file photo

سپریم کورٹ نے پاکستان میں یوٹیوب بند کرنے کاعندیہ دیدیا
22 جولائی 2020 (12:59) 2020-07-22

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک میں یوٹیوب بند کرنے کا عندیہ دیدیا، سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس لے لیا، عدالت نے نوٹس فرقہ وارانہ جرم میں ملوث شوکت علی کی ضمانت کے مقدمے میں لیا۔

دوران سماعت جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں آزادی اظہار رائے سے کوئی مسئلہ نہیں، ہماری کارکردگی اور فیصلوں پر عوام کو بات کرنے کا حق ہے، نجی زندگی کا حق بھی ہمیں آئین دیتا ہے۔

جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی اے اور پی ٹی اے نے دیکھا ہے یوٹیوب پر کیا ہو رہا ہے؟ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر ہمارے خاندانوں کو بخشا نہیں جاتا، کوئی یوٹیوب پر چاچا تو کوئی ماما بن کر بیٹھ جاتا ہے۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ججز کو شرمندہ کیا جاتا ہے، کل ہم نے فیصلہ دیا اور وہ یوٹیوب پر شروع ہو گیا، ہم تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں آخر اس کا اختتام تو ہونا ہے۔

پی ٹی اے حکام نے کہا کہ ہم انفرادی مواد کو ہٹا نہیں سکتے، صرف رپورٹ کر سکتے ہیں، جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ کئی ممالک میں یوٹیوب بند ہے، امریکا اور یورپی یونین کیخلاف مواد یوٹیوب پر ڈال کر دکھائیں۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ایسے جرم کے مرتکب کتنے لوگوں کیخلاف کارروائی ہوئی؟ آرمی عدلیہ اور حکومت کیخلاف لوگوں کو اکسایا جاتا ہے۔ عدالت نے وزارت خارجہ اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیئے۔


ای پیپر