کیا پاکستان پر تنقید کرنے والے محب وطن ہیں؟
22 جولائی 2020 (22:18) 2020-07-22

وزیراعظم عمران خان کے معاونین خصوصی کے اثاثے کیا ہیں؟ کون غیر ملکی شہری ہے اور کس کے پاس کتنی زمین ہے؟ تفصیلات حکومت نے خود شائع کر دی ہیں(جو کہ ایک اچھی روایت ڈالنے کی بنیاد ہے) مگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر عوامی و سیاسی ردعمل اب تک سامنے آ رہا ہے۔ وزیراعظم کے معاونین کے بیرون و اندرون ملک اثاثوں ، کاروباری شراکت داری، بینک بیلنس اور دیگر مراعات پر تنقید کی جا رہی ہے مگر سب سے زیادہ ردعمل وزیراعظم کے معاون خصوصی اطلاعات و نشریات عاصم سلیم باجوہ کی "ٹیوٹا زیڈ ایکس " پر اس وقت سامنے آیا جب انکی جانب سے فراہم کی گئی اثاثوں کی تفصیل میں اس لگژری گاڑی کی قیمت 30 لاکھ روپے لکھی گئی۔ جب ایک سابق فوجی کو سرکاری عہدہ ملتا ہے تو بھی تنقید ہوتی ہے اور جب اثاثے سامنے آتے ہیں تو عوام فوجی مراعات پر ہی اعتراضات اٹھانا شروع کر دیتی ہے ۔سرکاری و سیاسی عہدیداران کی مراعات دیکھیں تو شاید اس سے بھی زیادہ واویلا ہو مگر یہاں صرف فوج ہی کو تنقید کا نشانہ بنانے کا ایجنڈا سیٹ کر دیا گیا ہے ۔سوال یہ ہے فوج کے خلاف یہ نفرت کیوں ہے؟ کیا واقعی میں عوام فوج سے نفرت کرتی ہے یا کسی پروپیگنڈا کے تحت فوج کے خلاف جانے والے مواد کو وائرل کروایا جاتا ہے؟سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف لکھنے والے اکاؤنٹس اٹھا کر دیکھیں تو زیادہ سرگرم اکاؤنٹس ایک تو بیرون ملک سے آپریٹ ہو رہے ہیں اور دوسرا وہ فوج کے ساتھ ساتھ پاکستان سے بھی نفرت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔چلیں فوج پر تنقید تو سمجھ آتی ہے لیکن پاکستان پر تنقید کرنے والے کیا محب وطن پاکستانی ہوتے ہیں؟ کیا انھیںغدار قرار دینا غلط ہے ؟ پاکستان بننے کی جدوجہد شروع ہوئی تو قائد اعظم نے فرمایا کہ مساوات اور اخوت ہو تو جمہوریت بنتی ہے۔

برداشت کے سچے جذبات کا مظاہرہ کریں۔

مسلمان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں ہو سکتا کہ وہ صداقت کی خاطر شہید کی موت مر جائے۔

پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گی،صرف اردو ہو گی۔

ہمیں پنجابی،سندھی،بلوچی بن کر نہیں سوچنا چاہیے،بلکہ ہمیں پاکستانی بن کر سوچنا ہے۔

لیکن بدقسمتی سے آج پاکستان بننے سے 7 دہائیوں

بعد بھی نہ ہم مساوات قائم کر سکے نہ حقیقی جمہوریت… آج بھی اس ملک میں غریب اور امیر کا قانون الگ ہے۔برداشت تو وقت کے ساتھ مزید کم ہو رہی ہے۔صدارت کی خاطر پتہ نہیں لیکن اپنا غلط نظریہ بھی درست ثابت کرنے کے لیے یہ قوم ضرور مرنے کو تیار ہے۔زبان اردو ہے مگر تمام سرکاری کاروائی انگریزی میں ہی ہوتی ہے اور پنجابی سندھی ، بلوچی اور پٹھا ن کا فرق دیکھنا ہو تو صرف علاقائی کھانوں پر ہی با ت کر کے دیکھ لیں۔ مشرقی پاکستان کا سانحہ ہوا تو پنجابی فوج سے نفرت نے کئی گھروں پر قیامت ڈھا ئی ۔ بلوچستان کی عوام کو آج تک لگتا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد انکا حق پنجاب نے مارا ہے ۔ سندھی اور پٹھان شہری بھی آج تک پنجابیوں کو اپنا حصہ نہیں مانتے ۔لسانی سطح پر یہ نفرت حد سے بڑھتی ہے تو علیحدگی کی تحریکیں سر اٹھانے لگتی ہیں ۔ کبھی الطاف حسین کی ایم کیو ایم ، کبھی منظور پشتون اور کبھی بلوچی تحریک کے نام پر ملک دشمنوں کے ایجنڈے پر کام کرنے والے چند عناصر معصوم عوام کو لسانی اور ثقافتی بنیادوں پر فوج سے نفرت پر اکساتے ہیں ۔ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا یہ تحریکیں فوج کو اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہیں جس کی وجہ سے پہلے فوج سے نفرت کا ٹاسک پورا کیا جاتا ہے۔ مجھے مارشل لاء ، عسکری قوتوں اور دیگر اداروں کی سیاست میں مداخلت سے 101فیصد اختلاف ہے مگر کیا ان اداروںکو سیاست میں مداخلت کا موقع دینے والے ہمارے اپنے منتخب شدہ سیاست دان نہیں ہیں ؟ کیا سیاست دانوں نے اپنی کرپشن اور اپنی نااہلی چھپانے کے لئے غیر سیاسی قوتوں کا سہارا نہیں لیا؟ کیا بھٹو سے شروع ہونے والا جمہوریت کا سفر غیر سیاسی قوتوں نے روکا؟ کیا میاں نواز شریف عوامی طاقت سے اقتدار میں آنے کے بعد غیر سیاسی قوتوں کے خلاف ڈٹ گئے ؟ کیا لیگی رہنماؤں کے اقامے اور بین الاقوامی جائیدادیں غیر سیاسی قوتوں نے بنائی تھیں ۔ کیا موجود حکومت کے اہم ترین رہنماؤں کو شوگر ملوں میں کرپشن کرنے کا ٹاسک غیر سیاسی قوتوں نے دیا تھا ؟ کیا بیوروکریسی کے آئے روز تبادلے اور سیاستدانوں کی جانب سے من پسند بیوروکریٹ لگانے کا دباؤ اغیر سیاسی قوتوں کی طرف سے ڈالا جاتا ہے ؟ ایسے ہزاروں سوال ہیں جو ہمیں بطور عوام خود سے اور اپنے منتخب کردہ سیاسدانوں سے کرنے کی ضرورت ہے ۔یقینا ان سوالوں کے جواب میں فوج سے نفرت کرنے والے مجھے بھی گالیاں ہی دیں گے لیکن ذرا سوچیے گا کہ جب گھر کا کوئی فرد ہی چور کے ساتھ مل جائے تو دروازے پر کھڑے محافظ سے بھی کوتاہی ہو ہی جاتی ہے ۔


ای پیپر