ترکی میں صدارتی انتخابات کون جیتے گا؟
22 جون 2018 2018-06-22

ترکی میں رواں ماہ 24جون کو صدارتی انتخابات ہورہے ہیں۔یہ انتخابات ترک تاریخ میں ماضی کی بنسبت بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔کیوں کہ ان انتخابات کے بعد ترکی میں باقاعدہ صدارتی نظام رائج ہوبھی سکتاہے اگر ایردوان جیت گئے اور رائج نہیں بھی ہوسکتا اگر ایردوان کے حریف جیت گئے۔ ترکی میں صدارتی نظام کے لیے اپریل 2017ء میں ریفرنڈم ہوا۔اس ریفرنڈم میں51.41فیصد لوگوں نیصدارتی نظام کے حق میں جب کہ 48.59فیصد نے صدارتی نظام کے خلاف ووٹ دیا۔حالیہ ترک انتخابات میں اس ریفرنڈم کے مستقبل کے بارے بھی فیصلہ ہوگا۔

ترکی کے حالیہ صدارتی انتخابات میں 6امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔جن میں مضبوط ترین امیدوار رجب طیب ایردوان ہیں۔ا ن کے بعد بائیں بازو کی کمالسٹ ریپبلکن پارٹی(CHP) کے محرم اینجہ ہیں۔تیسرے نمبر پر1990ء میں وزیرداخلہ رہنے والی خاتون میرال اکشینر ہیں۔چوتھے نمبر پر2012ء میں بنائی گئی کردوں کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (HDP) کے صلاح الدین دمیرطاش ہیں۔جو 2014ء کے صدارتی الیکشن میں 9.77فیصد ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔2016ء میں ترک میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت میں تعاون اورکرد باغی جماعت PKK کے ساتھ معاونت کے شبے میں انہیں عدالت نے جیل بھیج رکھا ہے۔ صدارتی انتخابات کے ان چار امیدواروں میں 64سالہ رجب طیب ایردوان مضبوط ترین امید وارہیں۔جنہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز1994ء میں استنبول کی مئیرشپ سے شروع کیا۔ 14 اگست 2001ء میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی بنیاد رکھی۔2002ء، 2007ء، 2011ء میں ترکی کے 3بار وزیرا عظم رہے۔ 2014ء میں ترکی کے پہلی بار صدر بنے اور اب 2018 ء کے صدارتی انتخابات میں بھی مضبوط ترین امیدوار ہیں۔طیب ایردوان کے گزشتہ 16سالہ حکومتی دور میں ترکی نے اقتصادی،تعلیمی ، سیاسی اور دینی طور پر بے پناہ ترقی کی ہے۔چنانچہ ایردوان کو 16سالوں میں باربار کامیابیاں جہاں اقتصادی طور پر ترکی کو دنیا کے بہترین ملکوں کی صف میں کھڑا کرنے کی وجہ سے ملیں،وہیں ترکی میں اسلام مخالف کمالسٹوں کے بنائے گئے قوانین ختم کرنے اور ترکی کو اسلامائزیشن کی طرف لے جانے کی وجہ سے ملیں۔چنانچہ ایردوان نے2023ء وژن کے تحت ترکی میں کافی اقتصادی پراجیکٹ لگائے۔جن میں پٹرول کے ذخائر کی تلاش، ترکی سے یورپ جانے کے لیے قدرتی گیس کی محفوظ ترین TANAPپائپ لائن،اسلحہ سازی کے لیے ترکی میں فیکٹریاں جہاں سے ترک ساختہ جنگی ہیلی کاپٹر،ٹینک اور ڈرون طیارے تیار ہورہے ہیں۔ ترکی میں پٹرول پر چلنے والی گاڑیوں کی تیاری کے لیے مختلف فیکٹریاں،معدنیات کی تلاش کے لیے پراجیکٹس، استنبول میں دنیا کے سب سے بڑے ائیرپورٹ کی تیاری جس کا افتتا ح عنقریب ہوگا، ترکی میں سیاحت کے فروغ ،بیرونی سرمایہ کاروں کو ترکی میں جائیدادیں خریدنیاور کاروبار کرنے کے لیے آسان شرائط پر آمادہ کرنا جس کے تحت اب تک سوالاکھ سے زائد فلیٹس گزشتہ چندسالوں میں بیرونی سرمایہ کار خریدچکے ہیں۔اگرچہ ماضی کی بنسبت گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے ترک لیرا کافی دباؤ کا شکار ہے جس کی وجہ سے بعض ترک تجزیہ نگار ایردوان کو حالیہ ترک انتخابات میں ٹف ٹائم ملنے کے امکانات کاعندیہ دے رہے ہیں۔لیکن ایردوان کے 16سالوں کی مجموعی کارکردگی ایردوان کو ایک مرتبہ پھر صدارتی انتخابات میں کامیا ب بنانے کے لیے کافی ہے۔دوسری طرف کمالسٹ پارٹی کے محرم اینجہ بھی سیکولر اور وطن پرست ترکوں کو اپنا گرویدہ کیے ہوئے ہیں۔قومی پرستی پر مبنی تقاریر میں کافی مشہور ہیں۔ ترکی کے قومی نغموں پر باقاعدہ ڈانس بھی کرتے ہیں اور کبھی کبھارموٹر سائیکل پر صدارتی کمپین بھی چلاتے ہیں تاکہ عوام کو دلوں کو اپنی جانب متوجہ کیا جائے۔محرم اینجہ کا حالیہ صدارتی انتخابات میں نعرہ ترکی کی ترقی کے لیے 35لاکھ کے قریب شامی مہاجرین کی وطن واپسی اور ترکی میں صدارتی نظام کی بجائے پارلیمانی نظام کو برقرار رکھنا ہے۔ترک تجزیہ نگاروں کے مطابق محرم اینجہ اگرچہ ایردوان کی طرح صدارتی انتخابات جیتنے کی پوزیشن میں نہیں،لیکن بہرحال ایردوان کو ٹف ٹائم دیں گے۔

