” لاہور بنام یاسمین“
22 جون 2020 2020-06-22

یاسمین ! میری صدیوں کی عمر میں یہ کل کی بات لگتی ہے جب تم پہلی مرتبہ لاہور آئی تھیں ، سچ بتاو¿ں، مجھے تم اچھی بہت اچھی لگی تھیں، ایک خوبصورت بولڈ اور ذہین لڑکی۔ میں لاہور ہوں اور صدیوں سے لوگ میرے دامن میں آکر بسیرا کرتے رہے ہیں۔ میں پورے ملک میں شائد واحد شہر ہوں جہاں آنے ، رہنے اور کام کرنے والوں سے رنگ، ذات، نسل اور زبان نہیں پوچھی جاتی۔ تم جب چکوال کے گاو¿ں نیلا سے لاہور آئی تھیں تب وہاں سے آنا اتنا آسان نہیں تھا ۔ یہ تو ابھی کی بات ہے کہ موٹر وے بنی ہے اور کلر کہار کے آگے تمہارا گاو¿ں لاہور سے جانے والوں کو نیلا دولہا کے انٹرچینج سے نظر آجاتا ہے۔ تم نے یہاں کانونٹ میں داخلہ لیا تھا اور اس کے بعد فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں،جو اب یونیورسٹی بن چکا ہے۔ تم جب ہماری برادری ککے زئی کی بہو بنیں تو پھر میری ہی ہو گئیں۔ میرے پاس ہی نوکری کی اورمیرے پاس ہی ڈاکٹروں کی سیاست، یہیں تم نے کلینک بنایا اور خوب مال کمایا۔ تمہارا سسرا ل اینٹی نواز شریف تھا اور تم نے اپنے سسرال کی روایت کو بڑھاتے ہوئے جی داری کا مظاہرہ کیا اور سابق وزیراعظم کے مقابلے میں کھڑی ہو گئیں۔ یہ میرے لو گ ہی تھے جنہوں نے 2013 کے انتخابات میں 52 ہزار321، ضمنی انتخابات جو 2017 میں ہوئے تب 47099اور2018 کے عام انتخابات میں ایک لاکھ پانچ ہزار 857 ووٹ دئیے مگر میرا دل اس وقت دھک سے رہ گیا جب تم نے میرے پیارے بچوں کو علیحدہ مخلوق کہا اور اسی روانی میں قوم کے ساتھ ساتھ انہیں جاہل قرار دیا۔

یاسمین! مجھے لگتا ہے کہ میرے نمک میں اثر ہی نہیں کہ جو بھی کھاتا ہے وہ وفا نہیں نبھاتا ورنہ تمہیں بھی میں نے کیا نہیں دیا۔ تمہیں یاد ہے کہ جب تم پی ایم اے کی صدر تھیں اور پرویز مشرف دور میں میرے سرکاری ہسپتال پرائیویٹ کئے جا رہے تھے تو تم نے آگے بڑھ کے اس کے خلاف تحریک چلائی تھی ، تم نوکری سے بھی برخواست ہوئی تھیں اور پھر پرویز الٰہی نے تمہیں بحال کیا تھا اور آج تک تم پھر کسی اشارے پر میرے شہر کے غریبوں کی زندگی اور علاج کی آخری امید پرائیویٹ ہسپتالوں کو اپنی پارٹی کے فنانسروں اور ٹھیکیداروں کے حوالے کر نے جا رہی ہو، دیکھو، ایسا مت کرو کہ تمہاری عمر ستر برس ہوچکی اور تم نے صرف اپنی پارٹی کو ہی نہیں اپنے رب کو بھی جواب دینا ہے۔ بہرحال، یہ میرا اصل موضوع نہیں بلکہ یہ تو ایک دکھ سے جڑا دوسر ادُکھ ہے جو ادھڑ کے سامنے آ گیا ہے۔

