ورلڈ کپ 1999،اذیت ناک شکست ،وسیم اکرم کے انکشافات
22 جولائی 2020 (21:57) 2020-07-22

مدثر نذر قریشی:

اس ہلکے سبز رنگ کی شرٹ پر بنے ستارے سے میں نے پہلی بار کاغذ پر غیرروایتی انداز میں ستارہ کھینچنا سیکھا تھا۔ اس شرٹ کی پہلی خاصیت یہ تھی کہ یہ آپ کے ناپ سے جتنی بڑی ہوتی، اتنی جچتی، دوسری یہ کہ اس پر لفظ پاکستان بھی ایسے درج تھا جیسے ایک ہی حرف ہو مگر سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم یہی شرٹ پہنے ورلڈ کپ جیتنے والے تھے۔ اتوار کا دن، جون کی تپتی دوپہر تین بجے کے قریب ہم ٹی وی کے سامنے ٹک ٹکی باندھے بیٹھ گئے۔ آنکھوں میں چمک تھی اور دل میں یقین۔

یقین اس لیے کیونکہ چار روز قبل ہی ایک تیز رفتار بولر کو ہلکے نیلے رنگ کے خوبصورت لباس میں ملبوس کھلاڑی کی وکٹیں زمین پر دھڑام سے گراتے دیکھا تھا اور ایک ’لیفٹی‘ کو اس ٹیم کے بولرز کو پچھاڑتے۔

الماری سے خاص 14 اگست پر ہی استعمال ہونے والا جھنڈا تب میرے کندھوں پر تھا اور میں 'اْس' تیز رفتار بولر کی طرح باہیں پھیلائے گھر کے دس چکر بھی لگا چکا تھا اور ابو سے یہی شرٹ خریدنے کا وعدہ بھی لے چکا تھا۔

تب تک تک دل میں ٹیم کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا گمان یقین میں بدل چکا تھا۔

بھروسہ اس لیے بھی تھا کہ ابھی کچھ ہی ہفتے قبل پاکستان نے اس پیلے لباس والی ٹیم کو ہرایا تھا، اور کیا ہی ہرایا تھا۔ وسیم اکرم کا وکٹ لینے کے بعد پویلین کی جانب دوڑ لگانے کا منظر دیکھ کر مجھے کیا پورے پاکستان کو یقین ہو چلا تھا کہ یہ ورلڈکپ ہمارا ہے۔

یقین اور بھروسہ اپنی جگہ لیکن اس ٹیم کے ساتھ کچھ دل بھی لگا لیا تھا۔ ایک نوعمر بچہ جب اپنے گرد موجود افراد کو ٹی وی پر نظر آنے والے 11 کھلاڑیوں کی وجہ سے خوشی سے نہال پائے گا، تو وہ اور کیا کرے گا۔

خیر سوا تین بجے میچ شروع ہوا، اور پھر کچھ ہی دیر میں منظر بدلنے لگا، دل ڈوبنے لگا، پاکستان کی بیٹنگ لڑکھڑاتی ہوئی پویلین لوٹنے لگی۔ تب تک شین وارن سے نفرت ہو چکی تھی۔ صورتحال بھانپ کر امی ابو نے ذہن بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ’ہار گئے ہیں، چھوڑو بند کر دو ٹی وی، کیا فائدہ۔۔۔‘

مگر ہم تو اس تیز رفتار بولر کو دیکھنے بیٹھے تھے، جو کسی بھی صورتحال میں میچ کا پانسہ پلٹ سکتے تھے۔ اتنی سمجھ کہاں تھی کے 133 رنز کا دفاع کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

اسی لیے صحن میں گئے اور لمبے رن اپ سے چھ سات گیندیں پھینکیں، دل کو کچھ تسلی ملی تو واپس ٹی وی کے سامنے جا بیٹھے۔

ساڑھے آٹھ بجے دنیا دھندلی نظر آنے لگی، آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں، پاکستان 1999 کا ورلڈ کپ فائنل ہار گیا اور زندگی میں پہلی مرتبہ دل ٹوٹ گیا۔

مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

میں تو چلو ایک بچہ تھا اور بڑوں سے یہی سننے کو ملتا ہے کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن 1999 کے ورلڈ کپ فائنل کی شکست ازیت ناک بھی تھی اور ذلت آمیز بھی۔