اہم ترین سوال یہ ہے کہ حالیہ ترک صدارتی انتخابات ماضی کی بنسبت کیوں زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور ان انتخابات سے ترکی میں کیا تبدیلیاں متوقع ہیں؟۔حالیہ صدارتی انتخابات کی اہمیت ایک تو صدارتی نظام کے رائج اور عدم رائج کے حوالے سے ہے اور دوسرا ترکی کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہے۔اگر رجب طیب ایردوان حالیہ انتخابات میں کامیا ب ہوگئے تو خلافت عثمانیہ کے بعد ترکی کی موجودہ 94سالہ تاریخ میں پہلی بار صدارتی نظام رائج ہوگا۔ جس کے تحت وزیراعظم کے تمام اختیارات ،کابینہ منتخب کرنے ،قوانین ختم کرنے اور بنانے ،عدلیہ اور فوج کے اعلی عہدوں کے لیے جج اور جرنیل منتخب کرنے کے اختیارات براہ راست صدر کے پاس چلے جائیں گے۔یقیناًاس سے ایردوان کو ترکی کو اسلامائزیشن کی طرف لے جانے میں بہت زیادہ مدد ملی گی۔کیوں کہ 16سالوں میں جن مشکلات سے لڑ لڑ کر ایردوان نے ترکی کے قبلے کو مغرب سے پھیر کر اسلام کی طرف کیا ہے صدارتی نظام رائج ہونے کے بعد ان مشکلات میں کافی حدتک کمی واقع ہوگی۔چنانچہ بہت سے ایسے قوانین جنہیں ایردوان 3بار وزیراعظم اور ایک بار صدر رہنے کے باوجود تبدیل نہیں کرسکے حالیہ صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد ان قوانین کو ختم اور نئے قوانین ایردوان باآسانی بناسکیں گے۔اس کے علاوہ ترکی کی خارجہ پالیسی سیکولر کمال اتاترک اور ان کے جانشینوں کے غلامانہ قوانین پر اب تک چل رہی ہے جس کی ایک مثال اسرائیل سے ترکی کے تعلقات جو کمال اتاترک کے جانشینوں نے قائم کیے،نیٹوکے ساتھ ترکی کا الحاق وغیرہ ،جس کے خلاف ایردوان خواہش کے باوجود کوئی بڑا قدم 16سالہ دور حکومت میں نہ اٹھاسکے ،حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد ایردوان اس پوزیشن میں آجائیں گے کہ وہ ترکی کی خارجہ پالیسی ترک عوام کی خواہش اور اسلامی اصول وقوانین کے مطابق بناپائیں گے۔اس خارجہ پالیسی میں ترکی کواسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید استوار کرنے میں بھی کافی آسانی اور آزادی مل پائی گی۔یہی وجہ ہے کہ امریکا اور یورپ ترکی کے حالیہ صدارتی انتخابات میں ایردوان کی کامیابی کو اپنے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں اور باقاعدہ ایردوان کے خلاف میڈیا اور ایردوان مخالفین پر خوب سرمایہ لگاچکے ہیں۔دوسری طرف اگر خدانخواستہ ایردوان کے حریف صدارتی الیکشن میں کامیاب ہوگئے تو ظاہر ہے ان کا منشور ہی ترکی میں صدارتی نظام کو نافذ نہ کرنے دینا ہے تو اس سے یقیناایردوان کی16سالہ کارکردگی کو ریورس گئیر لگ سکتاہے۔جس میں ترکی کا اسلامائزیشن کی طرف سفر بھی رک سکتاہے اور ترکی ایک مرتبہ پھر یورپ اور امریکا کے ہاتھوں یرغمال ہوسکتاہے۔بلکہ خدشہ تو یہاں تک ہے کہ ترک کے پڑوس میں لگائی گئی شامی خانہ جنگی کی آگ کو ترکی تک وسیع کیا جاسکتاہے۔جس کے بعد ترکی بھی شاید شام،عراق،یمن اور افغانستان کی طرح کھنڈر بن جائے۔اللہ نہ کرے ایسا ہو۔مگر ترکی اور ایردوان کے مخالفین کے اہداف یہی ہیں۔ان مذموم اہداف سے ایردوان اور اس کے ساتھی باخبر تو ہیں مگر ترکی کے بہت سے لوگ جو کمالسٹ وطن پرستوں کے نرغے میں ہیں انہیں یا تو خبر نہیں یا جان بوجھ کروہ مفادات کی خاطر ترکی کو ایک خطرناک آگ کے آلاؤ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔تبھی وہ ایردوان کو طعنے دے رہے ہیں کہ انہوں نے 35لاکھ شامیوں کو کیوں پناہ دی؟کیوں عفرین سے کرد باغیوں اور ترکی کے دشمنوں کا خاتمہ کیا؟

