کشمیر کا سودا کون کر رہا ہے ،سینٹ اجلاس میں شور شرابا
22 جولائی 2020 (20:27) 2020-07-22

اسلام آباد: سینیٹ میں قائد ایوان شہزاد وسیم نے واضح کیا ہے کہ کشمیر کا سودا کوئی نہیں کرسکتا ،جب نواز شریف مودی کی تقریب حلف برداری میں گئے ہم نے تب بھی نہیں کہا تھا کشمیر کا سودا ہوگیا ،اب ہمیںکہتے ہیں کشمیر کا سودا کیا جارہا ہے ،طارق فاطمی اور سرتاج عزیز بیک وقت وزارت خارجہ میں بیٹھے تھے ،کیا تب حساس فیصلے نہیں ہوتے تھے ،وہ جائز تھے اور اب ناجائز ہیں ، دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے،پارلیمنٹ مل کر بیٹھے اور نیب قانون کی کمزوریوں کو دور کرے ،ترمیم کو احتساب کے قانون سے بچنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔

شہزاد وسیم نے کہاکہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے دورہ بھارت میں حریت قیادت کی بجائے جندال سے ملاقات کی ،نوازشریف نے مودی کو اپنے گھر بلایا اور ہمیں کہتے ہیں کشمیر کا سودا کیا جارہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں کشمیر ، برہان وانی اور اسلام و فوبیا کی بات کی۔

انہوں نے کہاکہ آئینی و قانونی بندش نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم نے اپنے معاونین کے اثاثے ظاہر کرنے کیلئے کہا ۔ انہوںنے کہاکہ طارق فاطمی اور سرتاج عزیز بیک وقت وزارت خارجہ میں بیٹھے تھے کیا تب حساس فیصلے نہیں ہوتے تھے ،وہ جائز تھے اور اب ناجائز ہیں ، دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے۔


ای پیپر