یہ بھی پاکستان ہے ۔۔۔
22 مارچ 2018


دن رات میڈیا پرایک ہی بات ہے ، محفلوں میں دوست یار اور گھرانے سبھی ایک ہی پریشانی میں مبتلا ہیں ۔۔۔ پاکستان کا کیا ہو گا ؟ یہاں کرپشن ہے غداری ہے چور بازاری ہے ، رہنما کے بھیس میں راہزن ہیں ، تعلیم صحت قانون پولیس سیاست ہر طرف اندھیر نگری چوپٹ راجہ سا حساب ہے ۔۔۔سن سن کر سوچ سوچ کر لوگ ڈپریشن کا شکار ہونے لگتے ہیں کہ عوام تو پینے کے صاف پانی اور دوایوں کو ترستے نظر آتے ہیں اور چور لٹیرے عوام کے خوں پسینے کے کروڑوں سے خریدے قافلوں اور جلوس کی صورت میں بغیر کسی شرمندگی کے عدالتوں میں سینہ تانے آتے ہیں ۔۔۔ قاتلوں اور غداروں کی حفاظت کے لئے ہزاروں جوان حاضر اور عوام کھلم کھلا ظلم و ستم کا نشانہ ۔۔۔نام نہاد اشرافیہ( جنہیں اشرافیہ کہنا شرافت کی توہین ہے ) اصولوں ، آئین اور قانون کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں ۔۔۔جس کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کا نام بدنام ہو رہا ہے ۔۔۔ دہشت گردی کا شکار یہ ملک ، جس نے لاکھوں شہریوں اور فوجیوں کی قیمتی جانوں کی قربانی دی اربوں کا نقصان سہا۔۔۔دہشت گرد کہلایا جاتا ہے
لیکن کیا یہی پاکستان ہے ؟ کیا یہی اس کی اصل شکل ہے ؟ نہیں اصل پاکستان کچھ اور بھی ہے ۔۔۔اصل پاکستان تو ان کروڑوں عوام کے دم سے آباد ہے جو چند کرپٹ خاندانوں کی اجارہ داری کے باوجود زندہ ہیں اوردن رات زندگی کے چیلنجز کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔۔۔ جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات بھی نہیں وہاں بھی پتھروں سے اپنا رزق پیدا کرتے ہیں ۔۔۔ ہمارے محافظ فوجی ہوں
یا رینجرز پولیس ہو یا پرائیویٹ سکیورٹی ادارے اندرون ملک اور سرحدوں پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں ۔۔۔وطن کی خاطر، امن کی خاطر، ناکافی وسائل کے باوجود حوصلے بلند رکھتے ہیں ۔۔۔ اگرسبھی پاکستانی کرپٹ ہوتے تو سڑکوں پر قطار در قطار مزدور نہ نظر آتے ۔۔۔صبح و شام پیدل یا پبلک ٹرانسپورٹ پر دھکے کھاتے وہ سفید پوش نہ دکھائی دیتے جو رزق حلال کی خاطر چیونٹیوں کی طرح محنت کرتے ہیں او رصبر شکر کا گھونٹ پی کر پاکستان کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ آزادی میں آبرو ہے ، افراد کی بھی اور اقوام کی بھی ۔۔۔ عورتیں جنہیں صنف نازک اور کم عقل گردانہ جاتا ہے ، تعلیم ہو یا نہ ہو اپنے ہنر اور محنت سے کھیت ہو یا دفتر پاکستانی عورت نے خود کو منوایا ہے ہر میدان میں ۔۔۔ایسے معاشرے میں جہاں اکثریت کو ان کے مذہبی اور قانونی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہو ۔۔۔عورتوں نے ثابت کر دکھایا کہ وہ واقعی '' نصف بہتر '' ہیں ۔۔۔ گاؤں کی چلچلاتی دھوپ میں کھیتوں پر کھانا لے جانا ہو مال مویشی سنبھالنے ہوں یا خاندانی مسائل کا سامنا ہو۔۔۔ ہواؤں کے دوش پر لڑاکا جیٹ اڑانے ہوں یا مسیحائی کے تقاضے نبھانے ہوں ۔۔۔ پولیس ہو تعلیمی میدان ہو سائنسی ایجادات ۔۔۔پاکستانی عورت نے ہر میدان میں خود کو منوایا ہے جبکہ مغربی دنیا میں تو عورت کو مسائل کے حل کے لیے شخصی آزادی کے ساتھ ساتھ ہر طرح کا ریاستی اور قانونی تحفظ عملی طور پر حاصل ہے ۔۔۔
کھلے آسمان تلے ، سردی ہو یا گرمی بچوں کو تعلیم حاصل کرتے دیکھا ہے ذوق و شوق کے ساتھ ۔۔۔ راتوں کو گلیوں کی بتی تلے بیٹھ کر اس قوم کے سینکڑوں بچوں نے پڑھا حتی کہ پوزیشنز لیں ۔۔۔ ایک خاص خود غرض مفاد پرست طبقے کی چیرہ دستوں کے باوجود گلی محلے ڈھابوں اور ورکشاپوں پر نا مساعد حالات میں کام کرتے ہنر منداور ذہین بچے اسی قوم کا سرمایہ ہیں ۔۔۔ جو اپنے گھرانوں کے لئے نان نفقہ پیدا کرتے ہیں ۔۔۔ جن کو ہمارے نا خدا محض ووٹ لینے کیلئے یا مخالفین کی گولیوں کا نشانہ بننے کو استعمال کرتے ہیں ۔۔۔ ان میں کتنے ہیں جو دہشت گردوں کا آلہ کار بنتے ہیں ؟ بہت ہی قلیل تعداد (جس کا رونا ہمارے اندرونی و بیرونی دشمن روتے رہتے ہیں جنہیں یہ محنتی ایماندار اکثریت نظر نہیں آتی)۔۔۔ ورنہ محنت مشقت کی لکیریں ان کے ہاتھوں اور چہروں پر وقت کے ساتھ گہری نہ ہوتی چلی جاتیں ۔۔۔