ثقلین مشتاق کا ایک حالیہ انٹرویو میں یہ بتانا کہ ’فائنل میں ہمیں اتنی بری شکست ہوئی کہ ہم روتے ہوئے گراؤنڈ سے واپس گئے‘ کچھ تسلی دیتا ہے کہ ہم اکیلے نہیں تھے۔

رات روتے روتے سو گئے اور صبح اٹھے تو ہمسایوں، رشتہ داروں اور ہر دوسرے ’انکل‘ نے کچھ ایسے الفاظ بولے جو اس ننھے سے ذہن میں پٹاخے پھوڑنے کے لیے کافی تھے۔

’میچ فکس تھا۔۔۔ پھینک دیا۔۔۔ بک گئے۔۔۔ بیچ آئے۔‘

آج بھی اگر آپ یوٹیوب پر 99ء کے ورلڈ کپ کی اچھی یادیں تازہ کرنے جائیں گے تو ضرور بنگلہ دیش کے خلاف ’مشکوک‘ شکست کے حوالے سے ویڈیوز ملیں گی۔

فائنل میں بدترین پرفارمنس دیکھنے والی ایک نسل کے دلوں سے پاکستان کرکٹ اتر گئی اور فکسنگ داغ بھی ہم آج تک اپنے دامن سے نہیں مٹا پائے۔

اگلے ہی سال سامنے آنے والی جسٹس قیوم رپورٹ نے ایک اور دھچکا دیا حالانکہ 1999ء کے ورلڈکپ کے چند مشکوک میچوں پر بنے بندھاری کمیشن نے تمام کھلاڑیوں کو فکسنگ کے الزامات سے بری کر دیا لیکن قیوم رپورٹ نے پاکستان کرکٹ کی جو تصویر کشی کر دی تھی، وہی کافی تھی۔

اس ٹیم میں کون نہیں تھا ایک مایہ ناز اوپنر جس بلے باز کو کمینٹیٹر 'دنیائے کرکٹ کا سب سے دلکش منظر' کہتے تھے اور لیجنڈ سپنر شین وارن آج بھی آئے روز پاکستان کی سب سے بہترین الیون کا حصہ بناتے ہیں۔

وہ انکل جو ہر جملے میں فکسنگ کی اصطلاح استعمال کرتے تھے اب قیوم رپورٹ بھی لہرانے لگے۔

سنچورین 2003، سبائنا پارک 2007، موہالی 2011، سڈنی 2010، لارڈز 2010، ناٹنگھم 2019۔۔۔ یہ فہرست بہت طویل ہے اور نہ جانے کب ختم ہو گی۔ بقول غالب: ’مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا‘

99ء کی ٹیم کے لیے دکھ اس لیے بھی زیادہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی عام ٹیم نہیں تھی، انتہائی باصلاحیت کھلاڑیوں کا ایک ایسا مجموعہ تھا کہ اس میں وقار یونس اور مشتاق احمد جیسے مایہ ناز بولرز بمشکل جگہ بنا پاتے۔

ورلڈکپ سے قبل بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وسیم اکرم نے کہا تھا کہ ’پاکستان میں لوگ ابھی سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم ورلڈکپ جیت چکے ہیں۔

’میرے لیے یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ میں اتنے باصلاحیت کھلاڑیوں کی کپتانی کر رہا ہوں۔‘

عثمان سمیع الدین اپنی کتاب 'دی اَن کوائٹ ونز' میں لکھتے ہیں کہ ’جہاں سال 1999 کے دوران ملک میں شدید تناؤ تھا وہیں پاکستان کرکٹ ٹیم نے متعدد مرتبہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن یہ ممکنہ طور پر ایک عظیم ٹیم کے تھراتے شعلوں کی آخری پھڑپھڑاہٹ کی مانند تھی۔‘

تو پھر یہ بات کیسے مان لیں کہ سعید انور، عبدالرزاق، شعیب اختر، ثقلین مشتاق، محمد یوسف اور وقاریونس جیسے مایہ ناز کھلاڑی کوئی ون ڈے ورلڈکپ نہیں جیت پائے۔

اس ٹیم میں کون نہیں تھا ایک مایہ ناز اوپنر جسے کمینٹیٹر ’دنیائے کرکٹ کا سب سے دلکش منظر‘ کہتے تھے اور لیجنڈ سپنر شین وارن آج بھی آئے روز پاکستان کی سب سے بہترین الیون کا حصہ بناتے ہیں۔

