تجارتی غلبہ اورسفارت کاری
22 جولائی 2020 (22:19) 2020-07-22

دنیا میں لڑائی کے میدا ن تبدیل ہونے کے ساتھ ہتھیاروں کی نوعیت بھی بد ل رہی ہے یہ تبدیلی کسی خاص ملک یا خطے تک محدود نہیں بلکہ تبدیلی کے اِ س عفریت کی پوری دنیا تک رسائی ہوگئی ہے شب وروز ہونے والی ایجادات نے جہاں انسان کی زندگی پُرتعیش بنائی ہے وہیں انسان کو سب سے کمزور مخلوق بنا کر رکھ دیا ہے کبھی ریاستوں کے سربراہوں نے امداد کی بھیک کے لیے دامن پھیلایا تھا ؟نہیں ناں۔ اگر ایسا ہوتا بھی تھا توشاید بہت کم یا چُھپ چھپا کر ۔ اکیسویں صدی میں ہر ملک خواہ غیریب ہے یا امیر ۔ایک ودسرے کے رحم و کرم پر ہے دنیا میں روایتی لڑائیوں میں ٹھہرائو تو آرہا ہے لیکن اِس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ بنی نوح انسان محفوظ ہے تلخ سچ یہ ہے کہ برتر ہونے کی دوڑ اور قومیت پر ستی نے انسان کو لاحق خطرات میں اضافہ کر دیا ہے جنگ و جدل کے امکانات میں کمی کے باوجود نسلِ انسانی بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہے اب ریاستیں ایک دوسرے کو میدان میں للکارنے یا پچھاڑنے کی بجائے دیگر حربوں سے زیر کرنے میں مصروف ہیں مملکتوں کے سربراہوں میں بھی تاجروں کی طرح مسابقت ہے جو تجارتی شہ مات دینے کے لیے عہدے کی عزت و احترام بھی بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔

چین و امریکہ میں مسابقت کی دوڑ پوشیدہ نہیں

بلکہ کھلی حقیقت ہے دونوں ملک اب خم ٹھونک کر ایک دوسرے کودھمکانے لگے ہیں ٹھیک ہے دست وگریباں نہیں مگر اِس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سب اچھا ہے دونوں ملکوں کو اِس امر کا مکمل ادراک ہے کہ کوئی بھی فریق دوسرے پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں اِس لیے فوجی تصادم کے امکانات معدوم ہیں بظاہر سفارت کاری کے ذریعے شکوک وشبہات میں کمی لانے کی کوشش جاری ہے ابھی رواں ماہ کے دوران امریکہ سے درجنوں سفارتی اہلکار چین آئے مگر تعلقات کی خرابی درست نہیں ہوئی اور ہر کوشش ناکامی سے دوچار ہوتی جارہی ہے اسی لیے سفارتی آپشن ترک نہیں تومحدودضرور کر دیا گیا ہے متبادل کے طورپر تجارتی غلبے کی جدوجہد میں تیزی آگئی ہے تجارتی غلبے کا مقابلہ ایشیا،افریقہ، یورپ، آسٹریلیا، شمالی وجنوبی امریکہ تمام براعظموں میں عروج پر ہے مملکتیں سامانِ تجارت کے لیے منڈیوں کی تلاش میں نئے اتحاد بنانے اور پُرانے ختم کرنا معیوب تصور نہیں کرتیں۔

رواں برس کے شروع میں جی20 سربراہ کانفرنس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ میں ملاقات ہوئی تو تمہیدی جملوں کے بعدصدر ٹرمپ نے بڑی لجاجت سے صدر شی سے درخواست کی کہ چین امریکہ سے گندم اور سویا بین درآمد کیا کرے تاکہ

دونوں ممالک میں کچھ تجارتی توازن آئے امریکہ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن نے حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب میں دونوں سربراہوں کی ملاقات کی تفصیلات لکھی ہیں خیر ایسا ہوناکوئی بعد ازقیاس نہیں تھا مگر ٹرمپ جس ملک کو دھمکیاں دیتے اور سبق سکھانے کی بات کرتے تھے اُسی ملک کے صدر سے التجا سے واضح ہوگیا کہ امریکہ کو تجارتی مقابلے میں پسپائی کا سامنا اور چین کو سبقت حاصل ہے گندم اور سویا بین وسطی امریکی ریاستوں کی اہم پیداوار ہیں مگر امریکہ کو مناسب خریداروں کی کمی کا سامنا ہے اقتصادی اور عسکری مسابقت کی دوڑمیں چین نے امریکہ اور یورپ کو پچھاڑ نے کے ساتھ ہتھیاروں کے بغیر لڑی جانے والی تجارتی جنگ میں غلبے کے لیے مسلسل پیش قدمی کرتا جارہاہے دنیا کی مانگ کے مطابق وافرسستے سامان کی فراہمی سے چین کو دولت حاصل ہونے کے علاوہ اُس کے عالمی رسوخ میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے اگر چین تجارتی غلبے کے لیے موجودہ رفتار میں کمی نہیں آنے دیتا

