مردبمقابلہ عورت…
22 جون 2019 2019-06-22

دوستو، آج چھٹی کا دن ہے، اور چھٹی والے دن کے لئے ہمیں ہمیشہ سے اوٹ پٹانگ موضوعات ہی سوجھتے ہیں، ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ ہم آپ کی تعطیل کو تفریح کا ذریعہ بنائیں۔۔اسی لئے آج آپ کو ایک بارپھرزحمت دے رہے ہیں اور اپنی اوٹ پٹانگ باتیں پیش کررہے ہیں تاکہ آپ کو بوریت نہ ہو۔۔ ہمارے پیارے دوست اور باباجی میں زمین ،آسمان کا فرق ہے۔۔باباجی پرانے خیالات کے ہیں جب کہ پیارے دوست جدید دور کے ماڈرن نوجوان۔۔جب یہ دونوں محفل میں ہوں تو پھر تیسرا شخص یعنی کہ ہم چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پس کررہ جاتے ہیں۔۔ دونوں اپنی اپنی جگتوں کی داد ہم سے سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔ہم کوشش کریں گے کہ کسی روزآپ کو ان کی محفل کی بھی سیرکرائیں ،فی الحال ہمارے پیارے دوست نے ہمیں واٹس ایپ پر یہ تحریر بھیجی ہے جس میں مرد اور عورت کا موازنہ یا مقابلہ کیاگیا ہے۔۔۔

مرداپنی ضرورت کی چیزخریدے گا ،چاہے اسے ایک ڈالر کی چیز دو ڈالرز میں خریدنی پڑے لیکن عورت دو ڈالرکی چیز بھی ایک ڈالر میں خرید لے گی بھلے وہ چیز اس کی ضرورت کی نہ ہو بس سیل لگی ہوئی ہو۔۔ایک مرد کے واش روم میں گن کر چھ چیزیں ہوتی ہیں،ٹوتھ برش،ٹوتھ پیسٹ،صابن،شیمپو،سیفٹی ریزر اور تولیہ لیکن عورت کے واش روم میں پچاس سے زائد چیزیں ہوتی ہیں جن میں سے مرد کو صرف پانچ یا دس کا ہی پتہ ہوتا ہے،باقی چیزیں کیا ہوتی ہیں یہ تو صرف عورت ہی جانے۔۔کسی بھی قسم کی بحث کے لئے عورت کے پاس ایک آخری فقرہ ہوتا ہے اور اگر مرد اس فقرے کے جواب میں کچھ کہہ دے تو پھر ایک نئی بحث چھڑجاتی ہے۔۔ عورت کو اپنے مستقبل کی فکر ہوتی ہے اور اس وقت تک ہوتی ہے جب تک اسے ایک اچھا شوہر نہ مل جائے اور مردکومستقبل کی فکر ایک بیوی ملنے کے بعد ہی شروع ہوتی ہے۔۔ایک کامیاب مرد وہی ہے جو اپنی بیوی کے خرچے سے زیادہ پیسے کمائے اور ایک کامیاب عورت وہی ہے جو ایسا مرد بطور شوہر پالے۔۔ایک عورت ، مرد سے یہ سوچ کر شادی کرتی ہے کہ وہ بدل جائے گا لیکن وہ نہیں بدلتا اور ایک مرد عورت سے یہ سوچ کر شادی کرتا ہے کہ یہ نہیں بدلے گی اور وہ بدل جاتی ہے۔۔عورت ہمیشہ شاپنگ کے لئے،پودوں کو پانی دینے کے لئے، کچرا پھینکنے کے لئے اور کتاب پڑھنے کے لئے بھی لباس کا خیال کرے گی ، ڈریس اپ ہوگی اور مرد صرف شادی کی تقریب کے لئے ہی تیار ہوتا ہے۔۔عورت کو اپنے بچوں کے بارے میں سب کچھ علم ہوتا ہے،ان کی ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ ،ان کے خفیہ معاشقے، ان کا ہوم ورک، ان کی پڑھائی، ان کے بہترین دوست، ان کے فیوریٹ کھانے،پسندیدہ کتاب،کپڑے،جوتے اور مرد کو بس یہ علم ہوتا ہے کہ میرے گھر میں میری فیملی رہتی ہے۔۔ مرد کو صبح ساڑھے سات بجے جاناہوتو وہ سات بجے اٹھ کر تیارہوجائے گا اور عورت کو اگر صبح ساڑھے سات بجے جاناہوتو اسے تیار ہونے کے صبح پانچ بجے اٹھنا ہوگا۔۔عورت کی اپنے آئیڈیل کے لئے دعا،یااللہ میرا ہونے والا شوہر کیئرنگ ہو، خوب صورت ہو، اچھا کماتا ہو، مجھے خوش رکھے،میری مشکلات سمجھنے والا ہو، میرے والدین کی عزت کرے، میری غلطیاں نظرانداز کرے،وغیرہ وغیرہ۔۔اور مرد کی دعا، یااللہ وہ خوب صورت ہو بس۔۔مرد جب آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تواسے اپنا آپ باڈی بلڈر سا لگتا ہے چاہے وہ ’’ٹڈا‘‘ ہی کیوں نہ ہو اور عورت کو اپنا آپ ہمیشہ موٹا ہی لگتا ہے چاہے وہ کتنی ہی اسمارٹ کیوں نہ ہو۔۔مرد اگر ایک ہفتہ فیس بک پر نہ جائے تو ایک ہفتے محض بیس یا پچیس نوٹیفیکشن ہوں گے اور اگر عورت ایک ہفتہ فیس بک پرنہ جائے تو تین،چار سو نوٹیفیکشن، سو سے زائد انباکس میسج اور دوسوسے زائد فرینڈز ریکویسٹ۔۔ عورت کو خوش کرنا ہوتو اسے پیار دیاجائے،جینے مرنے کی قسمیں کھائی جائیں، شاپنگ کرائی جائے، باہر کھانا کھلایاجائے اور مرد کو خوش ہونے کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ پاکستان کرکٹ کا میچ جیت لے۔۔

