بھارتی میڈیا: آر ایس ایس اور ’را‘ کا تابع مہمل
22 جون 2018 2018-06-22

باخبر حلقوں سے مخفی نہیں کہ کوبرا پوسٹ کی حالیہ انکشافاتی و تحقیقاتی رپورٹ نے درندہ صف ہندوتوا اور بھارتی میڈیا کی ملی بھگت کے چہرے سے نقاب سرکادیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی / آر ایس ایس سرکاری خزانے کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے میڈیا کی خدمات کو بروئے کار لاکر انتخابات جیت رہی ہے اور مذموم متشدد ہندوتوا افکار کو پروان چڑھا رہی ہے۔ کوبراپوسٹ ڈاٹ کام نے ویڈیو ز جاری کیں جن میں ان کے رپورٹرز اور بھارتی میڈیا کے اعلیٰ افسران کے ما بین مکالمے کو دیکھا جا سکتا ہے۔متنازع انکشافات کے بعد یہ افسران کوبراپوسٹ کے رپورٹرز دھمکا کر خاموش کر وانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کوبراپوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کے بڑے میڈیا ہاؤسز کے کاروباری نمائندگان کوقطعی طور پر کوئی دقت نہیں ہوئی کہ ان کی تنظیم کا استعمال کرتے ہوئے رائے دہندگان کو تقسیم کرنے کے لئے مخالف جماعتوں کے رہنماؤں کو نسلی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر ہراساں کرکے آئندہ انتخابات پر اثر انداز ہونے کی راہ ہموار کر رہے ۔ کوبراپوسٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ میڈیا ہاؤسز ہندوتوا کو پروان چڑھا رہے ہیں جس کی بڑی وجہ یہ کہ سنگھٹن نے اس کام کے لئے بھاری رقم مختص کر رکھی ہے۔ اس ضمن میں 742 کروڑ روپے محض کرناٹکا کے انتخابات کے لئے رکھے ہیں۔ یہ بھی انکشافات کئے گئے کہ میڈیا ہاؤسز کو خریدنے کے لئے گزشتہ عام انتخابات میں 80 ارب روپے کی کثیر رقم رکھی گئی جبکہ آئندہ عام انتخابات میں اس رقم میں خاطر خواہ اضافہ بھی خارج از امکان نہیں۔یہ ہے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی اصلیت اور اس کے انتہاپسند لیکن بکاؤ اور جنونی بھارتی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا حقیقی چہرہ۔۔۔اس بنیا جمہوریت کی وجہ سے عام آدی کا جمہوریت سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ سچ تو یہ کہ موجودہ جمہوریت سرمایہ کاروں کی داشتہ ہے۔ اس میں غریب ووٹر محض ایک آلہ کار ہے۔ حیلہ گر سرمایہ کار وں اور صنعت کاروں نے جمہوریت کو گاھ ایک پروڈکٹ بنادیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں غریب عوام کی اکثریت جمہوریت کو سرمایہ کاروں کے پروردہ اور بذات خود سرمایہ دار سیاستدانوں کی دولت کو بڑھانے کی ایک ٹکسال سمجھتی ہے۔
آپ کو تو معلوم ہوگاکہ امریکی ایجنسی سی ائی اے نے چند روز قبل بھارت کے دو انتہا پسند گروہوں کو ’مذہبی دہشت گرد تنظیموں ‘ کی فہرست میں شامل کردیا ہے، دونوں تنظیمیں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز واقعات میں ملوث رہی ہیں۔ یہ امر پیش نظر رہے کہ سی ائی اے نے دنیا بھر کے حوالے سے اپنی فیکٹ بک اپ ڈیٹ کی ہے اور اس میں بھارت کی وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو مذہبی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کردیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب ستم ظریفی تو یہ کے ان تنظیموں نے جس تنظیم کے بطن سے جنم لیا ہے وہ راشتریہ سویم سیوک سنگھ(RSS) ہے اور اسے کو قوم پرست تنظیم قرار دیا ہے۔۔وشوا ہندو پریشد اور ایس ایس کے لیڈر موہام بگھو ت کا شمار ایسے افراد میں کیا گیا ہے جو مذہبی دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ سی ائی اے کی جانب سے اپ ڈیٹ کردہ فیکٹ بک میں بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر کو بھی پاکستان کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے جوکہ پاکستان کا ازلی مطالبہ اور کشمیریوں کی خواہش ہے۔ واضح رہے کہ ان دونوں واقعات کے رد عمل میں بھارت میں امریکی سی ائی اے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔بھارت میں احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ہندو تنظیموں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دینے سے سی ائی اے کا بھارت مخالف رویہ سامنے اگیا ہے ، ان کا موقف تھا کہ سی آئی اے امریکا کے مفاد کے لیے خود ساری دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دیتی ہے۔