ناپسندیدہ سیاسی رویے
22 مارچ 2018 2018-03-22


آج کے دور میں بھی ہمارے سیاسی رویے بدلنے کا نام نہیں لیتے۔ جب سے شیخ رشید کے حریف سابق ممبر قومی اسمبلی شکیل اعوان کی رٹ پٹیشن کا سپریم کورٹ میں فیصلہ محفوظ ہوا ہے اس سے شیخ رشید خاصے پریشان ہیں۔ پریشانی کا سبب یہ نہیں کہ وہ ’’ڈی سیٹ‘‘ ہو جائیں گے، یہ اعلان تو وہ لاہور کے اپوزیشن جماعتوں کے جلسہ میں کر چکے مگر اس اعلان پر انہوں نے عمل نہیں استعفیٰ دے دیا۔ اُن کے لیے پریشانی تو یہ ہے کہ ان کے مقدمے کی اختتامی سماعتوں میں یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے خاص طور پر یہ معاملہ بنچ کے ایک رکن نے اٹھایا کہ جس طرح نواز شریف کو پانامہ کی جگہ ’’اقامہ‘‘ میں نا اہل قرار دیا یہ معاملہ بھی نواز شریف جیسا ہی ہے۔ اس کا فیصلہ بھی آنے والا ہے۔ فیصلہ جو بھی ہو اس کی پروا نہیں ہے مگر فیصلہ آئے گا اسی ماہ یا اپریل کے آغاز میں۔ شیخ رشید کی پریشانیاں بتاتی ہیں کہ سوہنی کا کچا گھڑا پا رلگنے والا معاملہ ہے۔ شیخ رشید آج کل نگران وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ایسے خواب شیخ چلی کے خوابوں والا معاملہ ہے۔
ان کو خواب کی تعبیر بتانے والے کپتان ہیں جن کی اپنی کشتی ہچکولے کھارہی ہے۔ جو خود فریبی کے سحر میں اتنا غرق ہیں انہیں اپنے علاوہ کوئی نظر ہی نہیں آتا۔ نفسیات میں اس رویے کو ایک بیماری کہا جاتا ہے جبکہ کپتان زرداری کو بیماری کہتے ہیں کیونکہ خود فریبی کا نظریہ پیش کرنے والا تالاب میں اپنا عکس دیکھتے دیکھتے تالاب میں ہی جا گرا تھا۔ اس طرح کپتان کی خود فریبی انہیں پارٹی میں دھڑے بندیوں کو ختم کرنے کی ترغیب نہیں دیتی ہے اور نہ ہی پارٹی کے اندر کسی اور کے زندہ باد کے نعرے کو ہضم کر سکتے ہیں۔ البتہ انہوں نے شرارت کے طو رپر شیخ رشید کا نام نگران حکومت کے لیے وزیر اعظم پیش کر کے ’’شغل مغل‘‘ لگانے کی کوشش کی۔ نہ نومن تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔ کپتان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے حکمران جماعت کا پلہ بھاری ہے۔ یہ معاملہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے عدم اتفاق کی وجہ سے پہلے آٹھ رکنی کمیٹی پھر یہ چیف الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا مگر یہ وقت آنے سے پہلے ہی شیخ رشید کا معاملہ اور فیصلہ آ جائے گا۔ یہاں تو شیخ رشید کو اپنی سیاست ڈوبتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ مایوسی کے اس دور نے مجبور کر دیا ہے کہ وہ جمہوریت پر حملہ آور ہوتے ہوئے ایک ایسی تجویز سامنے لے آئیں جس پر سپریم کورٹ کا فل بنچ 3 نومبر 2007ء کے مارشل لاء کے خلاف اپنا تاریخی فیصلہ دے چکا ہے جس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نہ صرف ان کے عہدے سے فارغ کیا گیا بلکہ عدلیہ کے ججوں کی بڑی تعداد کو توہین عدالت پر معافی بھی مانگنی پڑی تھی۔ یہی نہیں بلکہ پرویز مشرف کا اقتدار اور سیاست بھی 3 نومبر کی ایمرجنسی میں ڈوب گئی تھی۔ اسی ایمرجنسی لگانے کی سزا یہ ٹھہری کہ مشرف کو آج بھی ’’سنگین غداری‘‘ کیس کا سامنا ہے۔ وہ آ رہے ہیں۔ مارشل لاء لگانا یا ماورا آئین اقدام پر اکسانا بھی ایک ہی بات ہے۔ عدلیہ جس کا اصل کام انصاف کا بول بالا کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے مشرف پھر آ رہے ہیں۔ پہلی مرتبہ مشرف نے عدلیہ میں پیش ہونے کے لیے جو طریق کار اپنایا وہ افسوسناک ہے مشرف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی عدالت میں پیشی پر گئے توآدھے راستے سے مڑ کر ہسپتال میں داخل ہو گئے پھر ’’فرد جرم‘‘ سے بچنے کے لیے جو طریق کار اپنایا مگر اس سے نہ بچ سکے۔ پھر بیماری کا ایسا دورہ پڑا سیدھا جا کر لندن دم لیا۔ اب عدالت نے جائیداد قرق کرنے اور وزارت داخلہ نے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے، مشرف کی آمد زیادہ دور نہیں ہے۔ وہاں مذہب کے نام پر ہلچل مچانے والے علامہ خادم حسین رضوی کو اُن کے ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کرنے کا حکم مل چکا ہے اور نقیب اللہ قتل کے پر اسرار کردار جن کی مشکلات میں اضافہ ہو گا تو چیخیں کسی اور کی نکلیں گی اور اُن کی نکلیں گی جنہوں نے راؤ انوار کو بہادر بچہ قرار دیا ہے۔ ایسے حالات جن کو ’’بابا رحمت‘‘ درست کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 184کلاز تھری کے تحت درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کلاز کے استعمال پر سب سے زیادہ تنقید وکلاء برادری کی طرف سے ہی ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں شیخ رشید نے مارشل لاء لگانے کے مطالبہ کی بجائے بابا رحمتے کو اکسایا ہے تر غیب دی ہے کہ 90 دن کے لیے جوڈیشل مارشل لاء لگا دیں۔ عدالتیں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ چاروں صوبوں میں آئین کے مطابق صوبائی حکومتیں قائم ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ اپنا کام کر رہی ہوں تو ایک ایسے شخص کی جانب سے جو جمہوریت کے لیے 1985ء سے خطرہ بنا ہوا ہے وہ شخص شیخ رشید ہے جو 5 جولائی کے مارشل لاء کے بعد ایئر
مارشل اصغر خان کو جی ایچ کیو چھوڑنے گیا تھا۔ یہ مطالبہ پیش کرنے والے شخص کا چہرہ قوم کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب سیاست دانوں کی وجہ سے قومی مسائل حل ہوئے ہوں۔ یہ معاملہ ایسے چھوڑنے والا نہیں ہے ان کو پوچھا جانا چاہیے۔ شیخ رشید سیاست میں ڈاکٹر شاہد مسعود کا وژن رکھتے ہیں۔ دونوں کا کام ایک ہے۔ ملک بدنام ہو جمہوریت عدم استحکام کا شکار رہے۔ ایک ایسے وقت میں ایک شخص ایسا مطالبہ کر رہا ہے جب جمہوری حکومت 5 سالہ دور ختم کر کے عوام کے پاس جا رہی ہے۔ شیخ رشید کی جانب سے یہ دھمکی دینا کہ عمران کے بغیر کوئی نگران حکومت نہیں بن سکتی، حقیقت میں افراتفری کا ایجنڈا دونوں کا ہے دونوں کو معلوم ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں عوام کدھر جا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسے شخص کی چیخ ہے جو بابا رحمتے کے پیچھے چھپنا چاہتا ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ وہ نواز شریف کی طرح انتخابی سیاست سے باہر ہونے والے ہیں۔ یہ تاثر اُن کی اس بے چینی سے بھی نمایاں ہوا ہے۔
