امریکہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟
22 جولائی 2019 2019-07-22

ایک سال پہلے ٹرمپ نے کہا ہم نے تینتیس ارب ڈالر پاکستان کو دے کر بیوقوفی کی۔ وزیراعظم عمران خان بھی امریکی صدر کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اب پاکستان کے وزیراعظم کو خود ہی دعوت دے کر بلایا۔عرب نیوز کے مطابق امریکی صدر کو پاکستانی وزیراعظم کی ملاقات کرانے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلطان نے کردار ادا کیا ۔ بہرحال اب ایک دوسرے پر شک کرنے والے ان دو ملکوں دو انوکھے قائدین کے درمیان ملاقات ہورہی ہے۔ ہماری کسی سفارتی کوشش کے بغیر خود امریکی صدر کی دعوت پر ہونے والی یہ ملاقات ایک بڑا سفارتی چیلنج ہے۔زمینی حقائق یہ ہیں کہ نیشنل ایکشن پروگرام پر عمل درآمد، پاکستان اور خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر، امریکہ ایران تنازع، افغانستان سے امریکی افواج کا انخلااور اس کے بعد یہاں پر نئے سیٹ اپ کی تشکیل، پا کستان کا روس کے قریب آنا ایسے موضوعات ہیں جن کی وجہ سے امریکی پالیسی سازوں کو پاکستان کی یاد ستا رہی ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ بڑا ایجنڈا ہمارے خطے کی صورت حال ہی ہو گاجس میں چین، افغانستان، ایران اور بھارت سے پاکستان کے تعلقات اہم نکات رہیں گے ۔

ٹرمپ انتظامیہ کہتی ہے کہ’ اگر اسلام آباد دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرتا ہے توامریکا کا پاکستان کو پیغام ہے کہ تعلقات کی بہتری اور پائیدار شراکت کے قیام کے لئے دروازے کھلے ہیں‘۔ سفارتی زبان میں اس کی تشریح یہ کی جاسکتی ہے کہ بصورت دیگرے دروازے بند ہیں۔ وائٹ ہائوس کے پاس مطالبات کی فہرست ہے، عمران خان سے پاکستان میں خواتین و اقلیتوںکے حقوق، آزادی صحافت اور عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف ٹھوس ایکشن وغیرہ ۔ ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں قیام امن کیلئے اسلام آباد سے ٹھوس تعاون چاہتی ہے۔ ایک سنیئر امریکی افسر نے ملاقات سے پہلے کہا تھا کہ ہم کسی دھوکے میں نہیں ہیں، ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کا بغورجائزہ لے گی ۔

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے پہلے ٹرمپ کی خوشنودی کے لئے پاکستان نے 3بڑے اقدامات کئے ہیں،دوحا مذاکرات، حافظ سعید کی گرفتاری ،ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں سے بچنے کے لیے انتہا پسندی اور منی لانڈرنگ کے خلاف بھی واضح اقدامات۔ امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد بلکہ امریکہ ، چین اور روس نے مشترکہ طور پر پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔یاد رہے کہ عسکریت پسند گروپوں کے حوالے سے امریکہ اور بھارت کا نقطہ نظر ایک جیسا ہے۔

پاکستان کیلئے امریکی سکیورٹی امداد پر لگائی گئی پابندی کے حوالے سے امریکی افسر کا کہناتھا ’ اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیںہوگی تاہم اگر پاکستان امریکی خواہشات کے مطابق دہشت گردوں اور عسکریت پسند گروپوں کے خلاف ٹھوس اور جامع اقدامات کرتا ہے توکچھ پالیسیز پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے‘۔اب کولیشن سپورٹ فنڈ بحال ہونے کا امکان ہے جو گزشتہ ستمبر سے بند ہے۔ پاکستان کے نزدیک یہ دورہ معاشی مشن ہے۔اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے سیاسی حل میں اپنا کردار۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بھارت سے مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے کی فرمائش بھی ہو۔