یاسمین! تمہیں لاہوریوں کو علیحدہ مخلوق، تماشبین اور جاہل کہتے خیال نہیں آیا کہ تم خود بھی اب لہورن ہو اور تمہارا لیڈر جس کا تعلق میانوالی سے جوڑا جاتا ہے اس کا بچپن اور جوانی بھی میرے زمان پارک میں ہی کرکٹ کھیلتے ہوئے گزری ہے۔ کیا تمہیں یہ بھی خیال نہ آیا کہ آج تم جس سیاسی پلیٹ فارم پر کھڑی ہو اس کی بنیاد بھی میرے ہی ایک ہوٹل میں پریس کانفرنس کے ذریعے رکھی گئی تھی اور تمہاری سیاسی پارٹی کو عروج بھی آ ج سے نو برس پہلے میرے مینار پاکستان پر ہونے والے ایک جلسے سے ملا تھا جس میں لہوریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی تھی، ہاں ہاں، کہہ دو کہہ دو، وہ سب بھی جاہل تھے۔

یاسمین ! تُم کہو گی کہ اچھے لاہور ہو، کسی پھپھے کٹن ساس کی طرح طعنے دے رہے ہو تو میں سیاسی باتوں سے سو فیصد ٹیکنیکل باتوں پر آجاتا ہوں۔ تمہارا کہنا ہے میرے ہاں کرونا میرے بچوںکی لاپروائی اورتماش بینی سے پھیلا اور میں کہتا ہوں کہ تم سو فیصد غلط کہتی ہو۔ عوام توہر جگہ کے ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں مگر میرے لہوری زیادہ کھلے دل کے مالک ہیں اور اسی لئے تو زندہ دل کہلاتے ہیں۔سچ بتاو¿ اگرتمہاری حکومت کرونا آنے پر بارڈر بند کر لیتی اور ائیرپورٹوں پر سکریننگ سخت کر دیتی، یہ زلفی بخاری وغیرہ کی سفارشوں پر سینکڑوں کنفرم مریضوں کو داخل نہ کیا جاتا تو لاہور کیا پورے پاکستان میں کرونا پھیلتا، ہرگز نہیں، دل پر ہاتھ رکھ کر بتاو ¿کہ کیا بارڈر بند کرنا اور ائیرپورٹوں پر سختی کرنا میرے شہریوں کی ذمہ داری تھی یا تمہاری حکومت کی۔

یاسمین! جب کرونا آ گیا تو اس کے بعد اس کا پھیلاو¿ اسی طرح رک سکتا تھا کہ حکومت شہریوں کو ماسک فراہم کرتی، حفاظتی ادویات دی جاتیں مگر عملی طور پریہ ہوا کہ تمہارے ظفر مرزا نے ماسک اور سینی ٹائزر وغیرہ سمگل کروا دئیے اور وہ تمام ادویات جو احتیاطی طور پر استعمال ہوسکتی تھیں وہ یا تو غائب ہوگئیں یا مہنگی کر دی گئیں اور یہ ناکامی شہریوں کی ہے یا تمہاری ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی ۔

یاسمین! سچ یہ ہے کہ تمہارے اپنے لیڈر نے اس بارے میں کنفیوژن پیدا کی۔ اسے عام سا فلو کہا اور کہا کہ جب تک سنجیدہ علامات نہ ہوں تب تک کوئی ٹیسٹ کروانے بھی نہ جائے اور تم نے کہا کسی شہری کو کنفرم مریض ہونے تک ماسک پہننے کی ضرورت نہیں اور یوں کرونا سے اموات شروع ہوگئیں تو اس کی ذمے داری عوام پر عائد ہوتی ہے یا میری بیٹی تم پر عائد ہوتی ہے کہ تم نے آخر دم تک ڈاکٹروں کو حفاظتی لباس نہیں دئیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سینکڑوں، ہزاروں ہیلتھ پروفیشنل موت کے منہ میں چلے گئے، انہوں نے ڈر کے مارے مریضوں کو ہاتھ لگانا ہی چھوڑ دیا ۔غور سے سنو کہ میرے شہریوں نے چندے کئے اور رقوم جمع کر کے ڈاکٹروں کو پی پی ای فراہم کئے مگر تم ٹس سے مس نہ ہوئیں۔ مان لو کہ تم نے ریاستی وسائل کا غلط اور سیاسی استعمال کیا۔ جب تمہارے پاس اساتذہ، پولیوورکرز اور ہیلتھ وزیٹرز کی صورت میں صحت کی لڑائی لڑنے کے لئے پوری فوج موجود تھی تو اس وقت تم نے سیاسی بنیادوں پر ٹائیگر فورس کھڑی کر دی جو آج تک نجانے کہاں ہے توکیا ریاستی وسائل کا درست استعمال شہریوں کی ذمہ داری تھی۔

