مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی سیاہ رات!
22 جون 2018 2018-06-22

وادئ کشمیر خطہ جنت نظیر ہے مگر پون صدی سے بھارت کے غاصبانہ قبضے میں ہے۔ بربریت کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد اور بھارت کی سفاکی نے اس وادئ باغ و بہار کو خزاں رسیدہ بلکہ لہولہان کر دیا ہے۔ اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری نوجوان، بزرگان اور دخترانِ اسلام جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ یہ سیاہ رات کافی طویل ہوگئی ہے، مگر کوئی رات ایسی نہیں، جس کی سحر نہ ہو ۔ وہ سحر کب طلوع ہوگی اس کا علم خالقِ کائنات ہی کو ہے، تاہم ہر بندۂ مومن کو یقین رکھنا چاہیے کہ خونِ شہداء کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ بھارتی بنیا کانگرس کے روپ میں ہو یا بی جے پی کی بھیانک شکل میں سامنے آئے۔ اسلام دشمنی اور مسلم کشی میں یکساں کردار اد اکرتا ہے۔ تقسیم ہند کے ساتھ ہی کشمیر میں اس ظلم کاآغاز نہرو اور پٹیل نے کیاتھا مگر دلی میں برسر اقتدار آنے والی ہر حکومت نے بلا استثناء اس میں اضافہ ہی کیاہے۔
تاریخ کشمیر کا مطالعہ یہ المناک حقیقت واضح کرتا ہے کہ کشمیر کی مسلم سیاسی قیادت نے ہمیشہ ہندو بنیے کے جال میں خود کو پھنسا کر رسوائی اور ذلت کا سودا کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی آج جس انجام سے دوچار ہوئی ہے، ہر صاحب بصیرت جانتا تھا کہ دیر یا سویر اس کا انجام یہی ہونا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں محبوبہ مفتی نے بی جے پی جیسے بھیڑیوں سے مل کر مخلوط حکومت بنائی۔ آج موصوفہ اقتدار سے محروم، زیر حراست ہے اور مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر گورنر راج نافذ کر دیا گیا ہے۔ بھارتی مسلح افواج اور دیگر ادارے بے گناہ کشمیریوں کو مسلسل موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ حال ہی میں شہید ہونے والے معروف صحافی اور کشمیر سے نکلنے والے ہردلعزیز اخبار ’’رائزنگ کشمیر ‘‘کے ایڈیٹر پچاس سالہ شجاعت بخاری کو جس بے دردی سے قتل کیا گیا ہے، اس کی بازگشت پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ میں دیکھی اور سنی جارہی ہے۔
کشمیری قیادت شیخ عبداللہ سے لے کر ان کے بیٹے فاروق عبداللہ تک اور بخشی غلام محمد سے لے کر مفتی سعید تک بار بار اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتی رہی ہے۔ اس
سارے المناک تاریخی پس منظر میں کشمیر کی حریت پسند تنظیموں اور پرعزم شخصیات نے خونِ جگر دے کر آزادی کا علم ہمیشہ بلند رکھا ہے۔ کشمیر پر فوج اور مسلح دستوں کے ذریعے یہ ظالمانہ قبضہ دیرپا یا دائمی نہیں ہوسکتا۔ انڈیا کی دس لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں مایوسی کا شکار ہوچکی ہے۔ اندھادھند گولیاں چلانے والے نہتے کشمیری عوام کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ کتنے ہی فوجیوں اور پولیس کارندوں نے خودکشیاں کی ہیں۔ اس کے مقابلے میں کشمیری بغیر آتشیں اسلحہ کے لاکھوں فوجیوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کی وادی میں اتر جاتے ہیں، مگر کبھی مایوس ہو کر خودکشی کا راستہ نہیں اپناتے۔
کیا کشمیر پر بزور قوت قبضہ جاری رہ سکتا ہے؟ اس سوال پر خود بھارت کے اندر سے مختلف اوقات میں بھارتی دانشور، سیاست دان، صحافی اور سرکاری افسران بہت چشم کشا تبصرے کرچکے ہیں۔ بھارت کے سابق سپہ سالاروں میں سے کئی ایک نے اس ساری بھارتی منصوبہ بندی کو دیوانے کا خواب قرار دیا۔ حال ہی میں ایک سابق بھارتی پولیس اہلکار کا تبصرہ ذرائع ابلاغ کی زینت بنا ہے۔ اخباری خبروں کے مطابق نئی دہلی سے (نیٹ نیوز) سے یہ خبر نشر ہوئی ہے ’’ مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورت حال پر بھارت کے اندر سے ہی آوازیں اٹھنے لگی ہیں، سابق بھارتی پولیس اہلکار نے حکمرانوں کو آئینہ دکھا دیا اور کہا ہے کہ کوئی عسکریت پسندی یا فوجی مداخلت کشمیر کے تنازعہ کا حل نہیں ہوسکتی، ریاست گجرات کے سابق پولیس اہلکار سنجیوبھٹ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ کشمیری انصاف اور آزادی کی خواہش رکھتے ہیں، اس تاریخی سیاسی مسئلے کا حل صرف سیاسی ہے۔ ‘‘
