جانے کہاں گئے وہ دن ؟!.... (دوسری قسط)
22 جون 2020 2020-06-23

گزشتہ کالم میں نے ملک کے دنیا بھر میں مقبول ٹی وی کمپیئر ، شاعر ، ادیب دانشور اور ایک خوبصورت و حساس دل رکھنے والے انسان طارق عزیز کی اچانک وفات سے شروع کیا تھا۔ میں یہ عرض کر رہا تھا ”ان کی جو خدمات ہیں، اور ان کی جو یادیں ہیں ان کا احاطہ ایک آدھ کالم میں نہیں ہو سکتا۔ میں سوچ رہا تھا ان پر کوئی کتاب لکھوں۔ پر پھر میں نے سوچا کتابیں آج کل پڑھتا کون ہے؟۔ مجھے نہیں معلوم کتابیں چھاپنے والے کتنے ادارے سوائے”سنگ میل، فیروز سنز اور ماورا کے ابھی تک زندہ ہیں؟ اور اگر زندہ بھی ہیں تو ہمارے ہاں مطالع کا جو رجحان ہے اس کے مطابق میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں یہ اشاعتی ادارے ”آئی سی یو“ میں ہی ہوں گے۔ میں یہ بھی پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں سنگ میل اور ماورا جیسے مصروف اور ممتاز اشاعتی اداروں کو اپنی شناخت اور ساکھ برقرار رکھنے کے لئے کئی طرح کے نقصانات اٹھانا پڑ رہے ہوں گے۔ سوچتا ہوں کسی روز سنگ میل کے برادرم افضال احمد اور ماورا کے خالد شریف کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھوں پاکستان میں کتابیں آج کل کس حال میں ہیں؟.... بس یہ ہے کہ قرآن پاک کو کچھ لوگ محض ایک ”کتاب“ سمجھ کر پڑھ لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ پڑھنے سے زیادہ سمجھنے کے لئے ہے۔ سنا ہے حال ہی میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے ایک خیال کیا ہے جس کے مطابق جب تک کوئی قرآن پاک کو ترجمے کے ساتھ نہیں پڑھے گا اسے ڈگری جاری نہیں ہو گی۔ یہ بڑا زبردست فیصلہ ہے۔ پر میری خواہش ہے اس زبردست فیصلے کا اطلاق حکمران خود پر بھی کریں۔ ورنہ ان کے ساتھ بھی شرمندگی کا وہی معاملہ ہو سکتا ہے جو ایک بار میرے ساتھ ہوا تھا۔ میں نے اپنے اکلوتے بیٹے راحیل بٹ سے کہا ”بٹ صاحب گھر میں کبھی پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں۔ آپ بھی پانچ وقت کی نماز پڑھا کریں“۔ وہ کہنے لگا ”بابا میں ظہر ، عصر اور مغرب کی نمازیں لازمی پڑھتا ہوں، بس فجر اور عشاءکی کبھی کبھی رہ جاتی ہے، جو اکثر میں قضاءپڑھ لیتا ہوں”.... میں نے کہا“ اچھا آپ کوششیں کروں پانچ وقت کی نماز باجماعت مسجد میں جا کر ادا کیا کرو۔ وہ بولا”ٹھیک ہے بابا“.... اس کے بعد چند لمحوں کے لئے وہ خاموش ہو گیا۔ پھر آ کر میرے پیچھے کھڑے ہو گیا اور میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا ”بابا میں زرا اپنی پانچ وقت کی نماز کی عادت پکی کر لوں پھر میں آپ سے بھی کہوں گا آپ بھی پانچ وقت کی نماز مسجد میں جا کر باجماعت ادا کیا کریں، بلکہ کوشش کریں گے ہم اکٹھے جائیں“....میں نے اس کی بات غور سے سنی اور سوچا ”اوئے یہ تو سیدھا سیدھا مجھے بڑے ادب اور سلیقے سے ”منافق“ کہہ گیا ہے“....بس پھر کیا تھا میں نے بھی اس سے وہی کچھ کہا جو ایک خاتون نے اپنے شوہر سے کہا تھا۔ یہ واقعہ کچھ یوں ہے” ایک خاتون نے فجر کی اذان ختم ہوتے ہی اپنے شوہر پر پڑی رضائی (لحاف) اس کے سر سے کھینچ لیا، اور اس سے کہنے لگی “کچھ شرم کریں، اٹھ کر فجر کی نماز پڑھ لیں۔ ہمارے دین میں نماز فرض ہے.... شوہر نے لحاف دوبارہ سر پر لے لیا تھا۔ بیگم کی بات سن کر اس نے لحاف سے منہ باہر نکالا اور اس سے پوچھا ”بیگم یہ بتاﺅ ہمارے دین میں ایک مرد کتنی شادیاں کر سکتا ہے؟“....بیگم بولی ”اچھا چلو سو جاﺅ سو جاﺅ، نماز بعد میں پڑھ لینا“.... ” جانے کہاں گئے وہ دن “ لکھتے ہوئے اب مجھے یاد آ رہا ہے ایک زمانے میں یا یوں کہہ لیں ”پرانے پاکستان“ میں قرآن پاک کی بڑی قدر ہوتی تھی۔ مجھے یاد ہے یہ گھر کی سب سے قیمتی شے ہوا کرتی تھی۔ اسے گھروں میں سب سے اونچی اور سب سے پاک صاف جگہ پر رکھا جاتا تھا۔ خصوصاً جہیز میں لوگ اپنی بیٹیوں کو قرآن پاک لازمی دیتے تھے۔ جب بیٹی کی رخصتی ہوتی، یعنی اپنی شادی پر وہ جب مقام تقریب سے اپنے سسرال جانے لگتی اس کا کوئی بھائی یا والد اسے قرآن پاک کے سائے میں لے کر جاتے۔ یہ عمل شاید اب بھی ہوتا ہے۔ پر اب یہ عمل بھی صرف دیکھاوے کا ہی ہوتا ہے۔ ایک طرف دلہن کے سر پر قرآن پاک رکھ کر اسے رخصت کیا جا رہا ہوتا ہے، دوسری طرف اسی مقام پر گانے اور میوزک وغیرہ چل رہے ہوتے ہیں۔.... جہاں تک گھروں میں قرآن پاک کی تکریم کا معاملہ ہے مجھے یاد ہے میری والدہ محترمہ بڑے اہتمام سے انتہائی خوبصورت اور قیمتی کپڑا لے کر آئیں، پھر اس پر ”گوٹا لگا کر یا مختلف آیات کی اس پر کڑھائی وغیرہ کر کے اسے مزید خوبصورت بنا کر قرآن پاک اس میں رکھتی تھیں۔ اب میں نے اکثر گھروں میں دیکھا، اور دیکھ کر طبیعت ویران ہو گئی قرآن پاک کو بھی عام سی اک کتاب ہی سمجھا جانے لگا ہے۔ اگلے روز مجھے ایک عزیز کے گھر جانے کا اتفاق ہوا، ٹیلی ویژن کے اوپر قرآن پاک پڑا تھا اور نیچے ٹی وی پر ڈرامہ چل رہا تھا۔ میں نے اس عمل پر شدید احتجاج کیا ، جو ان کے لئے بڑا حیران کن تھا۔ وہ اسے عام سا اک عمل سمجھ رہے تھے۔ وہ حیران ہو رہے تھے میں اس پر اتنا سیخ پا کیوں ہو رہا ہوں؟.... میری بیگم اکثر مجھ سے کہتی ہے ”آپ نے دنیا بھر کے سفر کئے ، کچھ سفر نامے لکھیں (سیر سپاٹا اور گوری دنیا کے عنوان سے دو سفرنامے میں لکھ بھی چکا ہوں) اسی طرح وہ مجھ سے کہتی ہے ”آپ کی شاعری مختلف ڈائریوں میں بکھری پڑی ہے، ایک آدھ سعری مجموعہ ہی چھپوا لیں“۔ کل وہ مجھ سے کہہ رہی تھی ”آپ اب تک سینکڑوں بلکہ ہزاروں کالمز لکھ چکے ہیں، ان میں ایسے کئی مقبول کالمز بھی ہیں جو آپ کی باقاعدہ شناخت بن چکے ہیں۔ اس ضمن میں وہ نذیر ناجی صاحب پر لکھے گئے ایک کالم ”اے خدا میرے ابو بھی سلامت رہیں“ کی مثال دیتی ہے، وہ کہتی ہے ایسے مزیدار کالم ، کم ہی کس نے لکھے ہیں۔ سو اس کے خیال میں بلکہ وہ باقاعدہ اصرار کرتی ہے مجھے اپنے کالموں کے انتخاب پر مشتمل کچھ کتابیں شائع کروانی چاہئیں۔ اس کے خیال میں ”کتاب“ انسان کو زندہ رکھتی ہے جبکہ میرے خیال میں ”کردار“ انسان کو زندہ رکھتا ہے.... سو کل جب کتابیں وغیرہ چھپوانے پر اس کا اصرار بڑھ گیا۔ میں نے ایک خوبصورت شاعر انجم یوسفی (مرحوم) کا ایک شعر اسے سنایا ”رہے گی یاد کسے آپ کی غزل انجم....یہاں تو لوگ خدا کا کلام بھول گئے “.... (جاری ہے)


ای پیپر