دل دل پاکستان۔۔۔
22 مارچ 2018


دوستو، آج یوم پاکستان ہے، اٹھہتر سال پہلے آج ہی کے دن جب لاہور کے منٹو پارک میں قرارداد پاکستان پیش کی تو کوئی نہیں جانتا کہ مستقبل میں اس قوم نے سب کو آگے لگایا ہوگا، اپنی ’’فنکاریوں‘‘ سے خوب نام کمائے گی، چلیں آج کچھ اپنے پیارے وطن کی باتیں کرلیں۔
پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت بنا، دنیا کی چھٹی بڑی فوجی قوت رکھتا ہے۔آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت کے حوالے سے دوسرا بڑا ملک ہے۔ہمارے قومی ترانے کی دھن دنیا کی تین بڑی دھنوں کی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر ہے۔یہاں دنیا کا چوتھا بڑا براڈبینڈ انٹرنیٹ سسٹم موجود ہے، تربیلا ڈیم رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے وسیع اور دوسرا بڑا ڈیم ہے۔ ہمارے ہی ملک میں ایدھی فاونڈیشن دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس نیٹ ورک چلاتی ہے۔سائنسدانوں اور انجیئنرز کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا خطہ جی ہاں آپکا پاکستان ،آپکی مٹی ہے۔پوری دنیا کے پچاس فیصد فٹبال پاکستان میں بنتے ہیں۔ پاکستان اور چین کو جوڑنے والی شاہراہ قراقرم دنیا کی سب سے بڑی ہموار بین الاقوامی سڑک ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان کھیوڑہ پاکستان میں ہے، ہمارے ہی ملک میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے ۔یورپین کاروباری انتظامیہ ادارے کی درجہ بندی کے مطابق 125 ممالک میں سے پاکستان چوتھا سب سے زیادہ ذہین لوگوں والا ملک ہے،تمام ممالک کے پرچموں میں پاکستان کا جھنڈا خوبصورتی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پہ ہے۔ پاکستان سونا پیدا کرنے والے ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ کوئلے کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے۔ یہ ذخائر سعودی عرب اور ایران کے باہمی تیل ذخائر سے مالیت میں زیادہ ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک میں ہم دنیا کے 50 بڑے ممالک میں شامل ہیں۔ کاٹن پیدا کرنے والے ممالک میں ہم چوتھے نمبر پر ہیں۔ گنا پیدا کرنے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ، آم کی پیداوار میں بھی پانچویں نمبر پرہیں۔ پاکستان دنیا کی واحد قوم ہے جس میں 35 سال یا اس سے کم 50 فیصد جوان ہیں اور ہم اس پرجوش خون کو، اس افرادی قوت کو بطور طاقت استعمال کر سکتے ہیں۔ چھٹی بڑی فوج کے مالک ہیں۔ دنیا کی 10 بلند ترین چوٹیوں میں سے 4 پاکستان میں ہیں۔ دنیا کا دوسرا اونچا پہاڑ پاکستان میں ہے۔ ہمارے یہاں گلیشیئر ہیں، صحرا ہیں، میدان ہیں، سرسبز کھیت ہیں، پھلوں سے لدے باغات ہیں، میٹھے پانی کے چشمے ہیں، پانچ دریا ہیں، سمندر ہے، ساحل سمندر ہے، بندرگاہیں ہیں، جھرنے ہیں، ندی نالے ہیں، چار بہترین موسم ہیں۔ پاکستان میں سفر کے دوران ہر 200کلومیٹر بعد درجہ حرارت بدل جاتا ہے۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے کی فلائٹ پر موسم کلی طور پر بدل جاتا ہے مثلا آپ صبح دس بجے بہاولپور میں ہوں تو درجہ حرارت 45ڈگری سینٹی گریڈ ہوگا اور آپ فلائٹ کے ذریعے ا سکردو پہنچ جائیں تو گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے بعد وہاں کا درجہ حرارت منفی میں ملے گا۔ اس ملک میں کیا کچھ نہیں۔ ہر طرح کے پھل، ہر اقسام کے پھول، ہر نوع کے پودے، ہر قسم کے جانور، خوبصورت وادیاں، حسین نظارے، کھلی ا?ب و ہوا اور محنت کش لوگ، لیکن اس کے باوجود ہم کشکول اٹھائے در دربھیک مانگ رہے ہیں۔