یاسمین! کرونا ایک عالمی وبا تھی اور اس کا درجہ عالمی جنگ جیسا تھا جس کے مقابلے کے لئے قومی اتفاق رائے کی ضرورت تھی مگر افسو س کا مقام ہے کہ تم لوگ بطور حکومت کسی قسم کا اتفاق رائے قائم کرنے میں ناکام رہے۔ اس وبا میں بھی اپوزیشن کے پیچھے نیب لگائے رکھی ۔ وفاق کی بڑا ہونے کی حیثیت میں ذمے داری تھی کہ صوبوں کو ساتھ لے کر چلتا مگر یہاں تو پنجاب اور وفاق میں ہی ہم آہنگی نہیں تھی۔ سب سے بدترین روش سندھ کے حوالے سے رہی جہاں تم مدد کی بجائے ٹچکریں کرتے رہے۔مجھے بتاو ، کیا یہ لاہوریوں کی ذمے داری تھی کہ تمہارے وزیراعظم اور اشرافیہ کے درمیان انڈرسٹینڈنگ پیدا کرواتے۔ تم لاک ڈاون نہ کرنے کا اعلان کر رہے تھے اور اشرافیہ لاک ڈاو¿ن کروا رہی تھی تو اس ابہام کے ذریعے بدترین صورتحال کس نے پیدا کی۔

یاسمین! اب دل پر ہاتھ رکھ کر سنو کہ لاہور میں کورونا پھیلانے کی ذمے دار تم خود ہو کہ جب تاجر یہ کہہ رہے تھے کہ عید کے دوران بازار اس طر ح کھولے جائیں کہ رش نہ ہو اور ان کے اوقات چوبیس گھنٹے کر دئیے جائیں تو انہیں آٹھ گھنٹوں کے لئے کھولنے کی کیا ضرورت تھی۔ تمہیں علم نہیں کہ عید کے موقعے پر شاپنگ کا کیا رش ہوتا ہے۔ محدود اوقات قاتل ثابت ہوئے اور کرونا پھیلا گئے۔ لہوریوں کو جاہل اور تماشبین اس وقت کہا جاتا جب فیصلے میرے لوگ کرتے۔ یہ نہیں کہ تم میرے نہیں ہو مگر تم فی الحال تم خود اپنے بھی نہیں ہو۔ لہوریوں کو جب تم نے کہا کہ بازار اور دفاتر بند کر دوانہوں نے کر دئیے۔ جب تم نے ناکے لگائے تو وہ ناکوں پر رک گئے۔ جب تم نے انہیں مرغابنوایا اور وہ مرغا بن گئے۔ جب تم نے انہیں چھتر مارے تو انہوں نے وہ بھی کھا لئے ۔ بس اب یہی گالی اور طعنے رہ گئے تھے وہ بھی تم نے دے دئیے۔

یاسمین! ذرا سوچو کہ تم نے میرے بچوں کو جاہل اور علیحدہ مخلوق کہہ کر کس کی خدمت کی۔ تم پر اور تمہاری پارٹی پر پہلے ہی الزام ہے کہ تم میری تعمیر و ترقی، میری میٹرو، میری اورنج لائن، میرے انڈر پاسز، میرے فلائی اوورز سب کے دشمن ہو اوریہی وجہ ہے کہ تم نے اورنج لائن کو بھی پشاور کی بی آر ٹی بنا دیا ہے۔ معاملہ صرف یہ ہے کہ تم آج تک ہرکوتاہی اور ہر ناکامی کی ذمے داری میرے بیٹے نواز شریف پر عائد کرتے آئے ہو مگر کورونا کی ذمہ داری اس پر کیسے عائد کی جا سکتی تھی لہٰذا تم نے میرے شہریوں، میرے بچوں پر ڈال دی، انہیں جاہل کہہ دیا، علیحدہ مخلوق کہہ دیا، تماشبین کہہ دیا۔

یاسمین! کیا ہی بہتر ہو کہ تم لوگ بحیثیت جماعت اپنی زبان کو تھوڑا مہذب کرلو، یہ وائس چانسلرز جیسی ہستیوں کوکنجر کہنا بھی مناسب نہیں ہے۔ تم میری شاندار بیٹی ہو اور تمہیں سمجھانا میرا فرض ہے۔


ای پیپر