جشنِ بہاراں
22 مارچ 2018


ہرروز قتل و غارت گری، سفاکیت اور خدشات سے لبریزتپتے ہوئے صحرا میں پاکستانی قوم جس طرح زندگی کے ماہ و سال بسر کر رہی ہے اس میں وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہیں جو کرب ناک اور اذیت ناک حالات کو رنگین�ئ بہار میں بدلنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں اور انسانیت کو سکون اور آشتی سے آشنا کرنے کے بہانے تلاش کرتے ہیں۔ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی ہر شہر میں جشنِ بہاراں کی تقریبات مختلف انداز میں منائی جارہی ہیں۔ کھیلوں اور تفریح کے دوسرے شعبوں میں لوگ اپنے حصے کی تفریح کا سامان پیدا کرتے رہتے ہیں ۔ جس ملک کی فضا خوف و حزن سے ملول ہو وہاں جشنِ بہاراں کا لطف کیونکر آئے گا۔ سیاسی ابتری، اخلاقی انحطاط کے اس ماحول میں جہاں مسجدوں کو تالے لگ جائیں ایک دوسرے سے انسان دور ہوتا چلا جائے اور لوگ خود غرضی کے خول میں بند ہو کر بیٹھ جائیں تو زندگی کی حرارت کب رہ جاتی ہے۔سناٹے اور خاموشی کے اس ماحول میں ہر سو اخوت و رواداری کی ہوائیں چل رہی ہوں تو کتنی مسرت کی بات ہوتی ہے۔ ایسے میں رحیم یارخان اور سیالکوٹ کے لوگوں کو خراجِ تحسین پیش نہ کیا جائے تو یہ نا انصافی ہوگی جنہوں نے خود غرضی کے تپتے ہوئے صحرا میں بادِ صبح گاہی کے خوشگوار جھونکوں سے ماحول کو روحانی مسرتوں سے ہمکنار کر دیا۔ رحیم یار خاں کی سرزمین کی زرخیزی کی طرح یہاں کچھ دماغوں کی شادابی صحن چمن کو رنگین�ئ بہار سے آشنا کرتی ہے اور وہ کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور دوسرے شہروں سے شاعروں کو بلا کر محفل مشاعرہ کا انعقاد کرتے ہیں اور جشنِ بہاراں کے نام پر بڑی زندہ دلی سے آنے والے خوش گوار موسم کا استقبال کرتے ہیں۔ شہر اقبال کے لوگ ذوق اور شوق کے جذبات سے مالا مال ہیں او روہ درست موقع پر جشنِ بہاراں کا انعقاد کرتے ہیں جہاں ایک منصوبہ ساز ذہن بھی موجود ہے جس کی مشاورت سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کو تادمِ زیست میسر ہے۔ میری مراد محترم جناب آصف بھلی کی ذاتِ گرامی سے ہے جنہوں نے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام مشاعرہ کا انعقاد کیا اور نظامت کے فرائض جس خوبی سے ادا کیے اس نے ہمارے دلوں میں موصوف کی عقیدت اور محبت کے چراغ مزید روشن کر دیئے ۔ جشن بہاراں کی پُر وقار تقریب سیالکوٹ میں چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام عظیم الشان مشاعرے سے ہوئی اور وہ لوگ جن کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ مِل والے دِل والے نہیں ہوتے اور تاجر لوگوں کا تعلق فنونِ لطیفہ کی کسی بھی صنف سے نہیں ہوتا اُن کا مرکز و محور اول و آخر تجارت اور تجارت ہی ہوتا ہے مگر اس تاثر کو ہم نے بچشمِ خود زائل ہوتے دیکھا اور جس ذوق و شوق کا مظاہرہ چیمبر کے صدر زاہد لطیف ملک نے اپنے لطیف جذبات کے اظہار سے کیا، اس نے شاعروں کی سفری تکلیف کو راحت میں بدل دیا۔ شاعر لوگ داد و تحسین کی ستائش کے متمنی ہوتے ہیں اور وہ جس کثیر مقدار میں چیمبر آف کامرس سے انہیں ملی ہے وہ شاید ہی کسی اور شعبے میں اس انداز میں ملتی ۔ سابق ضلع ناظم میاں نعیم جاوید، سابق صدر ڈاکٹر اسلم ڈار، سینئر وائس پریذیڈنٹ عبدالوحید، وائس پریذیڈنٹ عابد خواجہ، سابق صدر داؤد احمد چٹھہ سیالکوٹ کی آبرو موجود تھی ۔ محمد آصف بھلی دلائل سے آراستہ اور شاعری سے پیراستہ نظامت میں یکتائے روزگارہیں۔ انہوں نے حفظ مراتب کا بھی خیال رکھا اور شعر اء کی نزاکتوں کی بھی پاسداری کی۔ شعرائے گرامی کے اسمائے گرامی اسلام آباد سے جمیل عالی، عائشہ مسعود، لاہور سے نجیب احمد، سعد اللہ شاہ، شیخوپورہ سے سلمان گیلانی ، ڈاکٹر ابرار، جمیل فخری، منصور آفاق، رحمان فارس، محبوب ظفر، میجر شہزاد نیر اور دیگر نے اپنے کلامِ بلاغت سے سامعین کو محظوظ کیا۔ شعراء حضرات نے اپنے جلیل القدر سامعین کے ذوق سماعت کے لئے اپنے کلام کی تاثیر سے بڑی دیر اسیر کیے رکھا۔ سیالکوٹ صرف صنعتی حوالے سے ہی معروف نہیں ہے یہاں اہل دل بھی کثیر تعداد میں آباد ہیں اور وہ پرورش لوح و قلم پر زیادہ یقین رکھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے ہی شہر کے شاعر نے پاکستان کاتصور دیا تھا اور شاعر مشرق علامہ اقبال کے اس خیال کو ایک وکیل کی دلیل نے دنیا کے نقشے پر عظیم مملکت کی صورت میں ثابت کر دیا۔ سیالکوٹ سے کوئی طاقت یہ اعزاز اور شرف نہیں چھین سکتی۔ شہر اقبال میں علمی، سماجی ، ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں کی حرارت اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں فنونِ لطیفہ کی سر پرستی کرنے والے اصحاب دانش موجود ہیں اور وطن عزیز کی اقتصادی، معاشی خوشحالی کے ساتھ ساتھ اس کی اعلیٰ ادبی اور شعری روایات کو بھی تابندہ رکھے ہوئے ہیں ۔ جسم اور روح کی توانائی ایسی ہی محفلوں کے انعقاد سے ملتی ہے ۔ پاکستان کے دوسرے شہروں کے ارباب ذوق کو شہر اقبال کی تقلید میں زیادہ سے زیادہ فنون لطیفہ کے فروغ کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اس سے ماحول میں روحانی بالیدگی پیدا ہوگی اور نفرت، کینہ ، حسد اور جارحانہ انداز اخوت و رواداری میں بدل جائے گا ۔ شاعری پیار، محبت اور رواداری کو فروغ دینے کا بہترین اظہار اور ابلاغ ہے۔


ای پیپر