بھارت چین کشیدگی 1962،امریکہ کاپلان ،نہروکا خفیہ خط
22 جولائی 2020 (21:53) 2020-07-22

اسد شہزاد

انڈیا اور چین کے تعلقات آج جس نہج پر ہیں وہاں ایک بار پہلے بھی تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہی طرح انڈیا کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے بھی چین کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔یہ ہندی چینی بھائی بھائی کا زمانہ تھا، لیکن پھر1962 میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوئی، انڈیا کی فوج اس جنگ کے لیے تیار نہیں تھی اور پھر وہی ہوا جو ایسے حالات میں ہوتا ہے۔جنگ میں شکست اب تک نہرو کی لیگیسی یا سیاسی ورثہ پر وہ داغ ہے جو ان کی باقی کامیابیوں کو پھیکا کر دیتا ہے۔ وہ کبھی اس صدمے سے ابھر نہیں پائے اور اس کے بعد دو سال سے بھی کم عرصہ زندہ رہے۔

نہرو کے لیے شاید سبق یہ تھا کہ بین الاقوامی رشتوں میں نعروں اور ’پرسنل کرسما‘ یا پر کشش شخصیت کی اہمیت تو ہوتی ہے لیکن اتنی نہیں کہ ملک اپنے نیشنل انٹریسٹ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کریں۔ صحیح ہو یا غلط حکومتیں وہی کرتی ہیں جو انہیں خود اپنے اور اپنے ملک کے مفاد میں نظر آتا ہے۔ وہ اس لیے کہ حکومت کرنے کے لیے حکومت میں رہنا ضروری ہے۔ جمہوری نظام حکومت ہو یا چین جیسا سسٹم، داخلی سیاست کے تقاضے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔اس لیے چیئرمین ماؤ نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ نہرو اچھے انسان ہیں، واقعی چین سے دوستی چاہتے ہیں، چلو سرحد اسی حساب سے طے کر لیتے ہیں جیسے وہ چاہتے ہیں۔اب نریندر مودی بھی یہ سبق سیکھ رہے ہیں۔اگر یہ تقاضے نہ ہوتے، اور قومی مفاد کے ساتھ سمجھوتہ کرنیکے الزام کا خوف نہ ہوتا تو شاید نہرو نے 1960میں چین کے ساتھ سرحدی تنازعے پر سمجھوتہ کر لیا ہوتا۔ اس وقت چین بظاہر اکسئی چن اور اروناچل پردیش کو(جسے چین تبت کا حصہ مانتا ہے) ’بارٹر‘ بناکر سرحدی تنازع ختم کرنے کے لیے تیار تھا، پیکج ڈیل بنیادی طور یہ بتائی جاتی ہے کہ انڈیا اکسئی چن پر چین کا دعوی تسلیم کر لیتا اور چین اروناچل پردیش پر انڈیا کا دعوی۔ لیکن ساٹھ سال بعد دونوں ملک پھر اسی مشکل موڑ پر کھڑے ہیں۔

