متوازن غذا اور ساجھوجناور
22 جون 2020 (13:23) 2020-06-22

میرے دوست ساجھو کو جب پتہ چلا کہ کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ’’ متواز ن غذا ‘‘ استعمال کی جائے تو اُسے فکر لاحق ہو گئی ۔اور پھر جب متوازن غذا کی تفصیل جاننے کی کوشش میں اسے معلوم ہوا کہ اس سے مراد تازہ تازہ آم ِ، پیلی پیلی خوبانیاں ، کاجو اخروٹ ، بادام اور دیگر خشک میوہ جات ، تازہ گوشت اور زیتون کا تیل مناسب مقدار میں روزانہ باقاعدہ استعمال کرنا ہے تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔ ساجھو میرا کلاس فیلو اور بچپن کا یار ہے ۔ اُسے ’’جناور‘‘ کا لقب سکول میں ہی ہماری جماعت کی طرف سے عنایت ہوا تھا ۔ساجھو کے لیے اس لقب کی ’’شانِ نزول ‘‘ یہ ہے کہ ساجھو میں دو ایسی خوبیاں پائی جاتی تھیں جو دیگر کسی اور کو نصیب نہیں ہوئیں۔۔ ایک تو اس کی عقل خاصی موٹی تھی اور دوسرا بے حد محنتی تھا کہ بغیر سوچے سمجھے جانوروں کی طرح ’’ انھی ‘‘ محنت کرنا اس کی عادت تھی لہذا ان دو ’’ اوصاف‘‘ کی بنا پر اسے ’’ جناور ‘‘ کہا جانے لگا ۔۔اور اس بات کا ساجھو نے کبھی بُرا بھی نہیں منایا تھا ۔۔ اس کی وجہ پوچھنے پر وہ کہتا کہ سچی بات کا بُرا کیا ماننا ۔ ساجھو نے ’’ انڈر میٹرک ‘‘ انتہائی ’’ اعلیٰ ‘‘ نمبروں سے پاس کرنے کے بعد تعلیم کو خیر باد کہہ دیا ۔۔اور بڑے ٹائم سے اپنا آبائی پیشہ یعنی محنت مزدوری شروع کر لیا ۔ ساجھو کو تعلق وطنِ عزیز کے اُن لوگوں سے ہے جو غربت کی لکیر کے آس پاس ’’ رہائش پذیر ‘‘ ہیں ۔ غربت کی لکیر سے یہ جنگ اس کے بچپن سے بہت پہلے کی جاری ہے ۔دہائیوں سے جاری اس جنگ میں

کبھی وہ لوگ نیچے ہوتے ہیں اور کبھی غربت کی لکیر اوپر ۔ سو ! اس دشت کی سیاحی میںا یک عمر گزارنے کے بعد بھی اس کی صرف اتنی سی خواہش ہے کہ زندگی کے دن اسی لکیر کے آس پاس رہتے بسر ہو جائیں اور بس ! کیونکہ اس لکیر سے کچھ زیادہ نیچے بسنے والوں کی تلخیاں بہرطور زیادہ خوفناک ہیں ۔ گویا اس لکیر کے آس پاس رہنا ہی اس کی منزلِ مراد ہے ۔غالبؔ نے کہا تھا

منحصر مرنے پہ ہو جس کی اُمید

ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے

لیکن جب سے یہ منحوس کرونا آیا ہے غربت کی لکیر سے یہ لڑائی اس کے ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے ۔ اس لڑائی کے دوران دو چار ایسے گھونسے اسے پڑے ہیں کہ وہ نیچے لڑھکتا جارہا ہے اور یہ کم بخت غربت کی لکیر ’’ دامانِ خیالِ یار‘‘ کی طرح دور چھوٹتی جا رہی ہے ۔ برسوں سے اس کی اس کے خاندان کی زندگی بس یونہی گزر ہی ہے کہ صبح کی روٹی کما لی تو شام کی فکر اور شام کی کمائی تو صبح کی فکر ۔ ان حالات میں اسے جب پتہ چلا ہے کہ کرونا کے دوران انتہائی ضروری ہے کہ متوازن خوراک استعمال کی جائے تو اسے فکر لاحق ہوئی ۔ پھر جب اسے متوازن خوراک کی تفصیل معلوم ہوئی تو وہ خاصا پریشان میرے پاس آیا اور کہنے لگا ،’’ اُستاد جی ! پہلے تو مجھے شک تھا لیکن اب یقین ہے کہ یہ کرونا واقعی ایک سازش ہے اور ہے بھی یہ ہم غریبوں کے خلاف ‘‘۔

میں نے اس کے اس نتیجے کی وجہ جاننے کی کوشش کی تو وہ کہنے لگا کہ یہ جو کرونا سے بچنے کے لیے جس پائے کی خوراک بتائی جا رہی ہے ہم غریبوں کے تو خواب میں بھی یہ کبھی نہیں آئی ۔۔اور جن وٹا منز کو بڑھانا ضروری کہا جا رہا ہے ہم نے تو ان کا نام بھی کبھی نہیں سنا ۔ ہمارے پاس تو صرف وٹامن ڈی ہو تا ہے ہاں اگر اس کا کسی دوسرے شخص کی وٹامنز سے ’’ بارٹر ‘‘ کے تحت سودا ہو سکے تو ہم خالص وٹامن ڈی بڑی مقدار میں اسے دے سکتے ہیں ۔ میں اس کی بات سن کر ہنسا اور اسے کہا کہ کرونا ایک حقیقت ہے لہذا ضروری ہے کہ ڈاکٹرز کی بات مانی جائے اور احتیاط کی جائے ۔ ساجھوکہنے لگا ، ’’ اور وہ جو ایک بندے کو ہسپتال داخل کرنے کے نو سو ڈالر ملتے ہیں اور اسے کوئی ٹیکہ لگا کر مارنے کے پینتیس سو ڈالر ، تو اس کے بارے کیا خیال ہے ۔ میں نے اس سے پوچھا ،’’ ذرا بتائو کس کو مل رہے ہیں ،، کون دے رہا ہے ‘‘ ؟ اس کا ساجھو کے پاس کوئی جواب نہیں تھا لیکن جاتے ہوئے اس نے مجھے وصیت کے انداز میں بتایا، کہنے لگا ، ’’ دیکھیں ، بھاء جی ! میری بات یاد رکھنا اگر مجھے کرونا ہو جائے تو پلیز مجھے میرے اپنے گھر میں ’’ آئسولیٹ ‘‘ کردینا میں ادھر ہی قرنطینہ کروں گا ‘‘ میں نے کہا ساجھو تمہارے پاس تو ڈھائی مرلے کا کرائے کا مکان ہے ادھر کون سی آئسولیشن ، کیسا قرنطینہ ؟ اور اس ڈیڑھ کمرے کے مکان میں تو پہلے ہی کوئی سات آٹھ افراد رہ رہے ہیں ۔ اس پر ساجھو نے قہقہہ لگایا اور کہنے لگا ، ’’ پھر آپ نے میرے گھر میں مرغیوں کا کھُڈا نہیں دیکھا ۔۔ پانچ بائی پانچ کا کشادہ ڈربہ ۔۔ وہ کس دن کام آنا ہے ۔۔ قرنطینہ کے لیے اس سے بہتر جگہ کون سی ہو سکتی ہے ۔۔ اور ویسے بھی آجکل اس میں مُرغیاں نہیں رہتیں ۔ ‘‘


ای پیپر