دوسری جانب اس فیکٹ بک میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے تسلط سے ازادی کے لیے کوشاں ’حریت کانفرنس ‘ علیحدگی پسند گروپ قرار دیا گیا ہے جس سے بھارت میں اشتعال میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔متشدد اور متعصب بھارتی ہندوؤں کا مطالبہ ہے کہ امریکا کو حریت کانفرنس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا چاہیے تھا۔ یہ ایک انتہائی مضحکہ خیز مطالبہ ہے۔ دنیا کے باشعور واقفان حقائق و حالات جانتے ہیں کہ حریت کانفرنس طویل عرصے سے سیاسی طریقے سے اپنی جدو جہد آزادی کو آگے بڑھا رہی ہے۔
یہ امر لائق توجہ ہے کہ 10 ستمبر 2008 ء کو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) نے ریاست اڑیسہ میں عیسائی کمیونٹی کے خلاف پرتشدد کارروائیوں پر انتہا پسند جماعتوں وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل پر پابندی لگانے
اور ان کے نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔اس دور کے بھارتی وزیر داخلہ شیوراج پاٹل کے نام ایک خط میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رکن برنداکارت نے الزام لگایا تھا کہ’ یہ انتہا پسند ہندو جماعتیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں،ا ان تنظیموں کے کارکنوں نے اسلحہ دکھا کر عیسائی کمیونٹی میں خوف و ہراس پیدا کیا اور عیسائی آبادی کے گھروں اور چرچوں کو نذر آتش کردیا‘۔ خط میں مزید بتایا گیا تھا کہ’ ممبئی پولیس کی تحقیقات سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکن فرقہ وارانہ انتشار اور خوف و ہراس پھیلانے کے لئے بم دھماکوں کا سہارا لیتے ہیں‘۔ اس حقیقت سے بھی صرف نظر نہیں کیا جانا چا ہیے کہ بھارت کا شمار دنیا کے ان ممالک میں کیاجاتا ہ، جہاں میں جرائم پیشہ افراد سیاست کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرتے اور مقدمات سے بچاؤ کے لیے حکومت میں شامل ہو جاتے ہیں۔حکومت میں شمولیت سے قبل یہ انتہاپسند ہندوتوا کے فلسفی کے پرچارک مسلح گروہوں میں شامل ہوکر امن و امان کا مسئلہ پیدا کر تے اور وسیع پیمانے پر اقلیتوں کے منظم قتل و غارت کے منصوبے بناتے اور ان پر عمل درآمد بھی کرتے ہیں۔ اس کی جیتی جاگتی مثال بھارت کے کے نریندرا مودی ہیں جو 2014سے دنیا کی سب سے بڑی ’’جمہوریت‘‘ تصور کیے جانے والے ملک کے 14ویں وزیراعظم ہیں۔ حالانکہ گوگل کی دنیا کے ٹاپ ٹین مجرموں کے ناموں کی فہرست میں مودی کا نام سرفہرست ہے ۔ وہ گجرات کے وزیر اعلیٓ کی حیثیت سے گجرات میں مسلمانوں کے قتلِ عام اور سمجھوتا ایکسپریس میں سیکڑوں مسلمانوں کو زندہ جلانے کے ہولناک واقعات میں ملوء رہے ہیں ۔مبصرین کے نزدیک ایک انتہا پسند اور ہندو توا کے فلسفے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہزاروں مسلمانوں کو تہ تیغ کرنے والے قاتل کا بھارتی وزیراعظم بن جانا اس امر کی نٹاندہی کرتا ہے کہ بھارت میں 7عشروں سے مذہبی جنونی گروپوں اور انتہاپسندی کو خاصے منظم طریقے سے حکومتی چھتری کے نیچے پروان چڑھایا جاتا رہا ہے۔ یہ سلسلہ مودی دور میں زیادہ سرعت و شدت کے ساتھ علانیہ فروغ پا رہا ہے۔اسی پر بس نہیں ایک ثقہ رپورٹ کے مطابق’’ 2002 کے گجرات فسادات میں مودی کی براہ راست اور بالواسطہ شمولیت کے 15 سے زائد ٹھوس ثبوت عدالت میں پیش کیے گئے، جن میں ان کی فرقہ واریت کو ہوا دینے والی تقریر بھی شامل تھی۔ ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمز اور نیشنل الیکشن واچ کی رپورٹس میں مودی کابینہ کے 78 وزرا ء میں سے 24کے خلاف سنگین جرائم کے فوجداری مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے 14ایسے ہیں جو قتل، اقدام قتل، اغوا اور عورتوں کی آبروریزی میں ملوث ہیں۔ بی جے پی کی حکومت میں ریاستوں کے وزراء کے خلاف جرائم کی طویل فہرست ناگفتنی ہے۔ 620 سٹیٹ منسٹرز میں سے 102کے خلاف قتل، اقدام قتل، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ نوعیت کے مقدمات درج ہیں‘‘۔ اسی تناظر میں 21 ویں صدی کے پہلے عشرے کے اواخر میں مودی کو امریکہ نے بھارت کا ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن جب مودی 2014ء میں انتہا پسند ہندو تنظیموں کے تعاون سے اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو وہی مودی امریکہ کے لیے صرف قابل قبول ہی نہیں تھا بلکہ اس وقت کے امریکی صدر اوباما نے مودی کے زعفرانی انقلاب کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔
ہندوتوا اور رام راج کے فلسفہ کو بھارت کے ہر ہندو کے ذہن میں جاگزین کرنے کے لیے آر ایس ایس متشددانہ جدوجہد بلا توقف90برسوں سے کر رہی ہے اور وہ ببانگ دہل اس امر کی دھمکیاں دیتی رہی ہے کہ بھارت در اصل’ ہندو استھان‘ ہے‘ ۔ اس کے جملہ حقوق ملکیت ہندوؤں کے حق میں محفوظ ہیں۔ جو یہاں رہنا چاہتا ہے، انہیں ہندو بن کر رہنا ہوگا، بصورت دیگر ہم اسے گن پوائنٹ حر ہندو بنانے کی کوشش کریں گے۔ وہ بر ملا کہتے ہیں کہ یہاں صدیوں سے رہنے والی دوسری اقوام بیرونی حملہ آوروں کی اولاد ہیں۔ ان کے آباء و اجداد جن ممالک سے آئے تھے ، وہیں واپس لوٹ جائیں۔ اس مقصد کے لیے متشدد ہندو تنظیموں نے شدھی اور سنگٹھن کی تحریکیں شروع کیں۔ وہ آج بھی ہندوستان میں رہنے والی دیگر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے قتل عام پر اکسانے کے لیے جنونی ہندوؤں کو ذہنی، فکری اور اسلحی تربیت دے رہی ہیں۔1970ء کے بعد بھارتی مسلح افواج کا حساس انٹیلی جنس ادارہ را ان کی ہرطرح سے مدد کر رہا، عسکری تربیت دے رہا، جدید مہلک آتشیں ہتھیار حتیٰ کہ پیلٹ اور لیزر گنز فراہم کر رہا ہے بھی پبلشنگ ہاؤسز سے ماہانہ کروڑوں کی تعداد میں اشتعال انگیز لٹریچر تیار کرکے دے رہا، انتہاپسند ہندوتوا کے پرچم بردار پنڈتوں اور سوامیوں کے کھلے میدانوں اور بڑے ہالوں میں لیکچر ز اور سیمینارز کا اہتما م کرتا اور بھرتی میڈیا ان کے زہریلے اور بد بودار نظریات کو براہ راست نشر کرتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی بھارت میں دہشت گرد تنظیموں کی حقیق ماتا آر ایس ایس کا سیاسی چہرہ ہے ۔ اس کا اولین سیاسی چہرہ جن سنگھ تھا۔ آر ایس ایس کی کوکھ سے جنم لینے والی تنظیموں میں وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل، ایس ایس ، کلیان سمیتی، اکھل بھارتیہ، ودیارتھی پریشد، گؤ رکھشک اور دیگر ان گنت ذیلی تنظیمیں شامل ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے امریکی کانگریس اور اقوام متحدہ آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی پرعالمی پابندی کا اعلان کر کے بھارتی اقلیتوں کے جان، مال اور آبرو کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرنے میں تامل سے کام لے رہے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ بھارت میں برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیراعظم کا انتخابی منشور ہی اکھنڈ بھارت کا قیام تھا۔ اکھنڈ بھارت میں وہ بھارت کے ہمسایہ ممالک بنگلہ دیش، سری لنکا، برما، بھوٹان، سکم، نیپال، مالدیپ حتیٰ کہ بحرالکاہل کے بہت سے جزائر پر جارحانہ حملہ کر کے توسیع پسندانہ عزائم کو تکمیل دینے کے لیے اُن پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ بھارتی حکمران امریکی شہ پر خطے میں امریکیوں کی وضع کردہ پیشگی حملے کی ڈاکٹرائن کا تجربہ کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔ تاحال وہ میانمار کی سرحدی خلاف ورزی ، باغیوں کی تلاش میں برما میں داخل ہو کر کر رہے ہیں لیکن آنے والے دنوں میں وہ کسی ایک بات کو جواز بنا کر میانمار کو بھی بھوٹان کی طرح بھارت کی تابع مہمل ریاست بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے اور میانمار کی افواج اور دیگر فورسز کو لاشہ ہائے بے جاں بنا کر رکھ دیں گے۔ ہندوتوا کے فلسفے کو عملی جامہ پہنانے کی خواہش رکھنے والی سیوک سنگھ پریوار کی متعصب حکمران جماعتیں اس سے قبل سکم، بھوٹان اور بنگلہ دیش کو خطے میں اپنی کٹھ پتلی ریاستیں بنانے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔ یہ صورت حال بھارت کے تمام ہمسایہ ممالک کے لیے ’’ہشیار باش‘‘ کا پیغام ہے۔


ای پیپر