ملک اور ایمان کو درپیش خطرات!
22 مارچ 2018


ہوش سنبھالے تین عشرے گزر گئے،لیکن اس کے با وجود ملک اور ایمان کو درپیش خطرات وہی ہیں جو 30 سال پہلے تھے۔ہم نے جب ہوش سنبھالا تو ضیاء الحق رخصت ہو چکے تھے۔عام انتخابات کے بعدبے نظیر بھٹو وزیر اعظم منتخب ہو گئی تھیں۔حکومت اور اپوزیشن دونوں کی لگام نوجوان قیادت کے ہاتھوں میں تھی۔وفاق میں نوجوان بے نظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں جبکہ اپوزیشن کی قیادت نو جوان میاں نواز شریف کر رہے تھے۔جب تک بے نظیر بھٹو وزیر اعظم رہیں ۔میاں نواز شریف ملک کو درپیش خطر ات کا اظہار ان الفاظ میں کر تے رہے: ’ ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ملک کو اندورنی اور بیر ونی خطرات کا سامنا ہے۔کرپشن مداری کے آخری سرکل سے بھی نکل چکا ہے۔میرٹ کو بے دردی کے ساتھ قتل کیا جارہاہے۔اقربا پروری آخری حدوں کوعبور کرچکی ہے۔عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات میسر نہیں۔قومی خزانہ خالی ہے۔امیر، امیر تر جبکہ غریب، غریب تر ہو تا جا رہا ہے۔مو جودہ حکمران ملک کے لئے سکیورٹی رسک بن چکے ہیں ۔ان سے چھٹکارا عین باعث ثواب ہے‘۔جبکہ تک بے نظیر بھٹو کی حکومت کو بر طرف نہیں کیا گیا تھااپوزیشن رہنما میاں نوا ز شریف یہی ورد کر تے رہے۔
جب بے نظیر بھٹو کی حکومت کو بر طرف کیا گیااور عام انتخابات کے بعد میاں نوا ز شریف وزیر اعظم بنے تو پھر وہی تسبیح بے نظیر بھٹو نے اٹھا ئی ۔انہی تسبیح پر بے نظیر بھٹو وہی کچھ پڑھتی رہیں جو میاں نوا زشریف پڑھا کرتے تھے۔دونوں ایک دوسرے پر الزامات کاورد کرتے ہو ئے عوام پر پھونکا کرتے تھے۔اس لئے کہ دونوں پر ایک دوسرے کی الزاماتی پھونک کا کو ئی اثر ہو نہیں رہا تھا۔بے نظیر بھٹو اس وقت تک یہ تسبیح پڑھتی رہیں جب تک میاں نو از شریف کی حکومت ختم نہیں ہو ئی تھی۔
بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف دونوں ایک ایک مر تبہ وزیر اعظم منتخب ہو ئے۔دونوں نے مد ت پوری نہیں کی۔دونوں کی حکو متوں کو قبل از وقت کر پشن کے الزامات لگاکر ختم کر دیا گیا۔لیکن جب دوسری مر تبہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں تو میاں نواز شریف نے پھر اسی الزاماتی وظیفے کا ورد شروع کیا۔حالانکہ وہ خود ایک مرتبہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہ چکے تھے۔اب وجدان میں کمی ہو نی
چاہئے تھی،مگر ایسا ہو نہیں سکا۔اسی طرح ملک دوراہے پر کھڑا رہا۔اندرونی اور بیر ونی خطرات مو جود رہے۔اقربا پروری میں کمی نہیں آئی۔قومی خزانہ مالا مال نہیں ہوا۔میرٹ کا بول بالا نہیں کیا جا سکا۔امیر اور غریب اسی رفتار سے اوپر نیچے چلے گئے۔کرپشن کے بے لگام گھوڑے کو قابو نہ کر سکے۔میاں نوازشریف یہ تسبیح اس وقت تک پڑھتے گئے جب تک کہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو بر طرف نہیں کیا گیا۔
جب بے نظیر بھٹو حکومت سے اپوزیشن میں چلی گئیں تو انہوں نے دوبارہ میاں نوا زشریف والی تسبیح اٹھا لی۔وہی کچھ پڑھتی رہیں جو میاں نوازشریف اپوزیشن میں ہو تے ہو ئے پڑھا کر تے تھے۔بے نظیر بھٹو کی بر طرفی کے بعد جب میاں نوا ز شریف دوسری مر تبہ وزیر اعظم منتخب ہوئے اورحکومت اور اپوزیشن ایک ہی وظیفہ بدلتے ہو ئے پڑھتے رہے تو فوج کے سربراہ پر ویز مشرف نے میاں نو ا ز شریف کی حکومت ختم کر دی۔حکمران اور اپوزیشن یعنی میاں نو از شریف اور بے نظیر بھٹو دونوں اپنی اپنی تسبیح کے دانے اٹھا کر با ہر چلے گئے۔وہاں سے بھی دونوں وہی ورد کرتے رہے جو وہ اپوزیشن میں ہو کر پڑھا کر تے تھے۔
