مریم نواز کا مقدمہ
22 جون 2019 2019-06-22

حکومت کی تمام تر کاوشیں اور سرگرمیاں اس وقت ملک و قوم کو شدید اقتصادی بحران سے نکالنے پر مرکوز ہیں جس کی خاطر بیک وقت کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں…کئی جہتوں پر کام کرنے کے اعلانات بھی سامنے آ رہے ہیں… سب سے زیادہ زور پاکستان کے اندر اور بیرون ملک چھپی ہوئی دولت، بے نامی جائیدادوں اور خفیہ بینک اکاؤنٹس کو ہر طریقے سے سامنے لانے پر ہے… مقصد قومی خزانے کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصول کرنا ہے… وزیراعظم کی جانب سے بار بار اپیلیں کی جا رہی ہیں ایمنسٹی سکیم جو اس مقصد کے لیے جاری کی گئی تھی اس کی مدت کے اختتام کو پانچ چھ روز باقی رہ گئے ہیں… اس کی خاطر ملک بھر کے بینکوں کے اندر لوگوں کے کھاتوں کو کھنگال دیا گیا ہے… حکومت کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے اپنے خفیہ اکاؤنٹ ، چھپی ہوئی دولت اور بے نامی جائیدادوں کو ابھی تک ظاہر نہیں کیا وہ تیس جون تک ان کی تفصیلات پیش کر دیں ورنہ حکومت کے پاس تمام کے اعداد و شمار اور متعلقہ تفصیلات (ڈیٹا) موجود ہیں… پرسوں ایک کانفرنس کے ذریعے حکومتی وزراء نے 5 کروڑ 40 لاکھ شہریوں کے ایسی جائیدادوں اور اکاؤنٹس کا کچا چٹھا ظاہر کرنے کا اعلان بھی کر دیا… وزیراعظم نے اسی دن خطاب کر کے کہا کہ ہمارے پاس سب معلومات ہیں… 30 جون تک اگر کوئی اپنی جائیدادوں اور مال و دولت کے کوائف لے کر سامنے نہ آیا تو اسے پکڑنا چنداں مشکل نہ ہو گا اور معاف بھی نہیں کیا جائے گا… کیونکہ ملک غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبا جا رہا ہے، اس سے نکالنا از بس ضروری ہے… اس مقصد کی خاطر نہ صرف ترغیبات اور دھمکیوں سے کام لیا جا رہا ہے بلکہ حکومت پے در پے ایسے ادارے قائم کر رہی ہے جن کے ذریعے لوٹی ہوئی دولت کو سامنے لایا جا سکتا ہے نیز وہ سابق حکمران جنہوں نے اس کے نزدیک گزشتہ دس برسوں کے دوران اربوں کے قرضے حاصل کر کے قومی ترقیاتی منصوبوں پر لگانے کی بجائے پاکستان کے اندر اور باہر اپنی جائیدادیں بنانے اور عیش و عشرت کے سامان مہیا کرنے میں اڑا دیئے، ان کے جرائم کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایک سینئر پولیس افسر کی نگرانی میں 12 سرکاری محکموں کے نمائندوں پر مشتمل کمیشن بنا دیا ہے… حکومت نے اس سے بھی آگے بڑھ کر ایک قدم اٹھایا ہے اور پاکستان کی تاریخ میں غالباً پہلی مرتبہ نیشنل ڈیفنس کونسل کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے، جس کی صدارت وزیراعظم کے پاس ہو گی اور اس کے اہم ترین ارکان میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شامل ہوں گے… یہ ادارہ ملکی سلامتی کے مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے اقتصادی صورت حال کو صحیح راستے پر گامزن رکھنے میں مدد دے گا… یہ اس لحاظ سے منفرد فیصلہ ہے کہ قومی سلامتی کے براہ راست امور کے ساتھ ملکی معیشت کو بھی سلامتی کے ساتھ منسلک کر کے اس کو کم از کم اس کونسل کی حد تک فوج کی نگرانی میں دے دیا گیا ہے… یہاں پر ایک فطری سوال یہ پیداہوتا ہے کہ ہماری معیشت کی طنابیں پہلے ہی آئی ایم ایف کے ہاتھوں میں چلی گئی ہیں… اس کی جملہ شرائط کو من و عن تسلیم کر کے آئی ایم ایف ہی کے مرضی کے لوگوںکو وزیر خزانہ اور سٹیٹ بینک کی گورنر ی کے مناصب دے کر اقتصادی اور مالی فیصلے کرنے کا اختیار تفویض کر دیا گیا ہے… اب اس کام کی نگرانی میں اگر آرمی چیف بھی شامل ہو جائیں گے تو حکومت کے پاس کرنے کے لیے کیا رہ جائے گا؟

