فرانزک ٹیسٹ …
22 جولائی 2019 2019-07-22

وہ دانائے سُبل ، ختم الرسل ، مولائے کُل ، خاتم النبین، ہادیئِ مساکین ،رحمت اللعالمین ، سرور دوجہاں ، تاجدارِ کون ومکاں،امام الابنیا، وارثِ شہدائے کربلا ، وارث ِامت المسلمین ،ہادی ء برحق ، وہ آمنہ بی بی کے بطن سے ارض وسماء کو خوشبووں سے معطر کرنیوالا ، وہ کافرومسلم کے دلوں میں اپنی دیانت سے گھر کرنے والا ، دشمنوں کو شفقت سے شیروشکر کرنے والا ، وہ جس کے آنے سے قیصروکسریٰ کے محلوں کے درودیوار ہل گئے ، وہ جس کے جانے سے نبوت کے در ہمیشہ کے لئے سِل گئے ،وہ دُرِیتیم ، حامیء ِمسکین ، غریبوں کا والی ، غلاموں کا مولا ٰ، محبوبِ خدا ، محمدمصطفیٰ ، نبی آخرالزماں ، سردارِ دوجہاںؐ ، وہ جن کے ہونے سے ہم اور جن کے ہونے سے یہ کُل کائنات ہے ان پہ لاکھوں ، کروڑوں درود وسلام! ورنہ ہماری اوقات کیا کہ ہم دنیا و آخرت میں کسی درجے میںگنے تک بھی جا سکیں۔بعدازسلام !ناچیز براہ راست علامہ ٹرمپ کے سامنے دکھڑے رونے والوں سے مخاطب ہونے سے پہلے قادیانیت کی تاریخ اور آئین پاکستان کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہے کیونکہ بات دلیل سے ہو تو ہی بات بنتی ہے۔ذرا ایک لمحے کومنظر کشی کیجئے ، اُنیسویں صدی کا ہندوستان،برطانوی استعمار کا آسیب کی مانند چارسُو پھیلاؤ اور مسلمانوں کے دلوں میں آزادی کی مچلتی ہوئی خواہش ، لیکن المیہ یہ ہے کہ 1857ء کی جنگ آزادی میں سب شامل ہونے کے باجود۔۔ خراج صرف اداکیا توبس مسلمانوں نے ادا کیا ،علمائے کرام کا سرعام قتل کیا گیا ،انہیں درختوں کے ساتھ الٹا لٹکا کر زندہ جلا یا گیا۔لیکن کوئی انہیں جہاد سے نہ روک سکا ۔ ایسے میں برطانوی محقق ولیم ولسن ہنٹر(William Wilson Hunter)یہ کہتا رہا کہ اسلام کا تصور ِجہادبرطانوی راج کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وقت گزرتا رہا اور اسلامی نظریاتی اساس پر حملے شروع ہوتے چلے گئے ، ان حالات میں برطانوی سامراج کا سب سے بڑا ہتھیارایک ایسا شخص بنا جس کا تعلق ’قادیان‘ سے تھا۔ اس شخص کا نام مرزا غلام احمد قادیانی تھا اور یہ 1839ء میں پیدا ہوا ۔اس شخص نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز ایک مناظر کے طور پر کیا ،’ دعوی ء ِمجدد‘ اور’ دعوی ء مہدیئِ منتظر‘ سے ہوتے ہوئے اس نے یہ دعوی کر دیا کہ وہ ’مسیحِ موعود‘ ہے۔ بعدازاں موصوف نے نبوت کا دعوی بھی داغ دیا ۔اس شخص کی خام خیالی تھی کہ موصوف کی نبوت نعوذوباللہ نبی آخرلزماںؐ سے افضل اور بہتر ہے۔موصوف کے تشکیل کردہ دین کے مطابق ہر مسلمان کافرہے تاوقتِ کہ وہ قادیانیت میں داخل نہ ہوجائے ۔ یہ انیسویں صدی کے نصف کا دور تھا ، تحریک آزادی کے ساتھ ساتھ تحریک ختم نبوت بھی زور پکڑنے لگی ، مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی تو جیدعلماء نے قادیانیوں کو دین اسلام کے نقب زن قراردیا ۔اب بات پاکستان بننے کے بعد کی ہے ، تحریک پاکستان کی کامیابی کے بعد 1949 ء میں قراداد پاکستان کی متفقہ منظوری کے ساتھ لفظ’ مسلمان‘ کی Definition بھی واضح کردی گئی جس کے مطابق عقیدہِ ختم نبوت پر ایمان مسلمانیت کے لئے شرطِ اول قرارپائی۔ اس کے باوجود پاکستان کے بااثر قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے یہ فتنہ روز بروز جڑ پکڑتا گیاجس کے سدباب کے لئے 1953ء میں پاکستان میں بالخصوص اور عالمی سطح پر بالعموم ’مجلس تحفظ ختم نبوت ‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس مجلس کے پہلے امیر سید عطاء اللہ شاہ بخاری تھے، اس تحریک کا ایک ہی مقصد تھا کہ مذہبِ قادیانیت اور اس کے ماننے والوں کو آئینی سطح پر دائرہ اسلام سے خارج قراردیا جائے، یہ تحریک کوئی معمولی تحریک نہ تھی ، اس تحریک کے دوران سیکڑوں مسلمانوں نے ناموس رسالت پر اپنی جانیں نچھاور کیں ، ابتدائی دنوں میں پاکستان کے قادیانی وزیر خارجہ ظفراللہ خان کو کامیابی ملی لیکن لوگ مایوس نہ ہوئے اور تحریک کی روانی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید اضافہ ہوتا چلاگیا ،یہاں تک کہ 7ستمبر1974 ء کوقادیانی مرزا ناصر محمود پاکستانی پارلیمنٹ میں تیس گھنٹے تک جاری رہنے والے مباحثے میں شیخ مفتی محمود کے دلائل کے سامنے چاروں شانے چت ہوگئے اور پارلیمان نے باضابطہ طور پر قرارداد منظور کی کہ قادیانی غیرمسلم اقلیت اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ 26اپریل1984ء کوایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے مرزائیوں کو مسلمان کہلانے ،آذان دینے ،اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے اور شعائر اسلامی کے استعمال سے روک دیا گیا ، بات آئین کی کریں تو 1973کے آئین پاکستان کے پینل کوڈ کے سیکشن 298Bاور 298Cکے مطابق قادیانی فرقہ نہیں بلکہ دیگر اقلیتوں کی طرح اقلیت ہیں ، انہیں مملکت خداداد میں دوسری اقلیتوں کی طرح جینے کا پورا پورا حق ہے لیکن احمدی یا مرزائی یا قادیانی اپنی عبات گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے ، آذان نہیں دے سکتے، اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتے اور مسلمان بن کر جعلسازی سے اپنے گھڑے ہوئے اسلام کی دعوت نہیں دے سکتے۔ اور اگر آئین کو ایک طرف رکھ بات دین کی کریں تو فرمان نبویؐ ہے ۔۔ لانبی بعدی ولا امت بعدکم۔ یعنی میرے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کسی امت نے آنا ہے ۔نبی علیہ الصلواتہ والسلام کے فرمان پر ایمان اور ختم نبوت پر یقین امت مسلمہ کاچودہ سو سالہ عقیدہ ہے، اس بات کا اندازہ اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شہادتوں کی تعداد سے لگا لیجئے ، پورے اسلام کے دفاع کے لئے شہادتوں کی تعداد259جبکہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ایک ہی جنگ میں بارہ سو صحابہ کرام نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔یہ کوئی معمولی تحریک نہیں۔یہ تحریک تحفظِ ناموس رسالت ہے ، جو کل بھی زندہ باد تھی اور آج بھی زندہ باد ہے ،جس تحریک کو عالمی تحریک بننے اور جس تحریک کے ثمر کے ذریعے قادیانیوں کے خلاف قانون پاس ہونے میں اتنی جانوں کے نذرانے پیش کئے گئے ہوں وہ تحریک یعنی ختم نبوتؐ تمام مسلمانوں کے لئے ریڈ لائن ہے ۔اس معاملے پرتمام مکاتب فکر کے مسلمان ایک ہیں اور سمجھوتے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ علامہ ٹرمپ یعنی امریکی سامراج کے سامنے قادیانی بزرگ شکورصاحب کا دکھڑا سمجھ سے بالا تر ہے۔وہ وہاں دکھڑا سناتے رہے کہ انیس سو تہتر کے بعد ہم پر ظلم ہو ا ، ہماری نسلیں اجڑ گئیں ، ہمیں پاکستان میں جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، ہمیں کاروبار نہیں کرنے دیا جاتا سب جھوٹ اور فریب پر مبنی داستان تھی جس کا انگریزی میں ترجمہ سابق گورنر پنجاب کے صاحبزادے فرما رہے تھے ۔۔ تمام قارئین کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ پاکستان میں ایک ایسا شہر آباد ہے جہاں تمام لوگ قادیانی ہیں ، اپنا کاروبار کرتے ہیں ، ایک دوسرے کے ساتھ رشتے کرتے ہیں اور حیرت یہ ہے کہ نسل درنسل آباد اس شہر میں رہنے والوں کو کوئی کچھ نہیں کہتا ۔ کراچی سے لے کر خیبر تک قادیانیوں کی گلی محلوں میں عبادت گاہیں ہیں ، روزانہ کی بنیاد پر وہاں عبادت ہوتی ہے لیکن حیرت ہے کہ انہیں کوئی کچھ نہیں کہتا ، آئین پاکستان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ مسلمانوں کے بہروپ میں تبلیغ کرتے ہیں پھر بھی انہیں کوئی کچھ نہیں کہتا تو یہ دکھڑے سنانے کا مطلب آخر کیا ہے ۔ معاملہ یہ ہے کہ یہ مغرب کا ایجنڈا ہے کہ وہ آئین ِ پاکستان کے منکرین کو اس ملک پر مسلط کرکے ہم اور ہمارے ایٹمی اثاثوں سمیت ہمارے دینی خزانوں کو تہہ تیغ کرنا چاہتاہے۔ وہ تمام احباب جوشکور صاحب کے دکھڑوں پر’ آئین اسٹائین ‘کی طرح اپنی ’بے پر‘کی توجیہات پیش کر رہے ہیں ۔ ان سے محض اتنا کہنا ہے کہ اگر آپ کو دین کاعلم نہیں تو دینی معاملات پر طبع آزمائی کے بجائے خاموشی اختیا ر کیجئے ، اسی میں آپ کی بہتری ہے ورنہ نہ دنیا کے رہیں گے اور نہ دین کے ۔یہ سچ ہے کہ پاکستان میں غیرمسلموں اور اقلیتیوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا مسلمانوں کا ۔ لیکن صرف اُس صورت میں ،جب وہ اپنے آپ کو اقلیت یا غیرمسلم تسلیم کریں ۔ قادیانیوں کے معاملے میں حقیقت یکسر مختلف ہے۔ یہ لوگ وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو مسلمان پڑھتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اقلیت نہیں بلکہ مسلمان کہلواتے ہیں، یہ اپنے آپ کو مسلمانوں کا برتر فرقہ ظاہر کرتے ہیں ۔جبکہ شعائر اسلام سے وابستہ تمام مکاتب فکر اگر کسی ایک بات پر متفق ہیں تو وہ معاملہ’ تحفظ ختم نبوت‘ ہے ۔جب قادیانی اپنے آپ کو اقلیت یاغیر مسلم کہلوانے کی جسارت نہیں کرتے تو آپ کو بطور مسلمان ان سے کیسے ہمدردی ہوسکتی ہے۔ ختم نبوت مسلمانوں کے لئے ریڈ لائن ہے ۔ اور حدتو یہ ہے کہ قادیانی یہ ریڈ لائن بار بار کراس کرتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کریہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے مطابق ’ جو مسلمان ختم نبوت کا نعوذوباللہ انکار کرتے ہوئے قادیانیت میں داخل نہیں ہوجاتا اسے مسلمان نہ سمجھا جائے ‘ ۔ مسلمانو ! کیا تم ایسے شخص کے دکھڑوں پر اپنی رائے میں نرمی لارہے ہو جو تمہارے نبی کو آخری نبی نہ مانتا ہو ۔ اور اپنے عقیدے پر عدم پیروی کی صورت میں تم کو بھی مسلمان نہ مانتا ہو ۔سچ تو یہ ہے کہ ہمیں پارسی ، ہندو ، عیسائی اور کسی بھی مذہب یا اقلیت سے وابستہ شخص تو قابل قبول ہے لیکن دین ابراہیمی پر نقب لگا کر اپنی دکان چمکانے والے کو چاہے وہ کتنا قابل رحم ہی کیوں نہ ہو ۔ یہ قوم تسلیم نہیں کر سکتی۔ ہمیں دین اسلام کا کاونٹرفیٹ (Counterfiet)نہیں چاہیے ۔اب جو لوگ ان موصوف کی حمایت کا دم بھر رہے ہیں ۔ ان سے گزارش ہے کہ وہ فی الفور اپنے عقیدے کا فرانزک ٹیسٹ کرالیں ۔کیونکہ ریڈ لائن بہت معمولی سی ہے لیکن اس کا خراج انتہائی غیر معمولی۔


ای پیپر