پاکستان کو درپیش سکیورٹی خدشات
22 جون 2018 2018-06-22

ملکی سا لمیت کے خلاف بھارت کے ان سفاک عزائم کے بارے میں ٹھوس ثبوت دفترخارجہ نے تیارکرکے گزشتہ سال یواین او کے سیکرٹری جنرل اور امریکی دفتر خارجہ کو پیش کیے تھے جن میں بھارتی جاسوس کل بھوشن کے حوالے سے بلوچستان میں پھیلے’’را‘‘کے نیٹ ورک کی نشاندہی کی گئی تھی اورکل بھوشن کی نشاندہی پر ہمسایہ ملک کے متعدد جاسوس بھی حراست میں لیے گئے تھے۔ابھی تک حکومت کی جانب سے ناقص پیروی کے باعث ان ٹھوس شواہدپر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا بلکہ الٹاہندوستان اور زیادہ شدت کے ساتھ اپنے مذموم عزائم کی تکمیل میں سرگرم ہوچکا ہے۔ ہر مقام پر دشمن مسلسل ہمیں نشانہ بنارہا ہے۔ سانحہ اے پی ایس پشاور سے ہنوز دہشتگردی کی جتنی بھی وارداتیں ہوئی ہیں ان میں زیادہ تر سکیورٹی کے اداروں کو نشانہ بنایا گیا، جن کا مقصد یقیناًیہ ہے کہ دشمن ہمارے دفاع کو اندر سے کمزور کرنا چاہتا ہے۔مہران بیس،کراچی میں پولیس بس
اور لاہور میں چیئرنگ کراس میں جس طرح سکیورٹی فورسز اور اعلیٰ افسران کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی وہ اس بات کا عملاً ثبوت ہے۔ معصوم اور بے گناہ جانوں سے کھیلنے والے کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔اگرچہ حکومت اور دیگر دفاعی ادارے بڑی حد تک دہشت گردی کے اس نا سور پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے ہیں مگر ابھی تک دہشت گردوں کی کمر مکمل طور پر ٹوٹی نہیں ۔گزشتہ دنوں ہم نے عید الفطر ملی جوش و جذبے اور مکمل مذہبی عقید ت و احترام سے منائی ہے ۔یہ صرف اور صرف اس لئے ممکن ہو سکا کہ پولیس اور سکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکاروں نے دشمنوں کی جانب سے دھمکی آمیز پیغامات کے باوجود ڈیوٹیاں سر انجام دیں ۔جنوبی ایشیا کے اس خطے میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک مسئلہ کشمیر کا کو ئی پائیدا ر حل نہیں نکل آتا۔ پاکستان خطے میں پُرامن طریقے سے مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے مگر بدقسمتی سے ہندوستان ریاستی دہشتگردی کو علی الاعلان پروان چڑھارہا ہے۔ہم ملک کو درپیش دفاع اور سلامتی کے چیلنجزسے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کاعید کا دن کنٹرول لائن پرگزارنا اور جوانوں کے حوصلوں کو بڑھانا خوش آئند ہے۔ہم کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتے ہیں اور اس سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ بھارت کی جانب سے مسلسل کنٹرول لائن پر سیزفائرنگ کی خلاف ورزی تشویش ناک ہے۔بھارت ہماری سلامتی کے درپے ہے اور مقبوضہ کشمیر میں اپنے حقوق کی جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کوناحق قتل کرکے تحریک آزادی کو دبانے کی کوششوں میں مصروف ہے مگر ان شاء اللہ اسے ناکامی کے سواکچھ نہیں ملے گا۔کشمیریوں کی تیسری نسل ہندوستان کے ظلم وتشدد کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے مذموم عزائم کی تکمیل چاہتاہے۔
سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کو چاہئے تھا کہ شنگھائی کانفرنس کے موقع پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اٹھاتے مگر ایسا نہیں ہوا جبکہ دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے خطاب میں سی پیک کے حوالے سے اپنے خبث باطن اور بے معنی تحفظات کااظہارکرکے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ۔یہ ہمارے دفتر خارجہ کی ناکامی تھی۔ہندوستان پاکستان کے خلاف جارحیت کوتیز کررہا ہے۔ ہماری سیاسی وعسکری قیادت بھی بھارتی سازشوں کامقابلہ کرنے کے لیے حکمت عملی وضع کرے۔گوادر سمیت بلوچستان میں مزدوروں کی ٹارگٹ کلنگ کی جاتی ہے۔قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ناقابل برداشت ہے۔ رواں سال کے دوران دہشت گردی کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ملک میں قیام امن کے لئے ضروری ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے تما م ادارے ہنگامی بنیادوں پر ایسے اقدامات کریں جس سے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں انڈین راء اسرائیلی موساد اور امریکن سی آئی اے ملوث ہیں۔ہندوستان نے کبھی بھی پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا ۔ سفارتی محازوں سے لیکر کھیل کے میدانوں تک وہ متعصبانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرتا چلا آرہا ہے۔انڈیا دہشت گردوں کی مالی سپورٹ اور انکی تربیت کر رہا ہے افغانستان میں پاکستانی حدود کے قریب سفارتخانے اسکا ٹھوس ثبوت ہیں۔ ملک میں امن و استحکام لانے کیلئے سیاسی و عسکری قیادت ملکر مضبوط اور جامع حکمت عملی مرتب کرے۔جنرل پرویز مشر ف کی بزدالانہ اور نواز شریف کی بھارت کے ساتھ دوستانہ پالیسیوں کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے ۔ ہندوستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو دہشت گردی سے جوڑنا اور پاکستان سے نتھی کرنا تشویش ناک امر ہے۔ ایک طرف بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے جبکہ دوسری جانب کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کی بجائے ان پر مظالم کی انتہاکرچکا ہے۔بھارتی جرائم کشمیریوں کے دکھ کاباعث اور انسانی حقوق پر قدغن ہیں۔ بھارت اپنی تمام اخلاقی وسفارتی حدود پارکرچکا ہے۔اگر اسے نہ روکاگیا تو جنوبی ایشیامیں امن کے قیام کاخواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر پابندیاں لگاکر اپنی ریاستی بربریت کو چھپانا چاہتا ہے مگر اس کے باوجودبھارت کے گھناؤنے چہرے سے عالمی میڈیا نقاب اتاررہاہے۔نیویارک ٹائمز نے بھارتی مظالم کے تناظر میں2016کومردہ آنکھوں کو سال قراردیا تھا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سال ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ براہ راست فائرنگ کرکے بلاتفریق100سے زائد نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کو شہید اورپیلٹ گنز کے استعمال سے دس ہزار افراد زخمی کئے۔ پاکستان عالمی برادری پر زور دے کہ وہ بے گناہ کشمیریوں کی خونریزی روکنے کے لیے بھارت پر دباؤ بڑھائے۔مسلسل بھارتی مظالم کشمیری عوام کے لیے غم ودرداورعالمی سطح پر انسانی حقوق کے احترام پر ایک کلنک ہیں۔ہندوستان پاکستان پر الزام تراشیاں کرکے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکناچاہتا ہے۔جب تک اسے دوٹوک انداز میں جواب نہیں دیاجائے گا وہ باز آنے والا نہیں۔
بلاشبہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں جارحیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ امریکہ کو کشمیر میں بھارتی مظالم نظر نہیں آتے ۔ آزادی کے لئے جدو جہد کرنے والے کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دینا در حقیقت ہندوستان کی پشت پناہی اور بھارت نوازی ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ نے حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کو خصوصی طور پر نامزد کرتے ہوئے دہشت گرد قرار دیا تھا۔کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس سے ہم کبھی دستبردار نہیں ہونگے۔ 1990سے آج تک ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو بھارتی فوج شہید کر چکی ہے۔ پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں۔ پاکستان کے حکمران ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر قومی امنگوں کے مطابق فیصلے کریں۔ نائن الیون کے بعد سے شروع ہونے والی دہشت گردی کی جنگ ہمارے گلی محلوں تک پہنچ چکی ہے ۔اب تک ہمارے ساٹھ ہزار سے زائد افراد کو لقمہ اجل بنا دیا گیا ۔ملکی معیشت کو سو ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان پہنچ چکا ہے ۔سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجینئروں اور مزدوروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے ۔تاکہ قومی مفاد عامہ کے تمام منصوبے بر وقت اور بلا کسی رکاوٹ کے پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں۔


ای پیپر