یوں تو ہر شہادت اور خونریزی کے موقع پر پورے مقبوضہ کشمیر کے گلی کوچے، منبر و محراب اور قلم و قرطاس سے تعلق رکھنے والے ادیب و صحافی اور ان کے جرائد و اخبارات سراپا احتجاج بن کر بے حس عالمی قوتوں کے مردہ ضمیر کو جگانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن شجاعت بخاری کی شہادت نے صحافت کی دنیا میں ایک نیا اندازِ احتجاج متعارف کروایا ہے۔ اخبارات تو معمول کے مطابق چھپے، شجاعت بخاری کا تذکرہ خبروں کے علاوہ کالموں میں بھی کیا گیا، مگر کسی اخبار نے اداریہ نہ لکھا، احتجاج کا یہ انداز بلاشبہ بہت مؤثر ہے۔ ذرائع ابلاغ میں آنے والی معلومات کے مطابق سری نگر سے یہ خبریں عام ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق ’’سری نگر(نیٹ نیوز) سینئر صحافی اور ’’رائزنگ کشمیر ‘‘کے ایڈیٹر شجاعت بخاری کے قتل کے خلاف احتجاج میں مقبوضہ کشمیر سے نکلنے والے مختلف انگریزی اور اردو اخباروں نے اپنا ادارتی کالم بلینک شائع کیا۔ ساتھ ہی کچھ اخبارات نے اپنے ادارتی کالم کو سیاہ کر دیا۔ احتجاج میں اداریہ خالی یا سیاہ چھوڑنے والوں میں کشمیر کے بڑے اور نامور اخبارات شامل تھے۔ ان اخباروں میں رائزنگ کشمیر کے علاوہ انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر ، کشمیر ٹائمز، کشمیر ریڈر اور کشمیر آبزرور جبکہ اردو اخباروں میں روزنامہ چٹان، روزنامہ روشنی، تعمیل ارشاد اور روزنامہ آفتاب شامل تھے۔ ‘‘
مظلوم مسلمانوں کے حق میں اگرچہ عالمی سطح پر کبھی کوئی آواز سننے میں نہیں آئی، وہ آبادیاں جو کسی کتے اور بلی کے مارے جانے پر یورپ اور امریکہ میں طوفان اٹھا
دیتی ہیں۔عمومی طور پر اب تک خاموش تماشائی بنی رہیں۔ اس کے باوجود اب حالات تبدیلی کا رخ اختیار کر رہے ہیں۔ فلسطین و کشمیر اور میانمار میں ڈھائے جانے والے مظالم پر عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں سنجیدگی کے ساتھ سوچ بچار کر رہی ہیں کہ ان مسائل کو بھی اٹھایا جائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ہو یا اقوام متحدہ کے مختلف ادارے ہر جگہ اب یہ بات موضوعِ سخن ہے کہ کشمیریوں، فلسطینیوں اور روہنگیا کے مظلوم عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے کیوں محروم کیا گیا ہے۔ کیا یہ انسان نہیں اور کیا ان کے بنیادی حقوق کی کوئی حیثیت نہیں ہے ؟
مقبوضہ کشمیر کے معروضی حالات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتاہے کہ وہاں کے شجر و حجر اور درو دیوار بلکہ وہاں کے کتے اور بلیاں بھی بھارتی بھیڑیوں سے شدید نفرت رکھتے ہیں۔ غیرت مند کشمیر یوں کا یہ تاریخی اور ناقابل فراموش کردار کس سے پوشیدہ ہے کہ وہ ہر روز شہداء کے جنازے اٹھاتے ہیں مگر سرجھکانے سے انکاری ہیں ۔ مودی سے دوستیاں کرنے والے اور بھارت کے ساتھ ثقافتی بھائی چارے اور ثقافتی طائفوں کے تبادلے کے علمبردار یاد رکھیں کہ ودستی اور خیر سگالی اچھی چیزہے مگر کوئی انسان خونخوار درندوں سے تو دوستی نہیں کرسکتا۔ کشمیری آبادی خراج عقیدت کی مستحق ہے کہ اپنے شہداء کو پاکستانی پرچم میں دفناتے ہیں اور ان کی قبروں پر پاکستان کا سبز ہلالی علم دیکھا جاسکتا ہے ۔ وہ انڈیا کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے اور یوم پاکستان کو پاکستانی قوم سے بھی زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں۔ ہر کشمیری کی زبان پر نعرہ ہوتاہے ’’ کشمیر بنے گا پاکستان ۔ ‘‘ پاکستانی ٹیم کسی بھی میچ میں جیت جائے تو کشمیر میں جشن منایاجاتاہے۔ خاص طور پر اگرپاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ ہواور اس میں پاکستان فتح پائے تو کشمیریوں کی طر ف سے وہ دن عید کی طرح منایاجاتاہے۔ کشمیر ان شاء اللہ پاکستان کاحصہ بنے گا اور تکمیل پاکستان کا خواب پورا ہوگا۔ قائد اعظم ؒ نے کشمیر کو بلاوجہ پاکستان کی شہ رگ قرار نہیں دیاتھا۔ ان کے بیان میں وزن اور منطق ہے۔


ای پیپر