دورے کا سب سے اہم پہلو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا وزیراعظم کے ساتھ جانا ہے جس پر کہا جارہا ہے کہ یہ وزیراعظم عمران خان کے خارجہ امور پر اختیارات کم ہونے کی طرف اشارہ ہے لیکن امریکی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان کے اس مضبوط ادارے سے ہی اپنے معاملات کی ضمانت چاہتا ہے۔ لہٰذا پاکستانی سول اور عسکری قیادت امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نئی جہت دینے پر متفق ہے۔

ایک خیال ہے کہ امریکہ کو پاکستان کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ وہ افغانستان میں جنگ ختم کرنے جا رہا ہے جبکہ خطے پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ معاملہ اس کے الٹ ہے۔ امریکہ کی اپنی پالیسیوں کی وجہ سے جنوبی اور مغربی ایشیاء میں پاکستان اور ترکی میں اپنا روایتی اثر کو کھو بیٹھاہے۔ تمام لینڈ لاکڈ وسطی ایشیائی ریاستیں متبادل راستے تلاش کر رہی ہیں انہی راستوں اوررابطوں میں اپنا مستقبل تلاش کررہی ہیں۔ امریکہ کے لئے اس خطے میں پہلی باربڑا مسئلہ ہو رہا ہے۔ ایشیائی معاشی طاقتیں ابھرتی رہی ہیں اور وہ نہ صرف اس خطے بلکہ عالمی سطح پر اپنا کردار متعین کر رہی ہیں۔ چین، روس، ایران اور پاکستان کا طاقتور بلاک بن سکتا ہے۔ خطے میں دو مرکز چین اور بھارت بن رہے ہیں۔بھارت کو علاقائی صف بندی میں بڑی اہمیت حاصل کررہا ہے۔ سی پیک خطے خواہ عالمی معیشت کی تنظیم نو اور سیاسی صف بندی کر رہا ہے۔لہٰذا امریکہ اس خطے میں نئی مہم جوئی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اس مرتبہ ایک عرب ملک میں اپنی افواج اتار رہا ہے۔ایران کے ساتھ بھی تنازع میں ہے۔ ان حالات میں پاکستان اپنے محل وقوع کی وجہ سے اس کے لئے بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

امریکہ پاکستان کے موجودہ معاشی بحران کا آخری حد تک فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ معاشی ڈکٹیشن آئی ایم ایف نے دے دی، مزید ہدایات موجودہ دورے کے دوران عالمی اداروں کے عہدیداران سے ملاقات کے موقع پر ملیں گی۔اب خارجہ پالیسی کی باری ہے۔ امریکی فرمائش کچھ ایسی لگتی ہے کہ پاکستان پہلے کی طرح اس خطے میں امریکی مفادات کی حفاظت کے لئے فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار برقرار رکھے یعنی اس خطے کے تیل و گیس سمیت دیگر وسائل پر قبضے کی جنگ میں کھل کر امریکہ کا ساتھ دے۔ یہ مطالبات منوانے کے لئے امریکہ عالمی بینک، آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں کو استعمال کرے گا۔ امریکہ پاکستان کے معاشی بحران کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا۔ کیا پتا امریکہ اپنی وہ پرانی دھمکی یاد دلا دے کہ ’’اگر ہماری بات نہ مانی تو پتھر کے دورمیں واپس بھیج دیں گے‘‘۔

افغانستان کے حوالے امریکی قیادت کو مطمئن کر نا، ایران امریکہ کشیدگی خواہ سعودیہ ایران کشیدگی میں اپنے متوازن کردار کا تحفظ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔کوئی ایسا وعدہ نہیں ہونا چاہئے جو پاکستان کے لئے مسائل کھڑے کرے۔ اس وقت پاکستان میں سول ملٹری تعلقات نہایت ہی سازگار ہیں ۔ اب صرف یہ عمران خان پرمنحصر ہے کہ وہ امریکہ سے کیا لے کر آتے ہیں ۔


ای پیپر