عوام نے فیصلہ مانا اور نہ ہی وہ مانیں گے : میاں نواز شریف
22 مارچ 2018 (11:58) 2018-03-22


اسلام آباد:سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ عوام نے فیصلہ مانا اور نہ ہی وہ مانیں گے ، سارا معاملہ ہی کالا لگتا ہے، کارکردگی کے باوجود ای سی ایل میں نام ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے، میرا تو کسی ادارے سے کچھ لینا دینا نہیں، آئین کی بالادستی کے لئے سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔ مجھے تاحیات نااہل کرنے کا سوچ رہے ہیں، سب کو آئین کی حدود میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔


احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو ہوئے سابق وزیر اعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ اقامہ کو بنیاد بنا کر ایک منتخب وزیراعظم کو نکال دیا جاتا ہے۔ اب تک عدالت میں جتنے شواہد پیش کئے گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ نہیں نکلا۔ ضمنی ریفرنس دائر کئے جا رہے ہیں اور ان ضمنی ریفرنسز میں بھی کسی قسم کے ثبوت سامنے نہیں آ رہے۔ جن کا نام ای سی ایل میں ڈالنا چاہئے تھا ان کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا گیا اور ہمارا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بات کی جا رہی ہے۔


نوازشریف کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف کسی قسم کی کرپشن کا الزام ثابت ہوا نہ سامنے آیا۔ ضمنی ریفرنس دائر کرنے کے مقصد پر سوالیہ نشان ہے۔ ہمارے ادوار کے کام سب کے سامنے ہیں۔ پنجاب اور پشاور کو دیکھ لیں۔ فرق صاف ظاہر ہے۔ 2013ء اور آج کی معیشت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہر شعبہ میں فرق صاف نظر آ رہا ہے۔ ڈالر کی قیمت 2013ء کے بعد کیا تھی اور اب کدھر گئی۔ سب کے سامنے ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ قوم جاننا چاہتی ہے کہ ایسا کرنا کیوں اور کس کے لئے ضروری تھا؟


انہوں نے مزید کہاکہ عمران خان پہلے مینار پاکستان پر جلسے کرتے تھے۔ اب گلی محلوں میں کرتے ہیں۔ تبدیلی تو آ گئی ہے۔ وہ پیپلزپارٹی کے حالیہ کردار کی وجہ سے بہت مایوس ہوتے ہیں۔ پیپلزپارٹی سے نگران وزیراعظم پر مشاورت نہیں ہو سکتی۔ (ن) لیگ چارٹر آف ڈیموکریسی سے پیچھے نہیں ہٹی۔بلاول بھٹو غلط کہتے ہیں کہ (ن) لیگ سی او ڈی سے پیچھے ہٹی۔چارٹر آف ڈیموکریسی کے بعد کئے گئے این آر او نے نقصان پہنچایا۔لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور کرکٹ کی بحالی کرنے والا آج عدالت میں بیٹھا ہے۔


ای پیپر