نئے حکمران پر ویز مشرف بے نظیر بھٹو اور میاں نوا زشریف سے ذرا مختلف اس لئے تھے کہ انہوں نے اقتدر میں آکر وہی وظائف شروع کر دئے جو بے نظیر بھٹو اور میاں نو ا ز شریف اپوزیشن میں ہو کر کیا کر تے تھے۔ 8 سال تک پر ویز مشرف وہی کچھ پڑھتے رہے جو میاں نوا ز شریف اور بے نظیربھٹو پڑھا کر تے تھے۔مگر افسوس کہ ان کے دور میں بھی ملک دوراہے پر ہی کھڑا رہا۔اندرونی اور بیر ونی خطرات مو جود رہے۔خزانہ خالی تھا۔کرپشن عروج پر تھی۔اقربا پر وری کا دور دورہ تھا۔ پرویز مشرف کے جانے کے بعد پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی۔ لیکن حزب اختلاف کی سیاسی جماعت مسلم لیگ(ن) وہی الزامات دہراتی رہی۔جب پیپلز پارٹی کی حکومت مدت پو ری کرکے رخصت ہو گئی اور عام انتخابات کے بعد میاں نواز شریف تیسری مر تبہ وزیر اعظم منتخب ہو ئے تو اپوزیشن میں مو جود پیپلز پارٹی نے وہی الزامات لگا نے شروع کئے جو وہ دو دو مر تبہ پہلے بھی ایک دوسرے کے خلاف لگا چکے تھے۔میاں نوا ز شریف کو عدالت نے نا اہل کر دیا ہے ،لیکن دونوں پارٹیاں اب بھی وہی وظیفہ پڑھ رہی ہیں جو اسی کی دہا ئی میں بے نظیر بھٹو اور میاں نو از شریف پڑھا کر تے تھے۔
جس طرح کے خطر ات کا اظہا ر اسی کی دہائی میں سیاست دان کیاکرتے تھے اور آج 30 سال گزرنے کے با وجود بھی اسی پر قائم ہیں،اسی طر ح تین عشرے گز رنے کے با وجود وہی خطرات ہمارے ایمان کواب بھی لا حق ہیں۔ایک زمانہ تھا کہ لا ؤ ڈ سپیکر پر مسجد میں پابندی تھی،لیکن آج اسی لا ؤڈ سپیکر کو بند کر نے کے لئے قانون سازی کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود بند نہیں ہو رہا ہے۔تصویر کی ممانعت تھی لیکن آج ہر کسی کی خواہش ہے کہ اس کاعکس سیاسی مو لوی کے ساتھ سوشل میڈیا کی زینت بنے۔ٹیلی ویژن تمام علماء کا متفقہ دشمن تھا لیکن آج اکثر علماء اس ڈبے میں اپنا عکس دیکھنا پسند کر تے ہیں۔ چاہے وہ کسی اداکار اینکر پرسن اور اداکارہ کے ساتھ مخلوط محفل کیوں نہ ہو۔ایک دور تھا کہ اخبا رات کے رنگین صفحات اہل دین نا پسند کیا کرتے تھے،لیکن آج اس میں وہ شدت نہیں رہی۔سکول علماء کا دشمن تھا لیکن آج انہی علماء کے بچے سکولوں ،کالجوں اور یو نیورسٹیوں سے فارغ ہو کر ملک اور قوم کی خدمت میں مگن ہیں۔کلین شیو بھی ایک زمانے میں شیطانی فعل تھا لیکن اب یہی شیطانی چہرے نورانی حالت میں کثیر علماء کے گھروں میں موجود ہیں۔چند بر س قبل ایک کٹر مذہبی جماعت کا تر جمان بھی کلین شیو تھا۔کسی زمانے میں پینٹ اور شرٹ بھی ممنوعہ لباس تھا،لیکن جب سے یہی لباس علماء کے بچوں کے بدن کا پوشاک بن چکا ہے تو اب اس کو بھی حلال لباس کا درجہ دیا گیا ہے۔ٹوتھ بر ش اور ٹوتھ پیسٹ بھی کسی زمانے میں حرام تھا۔لیکن جب سے دینی مدارس کے نونہالان نے اس کا استعمال شروع کیا ہے تو اب اس کو بھی سنت کے درجے پر فائز کیا گیا ہے۔نیشنلیاں(عوامی نیشنل پارٹی والے)کسی زمانے میں شجرہ ممنوعہ تھے لیکن اب ان کے ووٹ بھی دین کی خدمت کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں۔
دس سال بعد پھر سے اکٹھے ہو ئے ہیں۔کتاب اب جنت کی نشان ہے۔2013 ء کے انتخابات میں کتاب کی بجائے ترازو کو ووٹ دینا اب گناہ نہیں رہا ۔جس نے تر ا زو کی بجائے شیر کی دم کو پکڑ لیا تھا اس کے گناہ بھی بخش دئے گئے ہیں ۔جس نے سینیٹ انتخابات میں بلے کو کندھے پر اٹھا یا تھا ان کو بھی دوبارہ اہل کتاب بنانے کی کو شش ہو رہی ہے۔غرض ایک دھوکا ہے جو ملک اور ایمان کو درپیش خطرات کی کینوس میں بند کرکے عوام کو ڈرایا اور اپنے لئے حکمرانی کا راستہ ہموار کیا جارہا ہے۔


ای پیپر