1962ء کے چینی حملے میں چینی فوج کی تعداد صرف انڈین فوج سے دگنی تھی بلکہ ان کے پاس بہتر ہتھیار تھے اور وہ لڑائی کے لیے پوری طرح تیار بھی تھی۔ ان کے پاس رسد کی بھی کمی نہیں تھی۔ سب سے بڑھ کر ان کی قیادت تجربہ کار تھی اور انھیں دس سال قبل کوریا میں جنگ کا اچھا تجربہ حاصل تھا۔انڈیا کو پہلا دھچکا والونگ میں لگا، جس کے بعد لا پاس بھی انڈیا کے ہاتھوں سے جاتا رہا۔ اس علاقے میں انڈیا کے دس سے بارہ ہزار فوجی چین کے 18 سے 20 ہزار فوجیوں کا سامنا کر رہے تھے۔ان کے پاس پہلی عالمی جنگ کے وقت کی ’لی اینفیلڈ‘ رائفلیں تھیں۔ امریکہ سے بھیجی گئی خودکار رائفلیں ان تک پہنچ تو گئی تھیں لیکن انھیں ابھی پیکنگ کٹس سے بھی نہیں نکالا گیا تھا۔اوپر سے فوجیوں کو ابھی تک ان کو چلانے کی تربیت نہیں دی گئی تھی۔ لا پاس کے بعد چینی بومڈیلا شہر کی طرف آئے اور مجموعی طور پر انڈیا کا 32000 مربع میل علاقہ چین کے کنٹرول میں آ گیا تھا۔نیووِل میکس ویل اپنی کتاب 'انڈیاز چائنا وار' میں لکھتے ہیں: 'صورتحال اس قدر خراب ہوگئی تھی کہ انڈین کمانڈر بیجی کول نے نہرو سے کہا کہ کچھ غیر ملکی افواج کو انڈیا کی مدد کے لیے بلایا جائے تاکہ چین کے خلاف جوابی کارروائی ہوسکے۔'

