اُجرتی قاتل سے اجرتی سیاست دان و اُجرتی دانشور تک
22 جولائی 2019 2019-07-22

میرے والد صاحب کسی بھی کام یا ہنر یعنی لکھائی، پڑھائی، بزنس یا زندگی کے کسی عملی کام میں تجربے کی افادیت بتانے کے لیے اور محنت اور صبر سے جتے رہنے کے لیے کہتے۔ ’’کمبلی جوں جوں پجے گی بھاری ہوندی جائے گی‘‘ کمبل جوں جوں پانی میں بھیگتا جائے گا وزنی ہوتا جائے گا یعنی انسان زندگی میں جوں جوں مختلف مراحل طے کرتا چلا جاتا ہے اس کے شعور ، مشاہدہ اور علم میں اضافہ ہوئے چلا جاتا ہے۔ انسانی فطرت ایسی چیز نہیں جو ہر وقت کسی کے اظہار ذات میں نمایاں ہو مثلاً دھوکہ بازی ، منافقت ، کنجوسی، خود غرضی اسی طرح اس کے برعکس دیانت داری، شفافیت، در مندی اور سخاوت بھی ہر وقت کا قصہ نہیں، چلتی زندگی میں چلتی دوستی اور رشتہ داری میں ایسے مقام آتے ہیں کہ شریک سفر چاہے وہ کیسی ہی شرکت ہو کی فطرت کسی نہ کسی موقعہ پر اجاگر و عیاں ہو جایا کرتی ہے جیسے ڈولفن مچھلی ہر وقت پانی کی سطح سے اوپر نہیں اڑتی رہتی کبھی کبھار جست سی لگا کر پانی کے باہر آتی ہے یا وہ ایسے ہی کھیلتی ہے یہ اس کی فطرت ہوا کرتی ہے۔ ہم نے بھی اپنے والد صاحب کا کہا سچ پایا کہ کمبلی جوں جوں بھیگتی ہے بھاری ہوتی چلی جایا کرتی ہے مگر وقت کیا کیجیے جو گزر گیا وہ لوٹا نہیں کرتا اور جو رشتے، رشتوں سے دھوکے سبق اور تجربے دے کے چلا جاتا ہے وہ بھی نہیں لوٹا کرتے۔ پچھلے دنوں گلزار بھائی نے یاد دلایا اکثر پنجابی کا یہ شعر بولتے :

جوگی جو بن تے ٹھگ نہ پاون فیر پھیرا

لمبے سودے نیں انیہاں بیوپاریاں دے

یعنی جوگی، جوبن (جوانی) اورٹھگ دوبارہ کبھی نہیں آیا کرتے ۔

وقت کی بعد از گزر جانے کے قدر ستاتی ہے۔ انسان کی زندگی بہت قیمتی ہے اس کے لمحوں کی کوئی قیمت نہیں۔ کبھی کسی رکتی ہوئی سانس میں مبتلا مریض کو دیکھیں جگہ جگہ لمحہ لمحہ (کمی بیشی اللہ معاف کرے)

قرآنی آیت مبارکہ کا ترجمہ ’’پھر گھر والوں کو نصیحت بھی نہ کر یاد پاؤ گے۔ عملی طور پر نظر آتا ہے‘‘۔ مجھے خود ایسی کیفیت سے دو تین دفعہ دوچار ہونا پڑا جس نے مجھے زندگی کے لمحوں کی قدر بتائی اس کے بعد میری کوشش ہوتی ہے کہ میرا کوئی لمحہ غافل نہ گزرے اور انسانوں میں کج بحث، احمق اور ظاہراً بدنام زمانہ بے وفاؤں موقع پرستوں سے بچتا رہوں۔ زندگی کے لمحے ان کے ساتھ ضائع نہ کروں تنہا بیٹھ جاؤں تنہائی میں اپنے آپ سے ملاقات ہو جاتی ہے تنہائی میرا شوق ہے۔ تنہائی ایک وصال ہے اپنے خالق کے ساتھ زندہ رہتے ہوئے وصل ہے لہٰذا احمقوں، بے مروتوں اور بد فطرتوں کی صحبت سے اپنی تنہائی بہت بہتر ہے اگر بہت دل چاہے تو کسی عاشق صادق (آقا کریم کے غلام) صوفی اور شعور رکھنے والے انسان کے پاس وقت گزار لیں مگر پناہ مانگ لیں رب العزت کی کسی بھی کج بحث، مفت بھر، جھوٹے، بازاری اور خود غرض سے جو معاشرے میں عیاں ہو چکا ہو کیونکہ وہ ٹھیک ہونے کا نہیں اس کے لیے لکم دین کم ولی دین پڑھ لیں کافی مسائل حل ہو جائیں گے۔ دوست بناتے وقت اس تاریخی حقیقت پر یقین کر لیں کہ بدترین دشمن بہترین دوستوں میں سے ہی پائے جاتے ہیں تو یقین کر لیں دھوکہ نہیں کھائیں گے اور جب دھوکہ نہ ہو گا تو پچھتاوا نہ ہو گا حضرت علی کا قول ہے لوگوں سے نا امیدی آزادی ہے مگر اس بات کی سمجھ کمبلی کے پورا بھیگ جانے کے بعد آتی ہے جب وزنی ہو جانے کے بعد ڈوب جایا کرتی ہے اور وقت واپس نہیں آتا۔ کاش عوام اشرافیہ سے ناامیدی کر کے آزاد ہو جائیں۔