اگر اس ساری تگ و تاز کا مقصد آئندہ مالی سال کے دوران 5500 ارب روپے کے ٹیکس اکٹھے کرنا ہے جس کا خود حکومت کے قریبی ساتھیوں، سرکاری ماہرین مالیات اور پیشتر معاشی مبصرین کو گزشتہ دس ماہ کی کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے شبہ ہے کہ اتنا بڑا اتنا بڑا ہدف پورا بھی کر لیا جائے گا یا نہیں… اس پر مستزاد یہ کہ اپوزیشن نے چیلنج دے رکھا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے مسلط کردہ بجٹ کو منظور نہیں ہونے دیں گے… ایسی صورت میں حکومت اور اس کا ساتھ دینے والے زیادہ ابہام کا شکار ہو جائیں گے اور معاشی معاملات کو حل کرنے کے لیے کہیں زیادہ پیچیدگیوں کا سامنا ہو گا… غالباً اسی خدشے اور امکان کے پیش نظر حکومت نے اپنے سب سے بڑے سیاسی مخالفین آصف علی زرداری اور میاں شہباز شریف کی اس تجویز کو ماننے میں تاخیر نہیں کی کہ تمام سیاسی جماعتیں میثاق معیشت پر اتفاق کر لیں کیونکہ اپوزیشن کے ساتھ تصادم کی تمام تر پالیسی کے باوجود حکومت نے اس کے تعاون سے بجٹ منظور کرانا ہے اور جیسا کہ آثار بتاتے ہیں کہ ایمنسٹی سکیم پوری طرح کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی اور سال بھر میں ٹیکسوں کے اتنے بڑے ہدف کا حصول بھی ہمالیہ پہاڑ کی چوٹی سر کر لینے کے مترادف ہو گا، لہٰذا حکومت اپوزیشن کو ساتھ لیے بغیر گاڑی کو آگے کی جانب رواں نہیں کر سکتی… مگر سیاسی فضا کے اندر تلخی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ پرسوں شام نواب شاہ میں اپنی مرحومہ والدہ بینظیر بھٹو کی 66 ویں سالگرہ پر جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی کے نوجوان لیڈر نے اپنے والد آصف علی زرداری سے ایک قدم آگے بڑھ کر اعلان کیا کہ نیب گردی اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتیں… وہ مقابلے پر ڈٹے رہیں گے… کل زرداری صاحب نے بھی کہہ دیا میثاق جمہوریت کے لیے وزیراعظم براہ راست ہم سے رابطہ کریں… سپیکر کے ذریعے بات نہیں چلے گی… دوسری جانب کل ہفتہ کے روز مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے اپنی جماعت کے صدر اور چچا شہباز شریف کی میثاق معیشت کی تجویز کے اختلاف کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ وہ جعلی مینڈیٹ کی حامل حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں… اور یہ کہ ان کی رائے کو پارٹی کے اصل قائد اور جیل میں مقید سابق وزیراعظم نواز شریف کی حمایت حاصل ہے… نیز اس بارے میں حتمی فیصلہ مولانا فضل الرحمن کی بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں ہو گا، جس میں وہ بھی شہباز شریف کی قیادت میں اپنی جماعت کے وفد کی رکن کے طور پر شریک ہوں گی… دوسرے الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں نے میثاق معیشت کی تجویز کے حوالے سے جہاں مفاہمت کی ایک کھڑکی کھولی ہے، وہیں مقابلہ آرائی کے میدان میں ڈٹے رہنے کی آپشن کو بھی پوری طرح برقرار رکھا ہے… یہ صورت حال حکومت کے لیے خوش آئندہ ہے نہ اپنے آخری نتائج کے لحاظ سے قوم کے معاشی اور سیاسی مقاصد کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے بہتر ہو گا طرفین کسی قابل عمل او معتدل راستے کو اختیار کرنے پر متفق ہو جائیں تا کہ قوم و ملک کو معاشی گرداب اور سیاسی انتشار دونوں سے محفوظ رکھا جا سکے…

مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس میں جس طرح گزشتہ 10 سالوں کے دوران لیے جانے والے قرضوں کی رقوم کے استعمال کی جانچ پرکھ کے لیے بنائے جانے والے تازہ ترین کمیشن کو ناقابل قبول قرار دیا ہے، مناسب ہو گا اس پر پوری قوم کے ارباب بست و کشاد ٹھنڈے دل کے ساتھ غور کریں… ان کا کہنا ہے کہ کمیشن ضرور بننا چاہیے لیکن اسے صرف 2008ء سے 2018ء کے دور کا احاطہ نہیں کرنا ہو گا… 12 اکتوبر 1999ء سے 2019ء تک لیے جانے والی قرضوں کے حقیقی اخراجات کا جائزہ لینا ہو گا… ظاہر ہے وہ اس مدت میں جنرل پرویز مشرف کے 8 سالوں کو بھی شامل کرنا چاہتی ہیں ، جن کے ذکر سے بھی عمران خان گریز کرتے ہیں اور ان کے بارے میں جانی پہچانی وجوہ کی بنا پر خاصی حد تک پرہیز اور احتیاط سے کام لیتے ہیں … پھر ان کا کہنا ہے کہ صرف قرضوں کی رقوم نہیں کولیشن سپورٹ فنڈ کے نام سے غیر ملکی طاقتوں سے جو رقوم لی گئیں، ان کی بھی اسی طرح جانچ پرکھ ہو گی… کون نہیں جانتا اس شعبے میں ہاتھ ڈالنا آسان نہیں اور عمران خان تو سوچ بھی نہیں سکتے… مریم کے مقدمے کا اگلا نکتہ یہ ہے اگر ہم نے اپنے دور میں 10 ہزار ارب روپے کے قرضے لیے تھے تو موجودہ وزیراعظم نے پہلے دس ماہ ہی میں 5 ہزا رارب کابوجھ قوم پر ڈال دیا… ہمارے لگائے ہوئے منصوبے (جنہیں انہوں نے گن گن کر بتا دیا) تو پوری قوم کے سامنے ہیں… مریم کا سوال تھا عمران خان نے 5 ہزار ارب روپے کی جو رقم حاصل کی ان کی مدد سے کیا ترقی کی ایک اینٹ بھی لگی ہے اور آخری دو باتیں انہوں نے اس کمیشن کے بارے میں یہ کہیں کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کو اس میں شامل کرکے جے آئی ٹی طرز کا جو کمیشن بنایا گیا ہے وہ ان اداروں کا فریضہ یا منصب نہیں… یہ کام بین الاقوامی سطح کی کسی آڈٹ فرم سے کرایا جائے اور اس کی رپورٹ وزیراعظم کی بجائے پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی جائے… نواز شریف کی بیٹی کا یہ مقدمہ پورے کمیشن کو متنازع تر بنا کر رکھ دیتا ہے… اس کی ساکھ اور قابل عمل ہونے پرکئی سوالات اٹھا دیئے گئے ہیں… بہتر ہو گا کہ میثاق معیشت کے ساتھ ساتھ اس معاملے میں بھی حکومت اور اپوزیشن دونوں کے درمیان باہمی مل کر ایک مشترکہ راہ عمل پر اتفاق قائم ہو تاکہ جہاں قومی معیشت کو صحت مند بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد ملے، وہیں ملک کو سیاسی انتشار و خلفشار سے بچانے اور زیادہ بہتر طریقے سے مل کر آگے بڑھنے کی راہ ہموار کی جا سکے…


ای پیپر