اس وقت انڈیا میں امریکی سفیر جے کے گالبریتھ تھے۔ انھوں نے اپنی سوانح عمری 'اے لائف ان آور ٹائمز' میں لکھا ہے: 'ہر سطح پر انڈین صدمے کی حالت میں تھے۔ ملک بھر میں انڈین ایئرلائنز کی پروازیں منسوخ کردی گئیں تاکہ ان طیاروں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ نہ صرف آسام بلکہ بنگال اور یہاں تک کہ کلکتے پر بھی خطرے کے بادل منڈلا رہے تھے۔' اسی دوران 19 نومبر کو نہرو نے امریکی صدر کینیڈی کو دو خطوط لکھے۔ یہ خطوط واشنگٹن میں انڈین سفارتخانے سے وائٹ ہاؤس بھیجے گئے تھے۔ ان خطوط، خاص طور پر دوسرے خط کو اس وقت تک ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔بعد میں گیلبریتھ نے اپنی ڈائری میں لکھا: 'ایک نہیں، ہمارے پاس مدد کے لیے دو درخواستیں آئی تھیں۔ دوسری درخواست بہت خفیہ رکھی گئی۔ یہ خط صرف صدر کے لیے تھا اور پھر اسے ضائع کیا جانا تھا۔'اس کے بعد آنے والی بہت ساری انڈین حکومتوں نے اس طرح کے کسی بھی خط کے وجود سے انکار کیا ہے۔ لیکن مشہور صحافی اندر ملہوترا نے 15 نومبر سنہ 2010 کو انڈین ایکسپریس میں شائع اپنے مضمون 'جے این ٹو جے ایف کے، آئیز اونلی' میں لکھا: 'نہرو کے جانشین لال بہادر شاستری نے بتایا کہ انھوں نے وزیر اعظم سیکرٹریٹ اور وزارت خارجہ میں موجود تمام ریکارڈز کی چھان بین کرائی لیکن ان خطوط کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔' امریکی محکمہ خارجہ کے آرکائیوز نے ان خطوط کے وجود کو تسلیم کیا ہے تاہم ان میں کیا لکھا ہے، اسے راز رکھا ہے۔پھر 2010ء میں جے ایف کینیڈی صدارتی لائبریری اور میوزیم نے ان خطوط کو عام کر دیا۔ اس خط میں نہرو نے لکھا: 'چینیوں نے نیفا کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ کشمیر کے لداخ میں چوشال پر بھی قبضہ کرنے والے ہیں۔'اس کے بعد نہرو نے لکھا: 'انڈیا کو چینی حملے سے نمٹنے کے لیے نقل و حمل اور جنگی طیاروں کی ضرورت ہے۔' نہرو نے اس خط کا خاتمہ اس طرح کیا کہ وہ 'اسی قسم کا خط برطانوی وزیر اعظم ہیرولڈ میکمیلن کو بھی روانہ کر رہے ہیں۔'وائٹ ہاؤس کو ابھی یہ خط موصول ہوا ہی تھا کہ گیلبریتھ نے امریکی صدر، وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کو ایک خفیہ ٹیلی گرام بھیجا۔اس میں لکھا تھا: 'مجھے خفیہ طور پر معلوم ہوا ہے کہ نہرو آپ کو ایک اور خط بھیجنے والے ہیں اور اس کے بارے میں وزرا تک کو نہیں بتایا گیا ہے۔'امریکہ میں انڈیا کے سفیر بی کے نہرو نے 19 نومبر کو صدر کینڈی کو دوسرا خط اپنے ہاتھوں سے دیا۔ دوسرے خط میں نہرو نے لکھا: 'آپ کو پہلا پیغام بھیجنے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی نیفا میں صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔ پوری برہمپتر وادی کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ اگر فوری طور پر کچھ نہیں کیا گیا تو پورا آسام، تریپورہ، منی پور اور ناگا لینڈ چین کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔'اس کے بعد نہرو نے واضح مطالبہ کرتے ہوئے لکھا: 'ہمیں کم سے کم جنگی طیاروں کے 12 سکواڈرن چاہییں۔ ابتدا میں، جب تک ہمارے پائلٹ ان کو چلانے کی تربیت نہیں لے لیتے اس وقت تک امریکی پائلٹوں کو انھیں چلانا ہوگا۔ امریکی پائلٹوں کا استعمال انڈین شہروں اور اڈوں کی حفاظت کے لیے کیا جائے گا۔ لیکن تبت کے اندر فضائی حملے صرف انڈین فضائیہ ہی کرے گی۔ اس کے لیے ہمیں بی 47 بمبار کے دو سکواڈرن کی ضرورت ہوگی۔'نہرو نے کینیڈی کو یقین دلایا کہ ان ہتھیاروں کا استعمال صرف چین کے خلاف ہوگا اور پاکستان کے خلاف ان کا استعمال کبھی نہیں ہوگا۔ (جان ایف کینیڈی صدارتی لائبریری اور میوزیم، نہرو خط و کتابت، 11 نومبر- 1962) دوسرے خط میں نہرو نے واقعتاً کینیڈی سے 350 جنگی طیاروں کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کو چلانے کے لیے کم از کم دس ہزار سپورٹ سٹاف کی ضرورت تھی۔ ڈینس کک اپنی کتاب 'انڈیا اینڈ یونائٹیڈ سٹیٹس: ایسٹرینجڈ ڈیموکریسیز' میں لکھتے ہیں: 'امریکہ میں انڈین سفیر بی کے نہرو کو وزیر اعظم نہرو کے خط سے اتنا صدمہ پہنچا کہ انھوں نے اپنے کسی عملے کو یہ خط نہیں دکھایا اور اپنی میز کی دراز میں رکھ دیا۔ بعد میں انھوں نے ایک مورخ سے کہا کہ نہرو نے نفسیاتی طور پر بہت دباؤ میں آنے کے بعد ہی یہ خطوط لکھے ہوں گے۔'بعد میں بی کے نہرو نے اپنی سوانح عمری 'نائس گائز فنیش سیکنڈ' میں لکھا: 'پہلا خط ہی ہماری ناوابستہ پالیسی کے خلاف تھا۔ دوسرا خط اتنا قابل رحم تھا کہ اسے پڑھ کر میں اپنی غیرت اور صدمے پر بمشکل قابو کرسکتا تھا۔'

