23مارچ نظریہ اسلام اور تجدید عہدکا دن!
22 مارچ 2018 2018-03-22


23مارچ 1940ء کو لاہور میں بادشاہی مسجد کے قریب منٹو پارک میں مسلمانان ہند کی طرف سے ایک شاندار اجتماع منعقد ہوا۔جس میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ سمیت مسلمانوں کے بڑے بڑے اکابرین شریک ہوئے۔اس عظیم الشان اجتماع میں مسلمانوں نے بیک آواز ہوکر حتمی فیصلہ کیا کہ اب مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔جس کے لیے بھرپوراور فیصلہ کن تحریک چلانے کیلیے سب نے پکا عزم کیا۔عزم وہمت کی اس داستان کو قرارداد لاہور یا قرارداد پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔بعدازاں دنیا نے دیکھا کہ مسلمانوں نے آزادی اور اسلام کی خاطر فیصلہ کن تحریک چلائی جو 14اگست 1947ء کو پاکستان کی صورت میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
قیام پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا واحد مطلب لا الہ الا اللہ تھا۔جس کا اظہار مسلمانان ہند" پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ!" کے ذریعے کرتے رہے۔یہی وہ نعرہ اور نظریہ تھا جس نے ہندوستان میں مختلف قوموں اور مختلف زبانوں میں بٹے ہوئے مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرودیا۔جس کے بعد مسلمانوں نے متحد ہوکر پاکستان کے لیے آزادی کی کامیاب تحریک چلائی۔دوقومی نظریہ " پاکستان کا مطلب کیا ؟لا الہ الا اللہ!" کی صداقت پر ایسی مہر ہے جسے جھٹلانا ناممکن ہے۔یہی وہ نظریہ تھا جس کے سامنے برطانوی استعمار نے گھٹنے ٹیک دیے اور مسلمانوں کی علیحدہ شناخت ،علیحدہ ثقافت کو تسلیم کرکے اسلام اور مسلمانوں کی خاطر علیحدہ ملک پاکستان کے قیام کی منظوری دی۔چنانچہ قیام پاکستان کے وقت یہ معاہد ہ بھی طے پایا کہ پاکستان میں صرف مسلمان آئیں گے،ہندوستان کے غیر مسلم پاکستان نہیں آسکتے۔حیرت کی بات ہے کہ ان تمام تاریخی شواہد کے ہوتے ہوئے کس طرح عناد پرست لوگ پاکستان کو ایک سیکولر سٹیٹ کہنے کی جرأت کرتے ہیں؟بغض وعناد سے بھرے یہ لوگ بیرونی آقاؤں کی خوشامدی میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جنا ح جیسے عظیم مسلم لیڈر کو بھی سیکولر اور لبرل کہتے ہیں۔حالاں کہ یہی قائداعظم محمد علی جناح تھے جنہوں نے خود وصیت کی تھی کہ ان کا جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی جیسے پکے سچے مولوی پڑھائیں۔مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا اشرف علی تھانوی جیسے علماء سے قائد اعظم محمد علی جناح کی دینی قربتیں تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں۔مگر پھر بھی ضدی لوگ اڑے ہیں کہ قائد اعظم ایک سیکولر اسٹیٹ بناناچاہتے تھے۔
دوسری طرف نظریہ اسلام اور قائد اعظم کے وارث ہیں،جو سیکولرز اور لبرلز کے سامنے تو ڈٹے رہتے ہیں،مگر اپنی حقیقی وراثت کو وطن عزیز پاکستان میں پھیلانے میں ابھی تک بہت پیچھے ہیں۔حالاں کہ ان لوگوں کی ذمہ داری تھی کہ یہ نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کی خاطر بھرپور جدوجہد کرتے اور پاکستان میں اسلام کی بالادستی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے سعی کرتے،مگر افسوس اسلامی نظام کانفاذ محض دعووں اور نعروں سے آگے نہ بڑھ سکا۔جس کی وجہ سے وطن عزیز پاکستان میں نظریہ اسلام کے مخالفین کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔چنانچہ اب نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف تک کہہ چکے ہیں کہ پاکستان ایک سیکولر ملک ہے اور سیکولرزم ہی میں اس کی فلاح ہے۔سچی بات ہے کہ پاکستان میں نظریہ اسلام اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جو کام ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوسکا۔جس کی ذمہ داری علماء کرام سمیت اہالیان پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔اسلامی نظام کے نفا ذ کے لیے علماء کرام نے وقتاً فوقتاً تحریکیں تو چلائیں،مگر عملاً قانونی راستہ نہیں اپنا یا ،جس کی وجہ سے ان کی تحریکیں وقتی ثابت ہوئیں اور پاکستان میں آہستہ آہستہ اسلام سے بے اعتنائی بڑھتی رہی۔اس کی سب سے بڑ ی مثال سودی نظام ہے۔بدقسمتی سے پاکستان کا معاشی نظام گزشتہ سترسالوں سے سود پر قائم ہے۔