کرونا وائرس اور آم
22 جولائی 2020 (21:48) 2020-07-22

فہد سعید گوندل

دسمبر 2019 میں کورونا وائرس بظاہر چین تک ہی محدود تھا لیکن چند ہفتوں میں کووڈ-19 کی بیماری کا باعث بننے والا کورونا وائرس ایک عالمی وبا بن گیا۔یہ وائرس جو سانس کی بیماری کا باعث بنتا ہے اور جسمانی سیال - جیسے بلغم اور تھوک کے ذرات سے پھیل سکتا ہے، اب تک کم از کم دنیا کے 188 ممالک میں سامنے آچکا ہے۔سائنس دانوں، صحت حکام اور دنیا بھر کی حکومتوں نے شہریوں کو سماجی فاصلے پر عمل کرنے اور ضروری مقاصد کے علاوہ باہر جانے سے گریز کرنے کی ترغیب دی ہے۔جانز ہوپکنز یونیورسٹی کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق 12 جولائی کی دوپہر تک دنیا بھر میں ایک کروڑ 27 لاکھ 21 ہزار 778 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 5 لاکھ 65 ہزار 219 اموات ہوئی ہیں۔علاوہ ازیں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 70 لاکھ 5 ہزار 950 افراد صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔

کورونا بیماری نے دنیا بھر نہ صرف انسانوں کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے بلکہ معیشت کو بھی دبوچ رکھا ہے۔اس نے دنیا کے بڑے ممالک کی معاشی بنیادوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیا، سابق امریکی وزیر خارجہ اور امریکی پالیسیوں کے ماہر ھنری کسنجر نے خبردار کیا ہے کہ کرونا کی وبا عارضی نہیں بلکہ اس کے تباہ کن معاشی معاشرتی اثرات آنے والی نسلوں میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔انہوں نے خبر دار کیا کہ کرونا وائرس سے عمرانی معاہدوں کا شیرازہ بکھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ کرونا کے بعد کی دنیا اس سے پہلے کی دنیا سے مختلف ہوگی اور میری نگاہ میں کرونا آنے والے دور میں ایک نیا 'ورلڈ آرڈر' ثابت ہوگا۔ انھوں نے امریکا اور پوری دنیا میں معاشی افراتفری پھیلنے اور بڑے پیمانے پرمعاشی تبدیلیوں کا بھی عندیہ دیا۔

عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا میں 5لاکھ67 ہزار649 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک کروڑ28 لاکھ15ہزارسے زائد متاثر ہیں جب کہ 74لاکھ078ہزار198 شفایاب ہوئے ہیں۔امریکہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ممالک میں پہلے نمبر پر جہاں33 لاکھ 55ہزار646افراد متاثرہیں۔ گزشتہ24 گھنٹوں میں مزید677 افراد ہلاک ہوئے اور مجموعی تعداد ہلاکتیں ایک لاکھ37ہزار406 ہوگئی ہے۔ برازیل میں18لاکھ40ہزار سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہیں اور 71ہزارسے زائد اموات ہوئی ہیں۔ بھارت کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں مریضوں کی تعداد8لاکھ50ہزارسے زائد ہے اور22ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ روس میں کورونا سے7لاکھ20ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں اور اموات کی مجموعی تعداد11 ہزار205 ہوگئی ہے۔

