ججوں کے کیس اور عدالتی فیصلے
22 جون 2020 (13:25) 2020-06-22

جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کا فیصلہ آ گیا ہے۔ یہ فیصلہ کتنا درست ہے اس کا علم وقت گزرنے کے ساتھ ہو جائے گا۔ میں یہاں عدلیہ کے حوالے سے ایک قانون کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ قارئین اگر کوئی جج کرپشن میں ملوث ہو یا اس نے کوئی غلط فیصلہ دیا ہو تو اس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت کی جا سکتی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل سپریم کورٹ کے جج پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ ایسا ادارہ ہے جو مبینہ طور پر ججوں کا احتساب کرتا ہے۔ قانون یہ ہے کہ اگر ٹرائل کے دوران ملزم جج ریٹائر ہو جائے یا استعفی دے دے تو اس کے خلاف تمام کیسز اسی وقت بند ہو جائیں گے۔ چاہے وہ کرپشن کروڑوں یا اربوں روپے کی ہی کیوں نہ ہو۔ اسے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ تمام سہولتیں دی جائیں گی جو ایک مستعفی ہونے والے جج کو ملتی ہیں۔دوسرے لفظوں میں آپ یوں کہیں کہ کرپشن کو لیگل شکل دی گئی ہے۔ بہت سے ججوں نے اس قانون سے فائدہ اٹھایا ہے۔ حال ہی میں لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس مظہر اقبال سندھو اچانک مستعفی ہو گئے۔ تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کرپشن کا کیس چل رہا ہے۔ ان کے نوکر کے اکاونٹ میں بھاری رقم کا انکشاف ہوا تھا۔ کئی سال تک کیس چلتا رہا۔ جج صاحب کو جب مقدمے کا فیصلہ اپنے خلاف آتا ہوا دکھائی دیا تو وہ مستعفی ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی ٹرائل بھی رک گیا۔ انھیں ریٹائرمنٹ، پنشن اور ملازم سمیت تمام سہولیات مل گئیں۔ اب وہ ایک

باعزت شہری ہیں۔ اس باعزت معاشرے میں کوئی سپریم جوڈیشل کونسل سے پوچھنے والا نہیں کہ ان کے خلاف کرپشن الزامات کا کیا بنا۔ کیا الزامات سچ تھے اور اگر جھوٹ تھے تو انھیں کلیئرنس سرٹیفیکیٹ کیوں نہیں دیا گیا۔ کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں کہ کیا یہ قانون عجیب نہیں ہے۔ کیا یہ قانون عام پاکستانی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ یا اس سے صرف انصاف دینے کے منصب پر بیٹھے

لوگ ہی مستفید ہو سکتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس طرح کے قوانین عام آدمی کو سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں کہ ججز نے یہ قانون اپنی حفاظت کے لیے بنوائے ہیں۔ ججز سے متعلق کرپشن کی کہانیاں جب بھی منظر عام پر آتی ہیں تو سچ اور جھوٹ سے قطع نظر ایسیقوانین پروپیگنڈا کو ہوا دیتے ہیں۔ انھیں بدلنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ججز کرپشن کے حوالے سے ایک اور کیس منظر عام پر رہا ہے۔ ایگزیکٹ کیس کے مرکزی ملزم شعیب شیخ کو 2018 میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ کئی کوششوں کے بعد بھی ضمانت ممکن نہیں ہو رہی تھی لیکن ایک دن اچانک ضمانت ہو گئی۔ تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈیشنل سیشج جج پرویز القادر میمن نے ایک کروڑ روپے رشوت کے عوض ضمانت دی ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بنچ نے کیس کی تحقیقات کیں تو ناقابل یقین حقائق سامنے آئے۔ بنچ نے ملزم جج سے پوچھا کہ آپ نے کتنی رشوت لی ہے۔ ملزم کے بولنے سے پہلے ہی مخالف وکیل نے جواب دیا کہ انھوں نے شعیب شیخ سے ایک کروڑ روپے رشوت لی ہے۔ ملزم جج نے بنچ کو بتایا کہ وکیل جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ لوگ انتہائی بے ایمان ہیں اور وعدہ خلاف ہیں۔ انھوں نے ایک کروڑ رشوت کا وعدہ کیا تھا لیکن صرف پچاس لاکھ ادا کیا۔ باقی رقم دینے سے مکر گئے ہیں۔ یہ کسی ناول یا افسانے کی کہانی نہیں ہے بلکہ کمرہ عدالت میں ہونے والا حقیقی مکالمہ ہے۔ بنچ کے سامنے ایسا منظر شاید پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ سزا کی طور پر جج کو برطرف کر دیا گیا۔ نہ ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا اور نہ ہی کیس نیب کو بھیجا گیا۔ نہ جیل ہوئی اور نہ عمر قید کی سزا۔ جج صاحب عدالت سے گھر گئے اور باقی زندگی مزے سے گزار رہے ہیں۔ اتنی سزا بھی صرف اس لیے ملی کہ اس نے عدالت کے سامنے اعتراف جرم کیا تھا۔ اگر وہ انکار کر دیتا تو یہ کیس کئی سال چلتا اور ممکن ہے رشوت کا الزام بھی ثابت نہ ہو پاتا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں تو مبینہ ملزم الزامات سے ہی انکاری تھا۔ لہذا نتیجہ آپ کی سامنے ہے۔ایگزیکٹ کیس میں جج کی رشوت لینے کی ہمت صرف اس لیے بندھی کیونکہ اسے یقین تھا کہ وہ بچ جائے گا۔ پاکستان کا عدالتی نظام اور جج اسے بچا لیں گے۔ اسے شاید یقین تھا کہ اگر ایک بھی جج کو عمر قید یا پھانسی کی سزا مل جائے تو مستقبل میں باقی جج بھی اس کی زد میں آئیں گے اس لیے وہ کبھی اتنا سخت فیصلہ نہیں کریں گے۔

اس کے علاوہ جج ارشد ملک کیس کا کیا بنا۔ اس نے عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ نواز شریف کیس کے دوران ملزمان سے رابطے میں رہا۔انھیں مشورے دیتا رہا۔ یہاں تک کہ نواز شریف سے ملنے رائے ونڈ بھی گیا۔ عوامی ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہیں اور مراعات لینے والے نے امانت میں خیانت کی اور بلا خوف پوری دنیا کے سامنے اپنی غلطی تسلیم کی۔ ایسی صورتحال میں جج کے ماضی کے فیصلوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ اس کیس کو دو سال بیت گئے۔ کیا نتیجہ نکلا۔ ابھی تک نہ تو جیل بھیجا گیا اور نہ ہی مالی جرمانہ کیا گیا۔ اس نے پاکستان کے وزیراعظم کے خلاف کیس سنا تھا۔ اگر یہ جرم کسی عام شہری سے یا گورنمٹ ملازم سے سرزرد ہوا ہوتا تو کیا اسے بھی اتنا ہی ریلیف دیاجاتا۔ کیا وہ بھی اسی سلوک کا حقدار ٹھرایا جاتا۔ یہ وہ سوالات ہیں جو عام پاکستانی کے دل و دماغ میں روز جنم لیتے ہیں۔ لیکن کہیں سے جواب نہیں مل پاتا۔ ایسے واقعات نے عدلیہ اور عام آدمی کے درمیان خلیج پیدا کر دی ہے۔ میری اپنے قارئین سے گزارش ہے جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے کو صحیح یا غلط قرار دینے سے پہلے ان واقعات کو مدنظر رکھیں۔ آپ بہتر نتیجے پر پہنچ سکیں گے۔


ای پیپر