’شیدامیدا‘۔۔ اور پُرانے ’پاپی‘
22 جون 2018 2018-06-22

عام انتخابات سر پہ ہیں ، کارکنان اور جیالے خوش ہیں، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ہو رہے ہیں ، کوئی’ تبدیلی‘ کے گُن گا رہا ہے تو کوئی ’شیر‘کی ممکنہ دھاڑ کے نعرے لگا رہا ہے۔گلی گلی میں شور مچاہواہے ، انتخابی امیدوار گھرگھر پھیرے لگا رہے ہیں۔وہ۔۔ جو کئی کئی سال تک اپنے حلقے میں داخل ہونے کی جسارت نہیں کرتے تھے ، اب ’شیدے اور میدے‘ کی ’جھگیوں ‘ کے سامنے پڑاو ڈال کے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ان کی امید کی واحد کی کرن’ شیدا میدا ‘ٹائیپ کے لوگ اور ان کا پورا پورا خاندان ہے۔ ہَوا ایسی چل رہی ہے اور راگ یہ الاپا جا رہا ہے کہ بس گزشتہ دور میں جو ہو چکا سو ہو چکا ۔۔یہ اپنے جرم کا کفارا کرنے آئے ہیں ۔۔ ان کی پیشہ ورانہ مجبوریاں تھیں کہ اپنے حلقے کا کام نہ کراسکے ۔۔ انہیں وہ بجٹ نہ مل سکے جن کی توقع کی جارہی تھی ۔اب کی بار موقع ملا تو یہ حضرات دودھ اور شہد کی ندیاں بہادیں گے ، فرشِ کچرا کنڈی کو عرش بریں بنا دیں گے ۔اب انہیں موقع ملا تو ہر طرف ہریالی ہوگی ۔۔ ملازمتوں کے انبار لگا دیئے جائیں گے۔۔ پیٹرول سستا ہوجائے گا ۔۔ روٹی ، کپڑا اور مکان مفت ملے گا ۔۔’شیدے اور میدے ‘کے خاندان کوصحت کی بنیادی سہولیات گھر بیٹھے ملیں گی ۔۔ آج کے بعد ہیپا ٹائیٹس اوراسہال سے کوئی نہیں مرے گا۔۔ اب کلورین ۔۔ آرسینک کو پینے کے صاف پانی سے نکال کے باہر پھینکے گی ۔۔ گلی گلی میں سرکاری اسکولز ہوں گے ۔۔ تعلیم عام ہوگی ۔۔مزدور کا بیٹا مزدور نہیں بلکہ افسربنے گا ۔۔ بس’ شیدے میدے‘کو ایک کام کرنا ہوگا ، انہیں گلی یا بستی کے چوہدری صاحب، میاں صاحب ، جام صاحب یا بٹ صاحب کی بات ماننا ہوگی۔ ۔۔ وہ جس پر ہاتھ رکھ دیں گے، مہر اُسی امیدوارکے انتخابی نشان پر لگانا ہوگی ۔۔چوہدری صاحب جو محلے یا بستی کے کرتا دھرتا ہیں ۔۔ وہ دوہزار آٹھ کے انتخابات میں بھی ایسے ہی آئے تھے ۔۔’ شیدے میدے‘ کے پورے خاندان کو اعتماد میں لیا تھا ۔۔ اور اپنے من پسند امیدوار کو ووٹ ڈالنے پر اصرار کیا تھا ۔۔’ شیدے میدے ‘نے تب بھی ان کی بات مانی تھی ۔۔ دوہزار تیرہ میں بھی’ شیدا میدا ‘انہی ڈھکوسلوں میں آگئے تھے اور ’تبدیلی ‘۔۔ بس آتے آتے رہ گئی تھی ۔۔ اب دوہزار اٹھارہ ہے ۔۔چوہدری صاحب کا ہاتھ اب ’تبدیلی ‘ کے سر پر ہے ۔۔ اور اس بار’ شیدے میدے‘ کو تبدیلی کا باعث گردانا جارہا ہے ۔ ۔۔ اور ایسا کیوں نہ ہوں ۔۔ سیاسی شعبدہ بازوں کے گھر کے چولہوں کا ایندھن اگلے پانچ سال تک اسی’ شیدے میدے ‘ٹائیپ کے لوگوں کے ووٹوں کی مرہون منت ہی تو چلے گا۔آپ کو پتہ ہے ۔۔اس’ شیدے میدے‘ ٹائیپ کے لوگوں کی تعداد