آفس جانے کے لئے راستے میں جب گاڑی میں پیٹرول ڈلوایاجاتا ہے تو اس میں پینتیس روپے سے زائد کا ٹیکس فی لیٹر دیاجاتا ہے۔اگر دو لیٹر بھی ڈلوایا تو ستر روپے تو ہاتھوں ہاتھ سرکاری خزانے میں چلے گئے۔پھر دوپہر کو اگر موبائل فون میں سوروپے کا کارڈ چارج کرایا تو اٹھائیس روپے اس کا بھی بطور ٹیکس کاٹ لیاگیا۔سگریٹ لینے گئے تو ایک ڈبی پر انیس روپے الگ سے ٹیکس دیا۔یہاں تک کہ ماچس خریدی تو اس پر بھی ٹیکس دیا۔ پیاس لگی پانی کی بوتل لی تو اس کا بھی ٹیکس ۔کولڈڈرنکس پینی ہوتو اس پربھی ٹیکس۔کوئی بوڑھی ماں کی دوا خریدے تو اس پر بھی ٹیکس دوگے تو دوا ملے گی۔ ٹی وی کھولتے ہیں خوفناک اور دل دہلا دینے والی خبریں آنکھوں کے سامنے سے گزرنا شروع ہو جا تی ہیں قتل، چوری، بم دھماکے، خود کش حملے، طوفان، سیلاب، اغوا ، اسٹریٹ کرائم وغیرہ۔ایک عام پاکستانی اگر بجلی کا بل تو پھر گھر کا کرایہ کیسے دے اور گھر کا خرچہ کیسے چلائے؟۔عام شہری کوکوئی اور پریشانی نہیں، بس یہی فکر ہے کہ بجلی کا بل دیا تو پھر گھر کی دال روٹی کا کیا ہوگا؟ روٹی کھائی تو بچوں کی فیس کیسے دیں گے۔بنیادی اشیائے ضروریہ روزبروز مہنگی ہوتی جارہی ہیں۔ بازار جاؤ تو ٹماٹر، آلو، گھی، چینی، آٹا غرض ہر چیز کے نرخ آسمان کو چھو رہے ہیں،بچوں کے منہ سے دودھ چھینا جارہا ہے۔آج کل جس طرح ہمارا رہن سہن تبدیل ہو رہا ہے ڈر ہے کہ کہیں ہماری تہذیب تاریخ کا حصہ نہ بن جائے۔ جو قومیں اپنی تہذیب اپنی روایات کو چھوڑ دیتی ہیں ان کا وجود بھی ختم ہو جاتا ہے۔ مگر ہم لوگ پتا نہیں یہ بات کب سمجھیں گے۔ ہمارا میڈیا ہو یاں عام شہری سب مغرب کی تقلید کرتے نظر آرہے ہیں۔ وہ چیزیں کہ جن کا تصور بھی نہ تھا ہماری روایات میں ہم انہیں فالو کر رہے ہیں۔ وہ چیزیں کے جنہیں دیکھ کر ہمارے بزرگ استغفار کرتے تھے آج ہم ان پر فخر کرتے ہیں۔ ہمارا میڈیا ہمیں بے باک بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ مگر ہم دیکھ رہے ہیں تو میڈیا دکھا رہا ہے۔جس نے پہلے ہمیں عبائے سے شلوار قمیض ، شلوار قمیض سے ٹائٹ اور اب ٹائٹ بھی اوپر سرکنا شروع ہو گئے ۔ اسی طرح دوپٹے پہلے گلے میں آئے اب گلے سے غائب ہو کے گلے بھی غائب ہو رہے ہیں۔
جی بالکل ہمارا معاشرہ ایک عورت کو کوٹھا چلانے کی اجازت تودے دیتا ہے لیکن رکشہ یا ٹیکسی نہیں۔ہم ایسی معصوم قوم سے تعلق رکھتے ہیں جو آج بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں بچے بزرگوں کی دعاؤں سے ہوتے ہیں۔۔کچھ لوگ اتنے صفائی پسند ہوتے ہیں کہ وہ اپنی عینک اور موبائل کی اسکرین کو بھی تھوک لگاکرصاف کررہے ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی ہمارا ہی ٹیلنٹ ہے کہ کسی بھی واقعہ پر فوری ردعمل ہمیشہ طنزومزاح سے بھرپور دیتے ہیں۔شادی کا کارڈ دینے جاؤ تو کہتے ہیں کارڈ کی کیا ضرورت تھی کال کر لیتے ،کال کریں تو کہتے ہیں یہ کیا طریقہ ہے بلانے کا ،ہم نے نہیں جانا۔ہم بطور قوم اب ایک دوسرے کو برداشت کرنا بھولتے جارہے ہیں۔ ایک دوسرے پر تنقید، ایک دوسرے پر طنزکے نشتر معمول بن چکے ہیں۔ ایک دکاندار نے بورڈ لگایاتھا۔برائے کرم 30روپے سے کم ایزی لوڈ نہیں ہوسکتا، فضول بحث نہ کریں، ورنہ موبائل بیچ دیں۔ شکریہ۔ ایک اور نے لکھا تھا ۔۔ایک ٹکی یا پانچ روپے کے پکوڑے کے ساتھ چٹنی نہیں ملے گی۔بلڈرز کہتے ہیں ’’فلاں جگہ سے صرف دس منٹ کی مسافت پر‘‘ مگر سواری کے بارے میں نہیں بتاتے کہ پیدل جانا کار میں یا جہاز میں۔یہ ایسا معاشرہ ہے جہاں پولیس جب چھوٹے چور ڈاکوؤں کا پیچھا کرے تو اسے تعاقب کہتے ہیں مگر جب بڑے ڈاکؤوں کا پیچھا کرے تب اسے احتراماً پروٹوکول کہتے ہیں۔آج کل اداروں میں لڑکیوں کو ’’ملازمت‘‘ کے لیے ’’منتخب‘‘ نہیں بلکہ ’’پسند‘‘ کیا جاتا ہے۔لیکن جو بھی ہے۔ یہاں آزادی ہے، سکون ہے، کیوں کہ یہ ہمارا پیارا وطن ہے۔ ہم لڑتے بھڑتے ہیں پھر ایک ہوجاتے ہیں۔ ہمارا دکھ سکھ سانجھا، ہماری روایتیں،ثقافت،اقدار سب مشترکہ ہیں۔
اب چلتے چلتے آخری بات۔ سکندرنے اپنے لشکر میں اپنے ایک ہم نام شخص کو دیکھا جوجنگ شروع ہوتے ہی بھاگ جایا کرتا تھا تو اس سے کہا کہ تو یا تو اپنا نام بدل اور یا اپنی خصلت بدل۔


ای پیپر