انتخابات 2019ء سے پہلے نہیں ہونے چاہئیں۔ ایک نازک مگر ضروری بات یہ کہ ملک کے مخصوص سیاسی تناظر میں مائنس زرداری فارمولے کے ساتھ آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کے بنائے جانے میں کوئی حرج نہیں۔ بلکہ حالات اشارہ کر رہے ہیں کہ اس کے مثبت اور دور ر َس نتائج برآمد ہوں گے۔ پیپلز پارٹی سے زرداری کو مائنس کرنا اس لیے ضروری ہے کہ اس ملک کو جب بھی لوٹ کھسوٹ کے نتیجے میں اس حال تک پہنچانے والوں کی فہرست کا ذکر ہوتا ہے تو آصف زرداری کا نام سرفہرست ہوتا ہے۔ لہٰذا جب بھی اسحق ڈار کی کرپشن پہ مسلم لیگ ( ن ) مخالف جماعتیں انگلی اٹھاتی ہیں تو مسلم لیگ ( ن ) کے پاس ایک گھڑا گھڑایا جواب یہ ہوتا ہے کہ پہلے زرداری پہ ہاتھ ڈالو۔ بہرحال ایک بات طے ہے کہ سیاستدانوں کو لوٹ کھسوٹ میں سفید پوش بابوؤں کی مدد سے حاصل ہوتی ہے۔ سفید پوش بابو اگر اپنا منصبی فرض ایمانداری سے نبھائیں تو سیاستدانوں کے لیے کرپشن کرنا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہوجائے۔ مگر کیا کیا جائے کہ سفید پوش خود ہر سال اس ملک میں دو سے ڈھائی ارب ڈالر کی کرپشن کرتے ہیں۔ سفید پوش بابوؤں کی اس کرپشن کے پس منظر میں گیارہ رکنی کونسل کے لیے ضروری ہوگا کہ ان کے اختیارات کو محدود کرتے ہوئے انہیں کلیتاً کسی بھی بجٹ پاس کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور نظریہ پاکستان کی اساس اس ملک میں اسلامی شریعت کی نفاز پر رکھی گئی ہے لہٰذا گیارہ رکنی د ا رلا حسا ن کے فرائض منصبی کا ایک اہم جزو اسلامی شریعت کے نفاذ کو عمل میں لانا ہے۔ جدت پسندی کے نام پر اس ملک میں سیکولرازم کو پروان چڑھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس ملک کی ستر فیصد آبادی بے شک خط غربت نے نیچے کی زندگی گزار رہی ہے، مگر یہاں ناموسِ رسالت پر جب کوئی حرف آتا ہے تو یہاں کا ہر مسلمان بلا امتیاز اپنی جان کے نذرانے کو اپنے لیے فخر سمجھتا ہے۔ اس ملک کے نام پر جو بھی قربانیاں دی گئی ہیں وہ صرف اور صرف اسلام کے حق میں دی گئی ہیں۔ چنانچہ گیارہ رکنی دا ر لا حسا ن کے لیے جہاں ضروری ہوگا کہ ملک کے چاروں صوبوں کو یک جان رکھنے کے لیے ان میں مساوات قائم کریں، وہیں اس سے پہلے اسلامی شریعت کے نفاذ کو عملی جامہ پہنائے۔ یقین کیا جاسکتا ہے کہ اس بعد ملک کے کرپٹ مافیا پہ ہاتھ ڈالنا چنداں مشکل نہیں رہے گا۔ عوام کی حالت بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ محنت کش کی کم سے کم تنخواہ سترہ ہزار روپے مقرر کی جائے۔ کسی بھی ملک کو صحت مند راہ پر چلانے کے لیے اساتذہ اور ڈاکٹروں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کے یہی دو طبقے شدید ناانصافی کا شکار ہیں۔ ان کی حالت بہتر بنانے کی غرض سے ان کی تنخواہ 25 سے 30 فیصد اضافے کی فوری ضرورت ہے۔ میں اور میرے وہ ساتھی جن کا تعلق پاکستان بننے کے فوراً بعد والی نسل سے ہے، اس ملک کی مٹی کے لیے بہت بڑے قرضدار ہیں۔ اس مٹی کا قرض تو مکمل طور پر ہم کبھی بھی ادا نہ کرسکیں گے، مگر اسے ادا کرنے کے لیے اپنے طور ایک سعی ضرور کرنا ہوگی۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ مٹی خستہ ضرور ہے، مگر بانجھ ہرگز نہیں۔ اس مٹی کے بارے میں تو حکیم الامت علامہ اقبال کہہ گئے ہیں ؂
نہیں ناامید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی


ای پیپر