سندھ میں ایڈز کی تباہ کاریاں: سندھ حکومت کی غفلت
22 جون 2019 2019-06-22

کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے عروسں البلاد شہر کراچی میں مہلک مرض ایڈز میں مبتلا مریضوں کی تعداد گیارہ سو بیاسی ہے جبکہ صوبہ سندھ میں ان کی تعداد چودہ ہزار ایک سوپندرہ ہے۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ برس ماہ اگست میں نیشنل ہیلتھ سروسز نے عدالت عظمی کی تین رکنی بنچ کے سامنے جمع کراتے ہوے اعتراف کیا ہے کہ صوبہ سندھ کے طول و عرض میں اس مہلک مرض میں مبتلا افراد کی تعداد ساٹھ ہزار تک پہنچ چکی ہے لیکن صرف بیس ہزار مریضوں کا علم ہو سکا ہے۔ سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے مزید انکشاف کیا ہے کہ لاڑکانہ کے ضلع رتوڈیرو میں اس مرض کے پھیلنے کا سبب ماہر امراض اطفال ڈاکٹر مظفر گھانگرو کا ہاتھ ہے جس نے جان بوجھ کر ایک ہی ڈرپ کٹ اور سرنج سے تمام مریضوں کا علاج کیا۔ وہ خود اس مرض میں مبتلا ہے اور ڈاکٹر عذرا کے مطابق بچوں سمیت تمام افراد کی تشخیص سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ افراد ایڈز میں مبتلا ہیں۔ حکومت سندھ کے محکمہ صحت کی جانب سے ڈاکٹر عبدالسمیع راچپر نے ملزم ڈاکٹر مظفر گھانگرو کے خلاف رتوڈیرو تھانے میں ایف آئی آر درج کرا دی ہے اور پولیس نے بعد از گرفتاری اس کا ریمانڈ حاصل کر لیا ہے اور ملزم صحت جرم سے انکار کرتے ہوے کہتا ہے کہ رتوڈیرو لاڑکانہ کے علاوہ پیرجوگوٹھ سانگھڑ شکارپور میں ایڈز کے مریضوں کا اندرج کر لیا گیا ہے جن میں سے سات سال کے عرصے میں بے شمار دم توڑ چکے ہیں اور دوسرے شہروں میں بھی یہ مرض پھیلا ہے تو کیا ان سب کو بھی میں نے انجکشن دیکر بیمار کرایا ہے۔ اس کے موقف سے اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ یہ مرض رتوڈیرو کے علاوہ سانگھڑ پیر جو گوٹھ حیدرآباد اور کراچی میں پھیل چکا ہے تو کیا اس کے شواہد ہیں کہ اس شخص نے ان متاثرین کو سرنج سے انجکشن لگا کر موذی مرض میں مبتلا کر دیا ہے۔ کوئی بھی عدالت اس مقدمے میں ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوے بری کر سکتی ہے ایسا بھی تو ممکن ہے کہ اصل ملزمان کو چھپانے کے لئے اسے قربانی کا بکرا بنایا گیا ہو۔ سندھ کی سیاست اور بااقتدار طبقے سے یہ بعید نہیں کہ اپنی ذمہ داری پر پردہ ڈالنے کے لئے دوسروں کو مورد الزام قرار دیدیا جائے۔ تھر کے علاقے میں چند سالوں میں تین ہزار بچوں سے زائد بھوک اور ادویات کی عدم فراہمی سے ہلاک ہو گئے جبکہ حکومت سندھ کے کرتا دھرتا بلاول اجرک اور سندھی ٹوپی کا دن منا رہے تھے۔ FIELD EPIDMIOLOGY AND LABORATORY TRAINING PROGRAMME (FELTP) کی ابتدائی رپورٹ میں ڈائریکٹر جنرل آف سندھ حیدرآباد کو اپنی رپورٹ میں فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے جس میں غیر رجسٹرڈ لیباٹریوں خون کے بینکوں اور اتائیوں کی فوری بندش کی سفارش ہے۔ گو ڈائریکٹر جنرل صحت کے محکمے نے صوبے میں ایڈز پھیلنے کے اسباب پر تحقیق کی ہدایت کی تھی جس کے نتیجے میں اس نے مکمل تحقیقات کر کے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں جس پر سست روی سے عمل در آمد ہو رہا ہے جبکہ اس کے اصل ذمہ داروں کو منظر عام پر نہیں لایا جا رہا۔ اس سے حکومت سندھ کی بے حسی غیر ذمہ درانہ رویہ بے نقاب ہوتا ہے مستزاد یہ کہ اتنے حساس اور سیاسی نوعیت کے معاملے پر حکومت نے حزب اختلاف کو صوبائی اسمبلی میں بحث کا موقعہ نہیں دیاجس پر ایوان میں بڑا شور شرابا ہوا۔ بڑی حیرت کی بات ہے اس بات پر مرکزی حکومت خاموش ہے اور صوبائی حکومت کے ترمیم کے واویلے پر بلیک میل ہو رہی ہے۔ اس کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ وزیر اعلی سندھ کئی بار واشگاف الفاظ میں اسکی تردید کر چکے ہیں کہ سندھ میں ایڈز کا مرض جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے۔ وہ اندرون ملک تو ایسا کہہ چکے ہیں لیکن بین الاقوامی سطح پر گزشتہ سال اپریل میں ایشیا پیسفک بینک ریجنل سپورٹ کے ڈائریکٹر مسڑ مرفی کے ہمراہ اقوام متحدہ کے وفد کے سامنے ڈینگ ماری تھی کہ صوبہ سندھ میں ایڈز کا قلع قمع کر دیا گیا ہے ساتھ ہی اگست میں بھی یہی کچھ کہا تھا۔ اگر یہ حقائق صحیح ہیں تو کیا اس پر حکومت سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا کو مستعفی نہیں ہو جانا چاہیے۔ ان حکمرانون کو اگر ا انتخاب سے نہیں ہٹایا جاتا تو انقلاب ناگزیر ہو جاتا ہے جس کی ذمہ داری اس بے حس طبقے پر ہو گی۔ اپنی کرسی بچانے کیلئے ایوان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے پر طول رہا ہے۔ شاید دوسرے مجرم نواز شریف ان کے ساتھ عید کے بعد مرکزی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا منصوبہ بنا رہا ہے اسمیں اٹھارویں ترمیم کو مقدس گائے بنائے ہوئے ہیں لہٰذا مرکزی حکومت کو چاھئے کہ توڑ پھوڑ گھیراؤ جلاؤ نقص امن کے اندیشے کے سدباب کے لئے قانون اور آئین کے تحت بلا رورعایت سخت ترین اقدام کرے۔ اگر وفاق پاکستان یا عدالت عظمیٰ سندھ میں موجودہ اور مستقبل کی نسلوں کو اس موذی مرض سے نجات نہ دلانے پر حکومت سندھ کے خلاف کاروائی نہں کرتیں تو تاریخ میں ان کو اچھے نام سے یاد نہں کیا جائے گا کیونکہ جب عدالت عظمی صاف پانی کی عدم دستیابی پر متعلقہ اداروں کی سرزنش کر سکتی ہے تو ایڈز کا مسئلہ تو اس سے کہیں زیادہ سنگین جرم ہے۔ اس سے تو آئندہ نسلوں کے خاتمے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے لہذا انسانی بنیادوں پر عدالت عظمی کو سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔

