بھارت کی آبی دہشت گردی اور پانی کا عالمی دن
22 مارچ 2018



پاکستان سمیت دنیا بھر میں گزشتہ روز پانی کا عالمی دن منایاگیا۔ یہ دن اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے ماحولیات کے فیصلوں کے بعد 1993ء میں پہلی بار 22 مارچ کو منایا گیاتھا۔اس دن کو منانے کا مقصد حکومتوں اور عوام کو پانی کے مسائل کی سنگینی سے آگاہ کرنا ہے۔ پانی کرہ ارض پر زندگی کی بقا اور ترقی کا سب سے اہم عنصر ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ اس حوالے سے لوگوں میں شعور بہت کم ہے۔ویسے تو دنیا بھر میں پانی کے حوالے سے مسائل موجود ہیں جبکہ پاکستان میں صورت حال زیادہ سنگین ہے۔ وطن عزیز میں 85فیصد شہری پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ہمارا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو اپنی مجموعی قومی آمدنی کا سب سے کم حصہ صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے لیے خرچ کرتے ہیں۔پاکستان کے نامور آبی ماہراقبال چیمہ کے مطابق صاف پانی اور نکاسی آب کا نظام نہ ہونے سے پیدا ہونے والی آلودگی سے پاکستان میں ہر سال 52 ہزار بچے ہیضہ‘ اسہال اور دیگر بیماریوں سے جاں بحق ہوتے ہیں۔ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی جولائی 2017ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں پانی کا بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے۔اس کا سب سے بڑا سبب انڈیا کی آبی دہشت گردی ہے جس کی وجہ سے یہ ملک ہر سال سیلاب کی صورتحال سے بھی دوچار ہوتا ہے اور ہمارے پانیوں کا رخ موڑے جانے سے یہاں زیر زمین پانی کی سطح بھی خطرناک حد تک نیچے گر رہی ہے جس سے آئندہ چند برسوں میں اور زیادہ سنگین صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
بھارت پاکستان کا ایسا ہمسایہ ہے جس نے دوقومی نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والے اس ملک کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیں نقصانات سے دوچارکرنے کی کوششیں کرتاہے۔ اس کیلئے بلوچستان، سندھ اورخیبر پی کے سمیت ملک بھر کے مختلف علاقوں میں تخریب کاری و دہشت گردی کو پروان چڑھایا گیا۔ صوبائیت ، علاقائیت اور وطن پرستی کی تحریکیں کھڑی کی گئیں اوراس ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں پر حملوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔غاصب بھارت یہاں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے کیلئے اربوں روپے خرچ کر رہا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی افغانستان آمد کے بعدبھارت سرکار کی سازشیں پہلے سے بہت بڑھ گئی ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھی اس کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے اور یہ باتیں اب کھل کر منظر عام پر آچکی ہیں کہ انڈیا نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوو ل کی سربراہی میں باقاعدہ ایک سیل بھی قائم کیا ہے جو سی پیک منصوبہ کو ناکام بنانے کیلئے دہشت گردی اور تخریب کاری کے منصوبوں پر عمل کرنے کی کوشش کرے گا۔ انڈیا کی پاکستان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اس کی یہی وہ ذہنیت تھی جس کی بناپر قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں تحریک پاکستان چلی اور اللہ تعالیٰ نے انعام کے طور پر یہ آزاد ملک ہمیں عطا کیا۔قیام پاکستان کے وقت حیدر آباد، جوناگڑھ، مناوادر جیسی مسلم ریاستوں کی طرح کشمیر ی بھی پاکستان سے الحاق چاہتے تھے لیکن جس طرح بھارت نے دوسری مسلم اکثریتی ریاستوں پر قبضہ کیا اسی طرح کشمیر میں بھی فوجیں داخل کر کے لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا اور پھر وہاں قابض ہو کر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد سے آج تک نہتے کشمیریوں کی قتل و غارت گری، ان کی املاک جلائے جانے اوران کی عزتوں و حقوق کا پامالی کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت سرکار آٹھ لاکھ فوج کے ذریعہ جہاں کشمیر میں ظلم و دہشت گردی کی نت نئی داستانیں رقم کر رہی ہے وہیں اس نے پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں اور ندی نالوں پرڈیم بنانے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ وہ سرنگوں کے ذریعہ ہمارے پانیوں کا رخ موڑ کر اپنے راجھستان جیسے صحرا آباد اور ہمارے لہلہاتے کھیت کھلیان برباد کر رہا ہے۔ بھارتی آبی دہشت گردی کے سبب پاکستان پچھلے کئی برسوں سے مسلسل سیلابوں کی زد میں ہے۔ ہر سال برسات کے موسم میں جب شدید بارشیں ہوتی ہیں تو انڈیا یہ کہہ کر پانی چھوڑ دیتا ہے کہ چونکہ پانی اتنا زیادہ ہے کہ اس کے کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے اس لئے مجبوری میں وہ لاکھوں کیوسک پانی کے ریلے چھوڑ رہا ہے۔ حالانکہ بارشیں تو ماضی میں بھی ہر سال ہو تی رہی ہیں لیکن ا یسی صورتحال تو کبھی نہیں بنی۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے ایوب خاں کے دور میں کئے گئے سندھ طاس معاہدہ میں پائی جانے والی کمزوریوں سے بہت زیادہ فائدے اٹھائے ہیں۔ معاہدہ میں یہ بات لکھی گئی ہے کہ بھارت بہتے ہوئے پانی کو اپنے استعمال میں لاکر اس سے بجلی پیدا اور باغبانی کیلئے استعمال کرسکتا ہے تاہم اسے روکنے کا اختیار نہیں ہو گا لیکن وہ سارے کے سارے پانی کو اپنے قبضہ میں لینے کی مذموم منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے۔1960کے معاہدہ کے نتیجہ میں سندھ ، جہلم اور چناب کا زرعی پانی پاکستان کے حصے میں آیا جبکہ ستلج، راوی اور بیاس کا زرعی پانی انڈیا کے پاس چلا گیا لیکن صورتحال یہ ہے کہ انڈیا پاکستان کا پانی مکمل طور پر بند کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے۔ جس طرح ہندو انتہاپسند تنظیم بی جے پی کے لیڈر اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں کہ ہم پاکستان کی طرف آنے والے پانی کی ایک ایک بوند روکیں گے‘ اس سے ہندوبنئے کے پاکستان کیخلاف مذموم عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انڈیا کو معلوم ہے کہ ایٹمی قوت پاکستان سے اب میدان میں مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے اس لئے وہ بغیر جنگ لڑے پاکستان کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے اورپاکستانی دریاؤں پر غیر قانونی ڈیم تعمیر کر کے وطن عزیز کو بنجربنانا چاہتا ہے۔نائن الیون کے بعد خاص طور پر بھارت نے اس سلسلہ میں بہت فائدے اٹھائے ہیں۔ انڈیا کی آبی دہشت گردی کے نتیجہ میں پاکستان میں پانی کی سطح مسلسل نیچے جارہی ہے جس سے کئی طرح کے مسائل کھڑے ہو رہے ہیں۔ انڈس واٹرمعاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ بھارت جہلم، چناب اور سندھ جن بھارتی علاقوں سے گزرتا ہے وہاں اسے پینے کیلئے، ماحولیات کیلئے اور آبی حیات کے لئے پانی لینے اور استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ جب اپنے لئے اسی معاہدے کے تحت یہ تینوں قسم کا پانی جائز قرار دیتا ہے جو پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں سے لیا جا رہا ہے تو ہمارے غیر زرعی استعمال کیلئے ستلج ،بیاس اور راوی سے ماحولیات، آبی حیات اور پینے کا پانی کیوں بند کر رہا ہے؟۔ 1970 کے انٹرنیشنل واٹر معاہدے کے تحت دریا کے زیریں حصے میں خواہ وہ کسی ملک میں ہو 100فیصد پانی بند نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے جو سہولت بھارت سرکار ہماری طرف آنے والے پانیوں سے حاصل کر رہی ہے وہی سہولت بیاس اور راوی میں پانی چھوڑ کر پاکستانیوں کو دی جانی چاہیے۔یہ بہت اہم مسئلہ ہے جس پر بھرپور آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ سی پی این ای کے صدر اورچیف ایگزیکٹو روزنامہ خبریں ضیاء شاہد ان دنوں پاکستان کے پانیوں پر بھارتی قبضہ کیخلاف زبردست تحریک کھڑی کر رہے ہیں جوکہ انتہائی خوش آئند امر ہے۔ضیاء شاہد صاحب خود بھی ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پانی کاشتکاری اور آبی حیات کیلئے کس قدر ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کسانوں و کاشتکاروں پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ انہیں اس سلسلہ میں قطعی طور پر خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیے اور پورے ملک میں مضبوط آواز بلند کرنی چاہیے۔ میں سمجھتاہوں کہ ان کی یہ باتیں بالکل درست ہیں۔ انڈیا ہمارے پانیوں پر تو ڈیم بنا رہا ہے لیکن ہم کوئی ڈیم بنانا چاہتے ہیں تو اسے روکنے کیلئے بے پناہ سرمایہ خرچ کیاجاتا ہے اور پھر بین الاقوامی سطح پر یہ
پروپیگنڈا بھی کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو تو پانی کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ وہ ڈیم نہیں بناتا اور ہر سال کثیر مقدار میں پانی سمندر میں پھینک کر ضائع کر دیا جاتا ہے۔محکمہ صحت کی رپورٹ ہے کہ بہاولنگر میں گردے کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں، آرسینک کی مقدار میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اسی طرح راوی تو محض گندا نالہ بن کر رہ گیا ہے جس کا ایک گھونٹ بھی منہ کو نہیں لگایا جاسکتا۔دریاؤں کی بندش سے پانی بہت نیچے چلا گیا ہے جس سے سنکھیا کی آمد شروع ہو گئی اور ملک میں جگر، گردے کے امراض ، یرقان اور کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انڈیا کی آبی دہشت گردی ہمیں پینے کے پانی ، درختوں، سبزیوں اور آبی حیات سے محروم کر رہی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی اور بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمے دائر کئے جائیں اور ہر ممکن طریقہ سے بھارتی آبی دہشت گردی کیخلاف آواز بلند کی جائے تاکہ اپنی آنے والی نسلوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جاسکیں۔اس سلسلہ میں کسی قسم کی غفلت اور مصلحت پسندی سے کام نہیں لینا چاہیے۔


ای پیپر