جان جاناں کے روپ؟
22 جون 2020 2020-06-23

آج کل افسوس سے کہنا پڑتا ہے، کہ ہم مسلمان ہوکرمسلمانوں کے توکل سے دور ہوتے جارہے ہیں، اور کسی کی موت پہ ”بین “ کی صورت میں احتجاج کرنا معمول بنتا جارہا ہے۔ گوکہ بین کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے، جسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے محبوب نے منع فرمایا ہے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ عموماً ہرمسلمان عقل مندہوتا ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا بھی فرمان ہے، کہ میں جس کی بھلائی چاہتا ہوں، اسے دین کی سمجھ عطا کردیتا ہوں، اسی لیے دانشوروں ملک و ملت کا کہنا ہے کہ مرد باید گیرد اندرگوش، گرد نوشت است پند بردیوار یعنی عقل مند وہ ہے جو دیوارپہ لکھی ہوئی نصیحت کو بھی حاصل کرتا ہے، اسی لیے تو مظفرعلی شاہ یہ کہتے نظرآتے ہیں۔

حسن آفاق بے لبادہ کر

میرا ذوق نظر زیادہ کر!

مسلمانوں کا یہ بھی یقین وایمان، ایقان کی شکل اختیار کر جاتا ہے، کہ

مرد ازغیب بروں آیدوکارے بکند

غیب سے کوئی مرد آتاہے، اور کام کردیتا ہے، جب کوئی کام ہونے کو آتا ہے، تو غیب سے اس کے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں، اب اگر اصول کو حالیہ کرونا وائرس کے تناظر میں دیکھا جائے تو میراخیال ہے، کہ بات بڑھانے سے پہلے ہم موت کے لفظی معنی، اور مفہوم کو بھی سمجھ لیں، کیونکہ ہم روزانہ کی بنیاد پر دنیا بھر کے اعدادوشمار امریکہ، چین، روس اور چاروں براعظموں میں کرونا وائرس کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد دیکھتے ہیں، تو سوچنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں، کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ملک الموت یعنی عزرائیل علیہ السلام کو اس قدر زیادہ مصروف کردیا ہے، کہ وہ شب وروز مصروف عمل ہیں۔

حالانکہ ہم نے یہ بھی پڑھ رکھا ہے کہ ادائیل میں جان داروں، خصوصاً ہم انسانوں کا ذکر کررہے تھے، کہ اچانک موت آجاتی تھی، تو لوگ بے تحاشہ عزرائیل علیہ السلام کے بارے میں بکتا، اور عورتیں کو سنادیتے اور وہ شروع ہو جاتی تھیں۔

توپھر حضرت عزرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور دست بستہ استدعا کی کہ اے پروردگار عالم،انسان مجھے برا سمجھتے ہیں، لہٰذا انسانوں کو مارنے سے پہلے کوئی اس طرح کے اسباب پیدا فرما، کہ لوگ میرا نام نہ لیا کریں، یعنی انسانوں کو پہلے بیمار کردے، یا پھر حادثہ کرکے یا پھر کوئی ایسی صورت پیدا فرما، کہ لوگ براہ راست مجھ پہ ذمہ داری ڈالنا چھوڑ دیں۔

میں یہ عرض کررہا تھا، کہ موت کے لفظی معنی ہیں، طبعی زندگی کا ختم ہوجانا، قارئین کرام، یہ ذہن میں رہے کہ موت کو انتقال بھی کہا جاتا ہے، ایک دفعہ جو انسان پیدا ہوتا ہے، وہ پھر حقیقی معنوں میں کبھی بھی نہیں مرتا، کیونکہ وہ سفرآخرت اختیار کرکے،اپنی اخروی زندگی میں چلا جاتا ہے، جہاں دائمی زندگی ہے، جہاں ان شاءاللہ مسلمانوں نے جنت میں، اور کافروں نے شرک کی بدولت جہنم نے رہنا ہے ، شرک اتنا بڑا گناہ ہے، کہ جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کسی صورت معاف نہیں فرماتا اور مسلمانوں کے بارے میں یہ بھی نویدہے، کہ تم اگر گناہ کبیرہ کے مرتکب نہیں ہوگے، تو اللہ تعالیٰ تمہارے چھوٹے چھوٹے گناہ معاف فرما دے گا۔ موت کے بارے میں بھی یہ کہا جاتا ہے، کہ موت نے گھر دیکھ لیا ہے، تو کیا ہم یہ سمجھیں، کہ کرونا کی وجہ سے موت نے یعنی ملک الموت، عزرائیل ؑ نے آسمان کو چھوڑ کر زمین پر رہنا شروع کردیا ہے، اور بقول شاعر نیر اللہ تعالیٰ کی مسلسل ناراضگی کا اظہار ہے۔

مسلسل برہمی ہے

دروں برپا عذر ہے

جہاں ویران گلیاں

وہی اپنا نگر ہے !

گئی شب کا اثر ہے

بہت بوجھل سحر ہے

قارئین، ذرہ اس بات پر دھیان دیجئے کہ ہمارا اللہ تعالیٰ تو ایسا ہے کہ جس کی مرضی کے بغیر نہ درخت کا پتہ ہلتا ہے اورنہ ہی زمین سے سے کوئی بیج ڈالنے سے کوئی سبزا نکلتا ہے، وہی ہے، جو خشک اور مردہ گھاس کودوبارہ سرسبز اور ہرا کردیتا ہے، تو پھر ہمیں کیسے یہ یقین آئے کہ یہ اموات، اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر ہورہی ہیں۔ دراصل قارئین مجھ سمیت آپ سب کو اصلاح کی ضرورت ہے، قدرت کاملہ وعاجلہ کی ”عادت“ تو یہ ہے، کہ توبہ مانگنے پہ سروں پہ کھڑا عذاب نازل کرنے کی بجائے ٹال دیا تھا۔

مگر جب تک عوام کے ساتھ ہم پہ حکم چلانے والے حکمرانوں ہرماہ اور ہرہفتے کرونا سے مرنے والوں کے اعدادوشمار قوم کو بڑے فخر سے بتاتے اور مطلوبہ اہداف مقرر کرکے بتایا جاتا ہے، کہ جون میں اتنے ہزار اورجولائی میں کرونا اپنی انتہا پہ ہوگا، لہٰذا قوم تیار رہے۔ کہ لاکھوں انسان موت کے منہ میں چلے جائیں گے، قارئین ایسا دعویٰ کرنا بھی تو شرک ہے۔ ہاتھ میں تسبیح رکھنے والے حالانکہ وہ Digital Counterبھی رکھ سکتے ہیں، جو نظر نہیں آتی لیکن عمران خان کے ڈرانے والے خطاب میں مثبت بات یہ ہے کہ انہوں نے ان شاءاللہ نہیں کہا اب ہمیں یہ نہیں معلوم کہ کرونا، کا وبال عوام کی وجہ سے ہے، یا حکمرانوں کی وجہ سے قارئین اگلی دفعہ ان شاءاللہ میں اس موضوع پر بات کروں گا، فی الحال تو وزیراعظم سے اتنی عرض ہے کہ

تمہاری ذات کے جاناں

نہ نجانے روپ ہیں کتنے

کہ دیوانہ بنارکھا ہے!

ہے مجھ کو اس تجسس نے!


ای پیپر