یوم پاکستان اور فوجی پریڈ
22 مارچ 2018 2018-03-22



قوموں کے ہاں بعض ایام ایسے ہوتے ہیں جواہمیت اختیار کر جاتے ہیں ، وطن عزیز کی تاریخ میں ایسا ہی ایک دن 23 مارچ کا ہے ۔ قومی امنگوں، آرزوؤں اور خوابوں کا یہ دن’’ یوم پاکستان ‘‘ کے طور پر بھرپور ملی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔ یوم پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کی لازوال جدو جہدکا عکاس ہی نہیں بلکہ یہ نشان ہے عزم و ہمت کا اور استعارہ ہے جرات ، بہادری اور استقامت کا ۔ 23 مارچ 1940 ء کو لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد کے سائے تلے اور اقبال پارک(منٹو پارک) کے وسیع و عریض میدان میں ہزاروں مسلمان اکھٹے ہوئے اور ایک تاریخی فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں پاکستان کی صورت ایک آزاد مسلم ریاست دنیا کے نقشے پر ابھری۔23مارچ کے تاریخ ساز اجلاس میں کئے جانے والے فیصلے کو’’ قرار داد پاکستان ‘‘ یا’’ قرار داد لاہور ‘‘کے نام سے یاد کیاجاتا ہے ۔
اس تاریخی اجلاس میں قائد اعظم محمد علی جناح،نواب ممدوٹ ،حاجی عبد اللہ ہارون،مولانا ظفر علی خان،قاضی محمد عیسیٰ،عبد الرحمن صدیقی،مولانا عبد الحامد بدایونی،چودھری خلیق الزمان،مولوی فضل الحق اور دیگر بہت سے مسلم اکابرین شامل تھے۔ ایک اندازے کے مطابق اجلاس میں ایک لاکھ سے زائد شہری شریک ہوئے۔کانگریس نے اقرار کیا تھا کہ اس میں پچاس ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں مولوی فضل الحق نے قرار داد پیش کی جس کی تائید مسلمانوں نے دل و جان سے کی۔قرار داد کے ذریعے مسلمانان ہند نے دوٹوک فیصلہ کیا کہ ہم مسلمانوں کے لئے آزاد خطوں کی جدوجہد کا اعلان کرتے ہیں۔ قرارداد میں مسلمانوں کے لئے الگ وطن کے قیام پر زور دیا گیا ۔قرار داد لاہور کا منظور ہونا تھا کہ ہندو قیادت نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور ہندو اخبارات نے اسے طنزاً ’’قرار داد پاکستان ‘‘کہا ۔حالانکہ اجلاس میں باقاعدہ کسی جگہ بھی لفظ پاکستان استعمال نہیں ہوا تھا ۔ہندو پریس نے شدید مخالفت کرتے ہوئے ’’قرار داد پاکستان ‘‘ کا لفظ اس قدر مقبول عام بنا دیاکہ بعد میں مسلمانوں نے اسی لفظ کو اپنایا ۔یوں بجا طورپر یہ کہا جا سکتا ہے کہ قیام پاکستان ایک ایسی اٹل حقیقت تھی جس کا اظہار فطری طور پر ہندو کی زبان پر بھی آگیا تھا۔
یہ دن بھرپور طورپر منانے کیلئے ملک بھر میں سرکاری و غیر سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے کی سب سے اہم تقریب فوجی پریڈ کی صورت میں افواج پاکستان کے زیر اہتمام پریڈ گراؤنڈشکرپڑیاں اسلام آباد میں منعقد ہوتی ہے۔23مارچ1956ء میں پہلی بار اس پریڈ کا انعقاد ہوا۔ پریڈ میں صدر پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان اور مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوتے ہیں اور بعض اوقات کسی دوسرے ملک کے فوجی سربراہ کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیاجاتا ہے۔ اس دن ہر صوبے کے دار الحکومت میں اکیس ،اکیس توپوں کی سلامی دی جاتی ہے۔ تقریب میں بری ، بحری اور فضائی مسلح افواج کے دستے ، سعودی سپیشل فورسز، چین کی پیپلز لبریشن آرمی اور ترکی کے فوجی ٹروپس بھی بطور مہمان حصہ لیتے ہیں۔ اس شاندار پروگرام میں وطن عزیز کے مختلف فنی، ثقافتی اور علاقائی رنگ بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
