دنیا کے مسائل اور اخلاقی تربیت
22 جون 2018 2018-06-22

معاشرہ ایک ایسے دائرے کے گرد گھوم رہا ہے جس میں مختلف قسم کے انسان رہتے ہیں۔اس میں رہنے والے لوگوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہر آدمی کو مختلف قسم کے مسائل نے گھیر ا ہوا ہے۔یہ سن کر انسان حیران ہو جاتاہے کہ مسائل دن بدن کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔ان بڑھتے ہوئے مسائل کو کم کرنے کے لئے انسان بہت سی کوششیں کرتا ہے لیکن ان کوششوں کے باوجود مسائل پر قابو نہیں پایا جا سکا۔یہ مسائل کیسے پیدا ہوتے ہیں ۔کس طرح حل ہو ں گے اور کب حل ہو ں گے ۔یہ ایسے سوالات ہیں جو ہروقت ذہنوں پر چھائے رہتے ہیں۔ان کو حل کرنے کے لئے نہ صرف لوگ بلکہ حکومتیں بھی تمام تر اقدامات بروئے کار لا رہی ہیں لیکن عملی طور پر ان کو حل کرنے کے لئے توجہ نہیں دی جاتی۔یہی وجہ ہے کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکے۔
یہ مسائل صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں پائے جاتے بلکہ پوری دنیا کو ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مشاہد ہ کرنے پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے مسائل کی شرح مختلف ممالک میں مختلف ہوتی ہے۔کسی ملک میں اس کی شرح کم ہوتی ہے اور کسی ملک میں اس کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ان مسائل کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ اخلاقیات کی کمی ہے۔ہم اخلاقی طور پر بہت کمزورہو گئے ہیں۔اسی کی کمی کی وجہ سے بے حسی بھی بڑھ گئی ہے۔ہم نے ایک دوسرے کا احساس کرنا چھوڑ دیا ہے۔اسی طرح ہم ایک دوسرے کی تکلیف کو بھی نہیں محسوس کرتے۔ اس احساس کی کمی کی وجہ سے ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ بھی ختم ہو گیاہے۔ہم ڈگریاں حاصل کرنے کے لئے بہت محنت کرتے ہیں لیکن اخلاقیات کا علم عملی طور
پرحاصل نہیں کرتے ہیں۔ہر آدمی زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کی دوڑ میں مصروف ہے۔ہم تعلیمی ڈگریوں کو بھی پیسے کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ کون سی ڈگری حاصل کرنے سے ہم زیادہ رقم کما سکتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ ہی ہم پیسہ کما پاتے ہیں اور نہ ہی اخلاقیات سیکھ پاتے ہیں اور یہی وہ اخلاقی تربیت ہے جس کے نہ ہونے کی باعث ہمیں بے شمار مسائل گھیر ے میں لے لیتے ہیں۔اس چیز کے لئے ہمیں ابتدائی سطح پر جانا پڑے گا اور ہمیں اس مقام کا تعین کرنا پڑے گا جہاں سے ہماری ایسی تربیت کی جائے کہ یہی تربیت آنے والے وقت میں ہمارے کام آ سکے۔یہ مرحلہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب ایک بچہ سکول میں داخل ہوتا ہے ۔یہی وہ وقت ہے کہ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچے کو سب سے پہلا سبق اخلاقیات کا سکھائے ۔جب یہی بچہ بڑا ہوگا تو اس کے سیکھنے کے بعد وہ معاشرے اور اپنے ملک کے لئے بہت مفید رکن ثابت ہو گا۔اخلاقیا ت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب ایک بچہ مختلف مراحل سے گزر کر اپنی تعلیم مکمل کر لیتا ہے۔ اس کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی زندگی میں داخل ہونا ہوتا ہے۔دوران تعلیم اس کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ تعلیم اور روزگار دو علیحدہ چیزیں ہیں۔تعلیم حاصل کرنے کا مقصد اچھی نوکری کا حصول نہیں ہے بلکہ تعلیم شعور حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔جب اس کو اخلاقیات کا شعور آجائے گا تو اس کے اندر ایک دوسرے کے احساس کا جذبہ پیدا ہو گا اور یہی احساس معاشرے اور ملک میں مسائل ختم کرنے کا سبب بنے گا۔
ہمارے معاشرے اور ملک میں یہ بات عام ہے جو آدمی تعلیم حاصل نہیں کرتا وہ بے کار ہے۔اس کے لئے کوئی اچھا روزگار نہیں ہے ۔وہ ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنتا ہے ۔وہ اسی احساس کمتری کا شکارہو کر پریشان رہتا ہے ۔کبھی کام کر لیتا ہے اور کبھی فارغ رہتا ہے ۔اب جب ہم حکومت کی سطح پر آتے ہیں تو حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہیے کہ جو آدمی تعلیم حاصل نہیں کرتا اس کے لئے ایسے ادارے قائم کئے جائیں جہاں پر ان کو فنی تربیت دی جائے اور ان کو مختلف کام سکھائے جائیں۔ان کے اندر یہ جذبہ پید ا کیا جائے کہ وہ محنت کرکے کامیاب آدمی بن سکتے ہیں اور ان کے لئے روز گار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کئے جائیں۔
جن ملکوں میں وی آئی پی کلچر نہیں ہوتا وہاں مسائل بھی کم ہوتے ہیں ۔ہمارے ملک میں وی آئی پی کلچر کی وجہ سے بھی بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔اس کلچر کی ایک چھوٹی سی مثا ل یہ ہے کہ جب کسی وی آئی پی کی آمد
ورفت کے لئے کوئی روڈ بند کیا جاتا ہے تو ہر طرف گاڑیاں رک جاتی ہیں۔ جتنی دیر گاڑیوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں اس کی وجہ سے بہت سا ایندھن اور وقت ضائع ہوتا ہے اور جب ٹریفک دوبارہ رواں ہوتی ہے تو اس کو پراپر طریقے سے چلانے کے لئے بھی کافی وقت لگ جاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو تکلیف کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔وی آئی پی کلچر ختم ہونے کی وجہ سے بھی بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ہمارے ملک میں علاقائی تعصب بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔اس تعصب کے باعث ہمارے ملک کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ ہم سب سے پہلے اپنے علاقے کے بارے میں سوچتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنے آپ کو فرقو ں میں بانٹ لیا ہے اور یہی فرقے علاقائی تعصب کا باعث بنتے ہیں۔ہر کوئی اپنے فرقے کی حمائت کرتا ہے۔جب ہمارے اندر یہ جذبہ پیدا ہو جائے گا کہ پنجابی ، بلوچی، سندھی اور پٹھان ہم سب ایک ہیں ۔ سب سے پہلے اور سب سے آخر میں ہم پاکستانی ہیں اور ہم پاکستانی پیدا ہوئے ہیں ۔ہمارا علاقہ ، ضلع اور صوبہ پاکستان ہے اور ہم سب مل کر پاکستان کی ترقی کے لئے کام کریں گے تو ہمارے ملک کے مسائل ختم ہو جائیں گے۔
اگر ہم اپنے دین اسلام کو دیکھیں تو یہ بات بہت اہم ہے کہ دین اسلام بھی اخلاقیات پر بہت زور دیتاہے اور اس میںیہاں تک کہہ دیا گیاہے کہ تم میں سے سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھاہے۔پوری دنیا میں اسلام اچھے اخلاق کی وجہ سے پھیلا ہے ۔یعنی کہ اسلام میں اخلاقیات کو بہت زیادہ مقام حاصل ہے اور تمام مسائل کا حل بھی اس میں موجود ہے۔


ای پیپر