تورواں صدی میں ہی دنیا پر اُس کا غلبہ یقینی ہے۔

سرد جنگ کا دور ختم ہو چکا روس ،امریکہ کے حامی اور غیرجانبداری کے دعویدار ممالک کو حملوں کے خدشات کم ہو گئے ہیں مگر یہ خیال کلبلانے لگا ہے کہ سرحدوں کو محفوظ بنانے کے ساتھ تجارتی میدان میں محازآرائی شدت اختیارکرتی جارہی ہے ؟انجام کے بارے میں ذہنوں میں کلبلاتے سوال کا تسلی بخش جواب نہیں مل رہا اُسے کسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہیں اُس کا ہر قدم نپا تُلا اور نتیجہ خیز ہے وہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مالی مدد کے ذریعے تجارتی منڈیوں میں داخل ہو رہا ہے یورپ سے لیکر امریکہ تک ہر جگہ چینی سامان کی فراوانی دکھائی دیتی ہے وہ مسلح تنازعات سے الگ تھلگ رہ کر تجارتی غلبے کو ہی ترجیح دے رہا ہے اور اگر مسلح تصادم کی صورتحال بن بھی جائے تو حالات کوتجارت پر اثر انداز نہیں ہونے دیتا بھارت سے حالیہ جھڑپ کے باوجود اُس نے پوری کوشش کی ہے کہ بھارت کو مکمل طور پر امریکہ کا ساتھی بننے سے روکا جائے اور ایک امن پسند ملک کا تاثربرقرار رکھاجائے یہی وجہ ہے کہ چاہے ہندی اور چینی بھائی بھائی کا نعرہ دم توڑنے کے قریب ہے مگر تجارتی سرگرمیوں میں کمی نہیں آئی۔

بھارت اور چین کے مابین تنائو کے باوجود تجارتی حجم نوے ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے بھارت نے چین سے گزشتہ برس بھاری مشنری،کمپیوٹر،موبائل فون ،کھاد،ادویات کا خام مال،نیوکلیئر ری ایکٹر کی خریدنے پر پینسٹھ ارب ڈالر صرف کیے جبکہ چین نے بھارت سے محض پچیس ارب چالیس کروڑ ڈالر کا سامان درآمد کیا ہے اِن تجارتی شماریات سے چین کا تجارت پر غلبہ صاف ظاہر ہے چین سے بھارت کی تجارت بھارت کی کل عالمی تجارت کا تیرہ فیصد کے قریب ہے جبکہ چین کی عالمی تجارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس کا بھارت کے ساتھ کُل تجارتی حجم کا محض دو فیصد کے لگ بھگ ہے جو چین کے ہم پلہ ہونے کے دعویدار کا تجارتی طورپر کمزور ہونے کی دلیل ہے۔

چین کے تجارتی غلبے کی وجہ معیار کی بجائے مقدار کی پالیسی ہے عالمی آفات ووبائوں کی وجہ سے لوگوں کی قوتِ خرید میں کمی آتی جارہی ہے ہر سال کروڑوں لوگ غربت کی سطح سے نیچے جارہے ہیں جس کا چینی قیادت کو ادراک ہے اسی لیے تھوڑی مگر معیاری اور مہنگی اشیا کی بجائے وافر اور سستی چیزیں بنا رہا ہے جو حالات کے عین مطابق ہے لینڈکروزر، فراری، مرسڈیز یا بی ایم ڈبلیو کی کل تعداد سے سو گُنا سے زائد چینی سستی کاریں دنیا کے استعمال میں ہیں سستی اور وافر کے اصول پر چل کرہی چین نے تجارتی غلبے کی منزل حاصل کی ہے اِس اصول کا چینی معاشرے کو بھی بڑا فائدہ ہوا ہے دن رات کارخانوں میں کام ہونے سے روزگار کے نہ صرف مواقع بڑھے ہیں بلکہ چین کودنیا میں بھی باعزت مقام مل رہا ہے جنگ کا میدان اور ہتھیاروں کی تبدیلی سے چین متاثر نہیں ہوابلکہ طاقت و اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے اسی لیے مملکتوں کے سربراہ درآمدات کی التجائیں کرنے لگے ہیں۔


ای پیپر