اب تو سندھ بالخصوص اور پاکستان بالعموم عالمی ادارہ صحت کے ریڈار پر آ گیا ہے اوراس کے ماہرین رتوڈیرو میں سر گرم ہیں۔ مندرجہ بالا ادارے کے ماہرین نے خون جانچنے کے طریقہ کار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوے خون جانچنے کی تھیلیوں کو فریج یا برف کے ڈبوں میں رکھنے کی ہدایات دیں اور تھیلیوں کی جانچ پر زور دیا اور کچھ نمونے اپنے ساتھ لے گئے جبکہ چھبیس ہزار افراد کی خون کی رپورٹ بھی طلب کیں۔ جہاں تک رتوڈیرو کا تعلق ہے تو اسکی تو پوری دنیا میں شہرت ہو چکی ہے لیکن بدین میں بھی خیریت نہں جو کمشنر محمد عباس بلوچ کے بیان سے صاف ظاہر ہے۔ موصوف نے اتایئوں پر سخت پابندی عائد کر دی ہے جبکہ حجاموں پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے بالخصوص طبی عملے کو ہدایت کی کہ وہ استعمال شدہ سرنج نہ استعمال کریں نہ ہی غیر تشخیص شدہ خون کا استعمال ہونے دیں۔اسی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان نے عدالت عظمی کے یکم مئی کے فیصلے پر عمل کرتے ہوے صوبہ سندھ کے چار ہسپتالوں کو وفاق کی تحویل میں لے لیا ہے جس پر بلاول زرداری چراغ پا ہو گئے ہیں۔کتنی ستم ظریفی ہے کہ خود اپنے آبائی گاؤں رتوڈیرلاڑکانہ اور نوابشاہ بینظیر آباد میں موذی مرض کی روک تھام کے لئے سوائے لفاظی کے کچھ نہں کرتے لیکن اگر وفاق کوئی مثبت اقدام کرے تو اسے اٹھارویں ترمیم کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔ بیشک اٹھارویں ترمیم قابل احترام ہے لیکن تمہارے بلدیاتی اداروں کی مقامی حیثیت بھی اہم ہے مگرحکومت سندھ بجٹ میں کراچی اور شہری علاقوں میں بہتر انتظام کے لئے مقامی اداردں کو نہ تو اختیار دیتی ہے نہ ہی ان کا مطالبہ سنتی ہے حالانکہ عدالت عظمی کے جج کو کہنا پڑا کہ کراچی بدترین شہر ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سارا پیسہ تو مبینہ طور پر باہر اسمگل کیا جا رہا ہے پھر علاج معالجے تعلیم صحت فلاح و بہبود کیلئے درکار وسائل کیسے اور کہاں سے لائے جائیں۔


ای پیپر