مانگے تانگے کا بجٹ
22 جون 2020 (13:26) 2020-06-22

ایک اچھے تجزیہ کار نے جس کی بات دل کو لگتی ہے۔ کہا کہ بھوکے ننگوں کے لیے مانگے تانگے کا بل پیش کر دیا گیا۔ کسی نے لقمہ دیا کہ 2020-21ء کے لیے پہلا بل پیش خدمت ہے۔ اللہ پیش کرنے والوں کو پیشیاں بھگتنے کے لیے سلامت رکھے۔ وہ مزید منی یا منی بجٹ پیش کریں گے۔ آئی ایم ایف نے اپنے بندوں کے سمجھانے بجھانے پر بڑی مشکل سے بجٹ پیش کرنے کی اجازت دی۔ دو دن پہلے تک تو مذاکرات ہی کامیاب نہیں ہورہے تھے۔ تنخواہیں اور پنشن بڑھانے سے ان کا انکار، بجلی گیس فوری مہنگی کرنے سے ہمارا انکار طے پایا اکتوبر تک بجلی گیس مہنگی نہیں کی جائے گی۔ کچھ لے دے کر بجٹ کو آخری شکل دے دی گئی۔ بقول امیر الالسلام ہاشمی۔ ’’کچھ دے کے کچھ لیا تھا، کچھ لے کے کچھ دیا تھا، کیا کچھ لیا دیا تھا یہ عرض پھر کروں گا‘‘ یعنی اکتوبر کے بعد بجلی گیس، مہنگی کی جائے گی۔ ایک چھوٹی سی خبر کی بھنک پڑی کہ گیس سو فیصد مہنگی کرنے کی تیاریاں ما شاء اللہ مکمل ہیں۔ گرین سگنل ملتے ہی بجلی گیس مہنگی کردی جائے گی۔ بجٹ کس نے بنایا؟ پاس بیٹھے ایک دل جلے نے کہا جنہوں نے روز اول سے اب تک سہارا دیا یا کندھا دیا وہی بنائیں گے۔ ہم تو صرف پیش کار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بجٹ کی آئوٹ لائنز بتانے کے لیے کوئی ماہر معاشیات میسر نہیں تھا۔ حیرت ہے پوری پارٹی میں ایک اسد عمر، ابتدا میں انہیں ’’ہر مرض کی دوا اکسیر کیپسول‘‘ بنا کر پیش کیا گیا۔ ویسے تو ما شاء اللہ جہانگیر ترین بھی ’’ماہر امراض معاشیات‘‘ شمار ہوتے تھے لیکن وہ اوپر کے کاموں میں مصروف تھے۔ اس لیے اسد عمر ’’معاشی آپریشن‘‘ کے لیے بہترین آپشن قرار پائے لیکن وہ آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانے کے مخالف اس لیے ایک ہی ہلے میں ناکام، کابینہ سے باہر ’’اپنی اپنی مجبوری ہے ان کی اپنی مجبوری‘‘ پھر بھی اندر رہے، چاروں طرف نظریں دوڑائیں، سارے صاحبان گفتار، 22 سال کی تپسیا رائیگاں کمال ہے اس دوران کچن کابینہ پر دھیان ہی نہ دیا گیا۔ اس عرصہ میں تو بچہ بھی غفوان شباب کو پہنچ کر مراد سعید کی طرح ماہرانہ رائے دینے لگتا ہے۔ تب طے کیا گیا کہ بندہ ادھار پر درآمد کیا جائے منہ مانگی تنخواہ پر آئی ایم ایف سے ماہر بلوایا گیا۔ انہوں نے گورنر اسٹیٹ بینک بھی ساتھ بھیجا مکمل اطمینان ملک ہم چلائیں گے معیشت آئی ایم ایف کے ذمہ، کمی بیشی قرضوں سے پوری کرتا رہے گا۔ 22 کروڑ بھوکے ننگوں کے لیے 72 کھرب، 94 ارب کا بجٹ ، غضب خدا کا مجموعی آمدن کا تخمینہ 37 کھرب، اخراجات 71 کھرب، خسارہ 34 کھرب، ٹیکس وصولی کا ہدف 49 کھرب 63 ارب کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنے والوں نے کیوں نہ سوچا کہ گزشتہ سالوں کے دوران ٹیکس وصولیوں کا ہدف پورا ہوا نہ خسارے میں کمی ہوئی۔ درآمدات کم کردیں اخراجات کم کیے بڑی مہربانی کرم نوازش لیکن برآمدات میں کمی نے کسر پوری کردی، زر مبادلہ کے ذخائر ساتھ آٹھ ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے تھے۔ مانگ تانگ کر خالی خزانہ بھرا گیا قرضے کی قسطیں وصول ہوگئیں تو بڑے فخر سے سینہ پھلا کر کہا زر مبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالر سے بڑھ گئے۔ قرضے کی قسط ادا کرنے پر گھٹ جائیں گے۔ جن اشیا پر ڈیوٹی کم کی گئی ان کا فائدہ ارب پتی طبقہ اٹھائے گا جو چیزیں مہنگی ہوئیں ان کا نقصان غریب طبقے کو ہوگا۔ کاش ہمارے ماہرین سوچ سکیں کہ ٹیکس امیروں پر لگے یا

غریبوں پر جیب غریب ہی کی خالی ہوتی ہے۔ فیکٹری یا مل مالک اپنے اوپر لگے ٹیکس یا ڈیوٹی اپنی مصنوعات کی قیمت بڑھا کر کسی نہ کسی طرح نکال لیتا ہے۔ اسی کا نام مہنگائی ہے۔ جس پر قابو پانا فی زمانہ کسی کے بس کا روگ نہیں کرونا کے باعث دو ہی چیزیں بڑھ رہی ہیں مریضوں اور اموات کی تعداد اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ، ڈالر اللہ رکھے 167 روپے کا ہوگیا۔ قرضے کروڑوں میں بڑھ گئے۔ آنے والوں کو تنخواہیں بھی ڈالروں میں دینی ہیں۔ مہنگائی کا احساس بڑوں کو نہیں ہوتا بیرونی قرضوں کا حال برا 43 ہزار ارب یعنی 43 کھرب تک پہنچ گئے۔ اللہ برکت دے، تبدیلی سرکار نے 22 مہینوں میں 13 کھرب کا قرضہ لیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق زرداری حکومت نے روزانہ 5 ارب، نواز حکومت نے 8 ارب جبکہ موجودہ حکومت روزانہ 18 ارب قرضہ لے رہی ہے۔ ہر پاکستانی 2 لاکھ کا مقروض ادا کون کرے گا؟ کہنے لگے ہم پرانے قرضے سود سمیت ادا کر رہے ہیں۔ اک عمر چاہیے زلف کے سر ہونے تک، آپ شاید پرانے قرضے ادا نہ کرسکیں آنے والوں کو آپ کے قرضے بھی ادا کرنے پڑیں گے۔ کہنے لگے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ اسفند یار ولی نے ببانگ دہل کہا کہ 5 ارب کے نئے ٹیکسز لگائے گئے ہیں۔ سگریٹ، انرجی، ڈرنکس، ڈبل کیبن گاڑیاں مہنگی، بلا شبہ غریب استعمال نہیں کرتا لیکن استعمال کرنے والوں کی مصنوعات مہنگی خریدنے سے اس کی جیب خالی ہوگی۔ معمولی شیونگ کریم، برش، ٹوتھ پیسٹ اور گھریلو استعمال کی اشیا کی دو سال پہلے اور موجودہ قیمتوں کا موازنہ کرلیجیے تین گنا بڑھ گئیں۔ بجٹ ابھی منظور نہیں ہوا، اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود دو چار روز میں منظور ہوجائے گا۔ ’’اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی‘‘ کہ فنانس بل کی منظوری کے لیے حکومت اور اپوزیشن میں کوئی ہلکی پھلکی مفاہمت ہو چکی ہے۔ بجٹ منظوری سے پہلے ہی جو آفات سماوی و ارضی ٹوٹی پڑ رہی ہیں انہوں نے غریب اور متوسط طبقے کی حالت تباہ کردی ہے۔ کرونا وائرس آفت سماوی، لیکن گندم، چینی، پیٹرول بحران ہمارے اپنے کرتوت، بحران ختم کرنے کے روز بیانات، چھاپوں، گرفتاریوں کا حکم، پیٹرول کی قلت پر اجلاس، 3 آئل کمپنیاں ذمہ دار قرار لیکن پیٹرول 145 روپے لیٹر دستیاب۔ چینی گزشتہ 6 ماہ سے شور شرابے کے باوجود 85 روپے کلو بک رہی ہے۔ اربوں کا منافع کس کی جیب میں جا رہا ہے۔ غریبوں کا غم کھانے والوں نے اس کے لیے کیا کیا یہ منافع ہی موٹے پیٹوں سے نکال لیا جاتا تو خسارے میں قدرے کمی آجاتی۔ لیکن دعوے، وعدے زبانی معاہدوں اور سبسڈیز کی مراعات میں دفن ہوگئے۔ کرونا سے 3 کھرب کا نقصان، معاف کیجیے اپنی غلطیوں کا خمیازہ، کس کی غلطی کہتے ہوئے زبان جلتی ہے۔ لیکن ان غلطیوں کوتاہیوں یا نا اہلیوں کے سبب مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 67 ہزار ہوگئی۔ 3 ہزار 3 سو اموات آپ کے اندازوں سے کم سہی، لیکن جن کے باپ بیٹے جاں بحق ہوئے ان کے دل چھلنی، پاکستان متاثرہ ممالک میں 13 ویں نمبر پر آگیا۔ اسے بھی ترقی ہی کہیں گے۔ ’’ہنسنا رونا ہم نے کس سے سیکھا ہے، ہنسنا رونا سب حالات سکھاتے ہیں۔‘‘ بجٹ ، مہنگائی، آفات ٹڈی دل، کرونا، آٹے، چینی اور پیٹرول کے بحران برقرار، لیکن وفاقی دار الحکومت میں سیاسی زلزلوں کے جھٹکے بھی محسوس ہو رہے ہیں۔ شاہراہ دستور کے آس پاس رہنے والوں کا کہنا ہے کہ آفٹر شاکس کس دور تک اور دیر تک محسوس کیے جائیں گے۔ سیاسی زلزلے زیر زمین خاصی گہرائی میں انگڑائیاں لے رہے ہیں، گہرائی کم ہوئی تو نقصان ہوگا، بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر مینگل نے پہلا پتھر پھینکا سر پر آکر لگا ہے۔ انہوں نے بجٹ سیشن میں کھلے بندوں حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کردیا، پہلے بھی کیا تھا لیکن جہانگیر ترین اور پرویز خٹک نے منا لیا تھا زین بگٹی بھی میدان میں آگئے کہا علیحدگی پر غور کر رہے ہیں۔ اختر مینگل کی 4 سیٹیں لیکن وزیر اعظم کے لیے اہم ایک دو پتھر (شناسا ہی ماریں گے) اور آگئے تو اعتماد کا ووٹ لینا پڑ جائے گا۔ کیا خیال ہے حکومت مشکل میں نہیں ہے؟ معیشت تباہ، انتظامیہ کنٹرول سے باہر، وزیر مشیر سہارا دینے کی بجائے مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ یاسمین راشد صاحبہ نے لاہوریوں کو جاہل کہہ دیا اور مشکل میں پھنس گئیں۔ لاہوریے پھٹ پڑے الیکشن میں بدلہ لیں گے۔ آہستہ آہستہ ستون گر رہے ہیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سوچے سمجھے بغیر ریفرنس دائر کرنے پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا سپریم کورٹ کے فل بینک نے ریفرنس کالعدم قرار دے دیا۔ اسے اپنی جیت کہیں یا ہار، لیکن عدلیہ بار کونسلز اور وکلا میں مخالفت کی آوازیں نیک شگون نہیں، ماہرین قانون اپنی حمایت واپس لے رہے ہیں۔ انجام کیا ہوگا۔ کور چشموں کو نظر نہیں آرہا، دانستہ نا دانستہ غلطیاں ہو رہی ہیں، ستون گر جائیں انا کے آبگینوں کو ٹھیس نہ لگے، ایک مضبوط ستون کا سہارا ہے خدانخواستہ کہیں سے بھی کوتاہی سرزد ہوئی تو سمجھیے دھڑن تختہ بجٹ کرونا، بحران سب دھرے رہ جائیں گے۔ پھر امیر الاسلام ہاشمی یاد آگئے۔ جب تک رہے گا رسہ، رسہ کشی رہے گی۔ کب تک رہے گا رسہ یہ عرض پھر کروں گا۔


ای پیپر