پاک فوج کے مختلف رجمینٹس،آرمڈ کور،آرٹلری اور انفینٹری دستے اپنے اپنے جھنڈے لہرائے ،مختلف ہتھیاروں سے لیس ہو کرحربی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریب میں عجب سا سماں پیدا کرتے ہیں ۔نادرن لائٹ انفینٹری ، پنجاب رجمنٹ،بلوچ رجمنٹ، سندھ رجمنٹ، اے کے رجمنٹ ،ایئر ڈیفنس،این ایل آئی، پاک فضائیہ ، پاک بحریہ ،رینجرز،ایف سی ، پولیس اور دیگر ملٹری اور پیرا ملٹری فورسز کے چاق و چوبند جوان اپنی عسکری طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرکے شاندار مارچ کرتے ہوئے قوم کا فخر اور مان بڑھاتے ہیں۔دنیا بھر میں منفرد شناخت رکھنے والا پاک فوج کا خصوصی کمانڈ و دستہ، ایس ایس جی اس موقع پر بھرپور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو واضح پیغام دیتا ہے۔پاک فوج کا یہ مایہ نازگوریلا وِنگ اپنے منفرد انداز اور نعرے’’من جانبازم ‘‘سے پہچانا جاتا ہے۔یہ جوان دشمن پر ایسی ضرب لگاتے ہیں جس سے اس کے پاس شکست کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں کود جانے والا یہ دستہ بلاشبہ پوری قوم کا فخر ہے ۔ایس ایس جی ایسا سریع الحرکت فوجی دستہ ہے جس پر ہمیشہ قوم کو ناز رہا ہے۔ پریڈ میں پاکستان اپنے نیو کلیئر ،نان نیو کلیئر ہتھیاروں اور دیگر فوجی ٹیکنالوجی کی بھی نمائش کرتا ہے۔ اس موقع پر پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹرز کا مظاہرہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔افواج پاکستان کے ماتھے کا جھوم الضرار اور الخالد ٹینک تقریب کی رونق دوبالا کرتے ہیں۔مسلح افواج کے پیراگلائیڈرز فضا سے فری فال جمپ کر کے ہدف پر
اترنے کا شاندار مظاہرہ کرتے ہیں تو پریڈ گراؤنڈ تالیوں اور نعرہ تکبیر سے گونج اٹھتا ہے۔ پریڈ میں پاکستان کے تیارکردہ مختلف قسم کے ٹینک اورخصوصی میزائل دستے جب سٹیج کے سامنے سے سلامی پیش کرتے ہوئے گزرتے ہیں توایک نیا ولولہ اور جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے۔پاک فضائیہ کے طیاروں کے شاندارمظاہرے میں ایف سولہ،جے ایف سیون ٹین اور میراج طیاروں کی گھن گرج سے دشمنان وطن پر ایک ہیبت سی طاری ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر کو اپنی فوجی طاقت باور کرانا اور دشمن کو واضح پیغام دینے کے ساتھ ساتھ اس پریڈ کا یہ بھی مقصد ہوتا ہے کہ عوام اپنی بہادر افواج کی صلاحیتوں کا بھرپور مشاہدہ کرسکیں اور اپنے بہادر جوانوں، سائنس دانوں اور انجینئر ز پر اطمینان کا اظہار کر سکیں۔تقریب میں صدر پاکستان کی جانب سے مختلف ملٹر ی اور سول ایوارڈز ان لوگوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں جنہوں نے سال بھر کسی اہم شعبے میں قومی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا ہو۔
شاندا ر روایات کی حامل یہ فوجی پریڈ آج مورخہ23مارچ2018ء کو بھی نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہو رہی ہے جس میں سعودی اسپیشل فورسز ، چین اور ترکی کے فوجی ٹروپس خصوصی شرکت کریں گے ۔ 23مارچ کا دن ہر سال اہل پاکستان کو اس عظیم جذبے کی یاد دلاتا ہے جو قیام پاکستان کا باعث بناتھا۔ہمیں اس تاریخی دن کے موقع پر اپنے پیارے وطن کی مٹی سے یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اسے عظیم سے عظیم تر بنائیں گے ، اس کی جغرافیائی ونظریاتی سرحدوں کے تحفظ کی خاطرکوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے اور اپنی بہادر افواج کے پشتی بان بنیں گے۔ نسل نو23مارچ کے دن کو معمولی نہ سمجھے ،کیونکہ یہ وہ دن ہے جب قرارداد پاکستان ایک نظریاتی اساس بنی اور اس کے صرف سات برس بعد یعنی 1947ء کو کرہ ارض پر ایک نئی اسلامی ریاست وجود میں آئی اور اس کا سبزہلالی پرچم فضا میں بلند ہوا۔


ای پیپر