ایک ایسا سپنر جس نے آف سپن بولنگ کو نئی جہد بخشی اور ’دوسرا‘ نامی گیند متعارف کروائی۔ لیجنڈ بلے باز انضمام الحق، ابھرتے ہوئے آلراؤنڈر عبدرزاق اور دنیا کے تیز ترین فاسٹ بولر شعیب اختر۔

جہاں محمد یوسف کی بیٹنگ صلاحیت اور کلاس بھی قابلِ دید تھی وہیں معین خان کے اگلی ٹانگ پر مارے گئے چھکے بھی۔ اور ان سب کی کپتانی دنیائے کرکٹ کی تاریخ کے سب سے عظیم بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر وسیم اکرم تھے۔

تاہم اگر آپ انہی کھلاڑیوں کے کیریئر دیکھیں تو ایک دو کے علاوہ زیادہ تر وہ نہیں پا سکے جس کے وہ حق دار تھے۔

اسی طرح وہ کھلاڑی جن کے کیریئر کا اختتام شاندار ہونا چاہیے تھا وہ کہیں گم ہو گئے اور ساتھ ہی وہ نسلیں بھی جو ان سے متاثر ہو کر کرکٹ میں آنا چاہتی تھیں۔

سعید انور جیسے اوپنر کی تلاش آج بھی جاری ہے، خود اعتمادی کا فقدان ویسا ہی ہے اور آج بھی بلے بازوں کی لائن لگنے میں دیر نہیں لگتی۔

ان سب کے لیے 1999 کے ورلڈ کپ کی شکست کو ہی مورد الزام ٹھہرانا غلط ہو گا لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر 20 جون 1999 کی شام ورلڈ کپ وسیم اکرم نے اٹھایا ہوتا تو آنے والے سالوں میں یہاں کرکٹ سے منسلک نظام کو ضرور تقویت ملتی۔

ایک دہائی میں دو ورلڈکپ جیتنے سے عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوتا اور کرکٹ کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلوں میں اس کی بات کا بھی وزن ہوتا لیکن اس کے برعکس پاکستان کے حصے میں سپاٹ فکسنگ اور ڈوپنگ سکینڈلز آئے اور بس جگ ہنسائی ہی ہوئی.

جب اس ٹیم کے اکثر پرانے کھلاڑی 2003 میں کرکٹ کو خیرباد کہہ گئے تو اس کے بعد یکجا کی جانے والی ٹیم یقیناً ایک 'عظیم' ٹیم کا متبادل نہیں تھی۔

یہی نہیں پاکستان کرکٹ کا روایتی جارحانہ انداز بھی جاتا رہا اور پرفارمنس بھی گرتی گئی۔ ہم ایک عظیم ٹیم سے ایک انتہائی معمولی ٹیم بن گئے۔آج 21 برس بعد مڑ کے دیکھیں تو یہ سال باتوں کی سمجھ تو آ گئی ہے، لیکن پھر بھی دل نہیں مانتا۔

ہماری نسل اور پاکستان میں کرکٹ کے مداحوں کی زبانوں پر یہ جملہ کہ 'اگر یہ ہو جاتا تو' بھی شاید اسی شکست کے بعد چڑھا۔

’اگر وسیم اکرم ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کر لیتے تو۔۔۔ اگر سعید انور بلے کی گرپ تبدیل نہ کرتے تو۔۔۔ وغیر وغیرہ‘

اگر یہ ورلڈ کپ جیت جاتے تو۔۔۔ شاید کچھ نہ بدلتا، 92 کے بعد کیا بدلا تھا، نظام؟ کلچر میں کون سی تبدیلی آئی تھی؟ ہاں، ایک نسل کا دل نہ ٹوٹتا، کرکٹ سے دل اچاٹ نہ ہو۔

دل کا کیا ہے، دل مان بھی جائے لیکن جب دو دہائیوں میں پانچ مرتبہ ایک ہی کرتب دہرایا جائے، تو خفگی بنتی ہے۔

لارڈز کے میدان پر کھیلے گئے اس فائنل نے واقعات کے ایک ایسے تسلسل کو جنم دیا جو آج تک تھم نہیں سکا۔

21 ویں صدی میں داخل ہونے سے قبل چند بہتر فیصلوں کی ذریعے کرکٹ کا ہی نہیں پوری قوم کی سمت کا تعین کرنے کا بہترین موقع گنوایا گیا اور آج میرے جیسے زومرز یہی سوچتے ہیں کہ

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

٭٭٭


ای پیپر