یہی پاکستانی ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں سادہ مزدوری سے لے کر سا ئنس تک میں نام کمایا ۔۔۔آج مغربی دنیا میں بہترین انجینئرز، ڈاکٹرزاور دوسرے شعبوں میں نام و عزت کمانے والے بہت سارے پاکستانی ، پاکستان کے لئے با عث فخر ہیں ۔۔۔عرب امارت ، گلف ممالک اور افریقہ میں پاکستانی ہنرمندوں ، ڈاکٹروں اور فوج کے کارناموں کو دنیا مانتی ہے ۔۔۔ان علاقوں میں موجودہ ترقی اور امن و امان کی صورت حال میں دوسری اقوام کے شانہ بہ شانہ پاکستانی ہر مقام پر پہلی صفوں میں موجود رہے ۔۔۔اسی طرح کھیل کا میدان ہو یا فن و ثقافت کی دنیا ۔۔۔ ہم کسی سے پیچھے نہیں رہے ۔۔۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کرپٹ طبقے نے سینکڑوں نہیں تو چند لاکھ افراد کو ، ان کی مجبوریوں کو خرید لیا یا جانے نجانے میں انہیں کسی بھی طریقے سے اپنے مقاصد کی خاطر شکار کر لیا ۔۔۔اپنے کرپٹ سسٹم کے پرزے بنا لیا ۔۔۔ لیکن ان کروڑوں عوام کو کیوں ہم بھول جاتے ہیں جن کے دم سے یہ پاکستان ہے ۔۔۔ جو اس پاکستان کی شان ہیں ۔۔۔ ان میں گمنام سپاہی بھی ہیں اپنے اپنے میدان کے ۔۔۔ گمنام ہیرو بھی ہیں اپنے اپنے اداروں کے ۔۔۔ جنہیں نہ عہدوں کا لالچ ہے نہ صلے کی پروا ۔۔۔ تمغوں کا شوق نہ ستایش کی تمنا ۔۔۔ ان میں ہر عمر، ہر طبقے اور ہر صنف کے پاکستانی شامل ہیں ۔۔۔ جو جیتے بھی ا سی دھرتی کی خاطر ہیں اور مرتے بھی اسی کے نام پر ہیں ۔۔۔ان کی رگوں میں وہی لہو ہے جس نے 23 مارچ 1940ء کو پاکستان کی بنیاد رکھی ۔۔۔جن کے جذبوں کو آج بھی ان کے پرکھوں کے الفاظ اور قربانیاں حرارت بخشتے ہیں ۔۔۔ یہی وہ پاکستانی ہیں جو پاکستان کو گالی دینے والے کا منہ نوچ لینے کو تیار رہتے ہیں ۔۔۔ بزرگوں کا، ولیوں کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان کو گالی دینے یا پاکستان سے بے وفائی کرنے والے کی نسلیں برباد ہو جائیں گی کہ یہ سرزمین اللہ اور اس کے محبوب رسولؐ کے نام پر قایم ہوئی ۔۔۔اس کی بنیادوں میں لاکھوں معصوم بے گناہ شہیدوں کا لہو ہے ۔۔۔اس دھرتی نے ایک دن اللہ کے خاص الخاص بندوں کا پھر سے مسکن بننا ہے ۔۔۔ یہ مملکت اللہ کے معجزوں میں سے ایک ہے ۔۔۔ اسے مٹانا آسان ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔۔۔ پاکستان کے دشمن اور غدار یہ جان لیں کہ وقتی کامیابیاں ان کے دردناک انجام سے انہیں نہیں بچا سکتیں اور پاکستان کی ستر سالہ تاریخ ہمیں ایسوں کے عبرتناک انجام سے روشناس کرواتی ہے ۔۔۔
علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا ۔۔۔
یہ غازی تیرے پراسرار بندے جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
یہ غازی آج بھی ہر شعبے میں موجود ہیں ۔۔۔ یہ وہی ہیں ۔۔۔جن کی روح پاکستانی ہے ،جن کا تن من دھن پاکستان کے لئے ہے چاہے وہ کہیں بھی ہوں ۔۔۔ ان کا نام اور کام کچھ بھی ہو ۔۔۔
قربانیاں دینے والو! اس قوم کو 23 مارچ کے دن کی اصل قدرو قیمت دوبارہ سے سمجھ لینے دو ۔۔۔بھولے سبق پھر سے یاد کرنے دو ۔۔۔ یہ آسمان ایک بار پھر اسی عظمت اسلاف کی گواہی دے گا ۔۔۔اگر یہ خواب ہے تو اس کی تعبیر بھی پھر سے ہم پائیں گے ۔۔۔کہ یہ مملکت بھی تو پہلے ایک خواب ہی تھی جس میں رنگ بھرا گیا تھا 23 مارچ 1940ء کو ۔۔۔ اورتعبیر پائی تھی چودہ اگست 1947ء کو، جب بے سرو سامان تھے ۔۔۔مقابلے پر ایک دنیا تھی، محکوم تھے ۔۔۔ مگر قیادت مخلص و لاجواب تھی ۔۔۔بس یہ کمی پوری ہولینے دو ایک بار صرف ایک بار !!!


ای پیپر