بین الصوبائی ہالہ یونیورسٹی کی زبوں حالی
22 جون 2020 (13:26) 2020-06-22

وطن عزیز میں اعلیٰ تعلیم کی غرض سے تعمیر کی گئی یونیورسٹیز کی تعداد بین الاقوامی معیار کے مطابق ناکافی سے بھی بہت کم ہے۔ تاہم جو کچھ بہتر یونیورسٹیز ہیں وہ اپنی مخصوص لوکیشن ہونے کی بنا پر صرف علاقائی ضروریات کو کچھ حد تک پورا کر سکتی ہیں۔ جامعہ کراچی، یونیورسٹی آف پنجاب، قائد اعظم یونیورسٹی ، یونیورسٹی آف پشاور اور یونیورسٹی آف سرگودھا ان میں سے چند یونیورسٹیز ہیں، مگر اگر آپ گلوب پہ پاکستان کے نقشے کو ملاحظہ فرمائیں تو آپ نوٹ کریں گے کہ پاکستان دنیا کے ایک ملک چلّی کی طرح ایک ایسا ملک ہے جس کی لمبائی بمقابلہ چوڑائی انتہائی غیر متناسب ہے۔ گویا یہ ایک لمبائی کے دائو واقع ملک ہے۔ نتیجتاً کسی بھی بڑے شہر کو جغرافیائی اعتبار سے مرکزی حیثیت حاصل نہیں۔گویا ایسی یونیورسٹی کی تشنگی محسوس کی جاتی رہی جس کی ملک کے چاروں صوبوں کو یکساں رسائی حاصل ہو۔ قابل تحسین امر یہ ہے کہ وطن عزیز کے چند مخلص دانشوروں نے جن میں یہ خاکسار بھی شامل ہے اس مسئلے پر سوچ بچار کرکے ایک ایسی لوکیشن کا انتخاب کرلیا جو گھوٹکی (سندھ)، کشمور (کوئٹہ بلوچستان)، رحیم یار خان، ملتان (لاہور پاکستان) اور ڈیرہ اسماعیل خان (پشاور خیبر پختونخواہ) سے قریباً قریباً یکساں فاصلے پہ تھی۔ یوں 2015ء میں اس لوکیشن پر ہالہ یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔ تعمیر کے لیے 200 کنال اراضی، زرعی کالج اور کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے حاصل کی گئی۔ ابتدائی طور پر پانچ ارب روپے بجٹ کے طور پر رکھے گئے۔ پھر دیکھنے میں آیا کہ اس سلسلے میں فیز ون کا کام ریکارڈ مدت میں مکمل ہوگیا۔ ڈاکٹر اطہر محمود وائس چانسلر بہاولپور یونیورسٹی نے تدریس کے کام میں ناقابل بیان محنت کی اور پاکستان اور بیرونِ پاکستان سے 200 قابل اور پی ایچ ڈی پروفیسرز کو تدریس کے شعبے سے وابستہ کرلیا۔ مگر پھر کیا ہوا؟ موجودہ حکومت کی عدم توجگہی کے باعث فیز 2 کا کام جس میں ہاسٹلز کی تعمیر، اساتذہ کی رہائش گاہوں کی تعمیر، مسجد کی تعمیر اور فراہمی و نکاسی آب کی تعمیر وغیرہ شامل تھے، نامکمل پڑے ہوئے ہیں۔ فنڈز کی کمی اور انتظامیہ کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی بنیاد پر صرف تین کروڑ روپے باقی پڑے ہوئے ہیں۔ موجودہ انتظامیہ کمیٹی کی کوئی میٹنگ نہ ہونے کی بنا پر فیز 1 کا کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو ادائیگی نہ ہوسکی۔ یہ ہیں وہ حالات جن کی وجہ سے پاکستان اور بیرونِ پاکستان سے ہائر کیے گئے 200 اساتذہ میں سے 86 مستعفی ہوچکے ہیں۔

اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے باسی سندھی، بلوچی، پختون اور پنجابی تو ہیں مگر پاکستانی نہیں۔ وجہ؟ وجہ ہے چاروں صوبوں میں صوبائیت کا فاصلہ۔ اس فاصلے کو پاٹنے کے لیے عوام سے پہلے تعلیم

