اس وجود نامسعود کو ختم کیجئے
22 جولائی 2020 (22:20) 2020-07-22

سبحان اللہ گزشتہ دو تین دن کے پے در پے واقعات کے نتیجے میں حکومت کی جو کارکردگی سامنے آئی ہے اس نے بہت سوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے کہ آئین کی سربلندی اور جمہوری اصولوں کی پائیداری تو دور کی بات ہے ان سے تو گڈ گورننس کی رہی سہی توقعات خاک میں مل کر رہ گئی ہے مگر کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں ہرگز تعجب نہیں ہوا۔ کھلاڑی کھلنڈرے اور کسی بھی بڑے مقصد سے عاری لوگوں پر مشتمل مافیا مافیا کا کھیل کھیلنے اور این آر او کی تسبیح پڑھنے والے چوں چوں کا یہ مربہ جب کار حکمرانی اپنے ہاتھوں میں لے گا تو ایسے ہی شاہکار وجود میں آئیں گے۔ سپریم کورٹ نے نیب کی کارکردگی کا جس طرح پول کھول کر رکھ دیا ہے اس کی رہی سہی ساکھ خاک میں مل کر رہ گئی ہے۔ دوہری شہریت کے حامل وزیراعظم کے معاونین خصوصی اور مشیران گرامی کی جو فہرست سامنے آئی ہے یہ سب ایسے سربراہ حکومت کے یمین و یسار ہیں جن کے بارے میں خان بہادر عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے اٹھتے بیٹھتے کہا کرتے تھے دوہری شہریت کا مالک صرف ایک ہی ملک کا وفادار ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسرے کی حکومت میں اس کی شمولیت کسی پہلو سے قابل اعتبارنہیں گردانی جا سکتی لیکن اب معلوم ہوا ہے ان گرامی قدر حضرات کی فوج ظفر موج ہے جس نے ہماری عظیم اسٹیبلشمنٹ کے چنیدہ وزیراعظم کے گرد گھیرا ڈالا ہوا ہے۔ ان کی دعوت پر کابینہ کے اجلاسوں میں باقاعدہ شریک ہوتے ہیں، پالیسی سازی میں حصہ لیتے ہیں۔ منتخب اراکین کا بینہ کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنی اپنی ماہرانہ آراء کی فوقیت منواتے ہیں۔ متعلقہ محکموں سے عمل بھی کراتے ہیں۔ اس سے جو خلفشار جنم لیتا ہے، جو بددلی پھیلتی ہے اس کا پہلا شکار کابینہ کے منتخب یا عوامی مینڈیٹ کے حامل ارکان ہوتے ہیں۔ دوسرا اثر بیوروکریسی پر پڑتا ہے جسے وزیراعظم سے ان حضرات گرامی کی توجہ اور حاصل ہونے والے حکم کی وجہ سے ان کے احکام کو ترجیح دینا پڑتی ہے۔ تیسرا اثر حکومتی ڈھانچے پر پڑتا ہے جسے جمہوری عناصر کی جگہ ٹیکنوکریٹس کی حکمرانی کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہے اور پانچویں نمبر پر ملک کے عوام آتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے انہوں نے ووٹ دے کر اس حکومت کوچنا ہے اور جمہوریت کے زیر سایہ زندگی گزار رہے ہیں لیکن واسطہ ان کا ایسے افراد کی بالادستی سے پڑتا ہے جو ان کے سامنے یا ان کے منتخب اور نمائندہ ادارے پارلیمنٹ کے سامنے ہرگز جوابدہ نہیں ہیں اور گزشتہ دو ایک روز میں تیسرا کارنامہ نایاب افراد پر مشتمل ہماری حکومت سے یہ سرزد ہوا ہے کہ مطیع اللہ جان جیسے ملک بھر میں اپنی بیباکی کی وجہ سے جانے پہچانے صحافی کو اچانک اسلام آباد سے اغواء کر لیا گیا، ان کی اہلیہ نے شوہر کی گاڑی خالی پائی۔ پہلے حیران پھر پریشان ہوئی۔ اس کے بعد ملک و قوم کو آگاہ کیا اس صحافی کو جس نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے لئے ان کے کھلے تضادات سے بھرے فیصلوں اور آبزرویشنوں کو روزانہ کے حساب سے بے نقاب کر کے سانس لینا مشکل کر دیا تھا اب بھی شاید اس کے ٹویٹر سے کوئی گستاخانہ کلمہ سرزد ہو گیا ہو گا۔ اچانک اغواء کر لیا گیا ہے۔ ملک میں سفید لباس میں ملبوس ایک فورس پائی جاتی ہے جس کا کردار اس لحاظ سے نیا نہیں اس پر شبہ تھا اٹھا کر نہ لے گئی ہو کیونکہ اسلام آباد پولیس واقعے کے بارے میں مسلسل اپنی لاعلمی کا اظہار کر رہی تھی۔ خبر اس کی ملک بھر میں آگ کی طرح پھیل گئی ، صحافی سراپا احتجاج بن گئے۔ اہل دانش کھلے عام پریشانی کا اظہار کرنے لگے۔ ٹیلیویژن سکرینوں پر سب سے بڑی خبر اسی اغواء کی تھی۔ بات ہماری سرحدوں تک محدود نہ رہی۔ امریکہ اور پوری دنیا تک جا پہنچی وہاں سے بھی صحافیوں کی عالمی تنظیموں اور انسانی حقوق کی انجمنوں نے حکومت پاکستان کو تحفظات سے آگاہ کیا۔ ایک بڑے اخبار اور ٹی وی نیٹ ورک کے مالک میر شکیل الرحمن پہلے ہی نیب کی حراست میں بیٹھے قید کے دن گزار رہے ہیں۔ مقدمہ بن نہیں رہا لیکن جان ان کی چھوٹ نہیں رہی۔ آزادی اظہار پر جو قدغنیں لگائی گئی ہیں ان سے تمام قوم تلملا اٹھی ہے۔ اس پس منظر کے ساتھ جب مطیع اللہ جان کے اچانک اغواء کی خبر آئی تو قومی و عالمی ردعمل اتنا شدید تھا کہ مطیع اللہ طاقتور اغواء کنندگان کے لئے مردہ بدست زندہ ثابت ہو رہے تھے انہیں چھپا کر رکھنا مشکل تر ہو گیا تھا لہٰذا فتح جنگ جیسے قصبے میں لیجا کر چھوڑ دیا گیا۔ ان کی اہلیہ نے تو شوہر کی بازیابی پر یقینا اطمینان کا سانس لیا ہو گا لیکن اس دوران صحافی بیچارے کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا اس کی تفصیلات معلوم نہیں سامنے آنے دی جاتی ہیں یا نہیں۔