بہرحال فلسطین ہو یا برما،کشمیر ہو یا افغانستان،شام ہو یا عراق اور یمن غرض دنیا بھر کے مظلوم مسلمان ایردوان کی فتح کے لیے دعائیں کررہے ہیں۔کیوں کہ یہ مظلوم اچھی طرح ایردوان کو جانتے ہیں کہ دنیا جب ان پر مظالم ڈھارہی تھی تو ایردوان ہی واحد لیڈر تھا جس نے ان کے آنسو پونچھے،ان کے زخموں پر مرہم رکھی،ان کے حق میں آواز بلند کی۔اسلامی دنیا کے باہمی اتحادواتفاق کے لیے بھی ایردوان کی فتح ضروری ہے۔کیوں کہ ایردوان نے خلیجی ممالک کو باہم لڑنے سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔قبلہ اول فلسطین کے خلاف حسب طاقت بھرپور سٹینڈ لیا،عالم اسلام کو قبلہ اول کی خاطر ایک میز پر لا کر کھڑا کیا باوجود بعض اسلامی ملکوں کو قبلہ اول کو بھلانے کے۔مسلمانوں کے خلاف امریکا اور یورپ کے متعصبانہ اقدامات کے خلاف بھرپور مہم چلائی۔ ایردوان کی فتح اس لیے بھی ضروری ہے کہ عالم اسلام پر جو یلغار امریکا اور یورپ کی طرف چل رہی ہے اس میں ترکی ،پاکستان اور سعودی عرب ہی تین بڑے ملک ہیں جن کی آواز کوئی اثر رکھتی ہے یا جو عالم اسلام کی قیادت کرسکتے ہیں۔خدانخواستہ اگر ایردوان کامیاب نہ ہوئے تو عالم اسلام کا ایک بازو کٹ جائے گا۔اللہ نہ کرے ایسا ہو اور عالم اسلام مزید کسی مشکل میں گھر جائے۔


ای پیپر