پیرو میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 11 ہزار682 ہوگئی ہے جبکہ مجموعی کیسز کی تعداد 3 لاکھ22 ہزار سے زائد ہے۔کورونا وائرس سے چلی میں تین لاکھ 12ہزار 29 افراد متاثر ہیں اور 6 ہزار 881 جاں بحق ہوچکے ہیں۔اسپین میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہزارچار سوسے تجاوز کر گئی ہے جبکہ مجموعی کیسز کی تعداد تین لاکھ 988 ہے۔میکسیکو میں دو لاکھ 95 ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے اور34 ہزار730 افراد جان کی بازی ہار کے ہیں۔برطانیہ میں کورونا سے اموات کی تعداد 44 ہزار 798 سو سے بڑھ گئی جبکہ 2 لاکھ 88 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔ برطانیہ میں کورونا ٹیسٹ اینڈ ٹریس سسٹم لاگو ہے اور کورونا مریضوں سے ملاقات کرنے والوں کو آئسولیٹ کیا جا رہا ہے۔ جنوبی افریقہ میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار971 ہوگئی ہے جبکہ دو لاکھ 64 ہزار184افراد متاثر ہوچکے ہیں۔ ایران میں دو لاکھ 55 ہزار سے زائد افراد کوروناوائرس سے متاثر ہیں اور12 ہزار635جاں بحق ہوچکے ہیں۔ پاکستان کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ممالک میں 12ویں نمبر پر ہے جہاں2 لاکھ46ہزار351 افراد متاثر اور5ہزار123 ہلاک ہوچکے ہیں۔

اگر پاکستان کی صورتحال کو دیکھیں تو مہلک کورونا وائرس کے کیسز اور اموات کی تعداد پاکستان میں بھی روز بروز بڑھ رہی ہے۔آج 14 جولائی کو سامنے آنے والے کورونا کے نئے اعداد و شمار کے بعد ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 53 ہزار 604 جبکہ اموات 5 ہزار 320 تک پہنچ گئیں۔14جولائی کو کورونا وائرس کے 622 نئے کیسز اور 16 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ مزید 8 ہزار 736 مریض صحتیاب ہونے میں کامیاب رہے۔یاد رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے ابتدائی دو کیسز ایک ہی دن یعنی 26 فروری کو کراچی اور گلگت بلتستان میں سامنے آئے تھے اور 4 ماہ کے بعد پاکستان کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں 12ویں نمبر پر ہے۔تاہم جولائی کے آغاز سے پاکستان میں کورونا وائرس کے یومیہ کیسز میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ملک میں پہلے کیس کے بعد سے 31 مارچ تک متاثرہ افراد کی تعداد لگ بھگ 2 ہزار کے قریب تھی جبکہ 26 اس بیماری کے باعث لقمہ اجل بنے تھے تاہم اپریل میں کیسز بڑھنا شروع ہوئے اور ایک ماہ میں یہ ساڑھے 16 ہزار کے مجموعی ہندسے کو عبور کرگئے جبکہ اموات 385 تک جاپہنچیں۔مئی کا مہینہ صورتحال میں یکسر تبدیلی کا باعث بنا اور مہینے کے آخر تک کیسز 71 ہزار جبکہ اموات 1500 سے تجاوز کرگئیں۔ جس کے بعد جون کے مہینے میں کیسز کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا اور ایک دن میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 6 ہزار سے زائد تک جا پہنچی تھی۔جون کے آخری دن تک ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 2 لاکھ 12 ہزار 541 تک جا پہنچی جبکہ 4 ہزار 354 مریض زندگی کی بازی ہار چکے تھے۔تاہم جولائی کے آغاز سے کیسز اور شرح اموات میں کمی رپورٹ ہونے کے باوجود حکام نے زور دیا کہ احتیاطی تدابیر پر عمل جاری رکھا جائے۔

صوبہ پنجاب کی صورتحال گزشتہ ماہ کے مقابلے میں قدرے بہتر ہوتی نظر آرہی ہے اور14جولائی کو 24 گھنٹوں کے دوران 449 نئے کیسز سامنے آئے۔ملک میں کووِڈ 19 کی صورتحال پر نظر رکھنے والے پورٹل کے اعداد و شمار کے مطابق مزید 16 افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد پنجاب میں اموات کی تعداد 2026 تک پہنچ گئی ہے۔اب تک پنجاب میں مجموعی طور پر 87 ہزار 492 افراد وبا کا شکار بن چکے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں مزید 94 کیسز سامنے آئے اور متاثرہ افراد کی تعداد 14 ہزار 108 سے بڑھ کر 14 ہزار 202 ہوگئی۔سرکاری ویب سائٹ کے مطابق شہر اقتدار میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2 مریض کورونا وائرس کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے۔ آزاد کشمیر میں وبا کا پھیلاؤ خوش قسمتی سے شروع سے ہی کافی حد تک کنٹرول میں رہا تاہم 14جولائی کو 56 نئے کیسز اور ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی۔اس طرح آزاد کشمیر میں اب تک ایک ہزار 655 افراد وبا سے متاثر جبکہ 45 انتقال کر چکے ہیں۔گلگت بلستان میں گزشتہ 14جولائی کو مزید 23 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی اور متاثرین کی مجموعی تعداد ایک ہزار 694 ہوگئی۔سرکاری ویب سائٹ کے مطابق گلگت میں14جولائی کوکوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی اور اب تک ہونے والی اموات کی تعداد 36 ہے۔