مگر اے قارئین باتمکین سپریم کورٹ آف پاکستان کے تفصیلی اور تحریری فیصلے نے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی کے خلاف نیب کی جانب سے عائد کردہ کرپشن کے مقدمے میں احتساب کے اس ادارے کی جو درگت بنا کر رکھ دی ہے، دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے نیب کی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کی قائم کردہ اور موجودہ عہد کے اصل حکمرانوں

کی پروردہ پوری کی پوری عمارت دھڑام سے نیچے آگری ہے۔ اس کے وجود کا جواز باقی نہیں رہا۔ یہ یکطرفہ احتساب کرتا ہے جو ظاہر ہے انتقام کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اصل حکمرانوں کے ناپسندیدہ سیاستدانوں کا گھیرا تنگ کر کے رکھ دینے اور ان کے لئے جینا حرام کرنے میں یکتا ہے۔ اس فیصلے پر جسے عدالت عظمیٰ کے سینئر جج جسٹس مقبول باقر نے رقم کیا ہے ایک نگاہ ڈالنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ نامطلوب سیاستدانوں کا گلا گھونٹ کر رکھ دینے والا یہ ادارہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ مہذب اور جمہوری دنیا میں اس کا ثانی نہیں پایا جاتا۔ نہ اپیل نہ وکیل نہ دلیل والے انگریزی سامراجی دور کے محاورے کا اس کے یہاں چلن پایا جاتا ہے، جسے چاہے اپنے یہاں طلب فرماتا ہے۔ اس کے سامنے کرپشن کے الزامات کی فہرست رکھ دیتا ہے۔ حکم ہوتا ہے اپنی بے گناہی کا ثبوت ہماری جناب میں پیش کرو۔ وہ عرض کناں ہوتا ہے۔ الزام آپ نے لگایا ہے ثبوت بھی آپ کے پاس ہو گا۔ اسے سامنے لے آئیے جیسا کہ تمام مہذب اور قانون کی حکمرانی کے آگے سرجھکانے والی دنیا کا مانا ہوا دستور ہے انہیں دیکھ کر میں اپنا دفاع پیش کروں گا۔ بتائوں گا کیا بات درست اور کیا کیوں غلط ہے۔ جواب صادر ہوتا ہے تم اپنے خلاف الزامات کی بابت ہمیں مطمئن نہیں کر سکے ہو لہٰذا حفاظتی قید میں رکھا جائے گا۔ نظربندی کی حالت میں پوری تفتیش کی جائے گی، تم خود ہی اعتراف جرم پر مجبور ہو جائو گے۔ ایسا اگر نہیں کرو گے تو ہم اقبالی گواہ تیار کر لیں گے۔ وہ بھی نہ ملے تو سزا تو تمہاری کرپشن کی جو صرف ہم پر عیاں ہے تمہیں دینی ہے لہٰذا تاریخیں بھگتنے کے لئے تیار ہوجائو۔ نواز شریف کو اس نادر روزگار قانونی اصول کی بنیاد پر احتساب عدالت نے سزا سنائی ، بعد میں جج بول اٹھا اس پر دبائو ڈالا گیا تھا ویڈیو ٹیپ سامنے آئی۔ جج ایسا غرض مند نکلا کہ سرکار والا تبار کے جھکائو کے آگے بھی ٹھہر نہ سکا اور جاتی امرا وغیرہ جا کر نواز شریف سے بھی ملاقات کر لی۔ ایک جانب اپنی نوکری کو بچایا دوسری جانب اپنے بقول چین پھر نہیں۔ سپریم کورٹ کے ایک عالی مرتبت جج نے کہا اس شخص کی وجہ سے ہمارے سرشرم سے جھک گئے ہیں۔ اسے اگرچہ نوکری