یافتہ طبقوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہوگی۔ ہالہ یونیورسٹی کا قیام اور اس کا کامیابی سے آگے کی جانب بڑھنا اس سلسلے کا اہم اقدام ہوسکتا ہے۔مگر ہمارے بیوروکریٹس اور دیگر اکابرین وہ لوگ ہیں جن کے نزدیک تعلیمی اداروں کی حیثیت یہ ہے کہ وہاں تدریس کا کام ہونے کی بجائے مویشی باندھے جاتے ہیں۔ اگر قوم کا درد رکھنے والے کچھ دانشور ہالہ یونیورسٹی کی بنیاد رکھ دیتے ہیںتو یہ بیورکریٹس اور اکابرین یوں آنکھیں بند کر لیتے ہیںکہ فنڈز ہی روک لیتے ہیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہمارے ملک نے آگے بڑھنا ہے تو ہمیں صدیوں کے درمیان ذہنی فاصلوں کو کم کرنا ہوگا۔ مگر یہاں تو فاصلوں کو کم کرنے کی بجائے اسے اس حد تک مہمیز دی گئی ہے کہ ملک کا بڑا حصہ مشرقی پاکستان ہی اس سے ہمیشہ کے لیے علیحدہ ہوگیا۔ اگر اس وقت کوئی ایسی ہالہ یونیورسٹی تعمیر کردی جاتی جس کی ایک شاخ مغربی پاکستان میں اور دوسری مشرقی پاکستان میں ہوتی تو شاید آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا نصیب ہوتا۔ وطنِ عز یز کے وجو د میں آ نے کے وقت اس میں کل ملا کر صر ف تین یونیور سٹیز تھیں۔ آ ج بھی بدقسمتی سے وطن عزیز کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں شرح خواندگی کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں خطے کے ممالک مثلاً بنگلہ دیش کی بات کریں تو وہاں شرح خواندگی 75% ہے۔ بھارت میں یہ شرح 81.3% ہے جبکہ وطن عزیز میں شرح خواندگی 59% فیصد ہے۔ مگر ہم ہیں کہ ہم خود کو دنیا کی ذہین ترین قوم گردانتے ہوئے بغلیں بجاتے نہیں تھکتے۔ ہمیں تو یہ احساس تک نہیں کہ ہم ایک مسلسل نیچے کی جانب سفر کرتی قوم ہیں۔

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

آج کی دنیا ایک گلوبل گائوں میں تبدیل ہوچکی ہے ۔ اس گائوں کی نعمتوں سے صرف اور صرف تعلیم یافتہ طبقہ ہی مستفید ہو سکتا ہے۔ افسوس کے ساتھ تحریر کرنا پڑ رہا ہے کہ ہم ایسے ملک کے باسی ہیں جس کے ایک صوبے کے لوگ کسی دوسرے صوبے میں خود کو اجنبی محسوس کرتے ہیں۔اس اجنبیت کو دور کرنے کا موثر طریقہ تو یہ ہے کہ تعلیم عام اور کچھ اس طور عام ہو کہ سب صوبوں کے طلبا ایک کلاس روم میں ایک ساتھ بنچوں پر بیٹھے تعلیم حاصل کریں۔ یوں ان کے ذہنوں میں ہم آہنگی پیدا ہوگی اور یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ جب سبھی صوبوں کے تعلیم یافتہ افراد ایک صفحے پر آجائیں گے تو اس کا اثر نیچے کے عوام تک منتقل ہوکر رہے گا۔ تب تعلیم عام ہوگی، شرح خواندگی میں اضافہ ہوگا، مگر نہیں۔ یہاں تو اگر جان توڑ کاوش کے بعد ہالہ جیسی بین الصوبائی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے تو اسے یوں فیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ گوگل جیسی کثیر المقاصد ویب سائٹ پر بھی اس کا تذکرہ نہیں ملتا۔ وطن عزیز کی نگاہیں تعلیمی اقدار سے یوں موڑ دینے کا مقصد ان روایتی جاگیرداروںاور وڈیروں کی پشت پناہی کرنا ہے جو اپنی رعایا کو اس لیے تعلیم سے محروم رکھتے ہیں کہ کہیں رعایا کے بچے پڑھ لکھ کر کل کو ان سے اپنا صدیوں سے اپنا غصب کیا ہوا حق نہ مانگنے لگیں۔ آپ آج بھی ملک کے کسی گائوں، گوٹھ میں چلے جائیں تو اول تو آپ کو کہیں کوئی سکول دور دور تک نظر ہی نہیں آئے گا۔ اگر کوئی سکول نظر آجائے تو ایک دفعہ سکول کی چار دیواری (اگر وہ ہے) کو پار کرکے اندر کلاس رومز کی ، طلبا کی اور اساتذہ کی حالت زار ضرور ملاحظہ فرمائیں، ایسا نہیں ہے کہ وہاں اس گائوں کی زبوں حالی کو محسوس کرنے والے درد مند نہیں ملیں گے۔ ملیں گے مگر ان کی سنتا کون ہے۔ راقم الحروف نے ان ہی دردمندوں کی مانند کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور زرعی کالج سے دیگر اہل دل دانشوروں کے ساتھ مل کر یونیورسٹی ہذا کے لیے اراضی کا بندوبست کروایا تھا۔ اب اہل اقتدار سے درخواست کرتا ہوں کہ خدارا تعلیم کے اس سفینے ہالہ یونیورسٹی کو غرق ہونے سے بچائیں۔ یقین کیجئے کہ اگر ہالہ یونیورسٹی وہ ساکھ اور مقصد حاصل کرلیتی ہے جس کے لیے اس کی بنیاد رکھی گئی تھی تو یہ ملک اپنے اس مقصد کو پالے گا جس کے لیئے یہ معر ضِ وجو د میں آ یا تھا۔


ای پیپر