دوسری طرف دہلی کے روزویلٹ ہاؤس میں سفیر گیلبریتھ نے 20 نومبر 1962ء کے اپنی ڈائری کے صفحے پر لکھا: 'آج کا دن دہلی میں سب سے زیادہ خوف کا دن تھا۔ میں نے پہلی بار لوگوں کا حوصلہ ٹوٹتے ہوئے دیکھا۔ میں نے وائٹ ہاؤس کو لکھا کہ فوری طور پر سامان اور 12 سی -130 طیارے بھیجے۔ نیز ساتویں بیڑے کو خلیج بنگال کی طرف روانہ کریں۔'انڈینز نے امریکی بحریہ سے کوئی مدد طلب نہیں کی تھی لیکن گیلبریتھ نے سوچا کہ خلیج بنگال میں ساتویں بیڑے کی موجودگی چین کو ایک واضح پیغام دے گی کہ امریکہ اس بحران میں انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔کینیڈی نے فورا ہی گیلبریتھ کا مشورہ قبول کرلیا اور ہونولولو میں پیسیفک فلیٹ کے ہیڈکوارٹر سے کہا کہ فوری طور پر ساتواں بیڑا بھیجا جائے۔ حکم ملنے پر یو ایس ایس کیٹی ہاک کو خلیج بنگال بھیج دیا گیا۔نہرو کے دونوں خطوط کا جواب دیتے ہوئے انڈیا کی ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے کینیڈی نے فورا ہی ایورل ہیری مین کی سربراہی میں ایک اعلی طاقت والی ٹیم کو دہلی روانہ کیا۔فوری طور پر امریکی فضائیہ کے سی 135 طیارے کو اینڈریوز ایئرپورٹ سے روانہ کیا گیا۔ترکی میں ایندھن کے لیے تھوڑی دیر رکنے کے بعد ہرمین اور کینیڈی انتظامیہ کے دو درجن عہدیدار 22 نومبر کی شام 6 بجے 18 گھنٹے کی پرواز کے بعد دہلی پہنچے۔گیلبریتھ ان سب کو ہوائی اڈے سے براہ راست نہرو کی رہائش گاہ پر لے گئے۔ لیکن اس سے پہلے ہی 21 نومبر کی صبح 'چوری چھپے امن آیا' کیونکہ 20 نومبر کی رات کو چین نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیا۔صرف یہی نہیں، چین نے یہ اعلان بھی کیا کہ اس کی افواج سات نومبر سنہ 1959 کو لائن آف ایکچول کنٹرول سے بھی 20 کلومیٹر پیچھے چلی جائے گی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماؤ نے جنگ بندی اور نیفا سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیوں کیا؟بروس رایڈیل اپنی کتاب 'جے ایف کینز فارگوٹن کرائسز تبت، دی سی آئی اے ایند دی سائنو انڈو وار' میں لکھتے ہیں: 'ماؤ کے فیصلے کے پیچھے بہت ساری لاجسٹک وجوہات تھیں۔ سرد موسم شروع ہونے ہی والا تھا اور تبت اور ہمالیہ میں چینی فوج کو اپنی رسد برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا پیش آنے والا تھا۔ چین کے پاس سیلی گوڑی نیک توڑ کر آسام میں داخل ہونے کا اچھا موقعہ تھا۔ ایسا کرنے سے وہ مشرقی پاکستان سے متصل علاقے تک پہنچ سکتے تھے۔ لیکن ماؤ نے سوچا ہوگا کہ ایسا کرنے سے وہ کینیڈی کو انڈیا کی طرف سے مداخلت کرنے پر مجبور کردیں گے۔'جس طرح سے امریکی فضائیہ اور برطانیہ کی رائل ایئرفورس انڈیا کو امداد فراہم کررہی تھیں اس سے یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ امریکہ اور برطانیہ نہ صرف انڈیا کو اخلاقی مدد فراہم کررہے تھے بلکہ فوجی امداد بھی فراہم کررہے تھے۔نومبر کے وسط تک یہ مدد میدان جنگ تک پہنچ رہی تھی۔ نومبر کے آخر تک ماؤ کو اندازہ ہوچکا تھا کہ اس جنگ میں انڈیا تنہا نہیں ہے اور جتنی دیر تک یہ جنگ جاری رہے گی امریکی اور برطانوی ہتھیاروں کی زیادہ مقدار انڈیا تک پہنچ جائے گی۔

٭٭٭


ای پیپر