دوسری جانب تمام سیاسی جماعتیں انتخابی میدان میں اتر چکی ہیں۔ مگر سب سے مشکل میں تحریک انصاف ہے اس کے مرکز خیبر پختونخوا میں امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا عمل ابتدا میں ہی پارٹی میں بغاوت، اختلاف اور انتشار نمایاں ہے۔ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے تقریباً بیس باغی ایم این ایز میں سے قطعی طور پر دس کو ٹکٹ نہیں ملے البتہ (ن) لیگ نے اپنے امیدواروں کی فہرست پہلے ہی تیار کر رکھی ہے۔ اب وہ ووٹرز سے رابطے میں ہیں۔ ابتدائی طور پر مسلم لیگ (ن) کا پلڑا بھاری ہے۔ البتہ چوہدری نثار پارٹی کے لیے چیلنج نہیں بن سکتے۔ اس وقت وہ خاموش رہے جب نواز شریف کے خلا کو وہ پر کر سکتے تھے۔ چوہدری نثار سامنے نہیں آئے مگر جب مریم نواز اپنے والد کی حقیقی جانشین بن گئی انہوں نے ثابت بھی کیا تو ابتدا میں تو چوہدری نثار اپنے ترجمان کے ذریعے بولتے پھر خود بولے اور اختلافی سوالوں پر کھل کر بولے۔ پرویز رشید کے ذریعے میاں نواز شریف بھی بولے۔اب تہلکہ مچانے والا انٹرویو چوہدری نثار نے خود دیا ہے۔ اس کے بعد چوہدری نثار کے حق میں بولنے والی آواز مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف لندن میں ہیں مگر اُن کے آنے سے پہلے پرویز رشید بھی حساب برابر کر چکے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال کے مطابق چوہدری نثار کی قسمت کا فیصلہ پارٹی کرنے جا رہی ہے۔ جب نواز شریف وزیراعظم بنے ہی تھے اُس وقت سے چوہدری نثار کو منانے اور ناراض ہونے سلسلہ کا جاری ہے خاص طور پر 126 دنوں کے دھرنوں نے مشکلات میں اضافہ ہی کیا۔ سیاسی جماعتوں میں شامل ہونے اور نکلنے کا جو عمل جاری رہتا ہے اب بھی وہی ہو رہا ہے۔ نواز شریف بھی سمجھتے ہیں چوہدری نثار نے کامران شاہد کو انٹرویو دے کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کر لیا۔ اب چوہدری نثار سیدھا تحریک انصاف میں جا سکتے ہیں کیونکہ اب مسلم لیگ (ن) میں ان کے خیبر خواہ کم ہو رہے ہیں۔ ایسے گھمبیر قومی منظرنامے میں مولانا فضل الرحمن نے اپنی ایک اجتماع میں خاصی تکلیف دہ باتیں کی ہیں، وہ خود بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے سینیٹ میں جو کردار ادا کیا وہ سوالیہ ہے مگر انہوں نے کھل کر عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے سیاست دانوں کو پکارا بھی ہے اور للکارا بھی کہ ’’سیاست دان متحد نہ ہوئے تو ذلیل ہوں گے‘‘ مولانا نے جو کچھ ہو رہا ہے اس کی منظر کشی کی ہے اداروں کے بارے میں اُن کا یہ کہنا کہ ادارے سیاسی نظام کو سوالیہ بنا رہے ہیں۔ لوگوں کے دل میں عوامی نمائندوں کے لیے نفرت پیدا کی جا رہی ہے۔ سب کو پتا ہے کہ فیصلے کہاں ہو رہے ہیں؟ یہی بیانیہ میاں رضا ربانی کا ہے جس وجہ سے وہ چیئرمین سینیٹ نہیں بنے۔ یہ وہ سوالات ہیں جس کا جواب قوم چاہتی ہے کہ ناپسندیدہ سیاست کا کھیل آخر کب تک جا ری رہے گا۔


ای پیپر