اس کے خاتمے کے لیے وقتا فوقتا تحریکیں چلیں،سپریم کورٹ میں 1100 صفحات کا طویل تاریخی فیصلہ بھی سامنے آیا،مگر سودخوروں نے اس فیصلے پر عملدرآمدنہیں ہونے دیا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ علماء کرام میدان میں نکلتے اور قانونی جدوجہد کے ذریعے اس فیصلے پر عملدرآمد کرواتے ،مگر سوائے مذمتی بیانات کے کوئی خاطر خواہ کوششیں سامنے نہیں آئیں۔حیرت انگیز طور پر پارلیمنٹ میں جانے والی مذہبی سیاسی جماعتوں نے بھی سالہا سال پارلیمنٹ میں رہنے کے باوجود سودی نظام کے خاتمے کیلیے کوئی مضبوط تحریک نہیں چلائی۔یہی حال عوام کا ہے۔حالاں کہ اپنے حقوق کے لیے نہ صرف مذہبی سیاسی جماعتیں جلسے جلوس اوردھرنے دیتی رہتی ہیں،بلکہ عوام بھی بجلی،لوڈشیڈنگ اور کرپشن کے خلاف سراپا احتجاج رہتے ہیں۔ مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی مل کر سودی نظام کے خاتمے کے لیے کوئی منظم اور جاندار تحریک نہیں چلائی۔یہی حال پاکستان میں اسلام مخالف دیگر قوانین کا ہے کہ ان قوانین کے خاتمے کے لیے آج تک کسی نے کوئی قانونی منظم جدوجہد نہیں کی۔چنانچہ قادیانیت والے مسئلے کو دیکھ لیا جائے۔پاکستان کے آئین اور دستورمیں قادیانیوں کو غیر مسلم قراردے رکھاہے۔مگر قادیانی اس کے باوجود پاکستان میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مذموم سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔آئین پاکستا ن کی توہین کرتے ہوئے اسے ردی کا ٹکڑا کہتے ہیں۔دھڑلے سے مسلمانوں کو قادیانی بناتے ہیں۔مگر کسی نے آج تک پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف فیصلہ کن قانونی کارروائی کی ہمت نہیں کی۔اگر کوئی ایک ختم نبوت کی جماعت بھرپور طریقے سے قانونی راستہ اختیار کرکے یہ مہم چلاتی کہ قادیانی جماعت کو پاکستان میں بَین کیا جائے تو شاید آج قادیانیوں کو ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی کی جرأت ہوتی ،نہ قادیانیوں کوسادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور بڑے بڑے عہدوں پر قبضہ جمانے کی ہمت ہوتی۔مگر افسوس اس طرف کسی نے کوئی خاطرخواہ توجہ نہیں کی۔جس کے نقصانات آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔علماء کرام اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے اس سستی اور کاہلی کا یہ نتیجہ نکلا کہ کچھ شدت پسندوں نے اسلامی نظام کے نفاذ کے نام پر ملک میں انتشاروفساد پھیلادیا۔جس سے مذہب اسلام سمیت علماء کرام کی خوب بدنامی ہوئی۔
واضح رہے کہ پاکستان میں اسلامی نظام کا مکمل نفاذ قیام پاکستان کی بنیاد اور روح ہے۔جس کی خاطر نہ صرف علماء کرام اور عوام کوکوشش کرنی چاہیے بلکہ ریاست پاکستان کو بھی اس کے لیے اپنا کردار ادا کرناچاہیے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ علماء کرام محض اسلامی نظام کے نفاذ کے خوشنما نعروں سے آگے بڑھ کر عملاً قانونی اور فیصلہ کن راستہ اپنائیں۔جس میں سردست پاکستان سے اسلام مخالف قوانین کے خاتمے کیلیے مضبوط قسم کی تحریک چلائی جائے۔اس کے علاوہ ملک بھر میں بلاتفریق نظام تعلیم میں شامل ہوکر نوجوان نسل کی اسلامی بنیادوں پر تربیت کی کوشش کی جائے۔ اسلام مخالف جتنے لوگ پاکستان میں کام کررہے ہیں ان کے خلاف قانونی جنگ لڑی جائے۔چاہے وہ نظریۂ پاکستان کے مخالف ہوں یا پھر نظریۂ اسلام کے،پاکستان کوسیکولر سٹیٹ بنانے کی خاطر نظریۂ پاکستان کو جھٹلانے والے ہوں یا پھر سیکولرزم کے نام پر فیمنزم ا ور الحاد کو فروغ دینے والے عناصر ہوں۔سب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے منظم منصوبہ سازی کی جائے۔یاد رہے کہ23مارچ نظریۂ پاکستان اور نظریۂ اسلام کے تجدید کا دن ہے۔اس دن کا اصل پیغام یہ ہے کہ پاکستان میں نظریۂ اسلام اور نظریۂ پاکستان کو نافذالعمل بنانے کے لیے ہر پاکستانی خلوص نیت کے ساتھ تجدید عہد کرے کہ وہ قیام پاکستان کی روح کو زندہ کرنے اور پاکستان کو پرامن اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرے گا۔اللہ تعالیٰ وطن عزیز پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت فرمائے اورپاکستان کے لیے جان دینے والے شہداء کی قربانیوں کو قبول فرمائے۔آمین۔


ای پیپر