سے برطرف کر دیا گیا ہے مگر سزا نہیں دی گئی۔ اسی طرح شہباز شریف اور اس کے ساتھ بیوروکریٹس کے خلاف کوئی جرم ابھی تک ثابت نہیں ہوا۔ اب شاہد خاقان عباسی کی جائیداد تک منجمد کر لی گئی ہے مگر ثبوت ندارد۔ خواجہ برادران اپنا مقدمہ لے کر اپیل کی شکل میں سپریم کورٹ کے دروازے پر جا پہنچے۔ وہاں دادرسی ہوئی۔ نیب کی تمام تر کہانی کو سامنے رکھتے ہوئے تفصیلی فیصلہ سامنے آگیا ہے۔

فرمایا گیا ہے جنرل مشرف نامی ڈکٹیٹر نے اپنے آمرانہ مقاصد کی بارآوری یکطرفہ احتساب کے اس ادارے کو قائم کیا تھا اس سے سیاستدانوں کو ’’راہ راست‘‘ پر لانے کا کام لیا جو قابو میں نہ آئے انہیں نیب کے ڈنڈے سے سیدھا کرنے کی سعی کی گئی۔ یہ عمل آج تک جاری ہے اس کے ذریعے قانون کی حکمرانی اور آئین کی پاسداری کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی گئی ہیں۔ فیصلہ پڑھتے ہی ملک کے ہر صاحب شعور فرد اور ذی علم لوگوں کی رائے تھی نیب اپنا جواز کھو بیٹھا ہے۔ اس کا مقصد وجود باقی نہیں رہا۔ جس عمارت پر قائم اس کی بنیادوں کا کھوکھلا پن واشگاف ہو گیا ہے۔ اس کے بعد پہلا اور لازمی ردعمل یہ ہونا چاہئے کہ چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال اپنے منصب سے مستعفی ہو جائیں۔انہیں آئینی تحفظ حاصل ہے۔ کوئی اچانک برطرف تو نہیں کر سکتا لیکن ضمیر نامی بھی باعزت انسانوں کے سینوں میں کوئی چیز پائی جاتی ہے۔ کچھ اس کا بھی تقاضا مطالبہ اور اخلاقی طاقت ہوتی ہے۔ امید کرنی چاہئے جسٹس (ر) جاوید اقبال جو ایک مانے ہوئے قانون دان اور اعلیٰ عدالت کے جج رہے ہیں وہ اپنی اور اپنے ادارے کی اس حد تک حجامت بنتی برداشت نہ کریں گے۔ ازخود استعفیٰ پیش کر کے گھر کی راہ لیں گے۔ اس کے بعد نیب کے انجام کے بارے میں غور کر لیا جائے گا۔ منچلے نے یہ سطور پڑھیں تو گویا ہوا اتنے سادے مت بنو۔ اگر تم ہو تو جسٹس (ر) جاوید اقبال ہرگز نہیں۔ جہاں دیدہ انسان ہیں۔فیصلہ رقم کرنے والے درویش صفت جج جسٹس مقبول باقر کو نوٹس جاری کر سکتے ہیں۔ آپ نے جو فلاں وقت میں فلاں زیر تعمیر مسجد کو دس ہزار روپے کا چندہ دیا تھا ذرا اس کی منی ٹریل تو ہماری جناب میں پیش کیجئے۔ دیکھ لیتے ہیں آپ کی جیب میں فالتو پیسے کہاں سے آئے۔