روز بروز کورونا وائرس کے نئے کیسز رپورٹ ہونے کے ساتھ ساتھ وائرس سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔کووِڈ 19 کے سرکاری پورٹل کے مطابق کے 14جولائی کے 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 8 ہزار 739 مریض اس وائرس سے مکمل شفایاب ہوگئے۔اس طرح پاکستان میں ان 4 ماہ سے زائد کے عرصے میں کورونا وائرس سے شفا پانے والوں کی تعداد ایک لاکھ 61 ہزار 917 سے بڑھ کر ایک لاکھ 70 ہزار 656 ہوگئی۔ ملک میں عالمی وبا کے کیسز، اموات اور صحتیاب افراد کی تعداد میں اضافے کے بعد اگر مجموعی صورتحال پر نظر ڈالیں تو وہ کچھ اس طرح ہے۔مصدقہ کیسز: 253604،اموات: 5320،صحتیاب: 170656،فعال کیسز: 77628۔

تاہم قطری خبررساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق عالمی وبا کو 7 ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد اب بھی دنیا میں چند ممالک ایسے ہیں جہاں سے کورونا وائرس کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ ان ممالک میں کیریباتی، مارشل آئلینڈز، مائیکرونیشیا، ناورو، شمالی کوریا، پلاؤ، سامووا، جزائر سلیمان، ٹونگا، ترکمانستان، تووالو اور وانواتو شامل ہیں۔کورونا وائرس کا کوئی بھی کیس رپورٹ نہ کرنے والے ممالک میں سے ترکمانستان وسطی ایشیا اور شمالی کوریا مشرقی ایشیا میں واقع ہے جبکہ دیگر ممالک کا تعلق خطہ اوقیانوسیہ (Oceania) سے ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے اس وائرس کو COVID-19 کا نام دینے کا اعلان کیا تھا تاکہ اپنے ضابطہ اخلاق کی روشنی میں مرض کو کسی جانور یا کسی خطے سے منسوب نہ کیا جائے۔جس کے بعد مارچ میں دنیا کے 100 سے زائد ممالک تک پھیلنے کے بعد عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کو عالمگیر وبا (Pandemic) قرار دیا تھا۔عالمی وبا کا پہلا کیس رپورٹ ہونے کے 6 ماہ بعد 28 جون کو دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کرگئی تھی۔اس وقت دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک امریکا ہے ۔اس وقت دنیا کے اکثر ممالک مکمل لاک ڈاؤن کا خاتمہ کرکے جزوی لاک ڈاؤن کی طرف جارہے ہیں تاہم وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ برقرار ہے۔گزشتہ دنوں ازبکستان میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا اور ہانگ کانگ نے بھی اسکولز دوبارہ بند کردیے تھے جبکہ کیسز میں اضافے کے باعث آسٹریلیا نے 100 سال بعد ریاستی سرحدیں بھی بند کردی ہیں اور میلبورن میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔جس کے باعث عالمی ادارہ صحت نے ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ممالک کو اقدامات تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب بھی اس پر قابو پانا ممکن ہے اور اس حوالے سے ایک جارحانہ حکمت عملی اپنائی جانی چاہیے۔

٭٭٭


ای پیپر