ہر معاشرت معاملہ فرد اور لفظ اپنا سیاق و سباق رکھتا ہے جس کے بغیر کوئی تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔ عمل اور تجربے کی بھٹی آدمی کو انسان بننے کی راہ پر ڈالتی ہے ہماری معاشرت میں شخصیات، مذہب ، سیاست اور سماج ہمیشہ ہی موضوع بحث رہے ہیں۔ مذہبی دعویداروں کے حوالے سے دیکھا گیا ہے کہ جن چوک چوراہوں، کھمبوں پر کبھی فلمی اداکاروں کے بل بورڈ ہوا کرتے آج مذہبی پرفامرز کی فلیکس لگی دکھائی دیتی ہیں حتیٰ کہ رکشوں کے پیچھے بھی ایسا ہے حد یہ ہے کہ فیس بک پر کرامات برآمد ہو رہی ہیں۔ سماج بدل چکا شراب ، زنا، جواء ، ناجائز قبضہ، ذخیرہ اندوزی، سود شریعت و معاشرت کی بجائے ذاتی مسئلہ بن کر رہ گئے جو بنیادی معاملات ہیں جن سے کسی نظام اور معاشرے کی پہچان بنتی ہے ان میں سے تقریباً تمام ذاتی معاملہ بن گئے تعلیم، علاج ، انصاف جو حکومت وقت کی ذمہ داری ہے وہ اشرافیہ کا کاروبار اور اشرافیہ کی اولاد کے لیے وقف ہو گئے۔ وطن عزیز میں سیاست کے ارتکائی مراحل کے تقریباً سب لوگ گواہ ہیں ضیاء الحق کے دور میں بدعنوانی منافقت اور ریاکاری بطور پالیسی و رول ماڈل متعارف کروایا گیا۔ اسی تعارف میں میاں برادران ، چوہدری برادران اور گدی نشین بھی سامنے آئے۔ عمرہ رواج بن گیا ۔ زہد و تقویٰ ظاہری لبادہ اور سین کی ڈیمانڈ قرار پائے۔ جب ضیاء کے دور میں ہیروئن اور کلاشنکوف عام ہوئی تو پھر ظاہر ہے وہ چلنا بھی تھیں، خونی دشمنیوں اور دہشت گردی کی بنیاد رکھ دی گئی۔ جو کئی جانیں نہیں خاندان ہی زیر زمین کر گئیں۔ ان حالات میں اجرتی قاتل عام ہو گئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اقتدار پر ناجائزہ قبضہ کے تسلسل کے لیے اجرتی دانشور بھی میسر آتے چلے گئے۔ اجرتی تجزیہ کار اجرتی کالم نگار اجرتی اینکرز ، اجرتی سیاست دان بھی عام ہوئے۔ مجھے اس وقت انڈین فلم ’’میرے اپنے‘‘ کا ایک منظر یاد آ رہا ہے جس میں شتر و گھن سہنا جو غندہ ہے۔ مینا کماری ادھیڑ عمر خاتون ہیں اور اپنے عزیز و اقارب کے ہوتے ہوئے بھی بے آسرا ہیں شترو گھن کے پاس پہنچ جاتی ہیں جہاں پر وہ کھانا پکانا اور گھر داری کے پیسے طے کرتی ہیں۔ جب وہ سودا سلف لینے دکاندار کے پاس جاتی ہیں وہ راشن بندی اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے راشن نہیں دیتا ۔ وہ واپس لوٹ آتی ہیں شترو کو دکاندار کا رویہ اور انکار بتاتی ہیں وہ دکاندار کے پاس جا کر صرف کھڑا ہو کر مینا کماری سے کہتا ہے کہ آپ سامان بتاتی جائیں وہی دکاندار ہانپتے کانپتے ہر سودا ہر چیز گولی کی رفتار سے ناپتے تولتے بلکہ زیادہ ہی دیتے چلا جاتا ہے وہ بھی بغیر پیسوں کے۔ مینا کماری گھر آ کر سودا سلف رکھواتی ہیں اور شتروگھن سے سوال کرتی ہیں کہ لوگ تم سے اتنا ڈرتے ہیں ۔ تمہاری شہرت ایک غنڈے اور دہشت والے آدمی کی ہے تمہیں اس بات پر احساس یا شرم نہیں آتی کہ لوگ تمہیں کیا سمجھتے ہیں شتروگھن جواب دیتا ہے پہلے پہل آتی تھی پھر یہ میری پہچان بن گئی ہے اور اب یہی میرا روزگار ہے اور اسی میں عزت بھی۔ میں سوچتا ہوں کہ زندگی کے اب تک تجربہ اور مشاہدے نے بتایا کہ ہو سکتا ہے اجرتی قاتل ، اجرتی دانشور ، اجرتی کالم نگار، اجرتی سیاست دان ، اجرتی مسیحا، اجرتی منصف اجرتی محب وطن ، اجرتی دوست، اجرتی عاشق مذہب، اجرتی گواہ، اجرتی ادارے، اجرتی وعدہ صاف گواہ کو شروع شروع میں ضمیر شرم دلاتا ہو مگر بعد میں جب یہ پہچان اور کاروبار بنتا ہے تو فخر بھی بن جاتا ہو گا۔ افسوس اشرافیہ اور حکمران طبقوں کو تو اجرت مل جاتی ہے مگرسسکتے ہوئے ذلتوں، دھوکوں، وعدوں ظلمتوں کے مارے ہوئے عوام کے لیے اجرت نہیں۔ شاید اس لیے کہ حاکم خود اجرتی ہیں کسی کو اجرت کیا ملے گی۔


ای پیپر