اس ملک میں کتنی ہے ۔ حضورِوالا ۔۔ ساٹھ فیصد۔۔ یہ وہ ساٹھ فیصد ہیں جو ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ دوردراز کے دیہی علاقے انہی کے ووٹ سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔۔ لیکن اگر یہ چاہیں تو ۔۔۔ یہی وہ ساٹھ فیصد ہیں جن کے ووٹ کا فیصلہ ان کے محلوں یا بستیوں میں مقیم چوہدری صاحب ، میاں صاحب ، جام صاحب یا بٹ صاحب کرتے ہیں۔۔ اور یہی ہمارے برادری سسٹم کا المیہ ہے ۔۔حد تو یہ ہے ’شیدا میدا ‘ اور ان کا خاندان دس سال پہلے بھی جھگیوں میں مقیم تھے اور آج بھی جھگیوں میں رہتے ہیں ۔ہوسکتا ہے اب ہمارے معاشرے کے یہ کردار جھگی سے نکل کر کسی تین مرلے کے کرائے کے گھر میں جا بسے ہوں ، لیکن ان کی حالت آج بھی ویسی ہے جیسے کل تھی ۔۔ لیکن ان کے برعکس محلے کے چوہدری صاحب ، میاں صاحب ، جام صاحب ، بٹ صاحب یعنی برادری کے کرتا دھرتا پہلے دس مرلے کے گھر میں رہتے تھے ، اب ان کے پاس دو کنال کا گھر ہے ، پہلے ان کے پس سوزوکی مہران تھی ، اب سکیورٹی گارڈ والی ڈبل کیبن اور نئے ماڈل کی ہنڈا سوک ہے ۔۔ کیا وجہ ہے کہ’ شیدا میدا‘ وہیں کے وہیں ہیں لیکن برادری کے کرتا دھرتا ترقی کرتے چلے جا رہے ہیں ۔۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے ۔۔ زمینی حقائق ہیں۔۔ لیکن تلخ ہیں ۔۔ یہ حقائق سن کے آپ کو ایسا لگے گا کہ کونسے صاف شفاف انتخابات ، کونسا الیکشن کمیشن اور کونسی تبدیلی ۔۔ ۔۔جنوبی پنجاب کے تبدیلی کے نئے نویلے مہرے ’مخدوم خسروبختیار‘ ہی کی بات کر لیتے ہیں ۔موصوف مختلف سیاسی جماعتوں کے بینر تلے متعدد بار انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں ، جیت کر ممبر قومی اسمبلی بھی رہ چکے ہیں اور وزیر بھی ۔۔ موصوف یا ان کے خان وادے کا کوئی بھی شخص جب بھی انتخابات کی ریس میں دوڑا ہے ۔۔ ہمیشہ جیتا ہے ۔۔ موصوف کے لئے مشہور ہے کہ اگر بندرکو بھی الیکشنز میں کھڑا کردیں تو جیت جائے گا، پہلے یہ سائنس میری سمجھ سے بالاتر تھی ۔۔ناچیز یہ بھی جاننے سے قاصر تھا کہ یہ لوگ انتخابات میں دھاندلی کئے بغیر جیت کیسے جاتے ہیں ۔تو لیجئے پردہ اٹھنے چلا ہے ۔۔ جناب عالیمرتبت مخدوم خسرو بختیاراور ان جیسے دیگر کی جانب سے ’ساٹھ فیصد‘ کو پاگل بنانیوالوں کی’الیکشن وننگ ‘ سائنس جب مجھ پر آشکار ہوئی تو بہت کچھ کھلتا چلا گیا ۔ ایک آزاد صحافی کی حیثیت سے یہ میرے کرئیر کے تیسرے عام انتخابات ہوں گے ۔ میں نے ہمیشہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق ،آئین اور قانون کا سن رکھا ہے ۔ لیکن زمینی حقائق جاننے کے بعد مجھے ایسا لگتا ہے کہ ضابطہ اخلاق ٹائیپ کی چیزیں صرف کتابی حیثیت رکھتی ہیں ۔ اصل ملاکھڑا کچھ اور نوعیت کا ہے اور اس ملاکھڑے میں جسے فاول کرنا نہیں آتا ، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔اطلاعات یہ ہیں کہ رحیمیارخان میں قومی اسمبلی کے حلقہ 194/3سے ممکنہ انتخابات لڑنے والے تحریک انصاف کے امیدوار مخدوم خسرو بختیار نے پھر سے انتخابات جیتنے کی ٹھان لی ہے ۔ موصوف نے حلقے کو winکرنے کے لئے پچاس سے زائد بڑی گاڑیاں (ٹویوٹا کرولا ) ۔۔ سو کے قریب چھوٹی گاڑیاں ( سوزوکی مہران ) اور کم وبیش ایک ہزار کے لگ بھگ موٹر سائیکلیں خرید کر محلے اور بستی کے چوہدریوں ، میاوں ، جاموں اور بٹوں میں تقسیم کرنا شروع کردی ہیں۔۔ یہ وہی چوہدری ، میاں ، جام اور بٹ صاحبان ہیں جن کے طوطوں میں’ شیدے میدے‘ جیسے لوگوں اور ان کے خاندانوں کی جان ہے ۔۔ یہی وہ برادری کے کرتا دھرتا ہیں جن کے ہاتھوں پر قوم کے ’ساٹھ فیصد‘ لوگوں کے مستقبل کا خون ہے ۔۔ لیکن کیا یہی وہ تبدیلی ہے جس کا ہم شدت اور بے صبری سے انتظار کر تے چلے آ رہے ہیں ۔یہ تبدیلی کی نہیں بلکہ نوٹوں اور لوٹوں کی گیم ہے ۔۔ اس قوم کا کچھ نہیں ہو سکتا جب تک یہ ’ساٹھ فیصد ‘چوہدریوں ، میاوں ، جاموں اور بٹوں کے تسلط سے آزاد نہیں ہوتے ۔۔ ان ’ساٹھ فیصد‘ کے جاگنے ہی میں نام نہاد مخدوموں ، شریفوں ، چوہدریوں اور زرداریوں کی موت ہے ۔ بجلی ویسے ہی نہیں ہے اور نہ ہی ملے گی ، صاف پینے ویسے ہی نہیں ہے اور نہ ہی ملے گا، اسپتال ویسے ہی نہیں بنے اور نہ ہی بنیں گے تو ووٹ دینے میں دوبارہ وہی بے وقوفی کیوں ۔۔ ۔ پیسہ چلا کر ووٹ کو فکس کرنا بھی قبل از انتخابات دھاندلی یعنی ’پری پول رگنگ ‘کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس بے قابوجن کو کون قابو کرے گا۔ یہ تو صرف مخدوم خسرو بختیار کی مثال تھی ۔ ان جیسے درجنوں الیکٹ ایبلز کے ڈرامے کی ایک ہی کہانی ہے ۔ جو سالہاسال سے نشرمکرر کے طور پر دکھائی جارہی ہے ۔’ شیدوں میدوں‘ پر مشتمل ساٹھ فیصد عوا م ، ادارے اور الیکشن کمیشن ہربار ایک ہی کہانی کو پردہ اسکرین پر دیکھتے ہیں ، نعرے لگاتے ہیں ، بھولے عوام کو بیوقوف بناتے ہیں ،مسکراتے ہیں اور پانچ سال کے لئے سو جاتے ہیں۔ اور حال قوم کا بھی کچھ الگ نہیں ہے ۔۔ وہ بھی ایک ہی کہانی پر مبنی فلم دیکھتے ہیں ، نعرے لگاتے ہیں ، روتے ہیں اور روتے چلے جاتے ہیں ۔۔۔ پھر چوہدری صاحب کی فرمائش آتی ہے اور پھر بدھو بن جاتے ہیں ۔۔ قوم کو اب اس نشرمکرر جنجال۔۔ یعنی ٹوپی ڈرامے پر مبنی الیکٹیبلز کی فلم سے خود ہی باہر نکلنا ہوگا۔۔ یہ فیصلہ ’ شیدے میدے ‘ کو خود لینا ہو گا۔۔ تبدیلی لانی ہے تو کسی شیدے میدے کو کھڑا کرنا ہوگا ۔۔ورنہ تبدیلی پرمبنی نعروں کی فلم دکھاتے یہ شعبدہ باز ملک کے باقی ماندہ وسائل بھی چٹ کر جائیں گے ۔


ای پیپر