نعمت سے زحمت تک
22 جولائی 2019 2019-07-22

موجودہ دورمیں موبائل فون ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی بن چکی ہے جس کے ذریعے سے کسی بھی وقت دُنیا کے کسی بھی گوشے میں پلک جھپکتے ہی کسی بھی فردسے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔چند سیکنڈ زمیں کوئی بھی پیغام مطلوبہ شخص تک اس ننھے منے سے موبائل فون کے ذریعے سے باآسانی پہنچایا جا سکتا ہے۔اب توموبائل فون بیک وقت ریڈیو،ٹی وی، ویڈیوز اور ویڈیوز گیمز،ٹارچ ،ٹیپ ریکارڈرز،ٹائم پیس ،کیمرہ اورانٹرنیٹ وغیرہ کا بھی مجموعہ بن چکا ہے۔موبائل فون نے ان تمام بکھری ہوئی چیزوں کواپنے اندرسمو لیا ہے۔ موبائل فون کی جدّ ت نے دور درازکی مسافتوں کو مختصر ترین کر دِیا ہے۔ اس بابت میں آپ دوستوں سے ایک بات شیئر کرتا چلوں کہ ہمارے زیادہ تر رشتے دار دوردراز علاقوں میں رہتے ہیں اچانک جب کو ئی موت یا ناخوشگوارواقعہ ہوجاتا تو ہمیں اطلاع دینے کے لیے الگ الگ سے قریبی رشتے داروں اوردوستوں کو شہروں میں اور شہروں سے دوردراز دیہاتوں میں بھیج دیا کرتے تھے جس سے وقت اور روپے پیسے کا بھی کافی زیاںہوتا تھا اور موصوف ’مرحوم‘ یا’مرحومہ ‘کو بھی کافی پریشانی ہوتی تھی سردیوں میں تو خیر ہوتی تھی لیکن گرمیوں میں تومیت کے ارد گرد برف کے بلاک لگانا پڑتے تھے تاکہ میت …… ٹھنڈی رہے ۔ لیکن اب حالات بالکل مختلف ہیں ۔آپ موبائل فون کے ایس ایم ایس کے ذریعے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں اپنے سینکڑوں رشتے داروں کو خوشی اور غمی کی اطلاع بروقت دے سکتے ہیں ۔ یقین فرمائیں آج دنیاموبائل فونز،انٹرنیٹ اوربر قی میڈیا کی وجہ سے سمٹ کر گلوبل ویلیج کی شکل اختیار کرچکی ہے ۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے ناروے میں مقیم کزن کوفون کرنے کے لیے ہمیں ٹیلی فون ایکس چینج پرجانا پڑتا تھا اوردو سو پچاس روپے فی منٹ کے حساب سے ہمیں بات کرنا پڑتی تھی لوکل کال کے پانچ روپے فی منٹ ہوتے تھے اوراگر فون کال ایک شہر سے دوسرے شہر کرنا مقصود ہوتی توآٹھ روپے فی یونٹ خرچہ آتا تھا اوراگرآپ نے گھرکے فون سے ایک شہر سے دوسرے شہر کال کرنا ہوتی توایکس چینج سے رابطہ کرنا پڑتا تھا اب ایکس چینج فون آپریٹر کی مرضی ہوتی تھی آپ کو فون کال گھنٹے میں ملا کر ٹرانسفر کرے یادوگھنٹے میں ۔ موبائل فون کو میں عطیہ خُداوندی سمجھتا ہوں جس نے ہمارے لیے آسانیاںاور بچت پیداکردی ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے موبائل فون جیسی نعمت عظیم کو زحمت عظیم بنا دیا ہے میں سمجھتا ہوں ہم من حیث القوم ہمیشہ اچھی چیز وںکامنفی استعمال زیادہ کرتے ہیں جیسے موٹر سائیکل ایک سستی ہلکی پھلکی سواری تھی لیکن ہم نے اس کووَن ویلنگ کی تفریح کاذریعہ بنا لیا ہے اور سائونڈسائلنسر نکال کربے تحاشا شورپیداکرکے لوگوں کے دماغی نظام کو ڈسٹرب کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں لائوڈ اسپیکر اذان یاضروری اعلان تک محدود تھا اورآج چہلم شریف سے ختم شریف تک سبزی سے آئس کریم بیچنے والوں نے لائوڈ اسپیکر کوذریعہ بنا لیا ہے موبائل فون کو رحمت کی بجائے زحمت کا ذریعہ اپنائے ہوئے ہیں اور ہم اس مفید چیز کا غلط استعمال کر رہے ہیں ابھی چند روز پہلے ایک گلی سے گزررہا تھا ایک گھر سے موبائل فون اور موٹرسائیکل پرنوحہ کناں اورلعن طعن کی جارہی تھی بعد میں پتا چلا ایک تیز رفتار موٹرسائیکل سپیڈ کم کیے بغیرموبائل کال ریسیو کرنے لگا توموٹرسائیکل ان بیلنس ہوگئی جوڈگمگاتی ہوئی ٹرک سے جا ٹکرائی جس کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوارموقع پرہوجابحق ہوگیا اورپیچھے بیٹھا ہوا دوست اپنی ٹانگیں اور ناک کی ہڈی تڑوابیٹھا اب بھلا اس میں بے چارے موبائل فون کا کیا قصور ہے…؟ القصہ بات موبائل فون سے شروع کی تھی موبائل پر ہی ختم کرتے ہیں حضرت علیؓ کا فرمانِ عالی شان ہے کہ طویل گفتگو باعث آفت ہے اورہم موبائل فون پر سستا ترین پیکیج لگا کر گھنٹوں فضول گفتگوکرتے ہیں آپ یقین کیجئے طویل ترین فضول گفتگو نے بہت سے ہنستے بستے گھروں کواُجاڑکررکھ دیا ہے ،چھوٹی چھوٹی باتیں بڑی بڑی باتوں کا روپ اختیار کرلیتی ہیں۔ ایک گھنٹہ کی گفتگو میں ہم بیس سے بھی زائد بار اس کا حال پوچھ پوچھ کر اپنا اوردوست کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں ہمیں اس بات کا قطعی احساس نہیںہوتا جس دوست کو ہم نے فون کیا ہے وہ کسی کام میں مصروف تونہیں…؟بس دوست نے اگر کسی وجہ سے فون اٹینڈنہیں کیا توباربارفون کرکے ڈسٹرب کیا جاتا ہے پانچ منٹ کے لئے انتظارکرنا محال سمجھتے ہیں ۔ میری ان تمام دوستوں سے گزارش ہے وہ موبائل فون جیسی نعمت کوزحمت نہ بنائیں اورآخری بات یہ ہے کہ آج کل آپ کسی دوست کوملنے جائیں تووہ موبائل فون پراپنی گفتگو کوطویل کرتا ہوا نظرآتا ہے گفتگو بھی کوئی خاص نہیں ہوتی اورمہمان آپ کی گفتگو اورآپ کی بے رُخی سے اُکتاکرخودکو حقیرسا تصورکرنے لگتا ہے ۔مہمان کے سامنے موبائل فون کا استعمال کم یاترک کرکے مہمان کو وقت دیجئے اوربے رُخی سے اجتناب کیجئے ۔


ای پیپر