مگر اے لوگوں قصور صرف نیب اس کے سربراہ اس کے بانی مبانی غاصب ڈکٹیٹر اور اس کی پشت پناہی کرنے والے موجودہ دور کے زور آوروں کا نہیں۔ ذمہ دار اس کی دو بڑی سیاسی جماعتیں جو اپنے آپ کو جمہوری کہتی ہیں۔ عوامی مینڈیٹ کی حامل گردانتی ہیں۔ آئین کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی کا دم بھرتی ہیں یعنی نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) اور زرداری جمع بلاول بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی کا بھی ہے۔ ان دونوں جماعتوں کی نواز شریف اور بے نظیر بھٹو مرحوم پر مشتمل چوٹی کی لیڈرشپ نے 2007ء میں لندن میں طے کئے جانے والے میثاق جمہوریت میں سرعام اعلان کیا تھا۔ ان میں سے جو بھی انتخابات کے ذریعے برسر اقتدار آئے گی اولین ترجیح کے طور پر نیب جیسے انتقامی سیاست کے آمریت زدہ ادارے کو حرف غلط کی مانند مٹا کر رکھ دے گی۔ اس کی جگہ پارلیمنٹ میں عوام کی تمام نمائندہ پارلیمانی جماعتوں کواعتماد میں لے کر باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے احتساب کے ایسے قومی ادارے کو وجود میں لائیں گی جو بے لاگ احتساب کرے گا۔ کسی طبقے کو استثنیٰ نہیں دے گا۔ انتقام کی بو اس سے ہرگز نہ آئے گی۔ جو بھی حقیقی احتساب کے شکنجے میں آئے گا کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ یوں شفاف اچھی اور ہر ایک کو نظر آنے والی صاف ستھری اور آئین و قانون کی بالادست حکمرانی کا راج قائم کر دیا جائے گا۔ ایسا مگر ہرگز نہ ہوا۔ 2008ء تا 2013ء اور 2013ء تا 2018ء پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بالترتیب برسر اقتدار آئیں۔ انتخابات جیت کر اپنے تئیں عوامی مینڈیٹ کی طاقت کو ہاتھوں میں لے کر آئیں۔ ہر دو کا اولین فرض تھا کہ پہلی ترجیح کے طور پر ڈکٹیٹر زدہ نیب کی جگہ آئین وجمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لباس فاخرہ میں لپٹا ہوا احتساب حقیقی کا ادارہ وجود میں لائیں۔ یہ فریضہ ہرگز ان سے ادا نہ ہوا۔ پیپلز پارٹی والے اس کا سب سے بڑا ذمہ دار مسلم لیگ (ن) کو ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے بار بار توجہ دلانے کے باوجود یہ جماعت اور اس کی قیادت اس کی جانب متوجہ نہ ہوتی تھی۔ سو فیصد قصور شاید مسلم لیگ (ن) کا بھی نہ ہو مگر اب اس کے ترجمان اپنے آپ کو یہ کہنے پر مجبور پاتے ہیں۔ زیادہ کوتاہی ہماری تھی اور ہم ہی اپنی غفلت کے سب سے زیادہ نتائج بھگت رہے ہیں۔ اب وقت ہے دونوں جماعتیں ایک دفعہ پھر مل کر عہد کریں۔ موجودہ نیب کے وجود کو قانونی لحاظ سے ختم کرنے کی ہر ممکن سعی کریں۔ اس مقصد کے لئے چھوٹی پارلیمانی جماعتوں کو بھی اپنے ساتھ ملائیں۔ پیپلز پارٹی اس خاطر دست تعاون بڑھانا چاہے تو انکار نہ کریں۔ یہ سب منتخب سیاستدانوں کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے،کسی کو پہلو تہی نہیں کرنی چاہئے۔ بے لاگ احتساب ادارہ ضرور وجود میں آنا چاہئے مگر وہ نیب کی مانند انتقامی وجود کا مالک ہرگز نہ ہو، پوری قوم کا اس پر اتفاق ہو، ورنہ آج تم کل ہماری باری ہے۔


ای پیپر