اردو آپ بھی بولتے ہیں، ہم بھی بولتے ہیں،اردو آپ بھی پڑھتے ہیں، ہم بھی پڑھتے ہیں۔اردوپر عبور رکھنے والے ماہرین لسانیات کا دعویٰ ہے کہ نقطے والے حروف کمزور اور ضعیف مانے جاتے ہیں اس کے مقابلے میں بغیر نقطے والے حروف کو طاقت ور اور قومی سمجھاجاتا ہے۔۔اب آپ غور کریں کہ۔۔سسرال، سسر، ساس، سالا، سالی میں سے کسی میں بھی کوئی نقطہ نہیں ہے کیوں کہ یہ تمام رشتے بہت مضبوط اور طاقتور ہوتے ہیں۔۔اسی لئے داماد پر بھی نقطہ نہیں ہے کیو نکہ یہ بھی شادی کے بعد بہت قوی تر ہوجاتے.۔۔چنانچہ داماد اور ساس کو جدھرسے بھی پڑھیں گے، داماد،اور ساس ہی رہیں گے یعنی دونوں کا سیدھا تو سیدھاہے ہی، مگر دونوں کا الٹا بھی سیدھا ہی ہوتا ہے۔۔

اب ایک ایسا واقعہ بھی پیش خدمت ہے جس نے براہ راست ہمارے دل پر ’’اٹیک‘‘ کیا ہے۔۔ایک مرتبہ کا واقعہ ہے ایک بزرگ اللہ والے جارہے تھے۔ سردی کا موسم تھا بارش بھی تھی، سامنے سے میاں بیوی آ رہے تھے۔ ان بزرگ کے جوتوں سے ایک دو چھینٹیں اڑیں اور عورت کے کپڑوں پہ جا گریں۔ خاوند نے جب یہ دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا۔۔۔بزرگ سے کہنے لگا، تو اندھا ہے، تجھے نظر نہیں آتا ،تو نے میری بیوی کے کپڑے خراب کر ڈالے۔ غصہ میں آکر اس نے اللہ والے کو ایک تھپڑ لگا دیا۔ بیوی بڑی خوش ہوئی کہ تم نے میری طرف سے خوب بدلہ لیا۔ پھر خوشی خوشی گھر چلے گئے۔۔۔ یہ اللہ والے آگے چلے گئے۔ تھوڑی آگے گئے تو کیا دیکھتے ہیں ایک حلوائی کی دوکان ہے حلوائی نے سوچا کہ آج سردی ہے لہذا مجھے آج جو بھی اللہ کا بندہ سب سے پہلے نظر آیا میں اس کو اللہ کے گرم دودھ کو پیالہ ضرور پلاؤں گا۔ وہ انتظار میں تھا۔ یہ بزرگ جب اس کے قریب سے گزرے تو اس نے بلایا بیٹھایا اور گرم گرم دودھ کا پیالہ پیش کیا۔ سردی تو تھی ہی۔ انہوں نے گرم دودھ کا پیالہ پیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ دکان سے باہر نکلے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا واہ اللہ ! تیری شان کتنی عجیب ہے کہیں تو مجھے تھپڑ لگواتا ہے اور کہیں دودھ کے پیالے پلواتا ہے۔ اتنے میں وہ میاں بیوی اپنے گھر کے قریب پہنچ چکے تھے۔ خاوند سیڑھیوں پر چڑھ رہا تھا کہ اس کا پاؤں اٹکا وہ گردن کے بل گرا اور اس کی موت واقع ہو گئی۔ بیوی نے کہا تھوڑی دیر پہلے ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ اس بوڑھے نے کہیں اس کے لیے کہیں بد دعا تو نہیں کردی۔ لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ایک تھپڑ ہی مارا تھا آپ معاف کر دیتے آپ نے اس کے لیے بد دعا کر دی۔ انہوں نے کہا ،نہیں میں نے کوئی بد دعا نہیں کی۔ درحقیقت بات یہ ہے کہ اس کو اپنی بیوی سے محبت تھی۔ اس کی بیوی کو تکلیف پہنچی تو بدلہ لے لیا۔ مجھ سے میرے پروردگار کو محبت تھی مجھے تکلیف پہنچی تو میرے پروردگار نے بدلہ لے لیا۔ تو جب انسان اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیتا ہے تو اللہ اس سے بدلہ لے لیا کرتا ہے۔


ای پیپر